Allama Iqbal Stamps Society

Allama Iqbal Stamps Society A page for promotion of
IQBALIYAT through Philately.

ڈاکٹر غلام مصطفیٰ خانتاریخِ پیدائش: یکم جولائی 1912ء' بمقام: جبل پور' برطانوی ہندوستانمحقق' نقاد' ماہر تعلیم' ماہر لسانی...
25/09/2026

ڈاکٹر غلام مصطفیٰ خان
تاریخِ پیدائش: یکم جولائی 1912ء' بمقام: جبل پور' برطانوی ہندوستان
محقق' نقاد' ماہر تعلیم' ماہر لسانیات اور مذہبی عالم۔ آپ ناگپور یونیورسٹی اور جامعہ سندھ کے شعبہ اُردو کے صدر رہے۔ ناگپور یونیورسٹی نے آپ کو 1959ء میں ڈاکٹر آف لیٹرز (ڈی لٹ) کی ڈگری عطا کی۔ آپ نے قرآنیات' مذہب اور اُردو ادب میں کئی تصانیف تحریر کیں۔ آپ کی سب سے مقبول تصنیف "اقبال اور قرآن" ہے۔ اِس کتاب میں ڈاکٹر غلام مصطفیٰ خان نے علامہ اقبال کے فارسی اور اُردو اشعار کو قرآن کی آیات کے ساتھ جوڑا۔ اقبالیات میں یہ کام اپنی نوعیت کا منفرد اور تحقیقی کام تھا۔ آپ کی کتاب کے مطالعہ سے یہ بات واضح ہو جاتی ہے کہ شاعرِ مشرق کے کون کون سے اشعار قرآن مجید کی کن کن آیات کا مفہوم بیان کرتے ہیں۔ آپ کی اِس کاوش کو پہلا صدارتی اقبال ایوارڈ دیا گیا تھا۔ اِس کے علاوہ آپ نے "عارفِ اقبال" بھی تحریر کی۔ آپ کی علمی و ادبی خدمات کے اعتراف میں حکومتِ پاکستان نے آپ کو صدارتی تمغہ برائے حسنِ کارکردگی اور ستارۂ امتیاز سے نوازا۔ اس کے علاوہ نقوش ایوارڈ اور انجمن ترقی اُردو کی جانب سے نشانِ سپاس بھی عطا کیا گیا۔ ڈاکٹر غلام مصطفیٰ خان کا انتقال 25 ستمبر 2005ء کو حیدرآباد' پاکستان میں ہوا اور آپ احاطہ مسجد غفوریہ نزد ٹول پلازہ سپرہائی وے بائی پاس' حیدرآباد میں آسودۂ خاک ہیں۔

(تحریر و تحقیق: ڈاکٹر میاں ساجد علی' علامہ اقبال سٹمپ سوسائٹی)

https://whatsapp.com/channel/0029Vb6BGvIJkK7HtPieeI1d

مولوی سیّد میر حسنتاریخِ پیدائش: 18 اپریل 1844ء' بمقام: سیالکوٹ' ہندوستانشمس العلماء۔ سیّد میر حسن ادبیات' لسانیات' ریاض...
25/09/2026

