Asfand vlogs

Asfand vlogs POET ✨
کاش!جب ان کے رُوبرو بیٹھوں
چشم تر ہوں نہ لب سلے جائیں

وہ شب فرقت بڑھا کر چل دیا تارے یوں دن کے دکھا کر چل دیا عید کے دن کا بھرم رکھتا مگر آج بھی وہ منہ بنا کر چل دیا جس کو پل...
22/03/2025

وہ شب فرقت بڑھا کر چل دیا
تارے یوں دن کے دکھا کر چل دیا
عید کے دن کا بھرم رکھتا مگر
آج بھی وہ منہ بنا کر چل دیا
جس کو پلکوں پر بٹھایا تھا کبھی
اب وہی آنکھیں دکھا کر چل دیا
اک انا ورثے میں پائی تھی جسے
عشق مٹی میں ملا کر چل دیا
پھول دامن سے گرے سوکھے ہوئے
تازگی تو وہ اٹھا کر چل دیا
یہ پرندے بد دعا دیں گے مجھے
آگ جنگل میں لگا کر چل دیا
یوں زیادہ کچھ نہیں وہ شخص بس
نور چہرے کا بجھا کر چل دیا
میں ابھی تک کشمکش میں ہوں وہ کیوں
ایک دم شاعر بنا کر چل دیا

اسفند ضمیر

17/03/2025

شوق الفت بڑا عذاب بھی ہے
یہ محبت حسیں سراب بھی ہے
ہو سکے تو پرے رہیں با حیا
آنکھ نامی ادھر شراب بھی ہے
گفتگو میں سوال پوچھ لیا
شاعری کا کوئی ثواب بھی ہے
آپ نے چھو لیا ہے جام سبو
توبہ کر لیں وہاں حساب بھی ہے
تم پہ لازم ہے ناز کر کہ ابھی
خوبصورت بھی ہو شباب بھی ہے
مت رکھو دوست تم ضمیر اسے
خوش سخن ہے مگر خراب بھی ہے
اسفند ضمیر

شام ہوتے ہی اداسی اور میں اکثر ملے یوں کہ جیسے چاند بادل اور شب یکسر ملےکون خوش قسمت ہے جس کو باخدا روتا ہے وہ کون خوش ق...
04/03/2025

شام ہوتے ہی اداسی اور میں اکثر ملے
یوں کہ جیسے چاند بادل اور شب یکسر ملے
کون خوش قسمت ہے جس کو باخدا روتا ہے وہ
کون خوش قسمت ہے جس کو آپ سا ہمسر ملے
آج جس کو تم نے شہزادہ کہا ہے بے جھجھک
عین ممکن ہے کبھی حالات سے ابتر ملے
آپ پھر بھی غیر ہیں غیروں سے شکوہ کس لیے
کیا بتائیں پھول کی صورت ہمیں خنجر ملے
جا چکا ہے وہ کبھی واپس نہیں آئے گا اب
میں دعا گو ہوں اسے مجھ سے کوئی بہتر ملے
آپ خوش فہمی نہ پالیں یہ سفر وحشت کا ہے
قیس کو صحرا ملا فرہاد کو پتھر ملے
خوبصورت ہے اگر وہ حق ہے اسکا محترم
پاس ہونے کو اضافی ایک تو نمبر ملے
شاعر: اسفند ضمیر

روز غالب تو نہیں بنتے ہیں بعد صدیوں کے نگیں بنتے ہیں خود کئی بار خدا ڈھالے بت پھر کہیں جا کے حسیں بنتے ہیں چاند ڈھلتا ہے...
22/02/2025

روز غالب تو نہیں بنتے ہیں
بعد صدیوں کے نگیں بنتے ہیں
خود کئی بار خدا ڈھالے بت
پھر کہیں جا کے حسیں بنتے ہیں
چاند ڈھلتا ہے مرے دامن میں
جب مرے گھر وہ مکیں بنتے ہیں
عشق ہو جائے اگر گہرا تو
آسماں اور زمیں بنتے ہیں
آ کے میرا بھی تماشا دیکھو
کس نفاست سے حزیں بنتے ہیں
بارہا جھوٹ سنا کر ہم کو
وہ ذہیں اپنے تئیں بنتے ہیں
شاعر: اسفند ضمیر

18/02/2025
شوق الفت بڑا عذاب بھی ہے یہ محبت حسیں سراب بھی ہے ہو سکے تو پرے رہیں با حیا آنکھ نامی ادھر شراب بھی ہے گفتگو میں سوال پو...
17/02/2025

شوق الفت بڑا عذاب بھی ہے
یہ محبت حسیں سراب بھی ہے
ہو سکے تو پرے رہیں با حیا
آنکھ نامی ادھر شراب بھی ہے
گفتگو میں سوال پوچھ لیا
شاعری کا کوئی ثواب بھی ہے
آپ نے چھو لیا ہے جام سبو
توبہ کر لیں وہاں حساب بھی ہے
تم پہ لازم ہے ناز کر کہ ابھی
خوبصورت بھی ہو شباب بھی ہے
مت رکھو دوست تم ضمیر اسے
خوش سخن ہے مگر خراب بھی
اسفند ضمیر

Address

Lahore

Website

Alerts

Be the first to know and let us send you an email when Asfand vlogs posts news and promotions. Your email address will not be used for any other purpose, and you can unsubscribe at any time.

Share