20/07/2026
زندگی کا ایک ورق
تحریر: شاہد رشید، ڈائریکٹر زاویہ ٹرسٹ اسکول
کچھ لوگ مجھے دیکھ کر حیران پریشان ہوتے ہوں کہ ایک طرف میں سنسکرت، عربی، فارسی، یونانی اور دوسری کلاسیکی زبانیں سیکھ رہا ہوں، اور دوسری طرف پاکستان میں ایک اسکول بنانے کی کوشش کر رہا ہوں۔ ان کے لیے یہ دو الگ الگ منصوبے ہیں، جن کے درمیان کوئی ربط نہیں۔
یہ کچھ سال پہلے کی بات ہے
جب میں یونیورسٹی میں طالب علم تھا تو مختلف انقلابی شخصیات اور نظریات سے متاثر ہوا۔ ایک بہتر معاشرے کا خواب میری طبیعت میں رچ بس گیا۔ پھر زندگی کے زمینی حقائق سامنے آئے، چنانچہ سی ایس ایس کیا اور سول سروس میں چلا گیا۔ لیکن دل میں کھٹک سی رہی۔ دل کے کسی گوشے میں وہی پرانا سوال زندہ رہا: ہم کون ہیں اور اس دنیا میں کیا کر رہے ہیں؟
سول سروس چھوڑ دی اور تدریس کا راستہ اختیار کیا۔
بعض لوگوں نے یوں بھی کہا کہ میں زیادہ دیر تک ایک کام پر قائم نہیں رہ سکتا، اور ہر چند سال بعد ایک نئی سمت اختیار کر لیتا ہوں۔
میری نظر میں ایسا نہیں ہے۔ میں نے راستے ضرور بدلے ہیں، منزل نہیں بدلی۔ حقیقت یہ ہے کہ میں ایک ہی خوشبو کے تعاقب میں سرگرداں ہوں۔ ایک ہی منزل ہے جو مجھے اپنی طرف کھینچے چلی جا رہی ہے۔ ہاں یہ ضرور ہے کہ مختلف پڑاؤ آئے، لیکن خدا کا شکر ہے کہ میں ٹھہرا نہیں، ہر مقام سے گزرتا چلا گیا۔
یہ لفاظی نہیں میری زندگی کی سچی واردات ہے۔
جب یونیورسٹی میں پڑھانے کا موقع ملا تو مجھے احساس ہوا کہ مسئلہ صرف یونیورسٹی کا نہیں، مسئلے کی جڑیں اسکول کی تعلیم میں پیوست ہیں۔ ہمارے دانشور یونیورسٹیوں میں تو بڑے بڑے لیکچر دیتے رہتے ہیں لیکن کبھی اسکولوں کا رخ نہیں کرتے۔ اسکول میں پڑھانے والے کا رتبہ یونیورسٹی میں پڑھانے والے سے کم سمجھا جاتا ہے۔ یہ ایک المیہ ہے۔
یہیں سے زاویہ ٹرسٹ اسکول کا خواب پیدا ہوا۔
میں ایسا اسکول قائم کرنا چاہتا تھا جہاں تعلیم کو دوبارہ زندگی سے جوڑا جائے؛ جہاں بچے اپنے آپ کو دریافت کر سکیں اور اپنی ذات کے سائے میں دوسروں کو بھی راحت پہنچانا سیکھ سکیں۔
یہ سفر آسان نہیں تھا۔ اس راہ میں مالی مشکلات بھی آئیں، لوگوں نے حوصلہ بھی بڑھایا، تنقید بھی کی، اور بعض اوقات ایسی باتیں بھی سننے کو ملیں جنہوں نے دل کو بہت زخمی کیا۔ لیکن خدا کے فضل، والدین کی دعاؤں، اہلِ خانہ کی محبت اور دوستوں کے اعتماد نے قدم ڈگمگانے نہیں دیے۔ آہستہ آہستہ راستہ بنتا گیا، اور الحمدللہ آج وہ زمین بھی خریدی جا چکی ہے جہاں ان شاء اللہ زاویہ ٹرسٹ اسکول کا اپنا کیمپس تعمیر ہوگا۔
