نورالمشائخNoor ul Mashaaikh

نورالمشائخNoor ul Mashaaikh Spreading Knowledge تفقهو فی الدین

■ صوفیانہ نقشہ: "ھُوَ اللہ"یہ تصویر ایک کلاسیکی صوفیانہ خاکہ ہے جو“ھُوَ اللہ” اور “اللہ ھُوَ” کو دکھاتا ہے۔ اس میں یہ وا...
02/10/2025

■ صوفیانہ نقشہ: "ھُوَ اللہ"
یہ تصویر ایک کلاسیکی صوفیانہ خاکہ ہے جو
“ھُوَ اللہ” اور “اللہ ھُوَ” کو دکھاتا ہے۔ اس میں یہ واضح کیا گیا ہے کہ ذاتِ باری تعالیٰ (ذّات)، اسماء (نام)، صفات، اور افعال کس طرح واحد سے جلوہ گر ہوتے ہیں، اور کس طرح حقیقتِ محمدیہ ﷺ ان سب کی آئینہ دار ہے۔
یہ خاکہ اس صوفیانہ تصور کو بصری انداز میں بیان کرتا ہے:
"شہود الوحدۃ فی الکثرۃ و الکثرۃ فی الوحدۃ"
(یعنی: کثرت میں وحدت کو دیکھنا، اور وحدت میں کثرت کو دیکھنا)
■ بالائی نقشہ (“ھُوَ اللہ”)
• "ھو" (وہ) = مخفی، غیب کی حقیقت۔
• "اللہ" = ظاہر ہونے والا نام، جس کے ذریعے صفات جلوہ گر ہوتی ہیں۔
ھُوَ سے نکلنے والے تیر:
• وجود
• علم
• نور
• شہود
اللہ سے نکلنے والے تیر:
• ذات
• اسماء
• افعال
نیچے درج ہے:
• حقیقتِ محمدیہ = نورِ محمدی ﷺ (سب سے پہلی مخلوق اور تجلیات کا مرکز)
• حقیقت ذات الحق = ذاتِ الٰہی کی حقیقت
• شہود الوحدۃ فی الکثرۃ = "کثرت میں وحدت کا مشاہدہ"
■ زیریں نقشہ (“اللہ ھُوَ”)
یہاں ترتیب الٹ دی گئی ہے:
اللہ سے نکلنے والے تیر:
• ذات و صفات
• اسماء
• افعال
• تجلی
• تنزلات
ھُوَ سے نکلنے والے تیر:
• وجود
• علم
• نور
• شہود
• کمال، جلال، جمال، قہار
نیچے درج ہے:
• شہود الکثرۃ فی الوحدۃ = "وحدت میں کثرت کا مشاہدہ"
■ اس نقشے کی تعلیم
یہ دونوں خاکے دراصل دو تکمیلی صوفیانہ رویے کو دکھاتے ہیں:
• پہلا نقشہ: باطن کی نظر — سالک کو کثرت میں وحدت دکھائی دیتی ہے۔
• دوسرا نقشہ: ظاہر کی نظر — سالک کو وحدت میں کثرت نظر آتی ہے۔
یہی وہ مقام ہے جسے حضرت جنید بغدادی رحمہ اللہ نے
"جمع و تفرق" کا درجہ کہا — یعنی وحدت کے ذوق اور کثرت کی حقیقت میں توازن۔
■ اقوالِ اولیاء جو اس نقشے کی وضاحت کرتے ہیں:
• سیدنا امام علی علیہ السلام:
"میں نے کبھی کسی چیز کو نہیں دیکھا مگر یہ کہ میں نے اس سے پہلے اللہ کو، اس کے بعد اللہ کو اور اس کے ساتھ اللہ کو دیکھا۔"
(یہی "شہود الوحدۃ فی الکثرۃ" ہے — ہر چیز میں اللہ کو دیکھنا۔)
• شیخ جنید بغدادی ق:
"پانی کا رنگ اُس کے برتن کا رنگ ہے۔"
(یعنی صفاتِ الٰہی مختلف مظاہر میں اُن کے ظرف کے مطابق ظاہر ہوتی ہیں۔)
• شیخ ذو النون مصری ق:
"عارفین بغیر دوئی کے دیکھتے ہیں، اور ظاہری لوگ صرف کثرت کو دیکھتے ہیں۔"
• شیخ عبدالقادر جیلانی ق:
"جب صفات کے پردے اٹھ جاتے ہیں تو ذات کا نور باقی رہ جاتا ہے۔"
• شیخ محی الدین ابن عربی ق:
"وہ ہر نام کا پہلا ہے اور ہر صورت کا آخر ہے۔ اُسی میں تضادات جمع ہیں، اور کثرت دراصل وحدت ہی کا ظہور ہے۔"
■ صوفیانہ فہم
• "ھُوَ اللہ" (وہ اللہ ہے) اُس حقیقت کو ظاہر کرتا ہے جو غیب میں چھپی ہے اور صرف کشف و شہود سے پہچانی جاتی ہے۔
• "اللہ ھُوَ" (اللہ ہی وہ ہے) اُس حقیقت کو ظاہر کرتا ہے جو اسماء و صفات میں جلوہ گر ہوتی ہے۔
تیر جو ذات، صفات، اسماء، افعال کی طرف جاتے ہیں یہ چار بڑے مراتب ہیں:
• ذات
• صفات
• اسماء
• افعال
تیر جو وجود، علم، نور اور شہود کی طرف جاتے ہیں یہ سالک کے ادراک کے مقامات ہیں:
• وجود (اصل)
• علم (یقینی معرفت)
• نور (روشنی/تجلی)
• شہود (کامل مشاہدہ)
حقیقتِ محمدیہ ﷺ اُس "برزخ" کی حیثیت رکھتی ہے جو غیبی ذات اور ظاہر کائنات کے درمیان ہے۔ جیسا کہ صوفی شعرا کہتے ہیں:
"اگر محمد ﷺ نہ ہوتے تو یہ کائنات وجود میں نہ آتی۔"
■ خلاصہ
یہ خاکہ ایک صوفیانہ "نقشہ" ہے — کائنات، اسماء، اور سالک کے سفر کا۔
یہ بصری طور پر بیان کرتا ہے جو اولیاء نے اپنے کلام میں کہا:
• ایک ہی ذات ہے جو بے شمار صورتوں میں جلوہ گر ہے۔
• اور یہ ساری صورتیں حقیقت میں اُسی ایک ذات کے مظاہر ہیں۔
یہی وہ مقام ہے جسے "بقا بعد فنا" کہتے ہیں — یعنی فنا کے بعد بقا —
جہاں عارف بیک وقت وحدت اور

کثرت دونوں کو دیکھتا ہے۔

درنعت رسول مقبولﷺاز   بریلویزِہے عزّ و علائے منتہائے اوجِ انسانی،نبی یثربی،  و مہبطِ تنزیل فرقانی امیر عالمِ امری شہہ مع...
10/07/2025

درنعت رسول مقبولﷺ
از
بریلوی
زِہے عزّ و علائے منتہائے اوجِ انسانی،
نبی یثربی، و مہبطِ تنزیل فرقانی
امیر عالمِ امری شہہ معمور خلقی
ادیبِ عُلوی و سفلی ، رسولِ انسی و جانی
#ترجمہ
1_سبحان الله،کیا ہی عظمت اور بلندی ہے،اورآپ ﷺانسانیت کے اوج پہ ہیں
آپ ﷺہی وہ نبی آخرالزماں ہیں جو یثرب (مدینہ) میں تشریف لائے، اور قرآنِ فرقان کی تنزیل کا مرکز ہیں۔
2_آپﷺ عالمِ امر کے امیر اور اس معمورہ ء خلقی کے شہنشاہ ہیں۔
آپﷺ ہی زمیں و آسماں کے ادیب ہیں، اور جن و انسان کے رسول( پیغمبر ) ہیں