مولوی سیّد میر حسن
تاریخِ پیدائش: 18 اپریل 1844ء' بمقام: سیالکوٹ' ہندوستان
شمس العلماء۔ سیّد میر حسن ادبیات' لسانیات' ریاضیات اور تفسیرِ قرآن کے بہت بڑے عالم تھے۔ آپ نے غلام حسن کے ہاں ننھے اقبال کو پڑھائی میں جب مشغول پایا تو شیخ نور محمد سے استدعا کی کہ اِس بچے کو میرے حوالے کر دیں۔ تاریخ گواہ ہے کہ یہ مولوی میر حسن ہی کا فیض تھا کہ اقبال "حکیم الامت" اور "شاعرِ مشرق" کے القابات سے جانے گئے۔ جب 1922ء میں علامہ اقبال کو برطانوی حکومت نے "سر" کے خطاب کے لیے نامزد کیا تو آپ نے اپنے اُستادِ محترم کا نام تجویز کیا۔ علامہ اقبال نے مولوی میر حسن کی بہت تعظیم و تکریم کی۔ مولوی میرحسن' سر سیّد احمد خاں کے قریبی دوستوں میں سے تھے۔ عموماً موسمِ گرما کی تعطیلات میں سر سیّد احمد خاں سے ملاقات کے لیے علی گڑھ تشریف لے جاتے۔ علامہ اقبال نے ابتدائی تعلیم سے انٹرمیڈیٹ تک تعلیم مولوی میر حسن سے ہی حاصل کی تھی۔ مولوی صاحب نے اقبال میں عربی' فارسی اور اُردو کا ذوق پیدا کیا۔ علامہ اقبال کی دستیاب شاعری میں اوّلین اشعار بھی میرحسن کے فرزند تقی کے کبوتروں پر تھے۔ علامہ اقبال نے اپنے اشعار اور مکاتیب میں بھی مولوی میرحسن کا ذکر کیا ہے۔ مولوی میرحسن کا انتقال 25 ستمبر 1929ء کو سیالکوٹ' برطانوی ہندوستان میں ہوا۔ علامہ اقبال کو جب آپ کی وفات کی خبر ملی تو آپ میکلوڈروڈ' لاہور والے گھر مکان سے اُسی وقت ریلوے سٹیشن کی جانب چل پڑے۔ وہاں پہنچ کر معلوم پڑا کہ سیالکوٹ اِس وقت کوئی ریل گاڑی نہیں جاتی۔ اتفاق کی بات ہے کہ اُس وقت ایک مال گاڑی وزیرآباد جارہی تھی۔ علامہ اقبال اِسی میں سوار ہو گئے اور وزیر آباد پہنچ کر سیالکوٹ جانے کا بندوبست کیا۔ مولوی میر حسن کا نمازِ جنازہ وصیت کے مطابق مولوی محمد ابراہیم نے پڑھایا۔ علامہ اقبال نے مولوی میرحسن کی وفات پر مادۂ تاریخ نکالا:
مَا أَرْسَلْنَاكَ إِلَّا رَحْمَةً لِلْعَالَمِينَ
1347ھ
مولوی سیّد میر حسن سے علامہ اقبال کی عقیدت کا اظہار اِس درج ذیل شعر سے بھی ہوتا ہے:
مجھے اقبال اِس سیّد کے گھرسے فیض پہنچا ہے
پلے جو اس کے دامن میں وہی کچھ بن کے نکلے ہیں
(تحریر و تحقیق: ڈاکٹر میاں ساجد علی' علامہ اقبال سٹمپ سوسائٹی)

https://whatsapp.com/channel/0029Vb6BGvIJkK7HtPieeI1d

راجا محمد اسلم خان کے نام علامہ اقبال کا ایک خط جو 13 جنوری 1935ء کو ارسال کیا گیا۔ حکیم الامت کا یہ مختصر خط ایک پوسٹ ک...
23/09/2026

راجا محمد اسلم خان کے نام علامہ اقبال کا ایک خط جو 13 جنوری 1935ء کو ارسال کیا گیا۔ حکیم الامت کا یہ مختصر خط ایک پوسٹ کارڈ کی صورت میں راجا محمد اسلم خان کو بھیجا گیا تھا۔ علامہ اقبال کی تحریر درج ذیل ہے:
میں اپنے مقاصد کو خوب سمجھتا ہوں اور انہیں کو پیشِ نظر رکھتا ہوں۔
پوسٹ کارڈ پر موجود وصولی کی مہر سے یہ معلوم پڑتا ہے کہ یہ کارڈ 14 جنوری 1935ء کو ضلع جہلم کے علاقہ ترکی پہنچا۔ پوسٹ کارڈ پر پتہ کی تحریر علامہ اقبال کے ہاتھ کی نہیں ہے جب کہ خط کے متن کی لکھائی شاعرِ مشرق کے ہاتھ کی ہے۔ راجا محمد اسلم خان کا تعلق موضع بکڑالا' تحصیل سوہاوہ' ضلع جہلم سے تھا جو 12 مارچ 1907ء کو ذیلدار راجا محمد خان رئیس بکڑالا کے ہاں پیدا ہوئے۔ آپ کے والد راجا محمد خان صاحب معروف صوفی بزرگ میاں محمد بخش رحمۃ اللہ علیہ کے مرید تھے۔ راجا محمد اسلم خان کے دستیاب مکاتیب و دیگر یادداشتوں میں علامہ اقبال کے بارے میں کوئی یادداشت دستیاب نہیں ہوئی اور نہ ہی یہ معلوم ہو سکا کہ اُنہوں نے علامہ اقبال سے کی خدمت میں کیا گزارشات یش کی تھیں؟ جس کے جواب میں علامہ اقبال نے یہ خط بذریعہ پوسٹ کارڈ تحریر کیا۔
(پیشکش: ڈاکٹر میاں ساجد علی' علامہ اقبال سٹمپ سوسائٹی)

