نورالمشائخNoor ul Mashaaikh

نورالمشائخNoor ul Mashaaikh Spreading Knowledge تفقهو فی الدین

مرزا بیدل کی ایک نعتبیدل کی ایک محیّر العقول نعت کا انتخاب اور اس کا بے حد عاجزانہ اور انتہائی نا رسا مفہوم پیشِ خدمت ہے...
29/08/2026

مرزا بیدل کی ایک نعت
بیدل کی ایک محیّر العقول نعت کا انتخاب اور اس کا بے حد عاجزانہ اور انتہائی نا رسا مفہوم پیشِ خدمت ہے. ایسے معارف احاطۂ ترجمہ و ترجمانی میں کہاں سماتے ہیں؟ عجزِ علم و عرفاں ہے کہ سر بہ گریباں ہے اور ناتوانیِ اظہار و ابلاغ ہے کہ دست بہ دعائے توفیق ہے.

کاش ان اشعار کی مفصّل تشریح کی کچھ نہ کچھ استعداد ہوتی. پُل صراط سے عبور کا مقام شاید اس کے مقابلے میں قدرے سہل ہو. کیا عجب کوئی صاحبِ علم و فضل اور اہلِ دل و ذوق ادھر متوجہ ہوں اور ان معرفت پاروں کی کماحقہ توضیح و تفسیر فرما سکیں:

آن کہ از بوی بہارش رنگِ امکان ریختند
گردِ راہش جوش زد، آثارِ اَعیان ریختند

وہ ہستی جن کی بہار کی خوشبو سے کائنات کا رنگ لیا گیا، ان کی گردِ راہ جوش زن ہوئی تو اس سے ابتدائی تخلیقات کا خاکہ بنایا گیا.

از حُضورِ معنی اش بی پردہ شد اَسرارِ ذات
وز ظہورِ جسمِ او آیینۂ جان ریختند

ان کی حقیقت کے حضور سے ذات کے بھید سمجھے گئے، ان کے بدنِ اطہر کے ظہور سے روحوں کا آئینہ بنایا گیا.

نامِ او بُردند، اسمای قِدم آمد بہ حرف
از لبِ او دم زدند، آیاتِ قرآن ریختند

ان کا نامِ مبارک لیا گیا تو قدیم اسما بھی بول پڑے، ان کے ہونٹوں سے پھونک ماری گئی تو قرآنِ کریم کی آیتیں بنیں.

از جمالش صورتِ علمِ ازل بستند نقش
وز کمالش معنیِ تحقیقِ انسان ریختند

ان کے جمال سے علمِ ازل کی صورت نگاری کی گئی، ان کے کمال سے حقیقتِ انسانی کے معانی کی طرح ڈالی گئی.

غیرِ ذاتش نیست بیدل در خیال آبادِ صُنع
ہر چہ این بستند نقش و ہر قدر آن ریختند

بیدل، تخلیق کے اس خیال کدے میں چاہے جتنے نقش و نگار بھی بنائے گئے ہوں، سچ تو یہ ہے کہ ان کی ذاتِ اقدس کے سوا اس جہانِ خیال و کائناتِ اعتبار میں اور کچھ بھی نہیں ہے.

انتخاب و ترجمہ: معین نظامی

#مرزابیدل Khawaja Muhammad Yaar Trust Hazrat Khawaja Ghulam Fareed Dewan Syed Tahir Nizami Darbar Hazrat Data Gunj Bakhsh رحمتہ اللہ علیہ Sahibzada Asim Maharvi

مقامش عبدہٗ آمد ولیکنجہانِ شوق را پروردگار استحضرت علامہ مُحَمَّد اقبال رحمتہ الله علیہ(اِس شعر تک وہی لوگ پہنچ سکتے ہیں...
24/08/2026

مقامش عبدہٗ آمد ولیکن
جہانِ شوق را پروردگار است

حضرت علامہ مُحَمَّد اقبال رحمتہ الله علیہ

(اِس شعر تک وہی لوگ پہنچ سکتے ہیں، جو پہنچ چُکے ہوں)
------0-----0------0-------

محبت از نگاہش پایدار است
سلوکش عشق و مستی را عیار است

مقامش عبدہ آمد و لیکن
جہانِ شوق را پروردگار است

محبت کی پائیداری:
حقیقی محبت کو استحکام اور دوام
آپ ﷺ ہی کی نگاہِ کرم اور نسبت سے ملتا ہے۔
عشق کا معیار:
عشق و مستی کا جو بھی راستہ یا طریقہ ہے، اس کی پرکھ اور درست معیار آپ ﷺ کا اسوۂ حسنہ اور طریقِ سلوک ہے۔مقامِ عبدیت اور جہانِ شوق:
اگرچہ معراج اور بندگی کی انتہا یہ ہے کہ قرآن میں آپ ﷺ کو "عبدہٗ" (اللہ کا بندہ) کہا گیا ہے،
لیکن اس کے باوجود آپ ﷺ کی ذات گرامی اس کائنات میں عشق و شوق اور معرفت کے پورے جہان کی پرورش کرنے والی اور اس کا مرکز و محور ہے۔
محمؐدﷺ سِرّ وحدت ہیں کوئی رمز اُنﷺ کی کیا جانے