آپ ﷺ کی عظمت سبحان اللٰہ،آپ ﷺکی ذات ان تمام اوصاف سے متصف ہے وہ بلندیاں ، عزّت ، جو کسی انسان کا وصفِ کمال ہو سکتی ہیں،وہ مدینہ والے نبیﷺ کی ذات باصفات میں موجود ہیں اور آپﷺ پر قرآن پاک وحی کی صورت اتارا گیا۔۔۔!!
قرآن کو فرقان بھی کہا جاتا ہے ۔ فرقان کا مطلب ہوتا ہے چیزوں کو الگ، الگ واضح کرنے والا ان کا فرق بتانے والا ۔
لغت کے مطابق فرقان وہ چیز ہے جو سچ اور جھوٹ میں تمیز کرے۔ قرآن کریم میں اللہ تعالیٰ نے حق و باطل، توحید و شرک اور عدل و ظلم کے درمیان فرق واضح کیا ہے، اس لیے اسے فرقان کہا جاتا ہے.
#شرح۔2
*(عالم امر )یہ کائنات ہے جو خدا کے ایک کن پہ وجود میں آئ ۔آپ (حضرت محمد صلی اللہ علیہ وسلم) اس کائنات کے بادشاہ، اور فرمانروا ہیں۔ علوی (بلند تر۔ آسمان) اور سفلی (زمین ۔پست تر) عالموں کے ادیب (یعنی علم و حکمت کے ماہر) جو تمام انسانوں اور جِنّات کی طرف بھیجے گئے رسول ہیں۔"
*امیر عالمِ امری
"عالمِ امر" اُس غیر مادی عالم کو کہا جاتا ہے جو "کُن" سے وجود میں آیا۔
اِنَّمَاۤ اَمْرُهٗۤ اِذَاۤ اَرَادَ شَیْــٴًـا اَنْ یَّقُوْلَ لَهٗ كُنْ فَیَكُوْنُ(یٰس ۔82)
ترجمہ
اس کا کام تو یہی ہے کہ جب کسی چیز کا ارادہ فرماتا ہے تو اس سے فرماتا ہے ، ’’ ہو جا‘‘ تو وہ ہوجاتی ہے۔
اس حوالہ سے آپ ﷺ کی حیثیت ایک امیر کی سی ہے۔وہ ذات جسے عالمِ امر میں تمام انسانوں سے افضل اور برتر ہے۔
*شہہِ معمورِہ خلقی
(معمُورہءخلق) اس مادی دنیا کو کہتے ہیں جس میں مخلوقات پائی جاتی ہیں۔
"شہہِ معمورِ خلقی" کا مطلب ہے آباد جہانوں کے بادشاہ۔
یعنی آقا صلی اللہ علیہ وسلم دونوں جہانوں کے بادشاہ و رہنما ہیں۔
گویا عالمِ امر (باطن) اور عالمِ خلق (ظاہر)۔
دونوں میں آپ افضل و اعلٰی بشر ہیں
ادیبِ علوی و سفلی۔
یہاں "ادیب" کا مطلب ہے حکمت، علم، اور تہذیب سکھانے والےﷺ
(عُلوی) یعنی اعلیٰ و بلند مراتب والے عالم (فرشتگان و ارواح وغیرہ)
(سِفلی) خاک سے بنی ہوئ مخلوق ۔یعنی ادنیٰ و دنیوی جہان (جیسے دنیائے اجسام)
اس سے مراد یہ ہے کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم تمام جہانوں کے ادب و حکمت کے امام و معلم ہیں۔
*رسولِ انسی و جانی
انسانوں اور جنوں کے رسول،پیغامبر
یعنی آپ تمام انسانوں اور جنات کی طرف رسول بنا کر بھیجے گئے۔
قرآن بھی اس کی گواہی دیتاہے
وَ مَاۤ اَرْسَلْنٰكَ اِلَّا كَآفَّةً لِّلنَّاسِ بَشِیْرًا وَّ نَذِیْرًا وَّ لٰكِنَّ اَكْثَرَ النَّاسِ لَا یَعْلَمُوْنَ۔۔سورہ السباء(28)
ترجمہ: کنزالایمان
اور اے محبوب ہم نے تم کو نہ بھیجا مگر ایسی رسالت سے جو تمام آدمیوں کو گھیرنے والی ہے خوشخبری دیتا اور ڈر سناتا لیکن بہت لوگ نہیں جانتے۔۔
ترجمہ

یا رب به رسالت رسول الثقلین ﷺیا رب به غزا کنندهٔ بدر و حنینعصیان مرا دو حصه کن در عرصاتنیمی به حسنؓ ببخش و نیمی به حسینؓ...
09/07/2025

یا رب به رسالت رسول الثقلین ﷺ
یا رب به غزا کنندهٔ بدر و حنین
عصیان مرا دو حصه کن در عرصات
نیمی به حسنؓ ببخش و نیمی به حسینؓ
(ابو سعید ابوالخیر)
ترجمہ
اے میرے رب! رسول الثقلین صلی اللہ علیہ وسلم کی رسالت کے واسطے سے، اے میرے رب! بدر و حنین کے غزوات کے قائد رسول صلی اللہ علیہ وسلم کے وسیلے سے، میرے گناہوں کے دو حصے کر کے ایک حصہ بہ طفیل حسن رضی اللہ عنہ اور ایک حصہ بوسیلہ حسین رضی اللہ عنہ بخش دے۔
آمین
#حسین

ﭘﻨﺞ ﺭُﮐﻦ ﺍﺳﻼﻡ ﺩﮮ ، ﺗﮯ ﭼﮭﯿﻮﺍﮞ ﻓﺮﯾﺪﺍ ﭨُﮏﺟﮯ نہ ﻟﺒﮭﮯ ﭼﮭﯿﻮﺍﮞ ، ﺗﮯ ﭘﻨﺠﮯ ﺍﯼ ﺟﺎﻧﺪﮮ ﻣُﮏPanj rukan islam day tay chevan Farida tuk...
08/07/2025

