Dr.Muhammad Bin Mansha

Dr.Muhammad Bin Mansha DR MUHAMMAD BIN MANSHA
BSc, MBBS , R.M.P. USMLE
Author of 8 Books
A Cricket Lover ♥️
C.E.O.

Medicos Study Corner
Owner at Al Rehmat Medical and Surgical Hospital Renala Khurd
Ex Iqbalian

12/09/2026
یہ ہے جی تحصیل ہیڈ کوارٹر اسپتال منچن آباد کا ایمرجنسی ڈیپارٹمنٹ اور یہ جو مجمع آپ دیکھ رہے ہیں یہ کسی مداری کے گرد نہیں...
12/09/2026

یہ ہے جی تحصیل ہیڈ کوارٹر اسپتال منچن آباد کا ایمرجنسی ڈیپارٹمنٹ

اور یہ جو مجمع آپ دیکھ رہے ہیں یہ کسی مداری کے گرد نہیں بلکہ ایک ڈاکٹر کے گرد لگا ہوا ہے جو ایک حقیقی ایمرجنسی کیس دیکھ رہا ہے

آپ اس شعور کی کیا تشریح کریں گے؟
یہاں کسی ایک کو بھی رش کم کرنے اور ڈاکٹرز کو اپنا کام کرنے دینے کی بات کر کے دیکھ لیں آپ کو دن میں تارے دکھا دیں گے کہ ہمارے ٹیکس کے پیسوں پر اسپتال چل رہا ہے، تمہارے باپ کا اسپتال نہیں ہے وغیرہ وغیرہ

مہربانی فرما کر ان حالات میں ڈاکٹر کو اپنا کام کرنے دینا چاہئے

مریض کو ہارٹ اٹیک ہونے کی صورت میں ایمرجنسی میں کالا نمک تمام Cardiologists کے پاس لازمی رکھوائیںساتھ پانی گرم کرنے کے ل...
08/09/2026

مریض کو ہارٹ اٹیک ہونے کی صورت میں ایمرجنسی میں کالا نمک تمام Cardiologists کے پاس لازمی رکھوائیں
ساتھ پانی گرم کرنے کے لیے کیٹل بھی رکھیں
— ڈاکٹر جمیل
( جعلی ڈاکٹر)

31/08/2026

The beautiful Velleys of Kalam and Swat

واقع ہی ڈاکٹر کا قصور ہے جو بیڈ نہ  ہونے کے باوجود بھی اس ناشکری قوم کو سہولت دے رہی ہے ۔ نرسری میں ان سب حالات کے ذمہ د...
27/08/2026

واقع ہی ڈاکٹر کا قصور ہے جو بیڈ نہ ہونے کے باوجود بھی اس ناشکری قوم کو سہولت دے رہی ہے ۔
نرسری میں ان سب حالات کے ذمہ دار بھی ڈاکٹر ہیں جو اپنی مدد آپ کے تحت اس ناشکری قوم کو سہولتیں دے رہی ہے ۔ ستھرے پنجاب کے لیے 220 ارب ہیں لیکن ہسپتالوں میں سہولیات کے لیے 2 ارب بھی نہیں۔
2 ارب سے 200 نرسریاں بن سکتی ہیں اور کئی ہزار بچوں کو موت سے بچایا جا سکتا ہے ۔
11 ارب کا جہاز نہ خریدا جاتا تو اس سے 2000 نرسریاں بن سکتی ہیں جس میں ہزاروں بچوں کی جانیں بچائی جا سکتی ہیں ۔ لیکن۔ عوام کو کیا انہوں نے تو ڈاکٹرز کو ہی قصوروار ٹھہرانا ہے ۔۔۔۔

ڈی ایم ایس ساہیوال ٹیچنگ ہسپتال کی زبانی ۔۔۔ایک انکوائری کی کہانی سانحہ ساہیوال ٹیچنگ ہسپتال ساہیوال کے کچھ حقائق ڈی ایم...
27/08/2026

