22/03/2025
وہ شب فرقت بڑھا کر چل دیا
تارے یوں دن کے دکھا کر چل دیا
عید کے دن کا بھرم رکھتا مگر
آج بھی وہ منہ بنا کر چل دیا
جس کو پلکوں پر بٹھایا تھا کبھی
اب وہی آنکھیں دکھا کر چل دیا
اک انا ورثے میں پائی تھی جسے
عشق مٹی میں ملا کر چل دیا
پھول دامن سے گرے سوکھے ہوئے
تازگی تو وہ اٹھا کر چل دیا
یہ پرندے بد دعا دیں گے مجھے
آگ جنگل میں لگا کر چل دیا
یوں زیادہ کچھ نہیں وہ شخص بس
نور چہرے کا بجھا کر چل دیا
میں ابھی تک کشمکش میں ہوں وہ کیوں
ایک دم شاعر بنا کر چل دیا
اسفند ضمیر