08/04/2026
https://www.facebook.com/share/p/18fWQDtsSt/
مزدور کی زندگی — ایک خاموش جدوجہد
جب ایک ریلوے ملازم گھر واپس نہیں لوٹتا اور ایک اطلاع آتی ہے کہ آپ کا شوہر دورانِ ڈیوٹی شہید ہوگیا ہے تو گھر میں ایک ایسی خاموشی اترتی ہے جو چیخوں سے بھی زیادہ دردناک ہوتی ہے۔بچے دروازے کی طرف دیکھتے رہ جاتے ہیں،بیوی کی آنکھوں میں سوال جم جاتے ہیں اور بوڑھے والدین کی کمر مزید جھک جاتی ہے۔مگر اس وقت کہاں ہوتا ہے ادارہ؟یہ رویہ کیوں؟ آخر کیوں؟پاکستان ریلوے ایک قومی ادارہ ہے،ایک دفاعی حیثیت بھی رکھتا ہے،ایک فلاحی کردار بھی رکھتا ہے۔پھر کیوں اس کے شہداء کو وہ عزت نہیں ملتی جو دوسرے اداروں میں دی جاتی ہے؟کیا یہ صرف غفلت ہے؟یا ایک ایسا نظام ہے جو انسان کو صرف ایک نمبر سمجھتا ہے؟یہ صرف لاپروائی نہیں، یہ رویہ صرف ایک کمی نہیں بلکہ یہ ایک ناانصافی ہے۔ یہ اس مزدور کے خون کی بے قدری ہے جو اس نے اس ادارے کے لیے بہایا۔یہ اس کی قربانی کی توہین ہے جو اِس نے اپنی جان دے کر دی۔ہمیں کیا سیکھنا چاہیے؟ہمیں پاکستانی فورسز سے سیکھنا چاہیے،ہمیں پولیس سے سیکھنا چاہیے۔جہاں شہید کی عزت صرف الفاظ میں نہیں بلکہ عمل میں بھی نظر آتی ہے۔جہاں افسران کا جنازے میں جانا ایک روایت نہیں بلکہ ایک ذمہ داری ہوتی ہے۔یہ روایت کیوں ضروری ہے؟کیونکہ یہ صرف ایک رسم نہیں یہ ایک پیغام ہوتا ہے کہ”ہم اپنے لوگوں کو اکیلا نہیں چھوڑتے“۔یہ حوصلہ دیتا ہے زندہ لوگوں کو،یہ تسلی دیتا ہے شہید کے گھر والوں کو،اور یہ ادارے کی ساکھ کو مضبوط بناتا ہے۔ ہم وزیراعظم پاکستان سے اپیل نہیں بلکہ مطالبہ کرتے ہیں کہ ریلوے کے ہر شہید ملازم کے جنازے میں اعلیٰ افسران کی شرکت لازمی قرار دی جائے۔ ایک واضح پالیسی بنائی جائے تاکہ کسی شہید کو نظر انداز نہ کیا جائے شہداء کے اہلِ خانہ کو مکمل تحفظ اور سہارا فراہم کیا جائے اور سب سے بڑھ کر اِن کے اہلِ خانہ کو عزت دی جائے کیونکہ عزت سب سے بڑی چیز ہے ایک شہید کے گھر والوں کو پیسہ شاید وقتی سہارا دے سکتا ہے،مگر عزت ان کے زخموں پر مرہم رکھتی ہے۔ یہ تحریر ایک فریاد ہے، ایک صدا ہے، ایک آئینہ ہے جو یہ پوچھ رہی ہے”کیا ہم واقعی ایک قوم ہیں؟یا ہم نے اپنے ہی لوگوں کو بھلا دیا ہے؟“ یہ خاموش جنازے چیخ چیخ کر کہہ رہے ہیں، ہمیں بھی پہچانو، ہمیں بھی عزت دوکیونکہ ہم نے بھی اس مٹی کے لیے اپنی جان دی ہے“۔ شہید کے ورثاء کو یہ کہہ کر ٹال دیا جاتا ہے کہ شہید ہونے والا TLA ملازم تھا، ریل کاپ کا ملازم تھا، اِن کو مستقل کرنا کِن کی ذمہ داری تھی؟ یہ حکمران اور افسران روزِ محشراللہ ربُ العزت کو کیا جواب دیں گے؟ کہ مزدور آخر کب پہچانے جائیں گے؟”یہ ایک منظر تھا، خاموش، مگر چیخوں سے بھرا ہوا۔ ایک جنازہ اٹھ رہا تھا، کندھوں پر ایک لاش نہیں بلکہ ایک پوری کہانی تھی۔ وہ کہانی جس میں محنت تھی، پسینہ تھا، خواب تھے اور آخر میں قربانی تھی۔ جب ایک کانسٹیبل شہید ہوتا ہے تو پورا نظام حرکت میں آ جاتا ہے۔ادارے کے تمام افسران صفوں میں کھڑے ہوتے ہیں،آنسو بھی ہوتے ہیں، سلامی بھی ہوتی ہے،اور ایک پیغام بھی ”تمہاری قربانی رائیگاں نہیں جائے گی، ہم تمہارے ساتھ ہیں“۔یہی منظر ہمیں پاکستانی فورسز میں بھی دکھائی دیتا ہے جہاں شہید صرف ایک فرد نہیں رہتا بلکہ ایک تاریخ بن جاتا ہے۔ جہاں اس کے جنازے میں شرکت کرنا فرض بھی ہوتا ہے اور فخر بھی۔مگر جب ریلوے کا مزدور شہید ہوتا ہے تو کیا ہوتا ہے؟پاکستان ریلوے کا ایک گینگ مین جو سورج کی تپش میں پگھلتا ہے،جو بارش میں بھیگتا ہے، جو رات کے اندھیروں میں ٹریک پر چلتا ہے، جب وہ کسی حادثے کا شکار ہو کر اپنی جان دے دیتا ہے تو اس کے جنازے پر کون آتا ہے؟ کوئی سلامی نہیں،کوئی اعلیٰ افسر نہیں،کوئی وعدہ نہیں، بس چند غریب کندھے، چند نم آنکھیں اور ایک خاموش سوال:”کیا ہمارا خون اتنا سستا ہے؟“ یہ صرف ایک جنازہ نہیں، یہ ایک سوال ہے، یہ جنازہ صرف ایک میت نہیں اٹھاتا، یہ ایک سوال اٹھاتا ہے، ایسا سوال جس کا جواب شاید کسی کے پاس نہیں۔ کہاں ہوتے ہیں اس وقت ریلوے کے وزیر، کہاں ہوتے ہیں چیئرمین؟ کہاں ہوتے ہیں جی ایم؟ کہاں ہوتے ہیں وہ لوگ جو بڑے بڑے دفاتر میں بیٹھ کر فیصلے کرتے ہیں؟ کیا ان کے لیے ایک مزدور کی موت اتنی غیر اہم ہے؟ یا پھر وہ اس درد کو محسوس ہی نہیں کر سکتے؟ ریلوے کا مزدور صرف مزدور نہیں ہوتا، وہ ایک باپ ہوتا ہے، وہ ایک بیٹا ہوتا ہے، وہ کسی کی امید ہوتا ہے، کسی کا سہارا ہوتا ہے۔ وہ جب گھر سے نکلتا ہے تو اس کی بیوی کی آنکھوں میں دعا ہوتی ہے، اس کے بچوں کے چہروں پر امید ہوتی ہے۔ مگر وہ نہیں جانتا کہ شاید آج وہ واپس نہ آئے۔ ریلوے کی تمام ڈویژنوں میں مارکیاں اور کلب موجود ہیں، جس کے فنڈز نہ جانے کہاں خرچ ہوتے ہیں؟ کیا یہ پیسہ اِن غریب ملازمین کی بیواؤں کی امداد کیلئے نہیں دیا جاسکتا؟ ابھی بھی وقت ہے کہ TLAملازمین، اِنویلڈ ملازمین اور کنٹریکٹ ملازمین کو مستقل کیا جائے۔ اللہ ہمیں حق کہنے اور حق کے ساتھ کھڑے ہونے کی توفیق دے۔آمین