PREM UNION STORE Division

PREM UNION STORE Division Prem Union is an open line trade labour union working for the legal rights of labour in Pakistan Railways

https://www.facebook.com/share/p/18MQxSwedN/
28/04/2026

https://www.facebook.com/share/p/18MQxSwedN/

چاروں صوبوں کی زنجیر — پاکستان ریلوے
یہ صرف پٹڑیوں پر دوڑتی ٹرینوں کا نام نہیں،
یہ دلوں کو جوڑنے والی ایک خاموش طاقت ہے۔
یہ وہ رشتہ ہے جو پنجاب کی مٹی سے سندھ کی خوشبو تک،
خیبر کی پہاڑیوں سے بلوچستان کے ریگزاروں تک
محبت، یکجہتی اور امید کا پیغام لے کر چلتا ہے۔
پاکستان ریلوے محض ایک ادارہ نہیں،
یہ ایک تاریخ ہے، ایک جدوجہد ہے، ایک عہد ہے
جو نسلوں کو آپس میں باندھتا ہے۔
یہ وہ زنجیر ہے جس کے ہر کڑے میں قربانی، محنت اور خدمت کی داستان چھپی ہے۔
جب ٹرین کی سیٹی گونجتی ہے،
تو صرف سفر شروع نہیں ہوتا،
بلکہ ایک قوم کی دھڑکنیں ایک ساتھ چلنے لگتی ہیں۔
آؤ اس رشتے کو مضبوط کریں،
اس امانت کو سنواریں،
کیونکہ یہی زنجیر ہماری پہچان ہے —
چاروں صوبوں کی زنجیر، پاکستان ریلوے۔
👍

https://www.facebook.com/share/p/1M5d1cHYvZ/
26/04/2026

https://www.facebook.com/share/p/1M5d1cHYvZ/

“پٹریوں پر امید کی واپسی”
ترقی کبھی اتفاق سے نہیں ملتی، یہ ہمیشہ جہدِ مسلسل، قربانی اور درست فیصلوں کا نتیجہ ہوتی ہے۔ اگر واقعی پاکستان ریلوے کو دوبارہ اپنے پاؤں پر کھڑا کرنا ہے، تو محض دعووں سے نہیں بلکہ عملی اقدامات سے آگے بڑھنا ہوگا۔
ریلوے ایک ادارہ نہیں، یہ لاکھوں خوابوں، ہزاروں خاندانوں اور ایک پوری تاریخ کا امین ہے۔ لیکن آج یہی ادارہ اپنی بقا کی جنگ لڑ رہا ہے—اور اس جنگ کے اصل سپاہی، یعنی ریلوے ملازمین، خود مشکلات کا شکار ہیں۔
سب سے پہلے، وقت کا تقاضا ہے کہ ریلوے کے تمام شعبوں کو مضبوط کرنے کے لیے بھرپور فنڈنگ فراہم کی جائے۔ بغیر وسائل کے ترقی کا خواب دیکھنا، ایک سراب کے پیچھے بھاگنے کے مترادف ہے۔
وہ ٹرینیں جو کبھی زندگی کی علامت تھیں، آج خاموش کھڑی ہیں۔ ان بند ٹرینوں کی بحالی نہ صرف عوام کی سہولت ہے بلکہ ریلوے کی معیشت کو سہارا دینے کا ذریعہ بھی بن سکتی ہے۔
ریلوے کے وہ ملازمین جو برسوں سے اپنی خدمات انجام دے رہے ہیں—چاہے وہ TLA، انویلڈ ملازمین کے بچے یا کنٹریکٹ ورکرز ہوں—ان کو مستقل کرنا انصاف کا تقاضا ہے۔ یہ لوگ محض ملازم نہیں، بلکہ اس ادارے کی ریڑھ کی ہڈی ہیں۔
2019 سے بند ٹریول الاؤنس (TA) کی ادائیگی نہ ہونا، ایک ایسا زخم ہے جو ہر گزرتے دن کے ساتھ گہرا ہوتا جا رہا ہے۔ یہ صرف رقم نہیں، بلکہ ملازمین کی محنت کا اعتراف ہے—جو انہیں ملنا ہی چاہیے۔
16 ہزار پوسٹوں کا خاتمہ ایک ایسا سوالیہ نشان ہے جس کا جواب آج تک نہیں ملا۔ جب آسامیاں ختم ہوں گی تو ترقی کے دروازے کیسے کھلیں گے؟ آج ریلوے ملازمین اپنی پروموشن کے حق کے لیے ترس رہے ہیں—یہ صورتحال کسی بھی زندہ ادارے کے لیے لمحۂ فکریہ ہے۔
پروموشن کے عمل میں IB کلیرنس کی شرط ایک غیر ضروری رکاوٹ بن چکی ہے۔ میرٹ اور سروس ریکارڈ ہی اصل معیار ہونا چاہیے، نہ کہ ایسی پیچیدگیاں جو اہل افراد کو آگے بڑھنے سے روک دیں۔
اور سب سے بڑھ کر—ریلوے ملازمین کو جینے کا حق دیا جائے۔ مہنگائی کے طوفان میں، جب بنیادی ضروریات بھی مشکل ہو جائیں، اور اوپر سے افسر شاہی کا سخت اور غیر انسانی رویہ ہو—تو حوصلے ٹوٹ جاتے ہیں، جذبے مر جاتے ہیں۔
آج وقت آ گیا ہے کہ ان مسائل کو صرف سنا نہ جائے، بلکہ حل کیا جائے۔
ریلوے کے ملازمین کوئی بوجھ نہیں، بلکہ وہ سرمایہ ہیں جن کی محنت سے یہ ادارہ چلتا ہے۔ اگر ان کے مسائل حل کر دیے جائیں، تو یہی لوگ ریلوے کو ایک بار پھر عروج کی بلندیوں تک لے جا سکتے ہیں۔
آئیں، ہم سب مل کر ایک آواز بنیں—
ایسی آواز جو ایوانوں تک پہنچے،
ایسی آواز جو فیصلے بدل دے،
اور ایسی آواز جو امید کو حقیقت میں بدل دے۔