شریعت میں تو بندہ ہیں حقیقت میں خُدا جانے(جانو)

اللہ اللہ چہ خوش است چہ ھدیۂ زیبائی
سلامت و ثروتمند باشید محترم

ترنم طرز کے ساتھ نعت خوانی کا ثبوت ۔۔آور اس پر حضور اکرم کی طرف سے تحائف دعائیں اور کرم نوازیاںصحابہ کرام کے بارگاہِ رسا...
19/08/2026

ترنم طرز کے ساتھ نعت خوانی کا ثبوت ۔۔
آور اس پر حضور اکرم کی طرف سے تحائف دعائیں اور کرم نوازیاں
صحابہ کرام کے بارگاہِ رسالت میں ترنم، خوش الحانی اور مخصوص بحروں (جیسے رجز، حداء اور انشاد) میں مدحیہ اشعار پڑھنے کے شواہد احادیث اور سیرت کی مستند کتابوں (جیسے صحیح بخاری اور صحیح مسلم) میں موجود ہیں۔ عربی میں ترنم کے ساتھ اشعار پڑھنے کو "حِداء" (مسافروں کا گنگنانا) یا "اِنشاد" کہا جاتا ہے۔
​ذیل میں جلیل القدر صحابہ کرام کے واقعات، ترنم سے ان کے اشعار اور حضور اکرم کا نوازنا مستند ترین حوالوں کے ساتھ درج ہیں:
1۔ حضرت عامر بن اکوع رضی اللہ عنہ (غزوۂ خیبر کا سفر)
غزوۂ خیبر کے سفر کے دوران صحابہ کرام نے حضرت عامر بن اکوعؓ سے فرمائش کی کہ وہ اپنی خوش الحانی میں کوئی شعر سنائیں۔ حضرت عامرؓ اپنی سواری سے اترے اور اونٹوں کو چلانے کے لیے ترنم اور بحرِ رجز میں یہ اشعار پڑھنے لگے، جن میں اللہ کی حمد اور حضور ﷺ کی معیت کا ذکر تھا۔ رسول اللہ ﷺ نے ان کی آواز سنی تو پوچھا کہ یہ کون پڑھ رہا ہے؟ صحابہ نے عرض کیا کہ عامر بن اکوع۔ آپ ﷺ نے ان کے ترنم اور اشعار کو پسند فرمایا اور ان کے لیے دعائے مغفرت فرمائی۔صحیح بخاری