تعلیم و تربیت کے اس سفر کے دوران مجھے سمجھ آیا کہ بچوں اور بڑوں کی تربیت میں کلاسیکی زبانوں کی خصوصی اہمیت ہے۔ میرا دھیان کلاسیکی زبانوں کی طرف بڑھتا گیا۔ اسی احساس نے مجھے عربی، فارسی اور پنجابی (گر مکھی)کی طرف متوجہ کیا۔ پھر میں نے ہندی، اور سنسکرت سیکھی اور اب بھی سیکھ رہا ہوں۔ کلاسیکی یونانی کا ایک سمسٹر پڑھنے کا بھی موقع ملا، عبرانی سے بھی ابتدائی شناسائی حاصل ہوئی، اور آئندہ پالی اور دوسری کلاسیکی زبانوں کی طرف بھی بڑھنے کی آرزو ہے۔
باہر سے دیکھنے والا شاید یہ سمجھے کہ میں مختلف سمتوں میں بکھر گیا ہوں، لیکن حقیقت اس کے برعکس ہے۔ میرے لیے یہ الگ الگ راستے نہیں بلکہ ایک ہی مرکز سے نکلنے والی روشنیاں ہیں۔
میری نظر میں ہمارے معاشرے کا سب سے بڑا بحران معاشی یا سیاسی نہیں بلکہ سوچ اور اخلاق کا بحران ہے۔ ہمیں ایسے انسانوں کی ضرورت ہے جن کے اندر سوچ کی وسعت ہو، بات کو سن سکیں، اس پر غور کر سکنے کے لیے پل بھر ٹھہر سکیں۔ اپنے نظریاتی ایجنڈے کو تھوڑی دیر suspend کر سکیں۔
ہمارے معاشرے میں نظریاتی پنجرے بہت سے ہیں۔ ان میں بہت سی اچھی باتیں بھی موجود ہیں، لیکن اچھی باتیں بھی اس وقت پنجرہ بن جاتی ہے جب نسبتی سچائی (relative truth) کو مطلق سچائی (absolute truth) کا درجہ دے دیا جائے، اور جزوی حقیقت کو آخری حقیقت سمجھ لیا جائے۔
میرا خیال ہے کہ اس تنگ خیالی اور تنگ دلی سے نکلنے کا ایک راستہ 'سفر' ہے؛ کلاسیکی زبانیں اس سفر کا سب سے اہم وسیلہ ہیں۔ خود زبان سیکھنے کا عمل ہی دل و دماغ کو جِلا بخشتا ہے۔ پھر جب اسی زبان میں اس کا ادب، فلسفہ، مذہب اور تاریخ پڑھنے کا موقع ملتا ہے تو انسان کا شعور ایک نئی وسعت سے آشنا ہوتا ہے۔
چنانچہ میں نے خود دوبارہ طالب علم بننے کا فیصلہ کیا۔
میں یہ زبانیں محض اس لیے نہیں سیکھ رہا کہ ایک اور زبان فہرست میں شامل ہو جائے، بلکہ اس لیے کہ مختلف تہذیبوں نے انسان، خدا، اخلاق، دکھ، حسن اور حقیقت کے بارے میں جو کچھ سوچا ہے، اسے ان کے اپنے الفاظ میں سمجھ سکوں۔
اس لیے میرا خواب ہے کہ زاویہ ٹرسٹ اسکول کے ساتھ ساتھ ایک Zaawiya Centre for Classical Studies بھی تعمیر کیا جائے۔
میری خواہش ہے کہ اس سنٹر میں ایک ایسی عوامی لائبریری قائم ہو جہاں عربی، فارسی، سنسکرت، پالی، یونانی، لاطینی، عبرانی، کلاسیکی چینی اور دیگر کلاسیکی اور ہماری قومی زبانوں کے ادب، فلسفے، مذاہب، تاریخ اور لسانیات پر معیاری کتابیں موجود ہوں۔ یہاں زبانوں کو سیکھا جائے، علمی نشستیں ہوں، جہاں کلاسیکی تہذیبوں کا سنجیدہ مطالعہ ہو، جہاں authenticity ہو۔
زاویہ ٹرسٹ اسکول اور زاویہ سینٹر فار کلاسیکل اسٹڈیز دراصل ایک ہی بابرکت درخت کی دو شاخیں ہیں۔ ایسا درخت جس کی جڑیں علم و حکمت کی زمین میں بہت گہری ہیں۔
میں نہیں جانتا کہ میں اپنی زندگی میں اس درخت کے پھل دیکھ سکوں گا یا نہیں، لیکن مجھے اتنا یقین ضرور ہے کہ اس پیڑ کے میوے بہت میٹھے ہوں گے اور اس کے پھولوں کی سوگندھ وادی کو معطر کر دے گی۔
(شاہد رشید، 13 جولائی 2026ء)