https://www.facebook.com/share/p/1KJmgDRRBR/
24/04/2026

https://www.facebook.com/share/p/1KJmgDRRBR/

انا للہ و انا الیہ راجعون
زندگی ایک امانت ہے، اور موت اس امانت کی واپسی۔ آج ایک عظیم ماں اپنے خالقِ حقیقی سے جا ملی ہیں۔ رضوان سعید صاحب کی والدہ محترمہ کا نمازِ جنازہ بعد از نمازِ جمعہ میو گارڈن کی مسجد میں ادا کیا جائے گا۔ یہ لمحہ یقیناً صبر آزما ہے، مگر اس میں بھی ایک عظیم حقیقت پوشیدہ ہے۔
وہ والدین یقیناً خوش قسمت ہوتے ہیں جنہیں اللہ تعالیٰ ایسی نیک، صالح اور خدمت گزار اولاد عطا فرماتا ہے جو ان کی زندگی میں بھی ان کا سہارا بنے اور ان کے جانے کے بعد بھی ان کے لیے صدقۂ جاریہ ثابت ہو۔ رضوان سعید صاحب کا کردار، ان کی عاجزی، ان کی خدمت اور ان کی نیکی اس بات کی گواہی ہے کہ ان کی والدہ نے اپنی زندگی ایک عظیم تربیت کے ساتھ گزاری۔
ایک ماں صرف جنم نہیں دیتی، بلکہ کردار تراشتی ہے، انسان بناتی ہے، اور اپنے بچوں کے دلوں میں محبت، ادب اور ایمان کی روشنی بھر دیتی ہے۔ آج اگر رضوان سعید صاحب ایک نیک نام اور باکردار انسان کے طور پر پہچانے جاتے ہیں، تو یہ ان کی والدہ کی بہترین تربیت کا نتیجہ ہے۔
ایسی مائیں کبھی مرتی نہیں، وہ اپنی اولاد کے کردار، دعاؤں اور یادوں میں ہمیشہ زندہ رہتی ہیں۔ ان کی دی ہوئی تربیت ایک چراغ کی مانند نسلوں تک روشنی دیتی رہتی ہے۔
اللہ تعالیٰ مرحومہ کی کامل مغفرت فرمائے، ان کے درجات بلند فرمائے، ان کی قبر کو جنت کے باغوں میں سے ایک باغ بنا دے، اور رضوان سعید صاحب سمیت تمام اہلِ خانہ کو صبر جمیل عطا فرمائے آمین ثم آمین۔

https://www.facebook.com/share/p/1CM7jr1geB/
17/04/2026

https://www.facebook.com/share/p/1CM7jr1geB/

الحمدللہ پریم یونین کی جہدوجہد کے نتیجے میں ڈی ٹور کی تنخوا کے موقع پر انشاء اللہ تعالیٰ راولپندی ۔کراچی ڈویژن کے ٹی ایل اے ملازمین کی تنخواہوں میں اضافہ 32.سے 37ہزار ایریر کی ادائیگی 2.اقساط میں تمام کو کر دی جاے گی