2۔ حضرت عبداللہ بن رواحہ رضی اللہ عنہ (عمرۃ القضاء کا موقع)
​واقعہ:
جب رسول اللہ ﷺ ذوالقعدہ 7 ہجری میں عمرۃ القضاء کے لیے مکہ مکرمہ میں داخل ہو رہے تھے، تو حضرت عبداللہ بن رواحہؓ آپ ﷺ کی اونٹنی کی نکیل تھامے آگے آگے چل رہے تھے اور بلند آواز سے ترنم کے ساتھ مشرکینِ مکہ کو للکارتے ہوئے حضور ﷺ کی مدح میں اشعار پڑھ رہے تھے۔ حضرت عمرؓ نے انہیں مسجدِ حرام میں اور رسول اللہ ﷺ کے سامنے شعر پڑھنے سے ٹوکا، تو حضور ﷺ نے فرمایا: "عمر! اسے پڑھنے دو، اس کی زبان کے یہ تیر کفار پر تلوار کی مار سے بھی زیادہ تیز اثر رکھتے ہیں۔"
​سنن ترمذی، 2847
​3.حضرت حسان بن ثابت رضی اللہ عنہ (مسجدِ نبوی کا منبر)
حضرت حسان بن ثابتؓ دربارِ رسالت کے باقاعدہ نعت گو شاعر تھے۔ حضور ﷺ نے ان کے لیے مسجدِ نبوی میں ایک منبر مخصوص فرمایا تھا، جس پر وہ کھڑے ہو کر ترنم اور خطیبانہ انداز میں کفار کے ہجویہ اشعار کا جواب نعت کی صورت میں دیتے تھے۔ ایک بار حضرت عمر فاروقؓ مسجد سے گزرے تو انہوں نے حسانؓ کو مسجد میں اشعار پڑھتے دیکھا اور اعتراض کا اشارہ کیا۔ حضرت حسانؓ نے جواب دیا: "میں اس جگہ (مسجد) میں اس وقت بھی اشعار پڑھتا تھا جب یہاں تم سے بہتر ذات (رسول اللہ ﷺ) موجود ہوتی تھیں"۔ پھر انہوں نے حضرت ابو ہریرہؓ کو گواہ بنایا کہ کیا تم نے رسول اللہ ﷺ کو میرے لیے یہ دعا کرتے نہیں سنا تھا کہ "اے اللہ! روح القدس سے اس کی مدد فرما"؟ تو حضرت ابو ہریرہؓ نے گواہی دی۔
​ صحیح بخاری (453)، صحیح مسلم (2485)۔
​4. غزوۂ خندق کے موقع پر تمام انصار و مہاجرین کا مشترکہ ترنم
غزوۂ خندق کے موقع پر جب مدینہ کے گرد خندق کھدی جا رہی تھی، شدید سردی اور بھوک کا عالم تھا، تو صحابہ کرام کا حوصلہ بڑھانے کے لیے انصار اور مہاجرین مل کر ترنم اور مخصوص بحر میں یک زبان ہو کر اشعار پڑھتے تھے۔ جب حضور ﷺ صحابہ کو مٹی اٹھاتے اور ترنم سے پڑھتے دیکھتے، تو آپ ﷺ خود بھی بلند آواز اور ترنم کے ساتھ ان کے اشعار کا جواب آخری قافیے ملا کر دیا کرتے تھے۔
​اشعار (صحابہ کرام کے):
​نَحْنُ الَّذِينَ بَايَعُوا مُحَمَّدَا -- عَلَى الجِهَادِ مَا حَيِينَا أَبَدَا
(ترجمہ: ہم وہ ہیں جنہوں نے محمد ﷺ کے ہاتھ پر جہاد کی بیعت کی ہے، جب تک ہم میں جان ہے)
​جوابی اشعار (رسول اللہ ﷺ کے):
​اللَّهُمَّ إِنَّ العَيْشَ عَيْشُ الآخِرَهْ -- فَاغْفِرْ لِلأَنْصَارِ وَالمُهَاجِرَهْ
(ترجمہ: اے اللہ! اصل زندگی تو بس آخرت ہی کی زندگی ہے، پس تو انصار اور مہاجرین کی مغفرت فرما)صحیح بخاری 2834۔
5..حضرت کعب بن زہیرؓ اسلام قبول کرنے سے پہلے حضور ﷺ کی ہجو (مخالفت میں شاعری) کیا کرتے تھے، لیکن جب اللہ نے ان کا سینہ اسلام کے لیے کھول دیا تو وہ مکہ سے مدینہ منورہ حاضر ہوئے۔ وہ صبح کی نماز کے بعد مسجدِ نبوی میں رسول اللہ ﷺ کے سامنے حاضر ہوئے اور اپنا مشہورِ زمانہ نعت گو قصیدہ "بانت سعاد" پورے ترنم اور فصاحت کے ساتھ پڑھنا شروع کیا۔ جب وہ اس شعر پر پہنچے جس میں حضور ﷺ کو اللہ کے نور اور تلوار سے تشبیہ دی گئی تھی، تو رسول اللہ ﷺ اس قدر خوش ہوئے کہ اپنی مبارک یمنی چادر (بردہ) ان کے کندھوں پر ڈال دی۔:المستدرک۔6542۔
