Pakistan Akhuat-e-Kissan پاکستان اخوتِ کسان

Pakistan Akhuat-e-Kissan پاکستان اخوتِ  کسان پاکستان اخوتِ کسان
پاکستان کے کسانوں کی ترقی اور خوشحالی کے لئے کوشاں.

کہنے کو پاکستان زرعی ملک ہے مگر کسان کی غربت وپسماندگی گذشتہ اٹھسٹھ سالوں میں بھی نہیں گئی۔ آمریت وجمہوریت کے امتیاز سے قطع نظر ہر دور میں جاگیردار اقتدار سے لطف اندوز ہوتے رہے مگر عام کسان زبوں حالی کی دلدل سے نہ نکل سکا۔ بارہ ایکڑ زمین کا مالک کسان پہلے بھی زندگی مشکل سے گزارتا تھا تو آج بھی وہ خوشحالی سے کوسوں دور ہے۔ یہ کم اہم نہیں کہ ملک کی بیشتر مذہبی وسیاسی جماعتوں میں جاگیردار طبقہ موجود ہ

ے مگر سفاک اس قدر کہ اپنے مفادات سے آگے دیکھنے کو تیار نہیں۔ شومئی قسمت سے غربت کی اتھاہ گہرائیوں میں گرنے والا کسان پورے ملک کے باسیوں کی خوراک کی ضروریات پوری کررہاہے مگر خود اس کی مشکلوں کا مداوا کرنے کو کوئی تیار نہیں۔ یہ سچ ہے کہ شہری آبادی کی اکثریت کے آباو اجداد دیہاتوں سے نکل مکانی کرکے شہروں میں آبسے مگر اہم عہدوں پر تعینات اپنے ان بہن بھائیوں کی مشکلات کم کرنے کو تیار نہیں جن کی صبح و شام مصائب سے دوچار ہے۔اس تلخ حقیقت کو نہ فراموش کیا جائے کہ کپاس کی فیکڑی لگانے والے سرمایہ داروں اور جاگیرداروں نے ایک سے دس فیکڑیاں بنالیں مگر پیداوار میں کلیدی کردار ادا کرنے والا کسان کو کوئِی فائدہ نہ ہوا۔ وسیع و عریض زرعی زمینوں کے مالکان باخوبی آگاہ ہیں کہ وہ کس حد تک کسانوں کے استحصال کے مرتکب ہوئے لہذا وہ دیہاتوں میں تعلیم و آگہی کے فروغ کی ہر کوشش ناکام کرتے چلے آرہے۔ قابل افسوس یہ ہے کہ حکومت طاقتور فیکڑی مالکان کی "مشکلات " کو مدنظر رکھتے ہوِے قومی خزانے سے اربوں روپے کی سبسڈی دے رہی مگر عام کسان کے لیے کوئی ریلیف نہیں۔ کاشتکاروں کا کھاد ، بجلی اور دیگر زرعی مشینری پر سبسڈی کا مطالبہ طویل عرصے سے قبول نہیں کیا جارہا۔ یہ تقابل افسوسناک ہے کہ وطن عزیز کے ہمسایہ ملک بھارت میں سرکاری مراعات کے سببب کسان کی حالت زار بہتر خیال کی جارہی۔ ملک کی بیشتر آبادی دیہاتوں میں رہائش پذیر ہے۔ مگر تعلیم ، صحت اور پینے کے صاف پانی کی دستیابی انھیں تاحال میسر نہیں۔ عشروں سے چلے آنے والے مسائل کو جوں کا توں رکھ کر ایسی حکمت عملی اختیار کی گئی کہ دیہات میں رہنے والوں نے مسائل کے ساتھ ہی جینا سیکھ لیا ۔احساس محرومی کے سبب صورت حال یہاں تک ابتر ہوچکی کہ آنے والے دنوں میں پرتشدد احتجاج ہونا خارج ازامکان نہیں۔ بدلتی صورت حال میں الیکڑانک میڈیا کا کردار فراموش نہیں کیا جاسکتا۔ نجی نیوز چنیل پر اعتراضات کے باوجود حقیقت یہی ہے کہ اس کے سبب عام لوگ بتدریج جاگ رہے۔ ہوسکتا ہے کہ یہ کہنا درست ہو کہ جا بجا ہوتے احتجاج کو درست سمت نہیں مل رہی مگر یہ غلط نہیں کہ شہر سے دیہات تک یہ احساس جاگزیں ہوچکا کہ اعلی سرکاری عہدیداروں کا طرزعمل ہرگز عوام دوست نہیں۔ قومی تاریخ میں ایسا کم ہوا کہ ہمارے کاشتکار احتجاج کرتے سڑکوں پر نکل آئے ہوں مگر گذشتہ روز پاکستان کسان اتحاد کی جانب سے پنجاب بھر میں مظاہرے کیے گئے مطالبات کے حق میں ریلیاں نکالی گئیں۔ وطن عزیز میں رائج طرز حکمرانی سے آگاہ ہر کوئی جانتا ہے کہ وہی معاملہ ذمہ داروں کی توجہ کا مسحق قرار پایا جو احتجاج کی شکل میں میڈیا میں نمایاں ہوا۔ پانچ دریائوں کی سرزمین میں ایک کونے سے دوسرے کونے تک کسانوں کا مطالبات کے حق میں گھروں سے باہر نکلنا بتا رہا کہ ملکی معیشت میں کلیدی ادا کرنے والا طبقہ اپنے حقوق بارے باشعور ہورہا۔ سرکار کو اس کا انتظار نہیں کرنا چاہیے کہ کسانوں کا احتجاج تحریک کی شکل اخیتارکر جائے بلکہ اس سے قبل ہی جائز شکایات دور کرنے کے لیے اقدامات اٹھانے ہونگے۔ ترقی پذیر ملکوں کے برعکس مغرب کی جمہوری حکومتوں میں پسے ہوئے طبقہ کو احتجاج کرنے کی ضرورت اسی لیے محسوس نہیں ہوتی کہ برسر اقتدار افراد محروم افراد کی مشکلات دور کرنے کے لیے ہمہ وقت کچھ نہ کچھ کررہے ہوتے ہیں۔ ہمارا ہاں تازہ مثال حالیہ سیلاب کی ہے محکمہ موسمیات کی جانب سے اعلان گیا کہ پنجاب میں سیلاب کے خطرے کی نشاندہی بروقت کی گئی مگر سرکاری حکام کے کانوں پر جوں تک رینگی۔ سب جانتے ہیں کہ سیلابی پانی نے ہمارے ہزاروں دیہاتوں کو برباد کردیا۔ لاکھوں ایکڑ پر کھڑی فصلیں تباہ ہوگئیں۔ انصاف تو یہ ہوتا کہ وفاقی و صوبائی حکومتیں ازخود کسانوں کو ہونے والے نقصان کے ازالہ کے لیے جامع پیکج کا اعلان کرتیں مگر باوجوہ ایسا نہ ہوسکا۔اعلی سرکاری عہدوں پر تعینات اشخصاص خود کو عوام کے سامنے جواب دہ تسلیم کرنے کو تیار نہیں۔ جابجا ہونے والا احتجاج بتا رہا کہ بیس کروڑ کی آبادی کے اس ملک میں اکثریت کی زندگی مشکلات سے پر ہوچکی۔ ایسا ہونا بعید ازقیاس نہیں کہ کسانوں کے ہمراہ ، سرکاری ملازمین اور وہ عام آدمی بھی سڑکوں پر نکل آئے جو توانائی بحران اور مہنگائی سے براہ راست متاثر ہورہا ۔موجودہ صورت حال کو دیکھنے کے دو نقطہ نظر نمایاں ہیں ایک یہ کہ حالیہ بے چینی واضطراب کو سازش قرار دے کر مسترد کردیا جائے جبکہ دوسرا یہ کہ مسلسل باشعور ہوتی عوام کو بنیادی ضرویات سے مزین زندگی فراہم کرنے کے لیے عملی اقدمات اٹھانے میں ہرگز تاخیر نہ کی جائے۔

Address

Lahore
64000

Alerts

Be the first to know and let us send you an email when Pakistan Akhuat-e-Kissan پاکستان اخوتِ کسان posts news and promotions. Your email address will not be used for any other purpose, and you can unsubscribe at any time.

Share