---

"محنت کی قیمت — ایک ادھورا انصاف"

پاکستان ریلوے کا نظام صرف پٹریوں، انجنوں اور بوگیوں کا نام نہیں… بلکہ یہ اُن بے شمار محنت کش ہاتھوں کی کہانی ہے جو دن رات پسینہ بہا کر اس ادارے کو زندہ رکھتے ہیں۔ انہی گمنام کرداروں میں ٹی ایل اے (TLA) کنٹریکٹ انویلڈ ملازمین بھی شامل ہیں—وہ لوگ جنہوں نے وقتی بنیادوں پر کام کیا، مگر اپنے فرض کو ہمیشہ مستقل سمجھ کر نبھایا۔

یہ وہ مزدور ہیں جن کے گھروں کے چولہے اُن کی محنت سے جلتے ہیں، جن کے بچے اپنی چھوٹی چھوٹی خواہشوں کو دل میں دبائے رکھتے ہیں، اور جن کی آنکھوں میں ایک ہی سوال ہوتا ہے:
"کیا ہماری محنت کی کوئی قیمت نہیں؟"

کراچی ڈویژن ہو یا راولپنڈی ڈویژن، ہر جگہ یہی داستان ہے—ادائیگیوں کے منتظر یہ لوگ، اپنے جائز واجبات کے لیے در در کی ٹھوکریں کھاتے رہے۔ ان کے بچوں کی فیسیں، گھروں کے کرائے، اور روزمرہ کی ضروریات سب اسی امید سے جڑی تھیں کہ شاید آج نہیں تو کل، ان کا حق انہیں مل جائے گا۔

آج جب انتظامیہ سے بات چیت کے بعد یہ خبر سامنے آئی کہ
انشاء اللہ اس مہینے آدھے ملازمین کو ادائیگی کر دی جائے گی اور باقی کو اگلے مہینے
تو یہ خبر یقیناً امید کی ایک کرن ہے—مگر یہ بھی ایک حقیقت ہے کہ انصاف جب تاخیر کا شکار ہو جائے، تو اس کی چمک مدھم پڑ جاتی ہے۔

یہ صرف رقم کی ادائیگی نہیں… یہ ان محنت کشوں کی عزتِ نفس کا معاملہ ہے، یہ ان کے بچوں کے خوابوں کا سوال ہے، یہ ان کے گھروں کی خاموش دیواروں میں گونجتی دعاؤں کا جواب ہے۔

ہم پر لازم ہے کہ ہم ان مزدوروں کی آواز بنیں، ان کے حق کی بات کریں، اور اس بات کو یقینی بنائیں کہ آئندہ کسی بھی محنت کش کو اپنے جائز حق کے لیے اتنی طویل انتظار کی اذیت نہ سہنی پڑے۔

کیونکہ…
ریاستیں تب مضبوط ہوتی ہیں جب ان کے مزدور خوشحال ہوں، اور ادارے تب ترقی کرتے ہیں جب ان کے کارکن مطمئن ہوں۔

اللہ کرے یہ ادائیگیاں نہ صرف وقت پر مکمل ہوں بلکہ آئندہ کے لیے ایک ایسا نظام قائم ہو جائے جہاں کسی مزدور کو اپنے حق کے لیے فریاد نہ کرنی پڑے۔