​6. حضرت سلمہ بن اکوع رضی اللہ عنہ (غزوۂ ذی قرد کا واقعہ)
غزوۂ ذی قرد (جسے غزوۂ غطفان بھی کہا جاتا ہے) کے موقع پر بنو فزارہ کے کچھ لوگ رسول اللہ ﷺ کے اونٹوں پر حملہ کر کے انہیں ہانک کر لے گئے۔ حضرت سلمہ بن اکوعؓ تنہا ان کے پیچھے نکلے اور پہاڑیوں پر چڑھ کر کفار پر تیروں کی بارش کر دی۔ وہ پیدل اتنی تیز دوڑتے تھے کہ گھوڑے کا مقابلہ کر لیتے تھے۔ اس تعاقب کے دوران وہ دشمن کا حوصلہ پست کرنے اور اپنی شجاعت کے اظہار کے لیے مخصوص بحرِ رجز میں ترنم کے ساتھ اشعار پڑھ رہے تھے، جس میں وہ خود کو حضور ﷺ کا غلام کہہ کر فخر کر رہے تھے۔
آپ سفر میں حضور ﷺ کی اونٹنی کے آگے بھی یہ رجز پڑھتے تھے: "أَنَا ابْنُ الأَكْوَعِ، وَالْيَوْمُ يَوْمُ الرُّضَّعِ"۔
​ صحیح مسلم، 1807 (4688)۔
​7۔۔حضرت عباس بن عبدالمطلب رضی اللہ عنہ (غزوۂ تبوک سے واپسی)
جب رسول اللہ ﷺ غزوۂ تبوک سے فتح یاب ہو کر مدینہ منورہ واپس تشریف لائے، تو حضور ﷺ کے چچا حضرت عباسؓ بارگاہِ رسالت میں حاضر ہوئے اور عرض کیا: "یا رسول اللہ! میں آپ کی مدح میں کچھ اشعار پڑھنا چاہتا ہوں"۔ حضور ﷺ نے خندہ پیشانی سے فرمایا: "کہو اے عباس! اللہ تمہارے منہ کو سلامت رکھے (یعنی تمہارے دانت نہ ٹوٹیں)"۔ اس کے بعد حضرت عباسؓ نے پورے مجمعے کے سامنے نہایت خوبصورت بحر اور ترنم میں حضور ﷺ کی ولادتِ باسعادت، ان کے نورِ مبین اور ان کی آمد سے کائنات میں پھیلے اجالوں کا ذکر کیا۔
​اشعار:
​وَأَنْتَ لَمَّا وُلِدْتَ أَشْرَقَتِ الأَرْضُ -- وَضَاءَتْ بِنُورِكَ الأُفُقُ
فَنَحْنُ فِي ذَلِكَ الضِّيَاءِ وَفِي النُّـ -- ــورِ وَسُبْلِ الرَّشَادِ نَخْتَرِقُ
(ترجمہ: اور جب آپ پیدا ہوئے تو زمین چمک اٹھی اور آپ کے نور سے آسمان کے افق روشن ہو گئے۔ پس ہم اسی روشنی، اسی نور اور ہدایت کے راستوں پر چل رہے ہیں)
: المعجم الکبیر للامام الطبرانی 4167۔
​8۔۔حضرت براء بن عازب رضی اللہ عنہ (غزوۂ حنین کا میدان)
غزوۂ حنین کے موقع پر جب اچانک تیر اندازی کی وجہ سے اسلامی لشکر میں وقتی طور پر انتشار پیدا ہوا، تو رسول اللہ ﷺ اپنی سفید خچر پر سوار دشمن کی صفوں کی طرف اکیلے بڑھ رہے تھے۔ اس نازک موڑ پر جہاں بڑے بڑے بہادروں کے قدم ڈگمگا رہے تھے، حضور ﷺ نہایت بلند آواز اور منفرد ترنم کے ساتھ میدانِ جنگ میں یہ رجز پڑھ رہے تھے تاکہ صحابہ کرام ان کی آواز سن کر دوبارہ اکٹھے ہو جائیں۔ حضرت براء بن عازبؓ اس منظر کو دیکھ رہے تھے اور وہ خود بھی حضور ﷺ کے ساتھ بلند آواز میں یہ اشعار دہراتے جا رہے تھے۔
​اشعار (زبانِ رسالت سے جاری ہونے والی نعت):
​أَنَا النَّبِيُّ لاَ كَذِبْ -- أَنَا ابْنُ عَبْدِ الْمُطَّلِبْ
(ترجمہ: میں نبی ہوں، یہ جھوٹ نہیں ہے؛ میں عبدالمطلب کا بیٹا (پوتا) ہوں)
​صحیح بخاری (2864)، صحیح مسلم (1776)
نوٹ۔۔اس کے علاؤہ بھی بہت سی روایات ہیں جن میں صحابہ نے ترنم میں حضور کی نعت پڑھیں اور حضور سے دعائیں اور تحائف لیئے۔۔
تحریر و طالب دعا۔۔
محمد ندیم اعوان

