18/08/2026
ایک ہیبت ناک قسم کی تباہی جاری ہے جس پر کوئی بات کرنے کو ہی تیار نہیں۔ میری انستھیزیا کی روٹیشن چل رہی ہے اور میں پنجاب کے ایک بہت بڑے اور شہر کے سب سے بڑے ہسپتال میں کام کرتا ہوں جہاں یہ حالات ہیں۔ گزشتہ شب لگ بھگ صبح چار بجے کیس کروانے لگا تو گائنی کی سال چہارم کی پی جی آر کی حالت دیکھ کر میں کافی دیر سوچتا رہا کہ یار یہ کیا بکواس زندگی چل رہی ہے۔ میں نے ان کو کئی کیسز کروائے ہیں بہت ہی صاف سرجری کرتی ہیں اکثر سٹاف بھی اپنے کسی عزیز کے کیس کیلئے درخواست کرتی ہیں۔ لیکن رات دیکھتا ہوں کہ یوٹرس پر کبھی ٹانکا لیتی ہیں تو کبھی موٹی تہہ کبھی باریک اور پھر اس کو بار بار ٹھیک کرنے کی کوشش کرتی ہیں۔زور لگا کر آنکھیں کھلی رکھنے کی کوشش کرتی ہیں کہ کہیں غلط جگہ سوئی نہ لگ جائے۔ بڑی ہی مشکل کے ساتھ ریکٹس لگانے کے بعد ایچ او سے کہتی ہیں کہ یار تم دیکھ لو آگے پلیز میں یہی بیٹھی ہوں۔ وہ مسلسل تیس سے زیادہ گھنٹے کی کال پر ہیں اور یہی ترتیب ہر تیسرے دن ہے۔ دو سال کی بیٹی دوسرے شہر میں اپنی اماں کو دی ہوئی ہے اور خود یہاں۔ یار یہ کیا بکواس سسٹم ہے ؟ لوگ ہونے کے باوجود اتنی گندی ڈیوٹیاں ؟ کونسے محکمہ اور کونسی دنیا میں ایسا ہوتا ہے۔ بھائی ایک بندہ تیس گھنٹے بھاگتا رہے گا تو مریض دوبارہ کھلنے ہی کھلنے، سپنج اور آلات اندر رہنے ہی رہنے۔ ڈبلیو ایچ او سمیت کونسا ادارہ اتنی غیر انسانی ڈیوٹیوں کی ترغیب دیتا ہے ؟ یہ ٹریننگ ہو رہی ہے ؟ اسی چکر میں ان نوجوانوں کی زندگیاں آدھی رہ گئی ہیں۔نوجوانی میں بڑھاپے نے گھیر لیا ہے۔ کوئی کرسی پر بیٹھا ہارٹ اٹیک سے مر رہا ہے کوئی چلتا ہوا۔ ہاسٹلز کے گندے تیل میں بنے کھانے، کھٹمل زدہ کمروں میں رہائش، کیا کرب ہے یار اس نسل پر۔ نہ کوئی چھٹی، گھر جانے کیلئے دو چھٹیوں کیلئے بے عزت ہو پھر جاو۔ سی پی ایس پی والوں کا کام ان چیزوں کو ریگولیٹ کرنا نہیں ہے ؟ نہیں دیکھنا کہاں کیا ہو رہا ہے ؟ سائیکالوجی، ڈیپ سلیپ پر ان کے بھاشن سن لو ان سے بڑا ارسطو کوئی نہیں اور عمل درآمد زیرو ہے۔ حقیقت یہ ہے بارہ گھنٹے سے زائد ڈیوٹی پر پابندی ہونی چاہئے۔ ہر بندے کو ہفتے میں ایک مکمل چھٹی ہونی چاہیے۔ یہ انسانی جانوں کو بچانے کی طرف احسن قدم ہو گا