ﭘﻨﺞ ﺭُﮐﻦ ﺍﺳﻼﻡ ﺩﮮ ، ﺗﮯ ﭼﮭﯿﻮﺍﮞ ﻓﺮﯾﺪﺍ ﭨُﮏ
ﺟﮯ نہ ﻟﺒﮭﮯ ﭼﮭﯿﻮﺍﮞ ، ﺗﮯ ﭘﻨﺠﮯ ﺍﯼ ﺟﺎﻧﺪﮮ ﻣُﮏ
Panj rukan islam day tay chevan Farida tuk
Jay na labhay chevan te panjay ei janday muk
(حضرت بابا فریدالدین مسعود گنج شکر رحمتہ اللہ علیہ)
ﺍﺭﺩﻭ ﺗﺮﺟﻤﮧ :
ﺍﺳﻼﻡ ﮐﮯ ﭘﺎﻧﭻ ﺭُﮐﻦ ﺑﯿﺎﻥ ﮐﺌﮯ ﺟﺎﺗﮯ ﮨﯿﮟ۔ﻟﯿﮑﻦ ﺍﮮ ﻓﺮﯾﺪ !
ﺍﯾﮏ ﭼﮭﭩﺎ ﺭُﮐﻦ ﺑﮭﯽ ﮨﮯﺍﻭﺭ ﻭﮦ ﮨﮯ ’’ ﺭﻭﭨﯽ‘‘
ﺍﮔﺮ ﯾﮧ ﭼﮭﭩﺎ ﻧﮧ ﻣِﻠﮯ، ﺗﻮ ﺑﺎﻗﯽ ﭘﺎﻧﭽﻮﮞ ﺑﮭﯽ ﺟﺎﺗﮯ ﺭﮨﺘﮯ ﮨﯿﮟ۔
پس منظر:
ﺍﺟﻮﺩﮬﻦ (موجودہ نام پاکپتن) ﮐﮯ ﻗﺮﯾﺐ ﺍﯾﮏ ﻣُﻼ ﺻﺎﺣﺐ ﺭﮨﺘﮯ ﺗﮭﮯ ﺟﻨﮭﯿﮟ ﺍﭘﻨﮯ ﻇﺎﮨﺮﯼ ﻋﻠﻢ ﭘﺮ ﺑﮩﺖ ﻧﺎﺯ ﺗﮭﺎ ﺍﻭﺭ ﻭﮦ ﺍﮐﺜﺮ ﺑﺎﺑﺎ ﻓﺮﯾﺪ رحمۃ اللہ علیہ ﮐﯽ ﻣﺠﻠﺲ ﻣﯿﮟ ﺍﭘﻨﯽ علمیت ﮐﮯ ﻗﺼﮯ ﺳﻨﺎﺗﮯ ﺟﻨﮭﯿﮟ ﺁﭖ (ﺭﺡ) ﺑﮯﺣﺪ ﺩﻟﭽﺴﭙﯽ ﺳﮯ ﺳﻨﺎ ﮐﺮﺗﮯ۔ ﻟﻮﮔﻮﮞ ﮐﻮ ﻣُﻼ ﺻﺎﺣﺐ ﮐﺎ ﺍﻧﺪﺍﺯ ﺑﺮﺍ ﻟﮕﺘﺎ ﻟﯿﮑﻦ ﻭﻩ ﺍﺣﺘﺮﺍﻡِ ﺷﯿﺦ ﻣﯿﮟ ﺧﺎﻣﻮﺵ ﺭﮨﺘﮯ۔ ﺍﯾﮏ ﺑﺎﺭ ﺑﺎﺑﺎ فریدؒ ﻧﮯ ﭘﻮﭼﮭﺎ: “ ﻣﻮﻻﻧﺎ ! ﺍﺳﻼﻡ ﮐﮯ ﮐﺘﻨﮯ ﺭُﮐﻦ ﮨﯿﮟ؟ ”
ﻣُﻼ ﺻﺎﺣﺐ ﺑﻮﻟﮯ :
“ ﺷﯿﺦ ﺁﭖ ﻧﮩﯿﮟ ﺟﺎﻧﺘﮯ؟ ﺍﺱ ﮐﺎ ﺟﻮﺍﺏ ﺗﻮ ﮐﻮﺋﯽ ﻋﺎﻡ ﻣﺴﻠﻤﺎﻥ ﺑﮭﯽ ﺟﺎﻧﺘﺎ ﮨﻮ ﮔﺎ۔ ﺍﺳﻼﻡ ﮐﮯ ﭘﺎﻧﭻ ﺍﺭﮐﺎﻥ ﮨﯿﮟ ﺗﻮﺣﯿﺪ , ﻧﻤﺎﺯ , ﺭﻭﺯﻩ , ﺯﮐﻮٰۃ ﺍﻭﺭ ﺣﺞ۔”
ﺁﭖ ﻣﺴﮑﺮﺍﺋﮯ ﺍﻭﺭ ﻓﺮﻣﺎﯾﺎ : “ﻣﻮﻻﻧﺎ ! ﻣﯿﮟ ﻧﮯ ﺗﻮ ﺳﻨﺎ ﮨﮯ ﺍﺳﻼﻡ ﮐﺎ ﭼﮭﭩﺎ ﺭﮐﻦ ﺑﮭﯽ ﮨﮯ ﺍﻭﺭ ﻭﻩ ﺭﮐﻦ ﺭﻭﭨﯽ ﮨﮯ۔” ﻣُﻼ ﺻﺎﺣﺐ ﺍﯾﮏ ﺩﻡ ﺑﮭﮍﮎ ﺍﭨﮭﮯ۔ “ﺍﺳﺘﻐﻔﺮ ﺍﻟﻠّٰﮧ ! ﺁﭖ ﻧﮯ ﺑﺎﻟﮑﻞ ﻏﻠﻂ ﺳﻨﺎ۔ ﺁﭖ ﻧﮯ ﺗﺤﻤﻞ ﺳﮯ ﻓﺮﻣﺎﯾﺎ : “ﻟﯿﮑﻦ ﻣﯿﮟ ﻧﮯ ﺗﻮ ﻣﻌﺘﺒﺮ ﺍﮨﻞ ﻋﻠﻢ ﺳﮯ ﺳﻨﺎ ﻫﮯ۔" ﯾﮧ ﺳﻦ ﮐﺮ ﻣُﻼ ﺻﺎﺣﺐ ﺍﭨﮫ ﮐﮭﮍﮮ ﻫﻮﺋﮯ ﺍﻭﺭ ﻗﺮﺁﻥ ﮐﺮﯾﻢ ﮐﯽ ﻭﻩ ﺁﯾﺖ ﺗﻼﻭﺕ ﮐﯽ ﺟﺲ ﮐﺎ ﺗﺮﺟﻤﮧ ﮨﮯ ﻧﺼﯿﺤﺖ ﮐﺮﻧﮯ ﮐﮯ ﺑﻌﺪ ﻇﺎﻟﻢ ﻗﻮﻡ ﮐﮯ ﭘﺎﺱ ﻣﺖ ﺑﯿﭩﮫ، ﻟﮩﺬﺍ ﻣﯿﮟ ﭼﻠﺘﺎ ﮨﻮﮞ۔
ﺑﺎﺑﺎ فریدؒ ﺑﮭﯽ ﮐﮭﮍﮮ ﮨﻮ ﮔﺌﮯ ﺍﻭﺭ ﻣﺤﺒﺖ ﺳﮯ ﻣُﻼ ﺻﺎﺣﺐ ﮐﺎ ﮨﺎﺗﮫ ﭘﮑﮍﺍ ﺍﻭﺭ ﻓﺮﻣﺎﯾﺎ : “ﻣﻮﻻﻧﺎ ! ﺍﺧﺘﻼﻑ ﺭﺍﺋﮯ ﺍﭘﻨﯽ جگہ ﻟﯿﮑﻦ ﮨﻢ ﺳﮯ ﻧﺎﺭﺍﺽ ﮨﻮ ﮐﺮ ﺗﻮ ﻧﮧ ﺟﺎﺋﯿﮟ۔” ﻟﯿﮑﻦ ﻣُﻼ ﺻﺎﺣﺐ ﻧﮯ ﺍﭘﻨﺎ ﮨﺎﺗﮫ ﭼﮭﮍﺍﯾﺎ ﺍﻭﺭ ﻏﻀﺐ ﻧﺎﮎ ﮨﻮ ﮐﺮ ﭼﻞ ﺩﯾﮯ۔ ﺍﺳﮑﮯ ﺑﻌﺪ ﻣُﻼ ﺻﺎﺣﺐ ﺣﺞ ﮐﯿﻠﺌﮯ ﺭﻭﺍﻧﮧ ﮨﻮ ﮔﺌﮯ۔ ﺣﺞ ﮐﯽ ﺳﻌﺎﺩﺕ ﺣﺎﺻﻞ ﮐﯽ، مکہ ﻣﮑﺮﻣﮧ ﺍﻭﺭ ﻣﺪﯾﻨﮧ ﻣﻨﻮﺭﻩ ﻣﯿﮟ ﺳﺎﺕ ﺳﺎﻝ ﻗﯿﺎﻡ ﮐﯿﺎ ﺍﻭﺭ ﭘﮭﺮ ﻭﻃﻦ ﻭﺍﭘﺴﯽ ﮐﯿﻠﺌﮯ ﺭﻭﺍﻧﮧ ﮨﻮﺋﮯ۔ ﻭﺍﭘﺴﯽ ﮐﮯ ﺳﻔﺮ ﻣﯿﮟ ﺍﭼﺎﻧﮏ ﺳﻤﻨﺪﺭ ﻣﯿﮟ ﺳﺨﺖ ﻃﻮﻓﺎﻥ ﺁﯾﺎ جس سے جہاز تباہ ہو گیا ﺍﻭﺭ ﻣُﻼ ﺻﺎﺣﺐ ﺍﯾﮏ ﺗﺨﺘﮯ ﭘﺮ ﺗﯿﺮﺗﮯ ﮨﻮﺋﮯ ﮐﺴﯽ ﺟﺰﯾﺮﮮ ﺗﮏ ﺟﺎ ﭘﮩﻨﭽﮯ۔ ﺟﺰﯾﺮﻩ ﺩﯾﮑﮭﺎ ﺗﻮ ﻧﮧ ﭘﺎﻧﯽ ﻧﮧ ﺩﺭﺧﺖ ﻧﮧ ﮔﮭﺎﺱ۔ ﺗﯿﻦ ﺩﻥ ﺑﮭﻮﮐﮯ ﭘﯿﺎﺳﮯ ﺍﯾﮏ ﻏﺎﺭ ﻣﯿﮟ ﺑﯿﭩﮭﮯ ﺩﻋﺎ ﮐﺮﺗﮯ ﺭﮨﮯ ﮐﮧ “ﺍﮮ ﭘﺎﻟﻨﮯ ﻭﺍﻟﮯ ! ﺍﺱ ﻋﺬﺍﺏ ﺳﮯ ﻧﮑﺎﻝ۔” ﺗﯿﻦ ﺩﻥ ﺑﻌﺪ ﮐﮩﯿﮟ ﺳﮯ ﺍﯾﮏ ﺷﺨﺺ ﺁﯾﺎ ﺍﻭﺭ ﺁﻭﺍﺯ ﻟﮕﺎﺋﯽ ﮐﮧ “ﺭﻭﭨﯽ ﺧﺮﯾﺪ ﻟﻮ۔” ﻣُﻼ ﺻﺎﺣﺐ ﻧﮯ ﺍﺳﮯ ﺑﻼﯾﺎ ﺍﻭﺭ ﺍﭘﻨﯽ ﺩﮐﮭﯽ ﺩﺍﺳﺘﺎﻥ ﺳﻨﺎﺋﯽ۔ ﻭﻩ ﺑﻮﻻ کہ ﻣﯿﺮﮮ ﭘﺎﺱ ﺭﻭﭨﯽ ﺑﮭﯽ ﮨﮯ ﺍﻭﺭ ﭘﺎﻧﯽ ﺑﮭﯽ ﻣﮕﺮ ﻣﻔﺖ ﻣﯿﮟ ﻧﮩﯿﮟ ﺩﻭﮞ ﮔﺎ۔ ﻣُﻼ ﺻﺎﺣﺐ ﻧﮯ ﺑﮯ ﺑﺴﯽ ﺳﮯ ﮐﮩﺎ کہ ﺑﮭﺎﺋﯽ ﻣﯿﺮﮮ ﭘﺎﺱ ﺍﯾﮏ ﭘﯿﺴﻪ ﺗﮏ ﻧﮩﯿﮟ ﮨﮯ۔ ﭘﮭﺮ ﭘﻮﭼﮭﺎ کہ ﮐﯿﺎ ﺗﻢ ﻣﺴﻠﻤﺎﻥ ﮨﻮ؟ ﺗﻮ ﻭﻩ ﺑﻮﻻ : “ﺍﻟﺤﻤﺪ ﺍﻟﻠّٰﮧ ﻣﯿﮟ ﻣﺴﻠﻤﺎﻥ ﮨﻮﮞ۔” ﻣُﻼ ﺻﺎﺣﺐ ﻧﮯ ﻓﻮﺭﺍً ﺑﮭﻮﮐﻮﮞ ﮐﻮ ﮐﮭﺎﻧﺎ ﮐﮭﻼﻧﮯ ﮐﯽ ﺭﻭﺍﯾﺎﺕ ﺑﯿﺎﻥ ﮐﺮﻧﺎ ﺷﺮﻭﻉ ﮐﯿﮟ ﺗﻮ ﻭﻩ ﺑﻮﻻ : “ ﻣﯿﮟ ﺑﮭﻮﮐﻮﮞ ﮐﻮ ﮐﮭﺎﻧﺎ ﮐﮭﻼﻧﮯ ﮐﮯ ﺛﻮﺍﺏ ﺳﮯ ﻭﺍﻗﻒ ﮨﻮﮞ ﻟﯿﮑﻦ ﺭﺯﻕ ﺣﻼﻝ ﮐﻤﺎﻧﮯ ﮐﺎ ﺣﮑﻢ ﺑﮭﯽ ﺍﻟﻠّٰﮧ ﻧﮯ ﮨﯽ ﺩﯾﺎ ﻫﮯ۔
” ﻣُﻼ ﺻﺎﺣﺐ ﻧﮯ ﺍﺳﮯ ﺍﭘﻨﯽ ﻧﻤﺎﺯ، ﺭﻭﺯﮮ، ﺯﮐﻮٰۃ ﺍﻭﺭ ﺳﺎﺕ ﺣﺠﻮﮞ ﺳﮯ ﻣﺮﻋﻮﺏ ﮐﺮﻧﮯ ﮐﯽ ﮐﻮﺷﺶ ﮐﯽ ﻟﯿﮑﻦ ﻭﻩ ﭨﺲ ﺳﮯ ﻣﺲ ﻧﮧ ﮨﻮﺍ۔ ﺁﺧﺮ ﺑﻮﻻ :
“ ﭼﻠﯿﮯ ﻣﯿﮟ ﺁﭖ ﭘﺮ ﺭﺣﻢ ﮐﮭﺎﺗﺎ ﮨﻮﮞ۔ ﺍﭘﻨﮯ ﺳﺎﺕ ﺣﺠﻮﮞ ﮐﺎ ﺛﻮﺍﺏ ﻣﺠﮭﮯ ﺩﯾﺪﯾﮟ ﻣﯿﮟ ﺁﭘﮑﻮ ﺭﻭﭨﯽ ﮐﮭﻼ ﺩﯾﺘﺎ ﮨﻮﮞ۔ ﻣُﻼ ﺻﺎﺣﺐ ﻧﮯ ﺳﻮﭼﺎ ﺯﺑﺎﻧﯽ ﺛﻮﺍﺏ ﺩﮮ ﺩﯾﻨﮯ ﺳﮯ ﮐﯿﺎ ﮨﻮ ﮔﺎ؟ ﻟﮩﺬﺍ ﺑﻮﻟﮯ : “ﭼﻠﻮ ﺳﺎﺕ ﺣﺠﻮﮞ ﮐﺎ ﺛﻮﺍﺏ ﺗﻤﻬﯿﮟ ﺩﯾﺎ۔” ﻣُﻼ ﺻﺎﺣﺐ ﻧﮯ ﺭﻭﭨﯽ ﮐﮭﺎﺋﯽ ﺗﻮ ﺟﺎﻥ ﻣﯿﮟ ﺟﺎﻥ ﺁﺋﯽ۔ ﺍﺱ ﺳﮯ ﭘﻮﭼﮭﺎ کہ ﺗﻢ ﮐﮩﺎﮞ ﺭﮨﺘﮯ ﮨﻮ؟ ﻗﺮﯾﺐ ﻣﯿﮟ ﮐﻮﺋﯽ ﺁﺑﺎﺩﯼ ﮨﮯ؟ ﻟﯿﮑﻦ ﺍﺱ ﻧﮯ ﺑﺮﺗﻦ ﺍﭨﮭﺎﺋﮯ ﺍﻭﺭ ﻏﺎﺭ ﺳﮯ ﻧﮑﻞ ﮔﯿﺎ۔ ﻣُﻼ ﺻﺎﺣﺐ ﻧﮯ ﺍﺱ ﮐﺎ ﭘﯿﭽﮭﺎ ﮐﺮﻧﮯ ﮐﯽ ﮐﻮﺷﺶ ﮐﯽ ﻟﯿﮑﻦ ﻭﻩ ﻏﺎﺋﺐ ﮨﻮ ﮔﯿﺎ۔ ﺗﯿﻦ ﺩﻥ ﺑﻌﺪ ﭘﮭﺮ ﺳﮯ ﺟﺐ ﺑﮭﻮﮎ ﺳﮯ ﻣُﻼ ﺻﺎﺣﺐ ﮐﯽ ﺣﺎﻟﺖ ﺧﺮﺍﺏ ﮨﻮﻧﮯ ﻟﮕﯽ ﺗﻮ ﻭﻩ ﭘﮭﺮ ﻧﻤﻮﺩﺍﺭ ﮨﻮﺍ ﺍﻭﺭ ﺍﺱ ﺑﺎﺭ ﻣُﻼ ﺻﺎﺣﺐ ﮐﮯ ﺭﻭﺯﻭﮞ ﮐﺎ ﺛﻮﺍﺏ ﻟﮯ ﮐﺮ ﭼﻠﺘﺎ ﺑﻨﺎ۔ ﭘﮭﺮ ﺗﯿﻦ ﺩﻥ ﺑﻌﺪ ﻧﻤﺎﺯﻭﮞ ﺍﻭﺭ ﺍﺱ ﮐﮯ ﺗﯿﻦ ﺩﻥ ﺑﻌﺪ ﺯﮐﻮۃ ﮐﺎ ﺛﻮﺍﺏ ﺑﮭﯽ ﺍﺱ ﻧﮯ ﻟﮯ ﻟﯿﺎ۔ ﭘﮭﺮ ﺍﮔﻠﮯ ﺗﯿﻦ ﺩﻥ ﮔﺰﺭﮮ ﺍﻭﺭ ﺟﺐ ﻭﻩ ﺁﯾﺎ ﺗﻮ ﻣُﻼ ﺻﺎﺣﺐ ﺭﻭﻧﮯ ﻟﮕﮯ۔ ﺍﺏ ﻣﯿﺮﮮ ﭘﺎﺱ ﮐﭽﮫ ﺑﺎﻗﯽ ﻧﮩﯿﮟ ﺭﮨﺎ۔” ﺗﻮ ﻭﻩ ﺑﻮﻻ کہ ﺁﺝ ﺁﭖ ﺑﺲ ﺍﺗﻨﺎ ﮐﺮﯾﮟ ﮐﮧ ﻣﺠﮭﮯ ﺗﻤﺎﻡ ﺛﻮﺍﺏ ﺗﺤﺮﯾﺮﯼ ﻃﻮﺭ ﭘﺮ ﺩﮮ ﺩﯾﮟ۔ ﻣُﻼ ﺻﺎﺣﺐ ﻧﮯ ﮐﺎﻏﺬ ﭘﺮ ﻟﮑﮫ ﮐﺮ ﺩﮮ ﺩﯾﺎ کہ ﻣﯿﮟ ﻧﮯ ﺍﭘﻨﯽ ﺗﻤﺎﻡ ﻋﻤﺮ ﮐﯽ ﻧﻤﺎﺯﯾﮟ، ﺭﻭﺯﮮ، ﺯﮐﻮٰۃ ﺍﻭﺭ ﺣﺞ ﺍﺱ ﺷﺨﺺ ﮐﮯ ﮨﺎﺗﮫ ﺭﻭﭨﯽ ﮐﮯ ﺑﺪﻟﮯ ﻓﺮﻭﺧﺖ ﮐﺌﮯ ﺍﻭﺭ ﻧﯿﭽﮯ ﺍﭘﻨﮯ ﺩﺳﺘﺨﻂ ﮐﺮ ﺩﯾﮯ۔ ﺭﻭﭨﯽ ﮐﮭﺎﺗﮯ ﮨﻮﺋﮯ ﺳﻮﭼﺎ ﮐﮧ ﺗﯿﻦ ﺩﻥ ﺑﻌﺪ ﮔﺰﺍﺭﻩ ﮐﯿﺴﮯ ﮨﻮ ﮔﺎ؟ ﺍﺱ ﻟﺌﮯ ﺁﺝ ﺍﺱ ﮐﺎ ﭘﯿﭽﮭﺎ ﺿﺮﻭﺭ ﮐﺮﻧﺎ ﮨﮯ۔ ﻣُﻼ ﺻﺎﺣﺐ ﻧﮯ ﮐﺎﻓﯽ ﺩﻭﺭ ﺗﮏ ﺍﺱ ﮐﺎ ﭘﯿﭽﮭﺎ ﮐﯿﺎ ﻟﯿﮑﻦ ﺁﮔﮯ ﺟﺎ ﮐﺮ ﻭﻩ ﭘﮭﺮ ﮐﮩﯿﮟ ﻏﺎﺋﺐ ﮨﻮ ﮔﯿﺎ۔ ﺳﻤﻨﺪﺭ ﺳﺎﻣﻨﮯ ﺗﮭﺎ ﻣُﻼ ﺻﺎﺣﺐ ﺫﺭﺍ ﺳﺎﻧﺲ ﺑﺤﺎﻝ ﮐﺮﻧﮯ ﮐﯿﻠﺌﮯ ﺑﯿﭩﮫ ﮔﺌﮯ ﺍﺗﻔﺎﻕ ﺳﮯ ﺍﺳﯽ ﻭﻗﺖ ﺍﯾﮏ ﺟﮩﺎﺯ ﻗﺮﯾﺐ ﺳﮯ ﮔﺰﺭ ﺭﮨﺎ ﺗﮭﺎ۔ ﻣُﻼ ﺻﺎﺣﺐ ﻧﮯ ﺍﭘﻨﯽ ﻗﻤﯿﺾ ﺍﺗﺎﺭ ﮐﺮ ﺩﯾﻮﺍنہ ﻭﺍﺭ ﮨﻮﺍ ﻣﯿﮟ ﻟﮩﺮﺍﺋﯽ ﺟﺲ ﺳﮯ ﺟﮩﺎﺯ ﻭﺍﻟﻮﮞ ﮐﯽ ﻧﻈﺮ ﺍﻥ ﭘﺮ ﭘﮍﯼ ﺍﻭﺭ ﺍﻧﮭﻮﮞ ﻧﮯ ﮐﺸﺘﯽ ﺑﮭﯿﺞ ﺩﯼ۔ ﺧﺪﺍ ﮐﯽ ﻗﺪﺭﺕ ﯾﮧ ﮐﮧ ﻭﮦ ﻫﻨﺪﻭﺳﺘﺎﻧﯽ ﺣﺎﺟﯿﻮﮞ ﮐﺎ ﮨﯽ ﺟﮩﺎﺯ ﺗﮭﺎ ﻟﮩﺬﺍ ﺍﻧﮭﻮﮞ ﻧﮯ ﻣُﻼ ﺻﺎﺣﺐ ﮐﯽ ﺧﻮﺏ ﺧﺪﻣﺖ ﮐﯽ ﺍﻭﺭ ﻭﻩ ﺑﺨﯿﺮ ﻭ ﻋﺎﻓﯿﺖ ﺍﭘﻨﮯ ﮔﮭﺮ ﭘﮩﻨﭻ ﮔﺌﮯ۔ ﮐﭽﮫ ﺩﻥ ﺑﻌﺪ ﻭﮦ ﺍﭘﻨﯽ ﻋﺒﺎﺩﺕ ﻭ ﺭﯾﺎﺿﺖ ﮐﺎ ﺣﺎﻝ ﺳﻨﺎﻧﮯ ﺑﺎﺑﺎ فریدؒ ﮐﯽ ﺧﺎﻧﻘﺎﻩ ﭘﮩﻨﭽﮯ۔ ﺑﺎﺑﺎ فریدؒ ﻧﮯ ﮐﮭﮍﮮ ﮨﻮ ﮐﺮ ﺍﺳﺘﻘﺒﺎﻝ ﮐﯿﺎ ﺍﻭﺭ ﻓﺮﻣﺎﯾﺎ: “ﻣُﻼ ﺻﺎﺣﺐ ! ﺑﮩﺖ ﻋﺮﺻﮯ ﺑﻌﺪ ﺗﺸﺮﯾﻒ ﻻﺋﮯ۔” ﻣُﻼ ﺻﺎﺣﺐ ﺧﺸﮏ ﻟﮩﺠﮯ ﻣﯿﮟ ﺑﻮﻟﮯ :