(گفتا کہ ای تو با ما گفتم کمیں غلامت)                                                1_گفتا کہ ای تو با ما گفتم کمیں غلا...
14/07/2026

(گفتا کہ ای تو با ما گفتم کمیں غلامت)



1_گفتا کہ ای تو با ما گفتم کمیں غلامت
گفتا مگر تو مستی گفتم بلے ز جامت
ترجمہ
اس نے کہا کہ تم میرے کون ہو، میں نے کہا کہ تمہارا غلام ہوں۔
اس نے کہا مگر تو مست ہے ،
میں نے کہا کہ ہاں تمہارے جام کے اثر سے۔

2_گفتا چہ پیشہ داری گفتم کہ عشق بازی
گفتا کہ حالتت چیست گفتم غم و ملامت
ترجمہ
اس نے کہا تمہارا پیشہ کیا ہے، میں نے کہا عشق بازی۔
کہنے لگا تمہاراحال کیا بنا ہوا ہے، میں نے کہا غم اور خود کو ملامت (کرتا ہوں )

3_گفتا کہ چیست حالت گفتم کہ حال شاکر
گفتا کجا فتادہ گفتم میان دامت
ترجمہ
اس نے کہا کہ تمہارا حال کیا یے ، میں نے کہا کہ ،وہی جو شکر کرنے والوں کا ہوتا ہے
اس نے کہا کہ کہاں گرفتار ہو، میں نے کہا کہ تمہارے جال میں۔

4_گفتا ز من چہ خواہی گفتم کہ درد بے‌ حد
گفتا کہ درد تا کے گفتم کہ تا قیامت
ترجمہ
اس نے کہا.. کہ تم مجھ سے کیا چاہتے ہو؟
میں نے کہا کہ درد بے انتہا۔
اس نے کہا کہ یہ درد کب تک برداشت کرو گے، میں نے کہا ! قیامت تک۔

5_گفتا کہ چہ پرستی گفتم جمال رویت
گفتا چہ داری از من گفتم بسے ندامت
ترجمہ
اس نے کہا کہ کس کی پوجا کرتے ہو، میں نے کہا کہ تمہارے حسن و جمال کی (چہرے کی)
اس نے کہا !!کہ پھر اس میں سے کیا حاصل ہوا ۔؟ میں نے کہا !ڈھیروں ڈھیر ندامت۔

6_گفتا چگونہ بے من گفتم کہ نیم بسمل
گفتا چہ چیز داری گفتم ہمہ غرامت

ترجمہ
اس نے کہا تم میرے بغیر کیسے ہو؟ میں نے کہا نیم بسمل کی طرح۔
اس نے کہا کہ تمہارے پاس کیا ہے، میں نے کہا کہ بوجھ ہے وابستگی کا ںوجھ اور ندامت

7_گفتا کہ کیست محیؔ گفتم ہمانکہ دانی
گفتا نشاں چہ داری گفتم کہ صد علامت
ترجمہ
اس نے کہا کہ محیؔ الدین کون ہے،
میں نے کہا کہ تم پہلے سے جانتے ہو
اس نے کہا کہ اس کی کوئ نشانی ہے، میں نے کہا کہ سیکڑوں ہیں۔

مفہوم
یہ ایک مکالماتی غزل ہے
عاشق کے پاس اپنے محبوبِ حقیقی کے ہر سوال کا جواب عجز و نیاز ہے
عشق، شکر، درد اور فنا کا کا احساس عاشق کا کل سرمایہ ہے سچا عشق انسان کو اپنی ذات کی نفی کرنا اورمحبوب کی رضا میں زندگی کرنے کا ہنر سکھا دیتا ہے

فرہنگ
کمیں: ادنیٰ، حقیر، نہایت عاجز۔
بلے: ہاں، جی ہاں۔
عشق‌بازی۔ عشق کا راستہ اختیار کرنا، محبت میں فنا ہونا۔
ملامت۔۔طعن و تشنیع، اور اپنی کوتاہی پر ندامت۔
حالِ شاکر۔اللہ کی ہر عطا پر راضی اور شکر گزار بندے کی کیفیت۔
دام۔۔ جال، پھندا؛ یہاں محبوب کے عشق کا جال۔
درد۔ دردِ عشق، جو اہلِ محبت کے نزدیک نعمت ہے۔
جمالِ رویت ۔مخاطب محبوب کا حسن و جمال۔
ندامت۔اپنی کمی اور کوتاہی پر شرمندگی۔
نیم بسمل۔۔تڑپتا ہوا۔ذبح کا استعارہ ۔
غرامت (غرام)۔۔۔شدید محبت، دلباختگی، عشق کی وابستگی۔
#کلام

Copied


Dewan Syed Tahir Nizami Darbar Hazrat Data Gunj Bakhsh رحمتہ اللہ علیہ Khawaja Muhammad Yaar Trust Hazrat Khawaja Ghulam Fareed

جامی ازآنجاکہ ھوادارِتُسترُوئ تُو نا دیدہ ھوادارِ تُستمولانا عبدالرحمٰن جامیؒ #ترجمہجامی (تخلص ) کیونکہ آپ ﷺ کاسچا چاہنے...
12/07/2026

جامی ازآنجاکہ ھوادارِتُست
رُوئ تُو نا دیدہ ھوادارِ تُست
مولانا عبدالرحمٰن جامیؒ
#ترجمہ
جامی (تخلص ) کیونکہ آپ ﷺ کاسچا چاہنے والا ہے،
اس لئے
آپ ﷺ کے چہرے کو دیکھے بغیر ہی تیرا عاشق بن گیا ہے
#تشریح
مولانا جامیؒ عشق رسول حضرت محمد مصطفٰے صلى الله عليه واله وسلم کی انتہائ کیفیت کو بہت خوبصورتی سے بیان کرتے ہیں یہ ایک ایمانی حقیقت ہے کہ آپ ﷺ کا عشق ظاہری حسن یا دیدار پر مبنی نہیں بلکہ ایک باطنی اور روحانی کشش پر قائم ہے۔ عبدالرحمٰن جامیؒ اعتراف کرتے ہیں کہ آپ ﷺکو دیکھے بغیر ہی میں آپ کی ﷺ محبت میں گرفتار ہوں۔یہی میری سچائ کی دلیل ہے ۔
یہ وہ روحانی عشق ہے جو ظاہری مشاہدے کے بجائے ایمان، معرفت اور باطنی کشش سے جنم لیتا ہے۔