---

۔

https://www.facebook.com/share/p/1KKgVuyy9h/
13/04/2026

https://www.facebook.com/share/p/1KKgVuyy9h/

"ریلوے کے ٹی ایل اے۔انویلڈ ملازمین کے بچے۔کنٹریکٹ ملازمین ۔وعدے، انتظار اور استحصال کا شکار کیوں"
Pakistan Railways ایک ایسا ادارہ ہے جس کی پٹریوں پر صرف ٹرینیں ہی نہیں چلتیं، بلکہ لاکھوں خواب، امیدیں اور مزدوروں کی زندگیاں بھی سفر کرتی ہیں۔
مگر افسوس… انہی پٹریوں پر کچھ ایسے دکھ بھی بکھرے ہوئے ہیں جنہیں نہ کوئی دیکھتا ہے، نہ سننا چاہتا ہےجنکو 2019 سے لیکر آج تک ٹی اے ادا نہیں کیا گیا۔
آج ریلوے کے اندر تین طبقات ایسے ہیں جو برسوں سے ایک ہی سوال لے کر کھڑے ہیں:
ٹی ایل اے ملازمین، کنٹریکٹ ملازمین، اور انویلڈ ملازمین کے بچے۔
یہ وہ لوگ ہیں جو کسی ایک دن، ایک مہینے یا ایک سال سے نہیں…
بلکہ بارہ، بارہ اور سولہ، سولہ سال سے اس ادارے پر اپنی جانیں نچھاور کر رھے ہیں۔
ان کے ہاتھوں کی لکیروں میں ریلوے کی خدمت لکھی جا چکی ہے… مگر ان کے نصیب میں "مستقل" ہونا ابھی تک نہیں آیا۔
"یہ کیسا انصاف ہے؟"
کیا یہ انصاف ہے کہ ایک شخص اپنی جوانی
اکثر پیشتر ریل کا ٹریک انکے خون سے سرخ ہو جاتا ھے
کتنے نوجوان اس ٹریک پر شہادتیں دے چکے ہیں۔
اس ادارے کو دے دے…
اپنے خواب، اپنی توانائی، اپنی صحت سب کچھ قربان کر دے…
اور بدلے میں اسے صرف "عارضی" ہونے کا طعنہ ملے؟
یہ ملازمین ہر روز اس امید کے ساتھ کام پر آتے ہیں کہ شاید آج کوئی خوشخبری مل جائے…
مگر ہر دن ایک نئی مایوسی لے کر آتا ہے۔
ان کے بچے بڑے ہو رہے ہیں…
ان کی ذمہ داریاں بڑھ رہی ہیں…
مگر ان کی نوکری آج بھی غیر یقینی کا شکار ہے۔
استحصال… جو نظر آتا بھی ہے ۔
ریلوے کے اندر صرف عارضی ملازمین ہی نہیں، بلکہ مستقل ملازمین بھی ایک اور اذیت سے گزر رہے ہیں۔
اسکیل 1 سے لے کر اسکیل 16 تک کے ملازمین
جنہوں نے اپنی زندگیاں اس ادارے کے لیے وقف کر دیں…
آج ان کی پروموشنز رکی ہوئی ہیں۔
کیوں؟
کیونکہ ان کی کلیئرنس کے لیے فائلیں Intelligence Bureau کو بھیجی جاتی ہیں۔
مہینوں… سے فائلیں ادھر ہی پڑی رہتی ہیں
اسکے برعکس افسراں کی پرموشن کے موقع پر قانون حرکت میں آجاتا ھے مگر چھوٹے ملازمین سرخ فیتے کا شکار آخر کیوں۔
یہ وہ مقام ہے جہاں ایک محنتی ملازم کی امیدیں دم توڑنے لگتی ہیں۔
سوال… جو جواب مانگتے ہیں
جب ریلوے کے اندر اپنا پولیس کا نظام موجود ہے…
جب ایک آئی جی، اسپیشل برانچ، اور دیگر ادارے پہلے سے کام کر رہے ہیں…
تو پھر یہ کلیئرنس کا بوجھ کسی اور ادارے پر کیوں؟
اور سب سے اہم بات—
جب خود انٹیلی جنس بیورو بھی یہ چاہتا ہے کہ یہ ذمہ داری ان سے واپس لی جائے…
تو پھر یہ رکاوٹ کیوں برقرار ہے؟
وعدے… جو وفا نہ ہو سکے
پریم یونین کے قاہدین نے خود وفاقی وزیر ریلوے سے ملاقات کی…
چیئرمین ریلوے سے اسلام آباد میں جا کر ملاقات کی انکو اپنے لیٹر پیڈ پر IB کی کلیرنس کے حوالے سے لکھ کر دیا…
اور انہوں نے بھی تسلیم کیا کہ بات درست ہے۔
یہ ایک امید کی کرن تھی۔
مگر افسوس…
یہ کرن روشنی میں تبدیل نہ ہو سکی۔
وعدے کیے گئے…
مگر عملی اقدامات نہ ہو سکے۔
یہ وہ لمحہ ہوتا ہے جب مزدور کا دل ٹوٹتا ہے…
جب اسے محسوس ہوتا ہے کہ شاید اس کی آواز صرف سنی جاتی ہے، سمجھی نہیں جاتی۔
ایک مزدور کا دل… کیا کہتا ہے؟
وہ کہتا ہے:
"میں نے اس ادارے کو اپنا وقت دیا، اپنی جوانی دی، شب روز محنت کی…
کیا مجھے صرف انتظار ہی ملے گا؟"
میرا وزیراعظم پاکستان اور ریلوے انتظامیہ سے مطالبہ ھے:
"کیا ریلوے مزدوروں کی وفاداری کا صلہ یہی ہے کہ انکی ترقی روک دی جائے؟"
آج ٹی ایل اے ۔کنٹریکٹ انویلڈ ملازمین کے بچےسوچتے ہیں :
"کیا ہم کبھی اپنے بچوں کو یہ خوشخبری دے سکے گیں کہ اب ہماری نوکری پکی ہو گئی ہے؟"