“ ﯾﮩﺎﮞ ﮨﻮﺗﺎ ﺗﻮ ﺁﺗﺎ ﻧﺎ۔ ﻣﯿﮟ ﺣﺞ ﮐﺮﻧﮯ ﮔﯿﺎ ﺗﮭﺎ۔ ﺳﺎﺕ ﺳﺎﻝ ﺗﮏ ﻣﮑﻪ ﻣﮑﺮﻣﮧ ﺍﻭﺭ ﻣﺪﯾﻨﻪ ﻣﻨﻮﺭﻩ ﻣﯿﮟ ﻗﯿﺎﻡ ﮐﯿﺎ۔ ﺣﺮﻣﯿﻦ ﺷﺮﯾﻔﯿﻦ ﺍﻭﺭ ﻣﺴﺠﺪ ﻧﺒﻮﯼ ﺻﻠﯽ ﺍﻟﻠّٰﮧ ﻋﻠﯿﮧ ﻭ ﺁﻟﮧ ﻭﺳﻠﻢ ﻣﯿﮟ ﻧﻤﺎﺯﯾﮟ ﺍﺩﺍ ﮐﺮﻧﮯ ﮐﯽ ﺳﻌﺎﺩﺕ ﺣﺎﺻﻞ ﮐﯽ۔"
ﺁﭖ (ﺭﺡ) ﻧﮯ ﺧﻮﺵ ﻣﺰﺍﺟﯽ ﺳﮯ ﻓﺮﻣﺎﯾﺎ : "ﺁﭖ ﺗﻮ ﻭﺍﻗﻌﯽ ﺧﻮﺵ ﻗﺴﻤﺖ ﮨﯿﮟ ﻣﻮﻻﻧﺎ ! ﺍﺏ ﺗﻮ ﺁﭖ ﮨﻢ ﺳﮯ ﻧﺎﺭﺍﺽ ﻧﮩﯿﮟ ﮨﯿﮟ؟ ﺳﺎﺕ ﺳﺎﻝ ﭘﮩﻠﮯ ﺁﭖ ﮨﻢ ﺳﮯ ﺍﯾﮏ ﭼﮭﻮﭨﯽ ﺳﯽ ﺑﺎﺕ ﭘﺮ ﻧﺎﺭﺍﺽ ﮨﻮ ﮐﺮ ﮔﺌﮯ ﺗﮭﮯ۔” ﻣُﻼ ﺻﺎﺣﺐ ﺑﺎﺑﺎ فریدؒ ﮐﯽ ﻋﺎﺟﺰﯼ ﺳﮯ ﺍﻭﺭ ﻣﻐﺮﻭﺭ ﮨﻮ ﮔﺌﮯ ﺍﻭﺭ ﺑﻮﻟﮯ : "ﻣﺠﮭﮯ ﺗﻮ ﮐﭽﮫ ﯾﺎﺩ ﻧﮩﯿﮟ، ﺁﭖ ﯾﺎﺩ ﺩﻻﺋﯿﮟ ﺗﻮ ﺷﺎﯾﺪ ﯾﺎﺩ ﺁ ﺟﺎﺋﮯ۔" ﺁﭖ (ﺭﺡ) ﻧﮯ ﻓﺮﻣﺎﯾﺎ : “ﻣﯿﮟ ﻧﮯ ﻋﺮﺽ ﮐﯿﺎ ﺗﮭﺎ ﮐﮧ ﺍﺳﻼﻡ ﮐﺎ ﭼﮭﭩﺎ ﺭﮐﻦ ﺭﻭﭨﯽ ﻫﮯ ﺍﻭﺭ ﺁﭖ ﻫﻤﯿﮟ ﻇﺎﻟﻢ ﻗﺮﺍﺭ ﺩﮮ ﮐﺮ ﭼﻠﮯ ﮔﺌﮯ ﺗﮭﮯ۔ ﭘﮭﺮ ﺑﮭﯽ ﮨﻢ ﺁﭘﮑﻮ ﯾﺎﺩ ﮐﺮﺗﮯ ﺭﮨﮯ۔” ﻣُﻼ ﺻﺎﺣﺐ ﻃﻨﺰﯾﮧ ﺍﻧﺪﺍﺯ ﻣﯿﮟ ﻫﻨﺴﮯ ﺍﻭﺭ ﺑﻮﻟﮯ : “ﺩﺭﻭﯾﺶ ﺍﭘﻨﯽ ﮐﻢ ﻋﻠﻤﯽ ﮐﮯ ﺑﺎﻋﺚ ﺍﮐﺜﺮ ﺍﯾﺴﯽ ﺑﺎﺗﯿﮟ ﮐﮩﮧ ﺩﯾﺘﮯ ﮨﯿﮟ ﻟﯿﮑﻦ ﺳﭻ ﯾﮩﯽ ﻫﮯ ﮐﮧ ﺍﺳﻼﻡ ﮐﺎ ﮐﻮﺋﯽ ﭼﮭﭩﺎ ﺭﮐﻦ ﻧﮩﯿﮟ ﮨﮯ۔ ﺁﭖ (ﺭﺡ) ﻧﮯ ﻓﺮﻣﺎﯾﺎ: "ﻣﯿﮟ ﮐﻢ ﻋﻠﻢ ﮨﻮﮞ ﻟﯿﮑﻦ ﻣﯿﮟ ﻧﮯ ﯾﮧ ﺑﺎﺕ ﻟﮑﮭﯽ ﮨﻮﺋﯽ ﺩﯾﮑﮭﯽ ﻫﮯ"۔ ﭘﮭﺮ ﺁﭖ ﻧﮯ ﺣﺎﺿﺮﯾﻦ ﺳﮯ ﻓﺮﻣﺎﯾﺎ: "ﻣﯿﮟ ﮐﭽﮫ ﺩﯾﺮ ﺗﻨﮩﺎﺋﯽ ﭼﺎﻫﺘﺎ ﮨﻮﮞ"۔ ﺗﻨﮩﺎﺋﯽ ﻣﯿﮟ ﺁﭖ (رﺡ) ﻧﮯ ﺍﯾﮏ ﮐﺘﺎﺏ ﻣُﻼ ﺻﺎﺣﺐ کو دکھائی جس کے ﺍﯾﮏ ﺻﻔﺤﮯ ﭘﺮ انہیں ﻭﮨﯽ ﺗﺤﺮﯾﺮ نظر آئی ﺟﻮ ﻣُﻼ ﺻﺎﺣﺐ ﻧﮯ ﺟﺰﯾﺮﮮ ﻣﯿﮟ ﺭﻭﭨﯽ ﻓﺮﻭﺧﺖ ﮐﺮﻧﮯ ﻭﺍﻟﮯ ﮐﻮ ﻟﮑﮫ ﮐﺮ ﺩﯼ ﺗﮭﯽ۔
ﻣُﻼ ﺻﺎﺣﺐ ﭼﻨﺪ ﻟﻤﺤﮯ ﺣﯿﺮﺕ ﺳﮯ ﺳﮑﻮﺕ ﮐﮯ ﻋﺎﻟﻢ ﻣﯿﮟ ﺑﯿﭩﮭﮯ ﺭﮨﮯ ﭘﮭﺮ ﺁﭖ ﮐﮯ ﻗﺪﻣﻮﮞ ﻣﯿﮟ ﮔﺮ ﭘﮍﮮ ﺍﻭﺭ ﺑﻮﻟﮯ:
“ﺷﯿﺦ ! ﻣﯿﮟ ﻧﮯ ﺍﭘﻨﮯ ﺁﭖ ﭘﺮ ﻇﻠﻢ ﮐﯿﺎ۔" ﺁﭖ (ﺭﺡ) ﻧﮯ ﻣﺤﺒﺖ ﺳﮯ ﻓﺮﻣﺎﯾﺎ : "ﻣﺠﮭﮯ ﺁﭖ ﺳﮯ ﮐﻮﺋﯽ ﺷﮑﺎﯾﺖ ﻧﮩﯿﮟ ﮨﮯ ﻣﻮﻻﻧﺎ ! ﺍﯾﮏ ﻣﻌﻤﻮﻟﯽ ﺍﺧﺘﻼﻑ ﺗﮭﺎ ﺳﻮ ﻭﻩ ﺁﺝ ﺩﻭﺭ ﮨﻮ ﮔﯿﺎ۔" ﺍﺱ ﮐﮯ ﺑﻌﺪ ﻣُﻼ ﺻﺎﺣﺐ ﺁﭖ (ﺭﺡ) ﮐﮯ ﻣﺮﯾﺪ ﮨﻮ ﮔﺌﮯ۔ ﻣﺮﯾﺪ ﮨﻮﻧﮯ ﮐﮯ ﺑﻌﺪ ﮐﺴﯽ ﻧﮯ ﺍﻧﮭﯿﮟ ﺑﺎﺕ ﮐﺮﺗﮯ ﻧﮩﯿﮟ ﺩﯾﮑﮭﺎ۔ ﺟﺐ ﺗﮏ ﺯﻧﺪﻩ ﺭﮨﮯ، ﮨﺮ ﻭﻗﺖ ﺭﻭﺗﮯ ﺭﮨﺘﮯ ﺗﮭﮯ۔
(ملخص)
بحوالہ: نظامی بنسری از خواجہ حسن نظامی
صفحہ 141 تا 148
بار اول؛ 2007
زاویہ پبلشرز
Khawaja Muhammad Yaar TrustDarbar Hazrat Data Gunj Bakhsh رحمتہ اللہ علیہ Darbar E Aliya HAZOOR QIBLA ALAM HAZRAT KHAWAJA NOOR MUHAMMAD MAHARVI(R.A) Hazrat Baba Fareed Ud Din Masood Ganj Shakar (R.A) Hazrat Khawaja Ghulam Fareed