سیّد ابوالاعلیٰ مودودیتاریخِ پیدائش: 25 ستمبر 1903ء' بمقام: اورنگ آباد' حیدرآباد دکن' برطانوی ہندوستانمفسرِ قرآن' صحافی'...
22/09/2026

سیّد ابوالاعلیٰ مودودی
تاریخِ پیدائش: 25 ستمبر 1903ء' بمقام: اورنگ آباد' حیدرآباد دکن' برطانوی ہندوستان
مفسرِ قرآن' صحافی' انشا پرداز' جماعتِ اسلامی کے بانی اور مذہبی عالم۔ آپ کا سب سے بڑا کارنامہ قرآن مجید کی تفسیر ہے جو "تفہیم القرآن" کے نام سے شائع ہوئی۔ مولانا مودودی نے اپنے ایک انٹرویومیں واضح کیا تھا کہ علامہ اقبال نے اُنہیں مشورہ دیا تھا کہ وہ حیدرآباد دکن چھوڑ کر پنجاب منتقل ہو جائیں' مگر میں نے اُس وقت اظہارِ معذرت کر لیا تھا کیوں کہ اُس وقت میں حیدرآباد دکن میں رہنے کا ارادہ رکھتا تھا' البتہ 1937ء کے وسط تک مجھے یہ خود محسوس ہونے لگا تھا کہ جنوبی ہند کو چھوڑ کر مجھے شمالی ہند کی جانب رُخ کرنا چاہیے۔ علامہ اقبال نے مجھے پٹھان کوٹ منتقل ہونے کا مشورہ دیا تھا۔ اس کو میں نے قبول کیا اور مارچ 1938ء میں پٹھان کوٹ منتقل ہو گیا لیکن افسوس اپریل 1938ء میں وہ خود دُنیا چھوڑ گئے۔ مولانا مودودی حیدرآباد سے نکلنے والے رسالے "ترجمان القرآن" کے ایڈیٹر تھے۔ علامہ اقبال نے اپنی وفات سے چند روز قبل چوہدری نیاز علی اور علامہ محمد اسد کو ایک ملاقات کے دوران بتایا کہ اُنہیں مودودی صاحب کی کتاب "الجہاد فی الاسلام" پسند آئی ہے۔ علامہ اقبال کی وفات پر اپنے گہرے رنج و احساسات کا اظہار کرتے ہوئے مولانا مودودی' سیّد نذیر نیازی کو لکھتے ہیں:
"میں اِس کو اپنی بدنصیبی سمجھتا ہوں کہ اس شخص کی آخری زیارت سے محروم رہ گیا جس کا مثل شاید اب ہماری آنکھیں نہ دیکھ سکیں گی۔ محمد علی کے بعد یہ دوسرا نقصان مسلمانوں کو پہنچا ہے اور یہ نقصان میری نگاہ میں پہلے نقصان سے عظیم تر ہے"۔
بیسویں صدی میں علامہ اقبال نے اپنی شاعری کے ذریعے مسلمانوں کو ایک ولولہ تازہ عطا کیا اور ان کے اندر نشاۃ ثانیہ کی جوت لگائی۔ مولانا مودودی نے اِسی جذبے اور ولولے کو اپنی نثر کے ذریعے آگے بڑھایا۔ علامہ اقبال کی وفات پر جامعہ ملیہ' دہلی نے اپنے رسالے "جوہر" کا "اقبال نمبر" شائع کیا' جس میں مولانا مودودی کا مضمون "حیاتِ اقبال کا سبق" بھی شامل تھا۔ 21 اپریل 1970ء کومرکزی مجلسِ اقبال' لاہور کے زیر اہتمام یومِ اقبال کے موقع پر پنجاب یونیورسٹی کے سینیٹ ہال میں مولانا مودودی نے اپنا مقالہ بھی پیش کیا تھا۔ علامہ اقبال سے مولانا مودودی کی صرف دو ملاقاتیں ہوئیں۔ آپ کی متعدد تصانیف و مضامین شائع ہوئے۔ مولانا مودودی کا انتقال 22 ستمبر 1979ء کو بفلو' نیویارک' ریاست ہائے متحدہ امریکہ میں ہوا۔ آپ کا غائبانہ نمازِ جنازہ خانہ کعبہ' مکہ مکرمہ' سعودی عرب میں بھی ادا کیا گیا۔ لاہور میں ادا ہونے والا آپ کا نمازِ جنازہ اس شہر کے بڑے نمازِ جنازہ کے اجتماع میں شمار ہوتا ہے۔ آپ کی تدفین لاہور میں اچھرہ کے پاس ذیلدار پارک میں ہوئی۔
(تحریر و تحقیق: ڈاکٹر میاں ساجد علی' علامہ اقبال سٹمپ سوسائٹی)