ملازمین کو ریگولر کرنے کا مسئلہ اتنا پیچیدہ نہیں جتنا بنا دیا گیا ہے۔
ٹی ایل اے، کنٹریکٹ اور انویل ملازمین کو فوری مستقل کیا جائے
پروموشن کے عمل کو شفاف اور تیز بنایا جائے
آئی بی کلیئرنس کے غیر ضروری عمل کو ختم کر کے ادارے کے اندر ہی نظام مضبوط کیا جائے
مزدور کے حق کو ترجیح دی جائے، نہ کہ فائلوں کو
پسند نہ پسند کی بنیاد پر چلای جاہیں

یہ ایک مزدور کی آواز ہے، جو شاید اونچی نہیں… مگر سچی ہے۔
خدارا…
ان لوگوں کے بارے میں سوچیں جو سالوں سے اس ادارے کا بوجھ اپنے کندھوں پر اٹھائے ہوئے ہیں۔
ان کے صبر کا امتحان نہ لیں…
ان کی امیدوں کو پورا کریں۔
ہمارے حکمران اور وزرات ریلوے

یاد رکھیں—
ادارے عمارتوں سے نہیں، انسانوں سے بنتے ہیں۔
اگر مزدور خوش ہوگا…
تو ادارہ مضبوط ہوگا۔
اور اگر مزدور ہی مایوس ہو جائے…
تو کوئی پالیسی، کوئی منصوبہ، کوئی وعدہ اس خلا کو پورا نہیں کر سکتا۔
اللہ کرے یہ آواز ان ایوانوں تک پہنچے جہاں فیصلے ہوتے ہیں، اور وہ دن جلد آئے جب ہر محنت کرنے والے کو اس کا حق ملے
ورنہ یہ بھی حقیقت ھے کے خاموشی کسی طوفان کا پیش خیمہ ثابت ہو سکتی ھے 🤲
۔