ماه فروماند از جمال محمدﷺسرو نباشد به اعتدال محمدﷺترجمہچاند جمال محمدﷺ سے روشنی لے کر طلوع ہوتا ہے۔۔ اور سرو کبھی آپ ﷺ ک...
30/05/2025

ماه فروماند از جمال محمدﷺ
سرو نباشد به اعتدال محمدﷺ
ترجمہ
چاند جمال محمدﷺ سے روشنی لے کر طلوع ہوتا ہے۔۔ اور سرو کبھی آپ ﷺ کے حسن قامت کے ہم سر نہیں ہو پاتا.

قدر فلک را کمال و منزلتی نیست
در نظر قدر با کمال محمدﷺ
ترجمہ
اس کے سامنے آسمان کی کوئ قدر و منزلت نہیں .. جس کی نگاہ میں حضرت کمالِ محمد ی صلى الله عليه واله وسلم سما جائے

وعدهٔ دیدار هر کسی به قیامت
لیلهٔ اسری شب وصال محمدﷺ
ترجمہ
(خدایا)ہر کسی کے لئے تیرا وعدہ دیدار قیامت کے دن کا ہے لیکن اسرٰی کی شب ( شب معراج) وصالِ محمد ﷺ کے لئے بنائ گئی ۔

آدم و نوح و خلیل و موسی و عیسٰی
آمده مجموع در ظلال محمدﷺ
ترجمہ
آدم و نوح و خلیل و موسی و عیسٰی علیہ السلام تمامی پیغمبران ظلال محمدﷺ کے زیر نگین ہیں ۔یعنی آپﷺ سب پیغمبروں کے لئے سردار ہیں

عرصهٔ گیتی مجال همت او نیست
روز قیامت نگر مجال محمدﷺ
ترجمہ
یہ زندگانی ،یہ دورِ زمان یہ عرصہ حیات ،قیامت تک بھی اگر ہے تو اس کی ہمت نہیں یے کہ آپ کی شان دیکھی جائے ۔ آپﷺ کی جولان گاہ ،آپ ﷺ کا دائرہ جمال دیکھنا ہو تو روزِ قیانت کو دیکھنا

وآنهمه پیرایه بسته جنت فردوس
بو که قبولش کند بلال محمدﷺ
ترجمہ
اور یہ جو جنت الفردوس نے ساری تیاریاں اور سجاوٹیں کی ہوئ ہیں ۔۔اس لیے ہیں کہ ان کو حضرت محمد ﷺکے پیارے بلال ؓ قبول کرلیں

همچو زمین خواهد آسمان که بیفتد
تا بدهد بوسه بر نعال محمدﷺ
ترجمہ
آسمان چاہتا ہے کہ زمین کی طرح گر پڑے تاکہ حضرت محمد صلى الله عليه واله وسلم کے نعلین مبارک پہ بوسہ دے

شمس و قمر در زمین حشر نتابد
نور نتابد مگر جمال محمدﷺ
ترجمہ
یہ شمس و قمر کی حشر کی سر زمین پہ تابناکی نہیں ہو گی وہاں محشر میں صرف جمالِ مُحمدی ﷺ کا نور ہو گا

شاید اگر آفتاب و ماه نتابند
پیش دو ابروی چون هلال محمدﷺ
ترجمہ
شاید کہ اگر آفتاب و ماہ ۔یہ چاند سُورج حضرت محمد صلى الله عليه واله وسلم کے ان دو ابرُووں کے سامنے پیش ہوں تو اہنی تابناکی کھو دیں
چشم مرا تا به خواب دید جمالش
خواب نمی‌گیرد از خیال محمدﷺ
ترجمہ
میری آنکھ میں تاکہ خواب میں ان ﷺ کے جمال کا دیدار کرے اس لئے خیال محمد ﷺ سے نیند ہی نہیں آتی

سعدی اگر عاشقی کنی و جوانی
عشق محمد بس است و آل محمدﷺ
ترجمہ
اے سعدی !! اگر تو جوان ( ہمت والا ) ہے اور عشق کرتا ہے ۔۔تو بس عشق محمد صلى الله عليه واله وسلم اور آلِ رسول ﷺ کا عشق اختیار کر۔۔

