20/08/2025
تعلیم کا سفر اور ہمارا المیہ
ایشیائی دنیا کے چند ممالک نے مغرب کے شانہ بشانہ کھڑے ہو کر یہ ثابت کر دیا کہ ترقی صرف صنعتوں، سڑکوں اور کارخانوں کے زور پر نہیں ہوتی بلکہ قوموں کے ذہن تراشنے سے جنم لیتی ہے۔ جاپان، کوریا، چین، تائیوان اور سنگاپور—یہ سب ملک پہلے دن سے جان گئے تھے کہ اگر معاشرہ ناخواندہ رہے گا تو دولت و طاقت کے خواب ادھورے رہیں گے۔ چنانچہ دہائیوں تک انہوں نے اپنے بچوں کو پڑھانے اور نوجوانوں کو ہنر سکھانے پر توجہ رکھی۔ جب شرح خواندگی نوے فیصد سے اوپر پہنچی تو تب جا کر انہوں نے اعلیٰ تعلیم اور تحقیق کے دروازے کھولے۔ مگر اس وقت بھی معیار پر سمجھوتہ نہیں کیا؛ اتنی ہی جامعات بنیں جتنے قابل اساتذہ میسر تھے۔
بھارت نے بھی ترقی کی کوشش کی مگر اس کا راستہ ذرا مختلف نکلا۔ وہاں ابتدا ہی میں مہنگے اداروں جیسے آئی آئی ٹی اور آئی آئی ایم قائم کر دیے گئے۔ فائدہ ضرور ہوا، لیکن چونکہ بنیادی تعلیم کمزور رہی اس لیے انسانی وسائل کی بنیاد اتنی پختہ نہ ہو سکی کہ وہ چین کا مقابلہ کر پاتے۔
پاکستان کی کہانی تو اور بھی تلخ ہے۔ ہم نے نہ خواندگی کو بنیادی حق سمجھا، نہ معیاری تعلیم کو قومی ضرورت۔ سرکاری سکولوں کو بے وقعت سمجھا گیا اور تعلیم صرف مال دار طبقے کی عیاشی قرار پائی۔ نجی اداروں نے جگہ بھر لی مگر وہاں اکثر اساتذہ تدریس کے قابل نہ تھے۔ نتیجہ یہ نکلا کہ سکولوں کا معیار گرا، جامعات ڈگریوں کی فیکٹریاں بن گئیں، اور تعلیمی ڈھانچہ زمین بوس ہونے لگا۔
اب بھی ہوش کے بجائے خواب غفلت ہے۔ پنجاب سمیت کئی صوبوں میں سرکاری سکول بند یا بیچے جا رہے ہیں۔ اگر یہی روش رہی تو وہ دن دور نہیں جب ہمارے نوجوان ہنر مند پروفیشنلز کے بجائے دوسرے ملکوں میں مزدور بننے پر مجبور ہوں گے، اور اپنے ہی وطن میں قابل انسان ڈھونڈے سے نہ ملے گا۔