https://www.facebook.com/share/p/18fWQDtsSt/
08/04/2026

https://www.facebook.com/share/p/18fWQDtsSt/

مزدور کی زندگی — ایک خاموش جدوجہد
جب ایک ریلوے ملازم گھر واپس نہیں لوٹتا اور ایک اطلاع آتی ہے کہ آپ کا شوہر دورانِ ڈیوٹی شہید ہوگیا ہے تو گھر میں ایک ایسی خاموشی اترتی ہے جو چیخوں سے بھی زیادہ دردناک ہوتی ہے۔بچے دروازے کی طرف دیکھتے رہ جاتے ہیں،بیوی کی آنکھوں میں سوال جم جاتے ہیں اور بوڑھے والدین کی کمر مزید جھک جاتی ہے۔مگر اس وقت کہاں ہوتا ہے ادارہ؟یہ رویہ کیوں؟ آخر کیوں؟پاکستان ریلوے ایک قومی ادارہ ہے،ایک دفاعی حیثیت بھی رکھتا ہے،ایک فلاحی کردار بھی رکھتا ہے۔پھر کیوں اس کے شہداء کو وہ عزت نہیں ملتی جو دوسرے اداروں میں دی جاتی ہے؟کیا یہ صرف غفلت ہے؟یا ایک ایسا نظام ہے جو انسان کو صرف ایک نمبر سمجھتا ہے؟یہ صرف لاپروائی نہیں، یہ رویہ صرف ایک کمی نہیں بلکہ یہ ایک ناانصافی ہے۔ یہ اس مزدور کے خون کی بے قدری ہے جو اس نے اس ادارے کے لیے بہایا۔یہ اس کی قربانی کی توہین ہے جو اِس نے اپنی جان دے کر دی۔ہمیں کیا سیکھنا چاہیے؟ہمیں پاکستانی فورسز سے سیکھنا چاہیے،ہمیں پولیس سے سیکھنا چاہیے۔جہاں شہید کی عزت صرف الفاظ میں نہیں بلکہ عمل میں بھی نظر آتی ہے۔جہاں افسران کا جنازے میں جانا ایک روایت نہیں بلکہ ایک ذمہ داری ہوتی ہے۔یہ روایت کیوں ضروری ہے؟کیونکہ یہ صرف ایک رسم نہیں یہ ایک پیغام ہوتا ہے کہ”ہم اپنے لوگوں کو اکیلا نہیں چھوڑتے“۔یہ حوصلہ دیتا ہے زندہ لوگوں کو،یہ تسلی دیتا ہے شہید کے گھر والوں کو،اور یہ ادارے کی ساکھ کو مضبوط بناتا ہے۔ ہم وزیراعظم پاکستان سے اپیل نہیں بلکہ مطالبہ کرتے ہیں کہ ریلوے کے ہر شہید ملازم کے جنازے میں اعلیٰ افسران کی شرکت لازمی قرار دی جائے۔ ایک واضح پالیسی بنائی جائے تاکہ کسی شہید کو نظر انداز نہ کیا جائے شہداء کے اہلِ خانہ کو مکمل تحفظ اور سہارا فراہم کیا جائے اور سب سے بڑھ کر اِن کے اہلِ خانہ کو عزت دی جائے کیونکہ عزت سب سے بڑی چیز ہے ایک شہید کے گھر والوں کو پیسہ شاید وقتی سہارا دے سکتا ہے،مگر عزت ان کے زخموں پر مرہم رکھتی ہے۔ یہ تحریر ایک فریاد ہے، ایک صدا ہے، ایک آئینہ ہے جو یہ پوچھ رہی ہے”کیا ہم واقعی ایک قوم ہیں؟یا ہم نے اپنے ہی لوگوں کو بھلا دیا ہے؟“ یہ خاموش جنازے چیخ چیخ کر کہہ رہے ہیں، ہمیں بھی پہچانو، ہمیں بھی عزت دوکیونکہ ہم نے بھی اس مٹی کے لیے اپنی جان دی ہے“۔ شہید کے ورثاء کو یہ کہہ کر ٹال دیا جاتا ہے کہ شہید ہونے والا TLA ملازم تھا، ریل کاپ کا ملازم تھا، اِن کو مستقل کرنا کِن کی ذمہ داری تھی؟ یہ حکمران اور افسران روزِ محشراللہ ربُ العزت کو کیا جواب دیں گے؟ کہ مزدور آخر کب پہچانے جائیں گے؟”یہ ایک منظر تھا، خاموش، مگر چیخوں سے بھرا ہوا۔ ایک جنازہ اٹھ رہا تھا، کندھوں پر ایک لاش نہیں بلکہ ایک پوری کہانی تھی۔ وہ کہانی جس میں محنت تھی، پسینہ تھا، خواب تھے اور آخر میں قربانی تھی۔ جب ایک کانسٹیبل شہید ہوتا ہے تو پورا نظام حرکت میں آ جاتا ہے۔ادارے کے تمام افسران صفوں میں کھڑے ہوتے ہیں،آنسو بھی ہوتے ہیں، سلامی بھی ہوتی ہے،اور ایک پیغام بھی ”تمہاری قربانی رائیگاں نہیں جائے گی، ہم تمہارے ساتھ ہیں“۔یہی منظر ہمیں پاکستانی فورسز میں بھی دکھائی دیتا ہے جہاں شہید صرف ایک فرد نہیں رہتا بلکہ ایک تاریخ بن جاتا ہے۔ جہاں اس کے جنازے میں شرکت کرنا فرض بھی ہوتا ہے اور فخر بھی۔مگر جب ریلوے کا مزدور شہید ہوتا ہے تو کیا ہوتا ہے؟پاکستان ریلوے کا ایک گینگ مین جو سورج کی تپش میں پگھلتا ہے،جو بارش میں بھیگتا ہے، جو رات کے اندھیروں میں ٹریک پر چلتا ہے، جب وہ کسی حادثے کا شکار ہو کر اپنی جان دے دیتا ہے تو اس کے جنازے پر کون آتا ہے؟ کوئی سلامی نہیں،کوئی اعلیٰ افسر نہیں،کوئی وعدہ نہیں، بس چند غریب کندھے، چند نم آنکھیں اور ایک خاموش سوال:”کیا ہمارا خون اتنا سستا ہے؟“ یہ صرف ایک جنازہ نہیں، یہ ایک سوال ہے، یہ جنازہ صرف ایک میت نہیں اٹھاتا، یہ ایک سوال اٹھاتا ہے، ایسا سوال جس کا جواب شاید کسی کے پاس نہیں۔ کہاں ہوتے ہیں اس وقت ریلوے کے وزیر، کہاں ہوتے ہیں چیئرمین؟ کہاں ہوتے ہیں جی ایم؟ کہاں ہوتے ہیں وہ لوگ جو بڑے بڑے دفاتر میں بیٹھ کر فیصلے کرتے ہیں؟ کیا ان کے لیے ایک مزدور کی موت اتنی غیر اہم ہے؟ یا پھر وہ اس درد کو محسوس ہی نہیں کر سکتے؟ ریلوے کا مزدور صرف مزدور نہیں ہوتا، وہ ایک باپ ہوتا ہے، وہ ایک بیٹا ہوتا ہے، وہ کسی کی امید ہوتا ہے، کسی کا سہارا ہوتا ہے۔ وہ جب گھر سے نکلتا ہے تو اس کی بیوی کی آنکھوں میں دعا ہوتی ہے، اس کے بچوں کے چہروں پر امید ہوتی ہے۔ مگر وہ نہیں جانتا کہ شاید آج وہ واپس نہ آئے۔ ریلوے کی تمام ڈویژنوں میں مارکیاں اور کلب موجود ہیں، جس کے فنڈز نہ جانے کہاں خرچ ہوتے ہیں؟ کیا یہ پیسہ اِن غریب ملازمین کی بیواؤں کی امداد کیلئے نہیں دیا جاسکتا؟ ابھی بھی وقت ہے کہ TLAملازمین، اِنویلڈ ملازمین اور کنٹریکٹ ملازمین کو مستقل کیا جائے۔ اللہ ہمیں حق کہنے اور حق کے ساتھ کھڑے ہونے کی توفیق دے۔آمین