ٱللَّٰهُمَّ صَلِّ وَسَلِّمْ وَبَارِكْ عَلَىٰ مُحَمَّدٍ وَعَلىٰ آلِ مُحَمَّدٍ

حضرت ؒ رحمۃ اللہ علیہ

#ترجمہ

درد مندم دوا نمی دانم مستمندم شفا نمی دانم بندِ زلفت چہ ذوقہا دارداز کمندش رہا نمی دانم #کلام حضرت   رحمۃ اللہ علیہ  Kha...
30/05/2025

درد مندم دوا نمی دانم
مستمندم شفا نمی دانم
بندِ زلفت چہ ذوقہا دارد
از کمندش رہا نمی دانم
#کلام حضرت رحمۃ اللہ علیہ


Khawaja Muhammad Yaar Trust

#تشریح
یہ وہ مرض ہے جس کی دوا دنیوی نسخوں میں نہیں،
یہ وہ بیمار ہے جس کی شفا فقط دیدارِ حق میں ہے۔
یہاں "دوا" اور "شفا" کو ترک کرنا دراصل رضا بالقضا اور تسلیم و رضا کا عرفانی مقام ہے — جہاں بندہ صرف خدا کی محبت میں جینا اور مرنا چاہتا ہے، شفا کی خواہش بھی چھوڑ دیتا ہے۔

درد مندم دوا نمی دانم
مستمندم شفا نمی دانم
بندِ زلفت چہ ذوقہا دارد
از کمندش رہا نمی دانم
#ترجمہ
میں درد مند ہوں درد رکھتا ہوں ، مگر کوئی دوا نہیں جانتا۔
میں مصیبت زدہ ہوں، مگر شفا نہیں جانتا۔
تیری زلف کی قید میں کیسی لذت ہے کہ
میں اس کی کمند سے رہائ نہیں جانتا
#فرہنگ
درد مندم ۔۔۔ درد رکھتا ہوں
دوا۔۔ علاج ۔۔۔ نمی دانم۔ میں نہیں جانتا
مستمندم ۔۔۔مصیبت زدہ غم کا مارا
شفا۔۔ تندرستی نمی دانم
بندِ زلفت۔۔۔ تیری زلف کے بند ۔ جال
چہ ذوقہا۔۔کس قدر اچھے ۔ کتنا لطف
دارد۔۔رکھتا ہے
از کمندش۔۔اس کی کمند سے
رہائ ۔آزادی
نمی دانم۔۔۔۔مں نہیں جانتا

#ترجمہ

کلام ۔حضرت  شیخ عبدالقادر جیلانی ؒان اشعار کی میں نے اپنی فہم کے مطابق شرح شرح لکھنے کی کوشش کی ہے احباب میں سے اگر کوئ ...
30/05/2025

کلام ۔
حضرت شیخ عبدالقادر جیلانی ؒ
ان اشعار کی میں نے اپنی فہم کے مطابق شرح شرح لکھنے کی کوشش کی ہے احباب میں سے اگر کوئ بہتر توجیح نکال سکتا ہے تو کمنٹس میں ضرور بتائے ۔
شکریہ

سیصد و شصت نظر راتبه بنده ماست
بنده را مرتبه بنگرزکجا تا به کجاست

بیوفائی مکن و ازدرِ ما دور مرو
زانکه ما را ز ازل تا به ابد باتوصفاست

کلام ۔حضرت شیخ عبدالقادر جیلانی ؒرحمۃ اللٰہ
#ترجمہ

تین سو ساٹھ طرف سے نگاہ (توجہات) ہر وقت ہمارے بندے پر رہتی ہے۔
ذرا بندے کے مرتبہ پہ غور کرو کہ وہ کہاں سے کہاں تک۔
بے وفائی نہ کر!
اور ہمارے در سے دور مت جا!
کہ ہمارا ازل سے ابد تک تیرے ساتھ سچا تعلق ہے۔
#تشریح
پہلے شعر میں "سیصد و شصت 360 نظر" کا اشارہ ہر پہلو اور ہر زاویے سے خدائی توجہات کی طرف ہے، ،آپؒ فرماتے ہیں
کہ اللٰہ کے خاص بندے پر 360 جہات سے مسلسل نگاہ رکھی جاتی ہے یعنی کہ اللٰہ کے خاص بندے کے گرد ایک دائروی ہالہ بنا ہوا ہے ا
اور وہ اس سرمدی نگاہ کے گھیرے ہیں ہے
اور کیونکہ ایک دائرے میں تین سو ساٹھ زاویے بنتے ہیں اور اس طرح سے بالکل مرکزی نقطہ کی طرح انسان ہر طرف سے فوکس کیا گیا ہے۔ انسان کو خبردار کیا ہے کہ تم یہ نہ سمجھ لو کہ تم کسی طرح سے بھی خدا کی نظر سے بچ سکتے ہو۔
تین سو ساٹھ طرف سے تم ایک نگاہ کی مسلسل نگرانی میں ہو اور بندہء خاص ،بندہ خدا جو دل سے ایمان رکھتا ہے خدا کے ساتھ ایک قلبی تعلق سے کبھی منحرف نہیں ہوتا وہ ہمہ وقت ہر دیکھا جارہا ہے
اور دوسرے مصرع میں اس بندے کے معنوی و روحانی ارتقاء کی طرف اشارہ ہےکہ وہ کس طرح سے معمولی مقام سے اٹھ کر کیسے بلند مقام تک جا پہنچتا ہے۔اس کا مجاہدہ اور ریاضت اسے کس مقام پہ لے آئ ہے ۔
تاکیداً کہتے ہیں کہ بے وفائ نہ کر۔ راہِ حق سے منہ نہ موڑ، ورنہ ساری کرم نوازی زائل ہو سکتی ہے۔ گویا تمام تر محبتِ الٰہی، نگاہِ کرم اور وفاداری کی تلقین ہے۔

#فرہنگِ
1. سیصد و شصت نظر
معنی: تین سو ساٹھ نگاہیں یا 360 متتبہ نظر (توجہ)
تمام اطراف سے نظرِ کرم، ہر لمحہ کی توجہ؛ ممکنہ طور پر "360 درجے" کی علامت، یعنی ہمہ جہت حفاظت و التفات۔
2_ راتبه
معنی: مسلسل، مستقل، قائم. ہمہ وقت
روزانہ، ہمیشہ رہنے والی
مراد وہ نظر جو ہر وقت بندے پر مستقل قائم رہتی ہو
3. مرتبه
معنی: مقام، مرتبہ، درجہ
روحانی یا عرفانی مقام، جو اللٰہ کے خاص بندوں کو عطا ہوا ہے۔
4.بیوفائی
معنی: وفا کا نہ ہونا، بے تعلقی. راہِ حق سے منہ موڑنا،یا عہدِ محبت کو توڑ دینا۔
5. درِ ما
معنی: ہمارا در
اللہ تعالیٰ یعنی اس کبریا کا در، یعنی مقامِ وصل، درِ حقیقت۔
6. ازل
معنی: ابتداء، دنیا کی تخلیق سے پہلے کا وقت۔ وہ وقت جب صرف خدا تھا اور اس کا علم خدا کے علاوہ کسی کو نہیں ہے ابدی ابتدا۔
7. ابد
معنی: نہ ختم ہونے والا وقت، ہمیشگی
آنے والا وقت جس کا اندازہ بھی نہیں
ازل کے مقابل، ابد کا مطلب ہے مستقبلِ لا انتہا۔
8. با تو
معنی: تمہارے ساتھ
تمہارے ساتھ
9.صفا ۔۔محبت، خلوص، اخلاص، اور روحانی ہم آہنگی ہے؛ ازلی اور ابدی تعلق کی علامت۔
۔
#کلام #شیخ #عبدالقادر #جیلانی

ترجمہ

دل است ای خرد مند زندان راز چُو گفتی ! نیاید زنجیر بازحضرت شیخ  #سعدی رحمۃ اللہ علیہ ترجمہ اے عقل مند انسان!دل رازوں کا ...
30/05/2025

دل است ای خرد مند زندان راز
چُو گفتی ! نیاید زنجیر باز
حضرت شیخ #سعدی رحمۃ اللہ علیہ
ترجمہ
اے عقل مند انسان!
دل رازوں کا قید خانہ ہے۔
جب تُو نے رازکہہ دیا۔تو پھر کبھی زنجیر نہیں کھلتی۔(اس کی واپسی ممکن نہیں )
شرح
حکمتِ سکوت (خاموشی) ایک بہت اہم باب ہے ۔عقل کا تقاضا یہی ہے کہ اپنے راز کی خود حفاظت کی جائے ۔نہ کہ دوسروں کو بتا کے کہا جائے کسی کو نہیں کہنا۔
اور دل ایسا مقام ہے جہاں رازوں کا خزانہ ہے۔ لیکن جیسے ہی انسان زبان کھول کر کوئی راز کسی اور سےکہہ دیتا ہے،تو گویا وہ راز قید سے آزاد ہو جاتا ہے، اور پھر دل کی حفاظتی زنجیر (یعنی راز کی حفاظت) ٹوٹ جاتی ہے۔
عقل مندی یہی ہے کہ دل کے راز کو زبان تک نہ لایا جائے، کیونکہ جو راز کہہ دیا جائے، وہ راز نہیں رہتا۔
فرہنگِ
ای خردمند۔۔ سامنے والے سے مخاطب ہے اے عقل والے شخص
زندانِ راز۔۔ رازو ں کا قید خانہ
چو۔۔جب
گفتی۔۔تو نے کہہ دیا
نیاید۔۔ نہیں آیا
زنجیر۔۔ زنجیر
باز۔۔ واپس ۔دوبارہ