#فرہنگ
*جامی ،شاعر کا اپنا تخلص (نام) مولانا عبدالرحمٰن جامیؒ
از آن جا کہ،، اس وجہ سے کہ، چونکہ
ہوادار،، چاہنے والا، عاشق، دلدادہ
تُست "تُو + است" ،، تیرا ہے، تمہارا ہے (فارسی میں "است" = ہے)
رُوئے تُو،، تیرا چہرہ، تیرا جمال
نادیدہ،، نہ دیکھا گیا، ان دیکھا، جسےہش کا آنکھ نے نہ دیکھا ہو
ہوادارِ تُست ،،تیرا عاشق ہے، تمہارا چاہنے والا ہے
ترجمہ
محترمہ


دِلا کام از لبَش با چَشمِ تر جُووَإِلّا لَم تَجِد ما كُنتَ تَرجُو(عبدالرّحمٰن جامی)اے دِل! یار کے لب سے اپنی مُراد چَشمِ...
12/07/2026

دِلا کام از لبَش با چَشمِ تر جُو
وَإِلّا لَم تَجِد ما كُنتَ تَرجُو
(عبدالرّحمٰن جامی)

اے دِل! یار کے لب سے اپنی مُراد چَشمِ تر کے ساتھ چاہو!۔۔۔ ورنہ نہیں پاؤ گے وہ چِیز جِس کی تُم اُمِید کرتے ہو۔۔۔

(مُتَرجِم: حسّان خان اباسِینی)

۔

پوری غزل کا منظوم ترجمہشاعر: خواجہ امیر خسرو رحمترجم : فضل اللہ فانیدل زِ تن بردی و در جانی هنوزدردها دادی و درمانی هنوز...
20/05/2026

پوری غزل کا منظوم ترجمہ
شاعر: خواجہ امیر خسرو رح
مترجم : فضل اللہ فانی

دل زِ تن بردی و در جانی هنوز
دردها دادی و درمانی هنوز

لے کے دل تُو، ساکنِ جاں ہے ہنوز
درد دے دے کر بھی درماں ہے ہنوز

آشکارا سینه ام بشکافتی
همچنان در سینه پنهانی هنوز

آشکارا سینہ میرا چیر کر
تُو مِرے سینے میں پنہاں ہے ہنوز

مُلکِ دل کردی خراب از تیغِ ناز
واندر این ویرانه سلطانی هنوز

ناز سے ویران کرکے مُلکِ دل
دل کے ویرانے کا سلطاں ہے ہنوز

هر دو عالم قیمتِ خود گفته ای
نرخ بالا کن که ارزانی هنوز

اپنی قیمت دو جہاں بتلائی ہے
دام اونچا کر کہ ارزاں ہے ہنوز

خونِ کس یارب نگیرد دامنت
گر چه در خون ناپشیمانی هنوز

خوں نہ میرا، تیرا دامن گیر ہو
تُو اگرچہ ناپشیماں ہے ہنوز

جور کردی سالها چون کافران
بهرِ رحمت نامسلمانی هنوز

کب سے کافر ڈھا رہا ہے ہم پہ ظلم
رحم میں تُو نامسلماں ہے ہنوز

ما ز گریه چون نمک بگداختیم
تو به خنده شکرستانی هنوز

رونے سے پگھلے نمک کی طرح ہم
تُو ہنسی سے شکّرستاں ہے ہنوز

جان ز بندِ کالبُد آزاد گشت
دل به گیسوی تو زندانی هنوز

جاں ہوئی آزاد قیدِ جسم سے
دل مگر محبوسِ زُلفاں ہے ہنوز

پیری و شاهد پرستی ناخوش است
خسروا، تا کی پریشانی هنوز

پیری سر پر آگئی خسرو مگر
بت پرستی میں پریشاں ہے ہنوز
#خسرو

اَگر بینم شَبِ  ناگہ من آں سُلطانِ خُوباں را سَر اندر پائے وے آرم فِدا سازم دِل و جاں رافروزم آتشِ دَر دِل بسوزم قبلۂ عا...
16/05/2026

اَگر بینم شَبِ ناگہ من آں سُلطانِ خُوباں را
سَر اندر پائے وے آرم فِدا سازم دِل و جاں را

