31/05/2026
سورۃ البقرہ آیت نمبر 245 ترجمہ و تفسیر
مَّن ذَا الَّذِي يُقْرِضُ اللَّهَ قَرْضًا حَسَنًا فَيُضَاعِفَهُ لَهُ أَضْعَافًا كَثِيرَةً ۚ وَاللَّهُ يَقْبِضُ وَيَبْسُطُ وَإِلَيْهِ تُرْجَعُونَ
کون ہے جو اللہ کو اچھا قرض دے، پھر اللہ اسے اس کے لیے کئی گنا بڑھا دے؟ اور اللہ ہی تنگی اور کشادگی دیتا ہے، اور اسی کی طرف تم سب لوٹائے جاؤ گے
تفسیر
اللہ کو قرض دینا سے مراد اللہ کی رضا کے لیے اپنے مال کو نیک کاموں، صدقہ، خیرات اور ضرورت مندوں کی مدد میں خرچ کرنا ہے۔ اللہ تعالیٰ وعدہ فرماتا ہے کہ وہ ایسے خرچ کا اجر کئی گنا بڑھا کر عطا کرے گا
اللہ کو قرضِ حسنہ دینا ایک نہایت محبت بھرا اور حوصلہ افزا اندازِ بیان ہے۔ ظاہر ہے کہ اللہ تعالیٰ کسی کا محتاج نہیں، اس لیے قرض کا حقیقی مفہوم نہیں لیا جائے گا۔ اس سے مراد یہ ہے کہ بندہ اللہ کے دین، اس کی راہ اور اس کی مخلوق کی بھلائی کے لیے اپنا مال خرچ کرے
قرضِ حسنہ وہ خرچ ہے جو خالص اللہ کی رضا کے لیے ہو، جس میں ریاکاری، احسان جتانا یا دنیاوی مفاد مقصود نہ ہو
اللہ تعالیٰ بندے کے اس خرچ کو اپنے ذمے قرض قرار دے کر اس کی قدر و منزلت کو ظاہر کر رہا ہے۔
جو مال اللہ کی راہ میں خرچ کیا جاتا ہے وہ حقیقت میں ضائع نہیں ہوتا بلکہ اللہ اسے کئی گنا بڑھا کر واپس دیتا ہے، دنیا میں بھی اور آخرت میں بھی۔
"وَاللّٰهُ يَقْبِضُ وَيَبْسُطُ" کا مطلب یہ ہے کہ رزق میں تنگی اور کشادگی اللہ کے اختیار میں ہے، لہٰذا خرچ کرنے والا یہ خوف نہ کرے کہ اس کا مال کم ہو جائے گا۔
آیت کے آخر میں "وَإِلَيْهِ تُرْجَعُونَ" یاد دلاتا ہے کہ بالآخر اللہ کے سامنے حاضر ہونا ہے، جہاں ہر خرچ اور ہر عمل کا حساب اور اجر ملے گا۔
ایمان کا تقاضا صرف زبانی اقرار نہیں بلکہ اللہ کی راہ میں اپنے مال کو قربان کرنے کا جذبہ بھی ہے، اور یہی خرچ انسان کے ایمان کی سچائی کا ثبوت بنتا ہے۔