https://www.facebook.com/share/1ZtDJaDegw/
15/03/2026

https://www.facebook.com/share/1ZtDJaDegw/

ریٹائرڈ ریلوے ملازمین کی خاموش فریاد
زندگی بھر ریلوے کی پٹریوں پر دوڑتی ہوئی گاڑیوں کے ساتھ اپنی جوانی اور محنت کھپا دینے والے ہزاروں ریلوے ملازمین آج ایک کربناک حقیقت کا سامنا کر رہے ہیں۔ یہ وہ لوگ ہیں جنہوں نے اپنی عمر کے سنہری سال پاکستان ریلوے کی خدمت میں گزار دیے، دن کی دھوپ ہو یا رات کی سردی، عید ہو یا کوئی اور تہوار، انہوں نے ہمیشہ اپنی ذمہ داری کو اولین ترجیح دی۔
مگر آج افسوس کے ساتھ کہنا پڑتا ہے کہ جب یہی ملازمین ریٹائر ہوئے تو انہیں وہ حقوق اور واجبات نہ مل سکے جو ان کا قانونی اور اخلاقی حق تھے۔ کئی بزرگ ملازمین اپنے واجبات کی امید لگائے اس دنیا سے رخصت ہو گئے۔ کچھ ایسے بھی ہیں جو ہر صبح ڈاکیے یا کسی سرکاری اعلان کی امید میں دروازے کی طرف دیکھتے ہیں، مگر شام تک مایوسی ان کا مقدر بن جاتی ہے۔
یہ صرف رقم کا معاملہ نہیں، یہ عزت، وقار اور انصاف کا مسئلہ ہے۔ ایک محنت کش جب پوری زندگی ایمانداری سے کام کرنے کے بعد ریٹائر ہوتا ہے تو اس کی امید ہوتی ہے کہ اسے اس کی محنت کا صلہ ملے گا تاکہ وہ اپنی باقی زندگی سکون سے گزار سکے، اپنی اولاد کی ذمہ داریاں پوری کر سکے اور اپنے علاج معالجے کا بندوبست کر سکے۔
مگر افسوس کہ ہمارے معاشرے میں کئی ریٹائرڈ ریلوے ملازمین ایسے بھی ہیں جو اپنے واجبات کا انتظار کرتے کرتے اس دنیا سے رخصت ہو گئے۔ کچھ کی بیوائیں آج بھی دربدر ہیں، فائلوں کے پیچھے بھاگ رہی ہیں اور انصاف کی منتظر ہیں۔
یہ سوال صرف حکومت سے نہیں بلکہ پوری بیوروکریسی اور انتظامی نظام سے ہے کہ کیا وہ اس دن کو بھول گئے ہیں جب ہر انسان کو روزِ محشر اللہ تعالیٰ کے حضور پیش ہونا ہوگا؟ وہاں نہ کوئی عہدہ ہوگا نہ طاقت، صرف اعمال کا حساب ہوگا۔
لہٰذا وقت کا تقاضا ہے کہ پاکستان کے حکمران اور متعلقہ ادارے فوری طور پر اس مسئلے کا سنجیدگی سے نوٹس لیں۔ وزیراعظم پاکستان سے درد بھری اپیل ہے کہ پاکستان ریلوے کو کم از کم بیس ارب کا خصوصی بیل آؤٹ پیکج دیا جائے تاکہ ریلوے کے ریٹائرڈ ملازمین اور ان کی بیواؤں کے واجبات ادا کیے جا سکیں۔
یہ صرف ایک مالی فیصلہ نہیں ہوگا بلکہ انصاف، انسانیت اور ریاستی ذمہ داری کا عملی مظاہرہ ہوگا۔ اگر آج ان محنت کشوں کے ساتھ انصاف کر دیا جائے تو یہ صرف چند خاندانوں کی مدد نہیں بلکہ پورے معاشرے میں امید اور اعتماد کا پیغام ہوگا۔
کیونکہ قومیں اسی وقت ترقی کرتی ہیں جب وہ اپنے محنت کشوں کی قدر کرتی ہیں، ان کی قربانیوں کو یاد رکھتی ہیں اور ان کے حقوق ادا کرنے میں دیر نہیں کرتی۔

https://www.facebook.com/share/p/18VrJ2Xcav/
12/03/2026

https://www.facebook.com/share/p/18VrJ2Xcav/

حضرت عمر بن خطاب رضی اللہ تعالیٰ عنہ کا فرمان ہے:-

ظلم کا معاشرہ تو چل سکتا ہے لیکن بے انصافی کا معاشرہ نہیں چل سکتا۔

پاکستان ریلوے میں اس وقت ایک واضح ناانصافی نظر آ رہی ہے۔ وزارت ریلوے کے ملازمین کو ٹی اے (سفری الاؤنس) کی سہولت بھی حاصل ہے اور اب انہیں تین اضافی چھٹیوں کی سہولت بھی دے دی گئی ہے۔

لیکن دوسری طرف ریلوے کی تمام ڈویژنوں اور ریلوے ہیڈ کوارٹر میں کام کرنے والے ملازمین اور افسران کو نہ تو ٹی اے کی سہولت میسر ہے اور نہ ہی ان اضافی چھٹیوں کا حق دیا جا رہا ہے۔

ایک ہی ادارے کے اندر اس قسم کا دوہرا معیار انصاف کے اصولوں کے خلاف ہے۔ اگر سہولیات دی جا رہی ہیں تو وہ تمام ملازمین کو برابری کی بنیاد پر ملنی چاہئیں۔

وزارت ریلوے سے مطالبہ ہے کہ اس امتیازی سلوک اور ناانصافی کو فوری طور پر ختم کیا جائے اور تمام ملازمین کو یکساں سہولیات فراہم کی جائیں۔

انصاف اور برابری ہی کسی بھی ادارے کی مضبوط بنیاد ہوتے ہیں۔














Address

Pakistan Railways General Stores Mughalpura
Lahore

Telephone

+923225559451

Website

Alerts

Be the first to know and let us send you an email when PREM UNION STORE Division posts news and promotions. Your email address will not be used for any other purpose, and you can unsubscribe at any time.

Contact The Organization

Send a message to PREM UNION STORE Division:

Share

Category