13/10/2025
#رجسڑڈاہلحدیث جو ہر وقت دوسروں کو جہالت کا طعنہ دیتے ہیں ۔ انہیں ذرا ان کے باطل اور قرآن و حدیث کے منافی عقائد بتاتے چلے ۔
قرآن میں جگہ جگہ نیک اعمال کرنے والوں کو بشارت دی گئی ہے ۔ دینِ نجدیت کے پیروکاروں کو نیک اعمال ، اور دین کے باقی شعبوں کے بارے مٰں علم ہی نہیں ہوتا اور جہلا کی طرح کہیں کا اصول کہیں لگا رہے ہوتے ہیں ۔ دین کے چار شعبے ہیں ۔
1- عقائد 2-عبادات 3-معاملات 4-نیک اعمال
ان چاروں کی حدود اور ان کے اصول الگ ہیں ۔ اگر آپ عبادات کی بات کریں تو اس کا وقت ، طریقہ کار سب کا تعین ہے ۔ لیکن اگر نیک اعمال کی بات کی جائے تو اس کی کوئی حد نہیں ہے اور نا ہی کوئی طریقہ واضح ہے۔ اس میں اتنی وسعت ہے کہ انسان کی نیت کے حساب سے انکو اس چیز کا بھی اجر ملتا ہے جس کا اس نے سوچا بھی نہیں ہوتا۔
نیچے دی گئی آیت میں اللہ تعالی نے فرمایا کہ جو کوئی ذرا بھر بھی نیکی کرے گا اللہ تعالی اسکو جانتا ہے۔ لیکن وہی جب سیدی رسول اللہ ﷺ سے گدھے کا متعلق پوچھاتو سیدی رسول اللہ ﷺ نے اس آیت کی طرف بھیج دیا۔ کیوں کہ اللہ تعالی کی اتنی زیادہ مخلوق ہے اور سب کے بارے میں بتانا ممکن نہیں ہوتا۔ پھر زمانے کے حساب سےسواریوں کا بدلنا کون کون سی نیکی بتائی جائے ۔ اس لیے اعلان کیاگیا اللہ تعالی تمہاری ہر نیکی کو جانتا ہے۔
دین نجدیت کے پیروکاروں نے اسکو بدعت بنا دیا۔ کہ نیکی وہی قبول ہو گی جو سیدی رسول اللہ ﷺ سے ثابت ہو ۔ اوہ کم عقلوں خودکو اہلحدیث کہنے والوں ذرا حدیث ہی پڑھ لیتے ۔