فروزم آتشِ دَر دِل بسوزم قبلۂ عالم
پس آنجا قِبلہ سازم مَن آں ابروئے جاناں را

بیا ساقی کہ روُئے تو مرا شمعِ حَرم باشد
بگردم گردِ میخانہ ببوسم پائے مستاں را

دل و جاں کردہ ام نذر بُتان اکنوں ہمی خواہم
کہ گریابم خریدارے فروشم دین و ایماں را

نترسم ز آتشِ دوزخ نہ پروائے جناں دارم
مَنم شوریدۂ جاناں نخواہم حُور و غِلماں را

چہ گفتی ایں سُخن کفرست اگر گوئی شوی کافر
برو اے واعظِ ناداں چہ دانی سِرّ مستاں را

شرف بر بَند لب از گفتنِ اشعارِ رِندانہ
شکایت ہاست از اشعار تو گبر و مسلماں را

حضرت شرف الدین بو علی قلندر رحمت اللہ علیہ

اَگر بینم شَبِ ناگہ من آں سُلطانِ خُوباں را
سَر اندر پائے وے آرم فِدا سازم دِل و جاں را

"اگر میں کبھی محبوبوں کے اس شہنشاہ کو اچانک رات میں دیکھ لوں
تو میں اپنا سر اس کے پاؤں پر رکھ دونگا اور اپنے دل و جان کو اس پر قربان کر دونگا"

فروزم آتشِ دَر دِل بسوزم قبلۂ عالم
پس آنجا قِبلہ سازم مَن آں ابروئے جاناں را

"میں اپنے دل میں آتش عشق جلاؤں گا اور اس زمانے کے قبلہ کو جلا ڈالوں گا
اور پھر محبوبِ حقیقی کے ابرو کو اپنا قبلہ بناؤں گا"

بیا ساقی کہ روُئے تو مرا شمعِ حَرم باشد
بگردم گردِ میخانہ ببوسم پائے مستاں را

"اے ساقی! آؤ کیونکہ تیرا چہرہ ہی میرے لیے حرم کی شمع ہے
میں دل کے شراب خانہ کے اردگرد گھومتا ہوں اور مستوں کے پاؤں کو چومتا ہوں"

دل و جاں کردہ ام نذر بُتان اکنوں ہمی خواہم
کہ گریابم خریدارے فروشم دین و ایماں را

"میں نے اپنے دل و جان کو محبوبِ حقیقی کی نذر کر دیا ہے اور میں چاہتا ہوں کہ
مجھے میرا خریدار یعنی محبوب حقیقی مل جائے تو میں اپنا دین و ایمان اسکے ہاتھوں بیچ دوں"

نترسم ز آتشِ دوزخ نہ پروائے جناں دارم
مَنم شوریدۂ جاناں نخواہم حُور و غِلماں را

"میں دوزخ کی آگ سے نہیں ڈرتا نہ مجھے جنت کی پرواہ ہے
میں اپنے محبوبِ حقیقی کا متوالا ہوں اس لیے مجھے حور و غلماں کی ضرورت نہیں"

چہ گفتی ایں سُخن کفرست اگر گوئی شوی کافر
برو اے واعظِ ناداں چہ دانی سِرّ مستاں را

"اے واعظ! تم نے یہ کیا کہا کہ اے قلندر ایسی باتیں کہنا کفر ہے اور اگر ایسی باتیں کہو گے تو کافر ہو جاؤ گے
اے نادان واعظ ! جاؤ اپنی راہ لو تم ہم مستو کے راز کو کیا جانو"

شرف بر بَند لب از گفتنِ اشعارِ رِندانہ
شکایت ہاست از اشعار تو گبر و مسلماں را

"اے شرف! رندانہ اشعار کہنے سے لبوں کو نہ کھولو
کیونکہ تیرے ان اشعار سے مسلمانوں اور آتش پرستوں دونوں کو شکایت ہے"

حضرت شرف الدین بو علی قلندر رحمت اللہ علیہ

حضرت امیر خُسروؔ رحمةُ الله تعالٰی عَلَیْهآمادہ بہ قتلِ من آں شوخ ستمگارےایں طرفہ تماشا بیں ناکردہ گنہگارےترجمه: وہ شوخ ...
14/05/2026

حضرت امیر خُسروؔ رحمةُ الله تعالٰی عَلَیْه

آمادہ بہ قتلِ من آں شوخ ستمگارے
ایں طرفہ تماشا بیں ناکردہ گنہگارے
ترجمه: وہ شوخ ظالم میرے قتل پر تیار ہے۔ دیکھو عجیب تماشا ہے کہ ایک بے گناہ کو قتل کرنا چاہتا ہے۔ ؎

گر نام و نشانِ من، پُرسند بگو قاصد
آوارہ و مجنونے، رُسوا سرِ بازارے
ترجمه: اے قاصد! اگر میرا نام پتہ پوچھیں تو کہنا، کہ ایک آوارہ، پاگل اور سر بازار رُسوا شخص ہے ؎