ڈی ایم ایس ساہیوال ٹیچنگ ہسپتال کی زبانی ۔۔۔ایک انکوائری کی کہانی

سانحہ ساہیوال ٹیچنگ ہسپتال ساہیوال کے کچھ حقائق ڈی ایم ایس سٹور کی نظر سے

آج پمز ہسپتال اسلام آباد میں ایک افسوس ناک واقعہ پیش آیا، جس میں معصوم نومولود بچوں کی جانوں کا نقصان ہوا۔ صرف اے سی کے کمپریسر میں آگ لگنے سے تاریخ نے اپنے آپ کو ریپیٹ کیا۔ انکوائری کمیٹی بنی، ٹرمینیشنز ہوئیں، لیکن بات اتنی سادہ نہیں ہے جتنی محسوس ہوتی ہے۔

دو سال قبل ساہیوال ٹیچنگ ہسپتال میں بھی بچوں کے وارڈ میں بالکل اسی طرح کا ایک واقعہ پیش آیا تھا۔ پنجاب حکومت کو آئے ہوئے کچھ عرصہ ہی ہوا تھا۔ محترمہ مریم نواز نے وزیراعلیٰ پنجاب کا چارج سنبھالا تھا اور کسی بھی سرکاری ہسپتال کا یہ ان کا پہلا وزٹ تھا۔ چنانچہ اس واقعے میں بھی ایم ایس اور پرنسپل کو گنہگار ٹھہرایا گیا اور ہتھکڑیاں لگا دی گئیں، جبکہ شاید ایم ایس اور پرنسپل کو خود بھی معلوم نہ تھا کہ آخر واقعے کی اصل وجہ کیا بنی۔

خیر، پرنسپل کو پریشر پڑنے پر بحال کر دیا گیا اور ایم ایس بھی دوبارہ لگا دیے گئے۔ پرنسپل صاحب نے ایک فیکٹ فائنڈنگ کمیٹی بنائی۔ میں ان دنوں نیا نیا ڈی ایم ایس بنا تھا اور 24 گھنٹے کام کرنے کی وجہ سے اپنا نام بنایا تھا، لہٰذا مجھے اس انکوائری کا چیئرمین بنا دیا گیا۔

میں اس کام سے اپنے آپ کو دور رکھنا چاہتا تھا، کیونکہ جیسے ہی میں پیڈیاٹرکس وارڈ میں جاتا تھا، مجھے وہ ٹراما یاد آ جاتا تھا جو ہم نے کچھ دیر قبل اپنی آنکھوں کے سامنے ہوتا دیکھا تھا۔ لیکن خیر، ہمت کی اور فیکٹ فائنڈنگ کے لیے نکل گیا۔

ساتھ دو الیکٹریشنز اور ایک انجینئر کو لیا اور جہاں پر یہ واقعہ ہوا تھا، وہیں سے تحقیقات کا آغاز کیا۔

پوچھنے پر پتہ چلا کہ یہ واقعہ اے سی میں آگ لگنے سے ہوا تھا۔ خیر، اس اے سی کو دیکھا تو وہ ایک خستہ حال اور پرانا اے سی تھا۔ جب اس کے ریپیئر کے بل نکلوائے تو پتہ چلا کہ ایک ہی اے سی گزشتہ 10 سال سے ریپیئر ہو رہا تھا اور بار بار ایک ہی چیز کو ریپیئر کرکے اس کے بل بنائے گئے تھے، جبکہ اتنے عرصے میں 10 نئے اے سی خریدے جا سکتے تھے۔

سونے پر سہاگا یہ کہ جب اس پاور ساکٹ کو دیکھا جس کی وجہ سے آگ لگی تھی تو پتہ چلا کہ وہ چین کا ایک لو کوالٹی پاور ساکٹ تھا، جبکہ اس کا بل چیک کیا تو ایک اچھے معیار کے پاور ساکٹ کے مطابق پیسے چارج کیے گئے تھے۔

لیکن چونکہ ہسپتالوں میں انسپیکشن کا پروسیس انتہائی کمزور تھا، اس لیے اچھے معیار کی قیمت میں چین کا لو کوالٹی پاور ساکٹ لگا دیا گیا۔