https://whatsapp.com/channel/0029Vb6BGvIJkK7HtPieeI1d

پاک چین اقتصادی راہداری اور علامہ اقبال پر میرا مضمون بعنوان "سی پیک فکرِ اقبال کے تناظر میں" روزنامہ آفتاب' لاہور میں ش...
21/09/2026

پاک چین اقتصادی راہداری اور علامہ اقبال پر میرا مضمون بعنوان "سی پیک فکرِ اقبال کے تناظر میں" روزنامہ آفتاب' لاہور میں شائع ہوا تھا۔
(ڈاکٹر میاں ساجد علی' علامہ اقبال سٹمپ سوسائٹی)

https://whatsapp.com/channel/0029Vb6BGvIJkK7HtPieeI1d

پاکستان کی آزادی کے بیس سال مکمل ہونے پر پاکستان پوسٹ نے بیس پیسہ کی ایک یادگاری ڈاک ٹکٹ جاری کیا جس کی خصوصی مہر پر شاع...
19/09/2026

پاکستان کی آزادی کے بیس سال مکمل ہونے پر پاکستان پوسٹ نے بیس پیسہ کی ایک یادگاری ڈاک ٹکٹ جاری کیا جس کی خصوصی مہر پر شاعرِ مشرق علامہ محمد اقبال کی کتاب بالِ جبریل کی نظم مسجدِ قرطبہ کا درج ذیل شعر کندہ کیا گیا تھا:

مٹ نہیں سکتا کبھی مردِ مسلمان' کہ ہے
اسکی اذانوں سے فاش سرِ کلیم و خلیل

ڈاک کی اس خصوصی مہر کا اجراء 14 اگست 1967ء کو پاکستان کے تمام بڑے ڈاک خانوں سے ہوا۔
(ذخیرۂ اقبالیات' علامہ اقبال سٹمپ سوسائٹی)

ڈاکٹر عبدالروف رفیقی صاحب کو اُن کی کتاب "آثار اردوی اقبال" پر علامہ اقبال سٹمپ سوسائٹی کی جانب سے اقبال کتاب ایوارڈ 25-...
18/09/2026

ڈاکٹر عبدالروف رفیقی صاحب کو اُن کی کتاب "آثار اردوی اقبال" پر علامہ اقبال سٹمپ سوسائٹی کی جانب سے اقبال کتاب ایوارڈ 25-2024ء پیش کیا گیا۔ ڈاکٹر صاحب علامہ اقبال سٹمپ سوسائٹی کی تقریب تقسیم انعامات و اسناد میں بوجہ مصروفیت شرکت نہ کر سکے تھے۔ میرے ساتھ امریکہ سے قائداعظم فاونڈیشن کے صدر ڈاکٹر آصف ریاض قدیر بھی ڈاکٹر صاحب کو تمغہ پہنا رہے ہیں۔

