29/08/2026
مرزا بیدل کی ایک نعت
بیدل کی ایک محیّر العقول نعت کا انتخاب اور اس کا بے حد عاجزانہ اور انتہائی نا رسا مفہوم پیشِ خدمت ہے. ایسے معارف احاطۂ ترجمہ و ترجمانی میں کہاں سماتے ہیں؟ عجزِ علم و عرفاں ہے کہ سر بہ گریباں ہے اور ناتوانیِ اظہار و ابلاغ ہے کہ دست بہ دعائے توفیق ہے.
کاش ان اشعار کی مفصّل تشریح کی کچھ نہ کچھ استعداد ہوتی. پُل صراط سے عبور کا مقام شاید اس کے مقابلے میں قدرے سہل ہو. کیا عجب کوئی صاحبِ علم و فضل اور اہلِ دل و ذوق ادھر متوجہ ہوں اور ان معرفت پاروں کی کماحقہ توضیح و تفسیر فرما سکیں:
آن کہ از بوی بہارش رنگِ امکان ریختند
گردِ راہش جوش زد، آثارِ اَعیان ریختند
وہ ہستی جن کی بہار کی خوشبو سے کائنات کا رنگ لیا گیا، ان کی گردِ راہ جوش زن ہوئی تو اس سے ابتدائی تخلیقات کا خاکہ بنایا گیا.
از حُضورِ معنی اش بی پردہ شد اَسرارِ ذات
وز ظہورِ جسمِ او آیینۂ جان ریختند
ان کی حقیقت کے حضور سے ذات کے بھید سمجھے گئے، ان کے بدنِ اطہر کے ظہور سے روحوں کا آئینہ بنایا گیا.
نامِ او بُردند، اسمای قِدم آمد بہ حرف
از لبِ او دم زدند، آیاتِ قرآن ریختند
ان کا نامِ مبارک لیا گیا تو قدیم اسما بھی بول پڑے، ان کے ہونٹوں سے پھونک ماری گئی تو قرآنِ کریم کی آیتیں بنیں.
از جمالش صورتِ علمِ ازل بستند نقش
وز کمالش معنیِ تحقیقِ انسان ریختند
ان کے جمال سے علمِ ازل کی صورت نگاری کی گئی، ان کے کمال سے حقیقتِ انسانی کے معانی کی طرح ڈالی گئی.
غیرِ ذاتش نیست بیدل در خیال آبادِ صُنع
ہر چہ این بستند نقش و ہر قدر آن ریختند
بیدل، تخلیق کے اس خیال کدے میں چاہے جتنے نقش و نگار بھی بنائے گئے ہوں، سچ تو یہ ہے کہ ان کی ذاتِ اقدس کے سوا اس جہانِ خیال و کائناتِ اعتبار میں اور کچھ بھی نہیں ہے.
انتخاب و ترجمہ: معین نظامی
#مرزابیدل Khawaja Muhammad Yaar Trust Hazrat Khawaja Ghulam Fareed Dewan Syed Tahir Nizami Darbar Hazrat Data Gunj Bakhsh رحمتہ اللہ علیہ Sahibzada Asim Maharvi