اے عیسی بیماراں! درِ ہجرِ تو رنجورم
شاید نہ خبرداری از حالت بیمارے
ترجمه: اے بیماروں کے طبیب! میں تیرے ہجر میں غمگین ہوں۔ شاید تمہیں بیمار کے حال کی خبر نہیں۔ ؎

خواہی کہ شفا باشد بیمارِ محبّت را
یک جرعہ خُدا را دہ از شربتِ دیدارے
ترجمه: اگر تو چاہتا ہے کہ بیمارِ محبّت کو شفا ملے تو خُدا کے لئے شربتِ دیدار سے ایک گھونٹ پلا دے۔

؎
دَر لذتِ دیدارش، خسروؔ چہ تواں گفتم
سر دادم و جاں دادم، نادیدہ رُخِ یارے
ترجمه: خسرو! اس کے دیدار کی لذت کو کیسے بیان کر سکتا ہوں؟ میں نے اس کو دیکھا بھی نہیں اور سَر بھی قربان کر دیا اور جان بھی۔
فرمُودہ حضرت امیر خُسروؔ رحمةُ الله تعالٰی عَلَیْه

دُرِ فشانی و نُکتہ سرائ ۔۔حضرت شیخ انصاریؒ بحرِ مُحیط رحمت مولا محمدؐ استعالم تمام مُردہ مسیحا مُحمدؐ استدر بحرِ عشق گوھ...
13/05/2026

دُرِ فشانی و نُکتہ سرائ ۔۔حضرت شیخ انصاریؒ

بحرِ مُحیط رحمت مولا محمدؐ است
عالم تمام مُردہ مسیحا مُحمدؐ است

در بحرِ عشق گوھرِ یکتا محمدؐ است
در درسِ علم نقطہ ھیجا محمدؐ است

ز اسماء خلق اعظم اسمِ محمدؐ است
یاسین و ھم مزمل و طٰہٰ محمدؐ است

خلاق را مراد و تمنا محمدؐ است
گرم است شہر ممکن و سودا محمدؐ است

در خلوت دنی و فَتَدَلٰی محمدؐ است
شُد کائنات اسم و مُسَمٰی محمدؐ است

ٱللَّٰهُمَّ صَلِّ وَسَلِّمْ وَبَارِكْ عَلَىٰ مُحَمَّدٍ وَعَلىٰ آلِ مُحَمَّدٍ

#ترجمہ

1_ خدا کی رحمت کا بسیط و بیکراں سمندر جاری و ساری ہے اور وہ فقط ذات محمدﷺ ہے
یہ عالم ایک مردہ ہے اور اس میں روح فقط نام محمد صلى الله عليه واله وسلم ہے ۔وہی مسیحا اور مردہ دلوں میں نئی روح پھونکنے والے ہیں۔
2_یہ جو عالم موجودات کا بحرِ عشق ہے اس کے اندر گوھرِ یکتا( نایاب ،واحد ) ذات محمد ﷺ ہیں ۔ علم کا بنیادی اور غالب نکتہ ذات محمدﷺ سے نکلتی ہے ۔
3_تمام خلقت کے موجود ناموں میں سب سے پہلا اور آخری نام (مخلوق کا بڑااسم ) نام محمدیﷺ ہے۔اور قرآن نے کبھی آپ ﷺ کو یٰسین کبھی مُزمل اور طٰہٰ کہا گیا۔

4_خلاق کائنات عالم کی مراد اور عشق حضرت محمد مصطفٰے ﷺ ہیں۔
یہ شہرِ مُمکنات اور اُس کی رونقیں سب حضرت مُحمد مصطفٰے ﷺ کے نام سے قائم ہیں۔
5_خلوت میں خود خدا نے حضرت محمدﷺ کو اپنے قرب میں بلایا ۔جس کا سورہ النجم میں ارشاد ہے ۔۔
ثُمَّ دَنَا فَتَدَلّٰىۙ‏ (سورہ النجم)
ترجمہ:
پھر وہ (اللہ) نبیﷺ سے زیادہ قریب ہوا، پھر زیادہ قریب ہوا۔۔
اورتمام کائنات بنائ ہی محمد صلى الله عليه واله وسلم کے لئے گئی ۔۔
ٱللَّٰهُمَّ صَلِّ وَسَلِّمْ وَبَارِكْ عَلَىٰ مُحَمَّدٍ وَعَلىٰ آلِ مُحَمَّدٍ

#ترجمہ

Address

Lahore

Website

Alerts

Be the first to know and let us send you an email when نورالمشائخNoor ul Mashaaikh posts news and promotions. Your email address will not be used for any other purpose, and you can unsubscribe at any time.

Shortcuts

Share