علامہ اقبال کی انگریزی بیاض سے خیال نمبر 10۔(منتشر خیالاتِ اقبال' مترجم: میاں ساجد علی' مرتبہ: ڈاکٹر جاوید اقبال' ناشر: ...
16/09/2026

علامہ اقبال کی انگریزی بیاض سے خیال نمبر 10۔
(منتشر خیالاتِ اقبال' مترجم: میاں ساجد علی' مرتبہ: ڈاکٹر جاوید اقبال' ناشر: علامہ اقبال سٹمپ سوسائٹی' لاہور)

https://whatsapp.com/channel/0029Vb6BGvIJkK7HtPieeI1d

محمد دین فوقتاریخِ پیدائش: 25 فروری 1877ء' بمقام: سیالکوٹ' برطانوی ہندوستانشاعر' نقاد' صحافی' مؤرخ۔ آپ کا پیدائشی نام مح...
14/09/2026

محمد دین فوق
تاریخِ پیدائش: 25 فروری 1877ء' بمقام: سیالکوٹ' برطانوی ہندوستان
شاعر' نقاد' صحافی' مؤرخ۔ آپ کا پیدائشی نام محمد دین دار تھا۔ لیکن محمد دین فوق کے نام سے شہرت پائی۔ سیالکوٹ میں پیدا ہوئے اور 19 سال کی عمر میں لاہور کے "پیسہ اخبار" سے منسلک ہوگئے۔ علامہ اقبال سے محمد دین فوق کی پہلی ملاقات بازارِ حکیماں کے 1896ء کے مشاعرے میں ہوئی۔ 1901ء میں ہفت روزہ "پنجہ فولاد" نکالا جو پانچ سال تک جاری رہا۔ علامہ اقبال نے پنجہ فولاد کے اجراء پر ایک نظم بعنوان "پنجہ فولاد" بھی لکھی۔ 1906ء میں "کشمیری میگزین" جاری کیا۔ کشمیری مسلمانوں کی اصلاح کے لیے فوق کی کوششوں کو دیکھتے ہوئے اقبال انہیں "مجدد کشامرہ" کے نام سے یاد کرتے۔ محمد دین فوق کے علامہ اقبال سے دوستانہ تعلقات تھے۔ علامہ اقبال کی تحریک سے متاثر ہوکر محمد دین فوق نے رسالہ "طریقت" اور ماہنامہ "نظام" جاری کیا۔ طریقت میں فوق نے علامہ اقبال کا ایک انٹرویو شائع کیاتھا' جس میں مختلف سوالات کےذریعہ تصوف' ضرورتِ مرشد وغیرہ کے متعلق علامہ اقبال کے خیالات کو قلمبند کیا گیا تھا۔ محمد دین فوق کی تصنیف "یادِ رفتگاں" سے متاثر ہو کر علامہ اقبال نے بانگ درا کی ایک غزل کے اشعار کہے تھے' جس کا مشہور شعرمندرجہ ذیل ہے:
تمنا دردِ دل کی ہو تو کر خدمت فقیروں کی
نہیں ملتا یہ گوہر بادشاہوں کے خزینوں میں
ایک اندازے کے مطابق محمد دین فوق کی تصانیف کی تعداد ایک سو سے زائد ہے۔ فوق اور اقبال کے درمیان خط کتابت بھی ان دونوں شخصیات کے تعلقات کا منہ بولتا ثبوت ہے۔ محمد دین فوق کا انتقال 14 ستمبر 1945ء کو لاہور' برطانوی ہندوستان میں ہوا اور آپ کو قبرستان میانی صاحب میں سپردِ خاک کیا گیا۔
(تحریر و تحقیق: ڈاکٹر میاں ساجد علی' علامہ اقبال سٹمپ سوسائٹی)

https://whatsapp.com/channel/0029Vb6BGvIJkK7HtPieeI1d

Address

714/Eastern Block, Street No. 13, Bahria Orchard, Raiwind Road
Lahore
54000

Alerts

Be the first to know and let us send you an email when Allama Iqbal Stamps Society posts news and promotions. Your email address will not be used for any other purpose, and you can unsubscribe at any time.

Contact The Organization

Send a message to Allama Iqbal Stamps Society:

Shortcuts

Share