جب دال میں مزید کچھ کالا نظر آیا اور تسلی نہ ہوئی تو میں نے الیکٹریشن سے کہا کہ پاور ساکٹ سے نکلنے والی تار کا بھی معائنہ کروائیں۔

جب اس کا معائنہ کیا گیا تو پتہ چلا کہ ابتدائی تار اچھی کوالٹی کی کاپر وائر لگائی ہوئی تھی، تاکہ اگر کبھی بورڈ کھول کر چیک وغیرہ کیا جائے تو لگے کہ کاپر تار ڈالی گئی ہے۔

جب مزید ایک، دو میٹر پیچھے گئے تو مین بورڈ سے لے کر اے سی کے بورڈ تک ساری وائر سلور کی تھی، اور سونے پر سہاگا یہ کہ سلور کے باہر کاپر کی وائر کے ساتھ جوڑ لگایا گیا تھا۔

میں حیران تھا کہ میرے ایک دفعہ دیکھنے پر یہ سارا کچھ پتہ چل گیا۔ جن لوگوں نے اس کو اپروو کیا، جنہوں نے اس کی انسپیکشن کی، ان سب نے کیا سوچ کر یہ کام کیا؟ کیا انہیں ذرا بھی خیال نہیں آیا کہ یہ چیزیں ہسپتال میں لگائی جانی ہیں اور ان سے عام مریضوں کو نقصان ہو سکتا ہے؟

لیکن شاید انسانیت ہی ختم ہو چکی تھی۔

البتہ جامع رپورٹ بنائی اور پیش کی۔ پرنسپل صاحب نے ان تمام چیزوں کی اصلاح اور تبدیلی کے لیے بھی مجھے انچارج بنا دیا۔ آج بھی وہ رات یاد ہے کہ صبح چار بجے تک ساری تاریں تبدیل کروائیں، اچھی کوالٹی کے پاور ساکٹس لگوائے اور دیگر ضروری کام مکمل کروائے۔

آج تک اس وارڈ میں دوبارہ کبھی ایسا واقعہ نہیں ہوا۔

لیکن میں آج بھی سوچتا ہوں کہ کاش یہ ساری ایکٹیویٹی پہلے کر لی جاتی تو نوبت یہاں تک نہ آتی۔ جانے کتنی قیمتی جانیں ضائع ہونے سے بچ جاتیں۔

ایک اور بات یہ ہے کہ ہسپتال میں ہونے والی ہر بری چیز کا الزام ڈاکٹر پر اس لیے لگا دیا جاتا ہے کیونکہ وہ نان ٹیکنیکل ہوتے ہیں۔

اب یہ سارا کام پرچیز ڈیپارٹمنٹ سے شروع ہوتا ہے، اسٹور تک آتا ہے اور اسٹور سے شروع ہو کر الیکٹریشن پر ختم ہو جاتا ہے۔ ڈاکٹرز کی انوالومنٹ اس میں بہت کم ہوتی ہے۔

پرچیز ڈیپارٹمنٹ الیکٹرک سامان کا ٹینڈر کرتا ہے، جس میں اچھی سے اچھی کوالٹی اور معیار کو بہترین بنانے کی ہدایات ہوتی ہیں۔ انسپیکشن کمیٹی کا کام ہوتا ہے کہ جب یہ الیکٹرک سامان آئے تو اس کی انسپیکشن کرکے چیک کرے کہ جیسا پرچیز کمیٹی نے کہا تھا، اس کو فالو کیا گیا ہے یا نہیں۔

اس کے بعد سامان الیکٹریشن کے حوالے کر دیا جاتا ہے کہ وہ اسے انسٹال کرے۔

اسی طرح اے سی ٹیکنیشن کے بارے میں بھی یہی کچھ ہوتا ہے۔ اس نے بھی اپنا کام کرنا ہوتا ہے۔ اگر ایک ہی اے سی بار بار خراب ہو رہا ہے تو اسے ایم ایس یا ہسپتال کے دیگر انتظامی افسران کو یہ بتانا چاہیے کہ یہ اے سی اب ریپیئر کے قابل نہیں رہا اور اسے تبدیل کرنے کی ضرورت ہے۔

