02/10/2025
■ صوفیانہ نقشہ: "ھُوَ اللہ"
یہ تصویر ایک کلاسیکی صوفیانہ خاکہ ہے جو
“ھُوَ اللہ” اور “اللہ ھُوَ” کو دکھاتا ہے۔ اس میں یہ واضح کیا گیا ہے کہ ذاتِ باری تعالیٰ (ذّات)، اسماء (نام)، صفات، اور افعال کس طرح واحد سے جلوہ گر ہوتے ہیں، اور کس طرح حقیقتِ محمدیہ ﷺ ان سب کی آئینہ دار ہے۔
یہ خاکہ اس صوفیانہ تصور کو بصری انداز میں بیان کرتا ہے:
"شہود الوحدۃ فی الکثرۃ و الکثرۃ فی الوحدۃ"
(یعنی: کثرت میں وحدت کو دیکھنا، اور وحدت میں کثرت کو دیکھنا)
■ بالائی نقشہ (“ھُوَ اللہ”)
• "ھو" (وہ) = مخفی، غیب کی حقیقت۔
• "اللہ" = ظاہر ہونے والا نام، جس کے ذریعے صفات جلوہ گر ہوتی ہیں۔
ھُوَ سے نکلنے والے تیر:
• وجود
• علم
• نور
• شہود
اللہ سے نکلنے والے تیر:
• ذات
• اسماء
• افعال
نیچے درج ہے:
• حقیقتِ محمدیہ = نورِ محمدی ﷺ (سب سے پہلی مخلوق اور تجلیات کا مرکز)
• حقیقت ذات الحق = ذاتِ الٰہی کی حقیقت
• شہود الوحدۃ فی الکثرۃ = "کثرت میں وحدت کا مشاہدہ"
■ زیریں نقشہ (“اللہ ھُوَ”)
یہاں ترتیب الٹ دی گئی ہے:
اللہ سے نکلنے والے تیر:
• ذات و صفات
• اسماء
• افعال
• تجلی
• تنزلات
ھُوَ سے نکلنے والے تیر:
• وجود
• علم
• نور
• شہود
• کمال، جلال، جمال، قہار
نیچے درج ہے:
• شہود الکثرۃ فی الوحدۃ = "وحدت میں کثرت کا مشاہدہ"
■ اس نقشے کی تعلیم
یہ دونوں خاکے دراصل دو تکمیلی صوفیانہ رویے کو دکھاتے ہیں:
• پہلا نقشہ: باطن کی نظر — سالک کو کثرت میں وحدت دکھائی دیتی ہے۔
• دوسرا نقشہ: ظاہر کی نظر — سالک کو وحدت میں کثرت نظر آتی ہے۔
یہی وہ مقام ہے جسے حضرت جنید بغدادی رحمہ اللہ نے
"جمع و تفرق" کا درجہ کہا — یعنی وحدت کے ذوق اور کثرت کی حقیقت میں توازن۔
■ اقوالِ اولیاء جو اس نقشے کی وضاحت کرتے ہیں:
• سیدنا امام علی علیہ السلام:
"میں نے کبھی کسی چیز کو نہیں دیکھا مگر یہ کہ میں نے اس سے پہلے اللہ کو، اس کے بعد اللہ کو اور اس کے ساتھ اللہ کو دیکھا۔"
(یہی "شہود الوحدۃ فی الکثرۃ" ہے — ہر چیز میں اللہ کو دیکھنا۔)
• شیخ جنید بغدادی ق:
"پانی کا رنگ اُس کے برتن کا رنگ ہے۔"
(یعنی صفاتِ الٰہی مختلف مظاہر میں اُن کے ظرف کے مطابق ظاہر ہوتی ہیں۔)
• شیخ ذو النون مصری ق:
"عارفین بغیر دوئی کے دیکھتے ہیں، اور ظاہری لوگ صرف کثرت کو دیکھتے ہیں۔"
• شیخ عبدالقادر جیلانی ق:
"جب صفات کے پردے اٹھ جاتے ہیں تو ذات کا نور باقی رہ جاتا ہے۔"
• شیخ محی الدین ابن عربی ق:
"وہ ہر نام کا پہلا ہے اور ہر صورت کا آخر ہے۔ اُسی میں تضادات جمع ہیں، اور کثرت دراصل وحدت ہی کا ظہور ہے۔"
■ صوفیانہ فہم
• "ھُوَ اللہ" (وہ اللہ ہے) اُس حقیقت کو ظاہر کرتا ہے جو غیب میں چھپی ہے اور صرف کشف و شہود سے پہچانی جاتی ہے۔
• "اللہ ھُوَ" (اللہ ہی وہ ہے) اُس حقیقت کو ظاہر کرتا ہے جو اسماء و صفات میں جلوہ گر ہوتی ہے۔
تیر جو ذات، صفات، اسماء، افعال کی طرف جاتے ہیں یہ چار بڑے مراتب ہیں:
• ذات
• صفات
• اسماء
• افعال
تیر جو وجود، علم، نور اور شہود کی طرف جاتے ہیں یہ سالک کے ادراک کے مقامات ہیں:
• وجود (اصل)
• علم (یقینی معرفت)
• نور (روشنی/تجلی)
• شہود (کامل مشاہدہ)
حقیقتِ محمدیہ ﷺ اُس "برزخ" کی حیثیت رکھتی ہے جو غیبی ذات اور ظاہر کائنات کے درمیان ہے۔ جیسا کہ صوفی شعرا کہتے ہیں:
"اگر محمد ﷺ نہ ہوتے تو یہ کائنات وجود میں نہ آتی۔"
■ خلاصہ
یہ خاکہ ایک صوفیانہ "نقشہ" ہے — کائنات، اسماء، اور سالک کے سفر کا۔
یہ بصری طور پر بیان کرتا ہے جو اولیاء نے اپنے کلام میں کہا:
• ایک ہی ذات ہے جو بے شمار صورتوں میں جلوہ گر ہے۔
• اور یہ ساری صورتیں حقیقت میں اُسی ایک ذات کے مظاہر ہیں۔
یہی وہ مقام ہے جسے "بقا بعد فنا" کہتے ہیں — یعنی فنا کے بعد بقا —
جہاں عارف بیک وقت وحدت اور
کثرت دونوں کو دیکھتا ہے۔