30/05/2025

I gained 1,101 followers, created 5 posts in the past 90 days! Thank you all for your continued support. 🎉

زِہے عزّ و علائے منتہائے اوجِ انسانی،نبی یثربی،  و مہبطِ تنزیل فرقانی امیر عالمِ امری شہہ معمور خلقی ادیبِ عُلوی و سفلی ...
22/05/2025

زِہے عزّ و علائے منتہائے اوجِ انسانی،
نبی یثربی، و مہبطِ تنزیل فرقانی

امیر عالمِ امری شہہ معمور خلقی
ادیبِ عُلوی و سفلی ، رسولِ انسی و جانی

ظہور کامل و ذات و صفات حضرتِ یزداں
حبیبی، سیدی، محبوبِ خاص الخاص ربّانی

رحیمی رحمۃ العالمینی، شافعِ خلقی
کریمِ اکرم الخلقُی ، سراپا فیضِ رحمانی

درخشاں آفتابِ آسمان حسن و محبوبی
چو شمعِ در بزمش، نہ ماندہ ماہِ کنعانی

شبستانِ جہاں روشن زِ نورِ ماہِ رُوئے تو
زِ تاب شعلہٰ حسنش کند خورشید درخشانی

کند در یک نگہ، صورت نما آئینہ دل را
بہ یک چشمک ز داید ، از رُخش زنگارِ امکانی

حق اندر شان تشبیہِ محمد، نامِ خود خواندہ
محمد(صلی اللہ علیہ وسلم ) غیرِ حق نبود بہ حکم ِ ذوقِ عرفانی

چہ وسعت دادہٰ یارب بطرفِ آن عظیم الشان
کہ "اِنِیّ عَبٌدُہُ" گوید بہ جائے قولِ سبحانی

"نیاز" اندر دلت گر تُوِ رُخہاش جاگیرد
نہ بینی تا ابد روئے پریشانی و حیرانی

حضرت شاہ نیاز چشتی رحمۃ اللہ علیہ (بریلی انڈیا)

---

1.
زہے عزّ و علائے منتہائے اوجِ انسانی،
نبی یثربی، و مہبطِ تنزیل فرقانی

ترجمہ:
واہ! کیا عزت و بلند مرتبہ ہے کہ جو انسانی عظمت کی انتہا ہے،
وہ مدینہ والے نبی ہیں، جن پر قرآن کا نزول ہوا۔

2.
امیر عالمِ امری شہہ معمور خلقی
ادیبِ عُلوی و سفلی ، رسولِ انسی و جانی

ترجمہ:
وہ نبی فرمانِ الٰہی کے سلطان اور تمام مخلوق کے بادشاہ ہیں،
آسمانی و زمینی دانش کے ماہر، انسانوں اور جنوں کے رسول ہیں۔

3.
ظہور کامل و ذات و صفات حضرتِ یزداں
حبیبی، سیدی، محبوبِ خاص الخاص ربّانی

ترجمہ:
وہ اللہ تعالیٰ کی صفات و جمال کا کامل ظہور ہیں،
میرے محبوب، میرے سردار، اور رب تعالیٰ کے خاص الخاص محبوب ہیں۔

4.
رحیمی رحمۃ العالمینی، شافعِ خلقی
کریمِ اکرم الخلقُی ، سراپا فیضِ رحمانی

ترجمہ:
رحم کرنے والے، سارے جہانوں کے لیے رحمت، ساری مخلوق کے شفیع،
سب سے زیادہ کریم، اور سراپا اللہ کی رحمت کا مظہر ہیں۔

5.
درخشاں آفتابِ آسمان حسن و محبوبی
چو شمعِ در بزمش، نہ ماندہ ماہِ کنعانی

ترجمہ:
حسن و محبوبی کے آسمان کے درخشاں آفتاب ہیں،
ان کی محفل میں یوسف کا چاند جیسا حسن بھی ماند پڑ جاتا ہے۔

6.
شبستانِ جہاں روشن زِ نورِ ماہِ رُوئے تو
زِ تاب شعلہٰ حسنش کند خورشید درخشانی

ترجمہ:
دنیا کی شبستان تیرے ماہ جیسے چہرے کے نور سے روشن ہے،
تیرے حسن کے شعلے کی تاب سے سورج بھی چمکنے لگتا ہے۔

7.
کند در یک نگہ، صورت نما آئینہ دل را
بہ یک چشمک ز داید ، از رُخش زنگارِ امکانی

ترجمہ:
تیری ایک نظر دل کے آئینے میں حقیقت کی تصویر بنا دیتی ہے،
اور تیری ایک جھلک سے ممکنات کے زنگ کو مٹا دیتی ہے۔

8.
حق اندر شان تشبیہِ محمد، نامِ خود خواندہ
محمد (صلی اللہ علیہ وسلم) غیرِ حق نبود بہ حکم ِ ذوقِ عرفانی

ترجمہ:
اللہ تعالیٰ نے محمد (صلی اللہ علیہ وسلم) کی شان میں اپنے نام کو شامل کیا،
عرفانی ذوق کے مطابق محمد صلی اللہ علیہ وسلم حق کے سوا کچھ نہیں۔

9.
چہ وسعت دادہٰ یارب بطرفِ آن عظیم الشان
کہ "اِنِیّ عَبٌدُہُ" گوید بہ جائے قولِ سبحانی

ترجمہ:
اے رب! تو نے اپنے اس عظیم رسول کو کیسی وسعت عطا فرمائی،
کہ "میں اُس (محمد) کا بندہ ہوں" کہنا تیری شانِ سبحانی کی جگہ آیا۔

10.
"نیاز" اندر دلت گر تُوِ رُخہاش جاگیرد
نہ بینی تا ابد روئے پریشانی و حیرانی

ترجمہ:
اگر اے "نیاز" تیرے دل میں اُن (نبی پاک) کا چہرہ جا بسے،
تو پھر تو کبھی بھی پریشانی یا حیرانی نہیں دیکھے گا۔

حاجی بہ رہِ کعبہ و من طالبِ دیداراُو خانہ ہمی جوید و من صاحبِ خانہ ترجمہ: حاجی کعبے کی راہ پر ہے اور میں دیدار کا طالب ہ...
22/05/2025

حاجی بہ رہِ کعبہ و من طالبِ دیدار
اُو خانہ ہمی جوید و من صاحبِ خانہ
ترجمہ:
حاجی کعبے کی راہ پر ہے اور میں دیدار کا طالب ہوں،
وہ گھر کی جستجو میں ہے اور میں گھر والے کی.

(ھلالی آستر آبادی)
خطاطی: نجم الدین

اربابِ  حاجتیم  و  زبانِ  سوال  نیستدر حضرتِ کریم، تمنا چه حاجت استترجمہ:ہم ضرورت مند ہیں اور سوال کرنے والی زبان ہمارے ...
26/04/2025

اربابِ حاجتیم و زبانِ سوال نیست
در حضرتِ کریم، تمنا چه حاجت است
ترجمہ:
ہم ضرورت مند ہیں اور سوال کرنے والی زبان ہمارے پاس نہیں (کہ کسی سے اپنی ضرورت پوری کرنے کے لئے کہیں)
سخی، فیاض، بزرگ و برتر، داتا یعنی کریم آقا کے دربار میں (جو دلوں کے حال سے آگاہ ہے) تمنّا، خواہش و آرزو کی بھلا کیا ضرورت ہے (کہ وہ بن مانگے اور بے کہے تمام حاجات پوری کرتا ہے).

جامِ جهان نماست ضمیرِ منیرِ دوست
اظهارِ احتیاج، خود آن جا چه حاجت است
ترجمہ:
دوست ایسا روشن ضمیر ہے کہ (بادشاہ جمشید جیسے اپنے جام جہاں نما میں دنیا کے سب حالات دیکھ لیتا تھا، اسی طرح وہ مالک کریم جو بغیر جام جہاں نما کے) ہر شئے، ہر ضرورت اور ہر حال و احتیاج سے واقف ہے۔
ایسے دلوں کے حال سے واقف کریم آقا کے حضور ضرورت ظاہر کرنے کی بھلا کیا ضرورت ہے۔

(حافظ شیرازی رحمۃ اللّٰہ علیہ)

Address

Lahore

Website

Alerts

Be the first to know and let us send you an email when نورالمشائخNoor ul Mashaaikh posts news and promotions. Your email address will not be used for any other purpose, and you can unsubscribe at any time.

Share