میری انکوائری کا کنکلوژن یہ تھا کہ اس سارے معاملے میں کسی نے بھی اپنا کام صحیح طریقے سے نہیں کیا۔

پرچیز کمیٹی نے جو سیمپل لیا تھا، اس کے مطابق انسپیکشن کمیٹی کو گائیڈ نہیں کیا گیا کہ آپ نے برانڈڈ اور معیاری چیزیں لینی ہیں، کیونکہ ہسپتال کے لیے منظور شدہ معیار یہی تھا۔

اس کے بعد انسپیکشن کمیٹی نے بھی بغیر مناسب طریقے سے دیکھے چین کے پاور ساکٹس، تاریں اور بجلی کا دیگر سامان اپروو کر دیا۔

جب الیکٹریشن کے حوالے خستہ حال اور غیر معیاری سامان کیا گیا تو اس نے بھی بغیر سوچے سمجھے اور پبلک سیفٹی کو سامنے رکھے بغیر یہ سامان انسٹال کر دیا۔

اے سی ٹیکنیشن نے بار بار ایک ہی اے سی کو ریپیئر کرکے اس کے بل بنائے، جبکہ وہ ایم ایس یا ہسپتال کے دیگر انتظامی افسران کو یہ نہ بتا سکا کہ یہ اے سی اب ریپیئر کے قابل نہیں ہے۔

پرچیز کمیٹی سے لے کر انسپکشن کمیٹیاں اور الیکٹریشن اے سی ٹیکنیشن تک وینڈر کے فائدے کرتے چلے گئے اور خمیازہ عوام اور ایم ایس کو بھگتنا پڑا-

البتہ اس میں ایم ایس اور پرنسپل کی انوالومنٹ بہت کم تھی، لیکن چونکہ وہ ایگزیکٹو تھے، اس لیے انہیں پرو ایکٹو اپروچ اختیار کرنی چاہیے تھی۔ اس معاملے میں انتظامی نگرانی بھی ضروری تھی، اور شاید بہت دیر کر دی گئی۔

مہربان آتے آتے بہت دیر کر دی۔

آج کا واقعہ بھی شاید اس سے کوئی مختلف نہیں ہے۔ آج بھی یہ سارا معاملہ ڈاکٹروں پر ڈال دیا جائے گا، جبکہ ٹیکنیکل اسٹاف صرف اس لیے بچ جائے گا کہ وہ ٹیکنیکل ہے اور ڈاکٹر نان ٹیکنیکل۔

اور مسئلہ یہ بھی ہے کہ ڈاکٹرز نہ تو اس تکنیکی معاملے کی مکمل تفصیلات جانتے ہیں اور نہ ہی وہ اپنا دفاع مؤثر طریقے سے کر پائیں گے۔

لیکن سوال یہ ہے کہ کیا ہسپتال میں ہونے والے ہر ایسے حادثے کا ذمہ دار صرف ڈاکٹر، ایم ایس یا پرنسپل کو قرار دینا درست ہے؟

یا ہمیں پورے نظام کو دیکھنا چاہیے؟

پرچیز سے لے کر انسپیکشن، اسٹور، انسٹالیشن، مینٹیننس اور انتظامی نگرانی تک ہر مرحلے پر ذمہ داری طے ہونی چاہیے۔

کیونکہ ہسپتال میں معمولی سی غفلت بھی کسی مریض کے لیے معمولی نہیں ہوتی۔

اور سب سے اہم بات:

حادثے کے بعد ذمہ دار تلاش کرنے سے بہتر ہے کہ حادثے سے پہلے خطرے کو تلاش کر لیا جائے۔

تحریر:
ڈاکٹر حسن غفار
سابقہ ڈی ایم ایس سٹور
ساہیوال ٹیچنگ ہسپتال ساہیوال

Address

Lahore

Telephone

+923156248106

Website

Alerts

Be the first to know and let us send you an email when Dr.Muhammad Bin Mansha posts news and promotions. Your email address will not be used for any other purpose, and you can unsubscribe at any time.

Shortcuts

Share