Qasim Ali Shah Foundation

Qasim Ali Shah Foundation QASF is a non-profit organization, an innovative establishment, a home of modern thoughts and development.

This organization provides a huge versatility of personal development training, grooming, socializing and networking.

10/08/2026

رات کو سونے کا صحیح وقت کیا ہے؟

10/08/2026

One Paper Preparation by Qasim Ali Shah Foundation

📍75 Days Session Specially Designed For

✅ CSS MPT 2027
✅ PMS GK
✅ Assistant Director FIA/ASF/I&P/FPSC
✅Inspector Customs/ FIA/Punjab Police/ ASF/ Excise and Taxation/ ANF
✅Assistant (S & GAD)
✅Enforcement Office / Investigation Officer (PERA)
✅Tehsildar/Naib Tehsildar (Board of Revenue)
✅Assistant Registrar (Cooperative Societies)
✅Labour Officer
✅Deputy Accountant — Finance Department
✅Ziladar — Punjab Irrigation Department

📍Course Features
✅ Both On Campus and Online Classes
✅ 2.5 Month Comprehensive Program
✅ Monday to Friday Evening Classes
✅ Subject-Wise Preparation Strategy
✅ 120+ Detailed Lectures
✅ Special Emphasis on Past Papers
✅ Provision of Notes for every Subject
✅ MCQ-Solving Techniques & Exam Strategies
✅ Regular Tests and Mocks

🚀 Registration is Open Now
📅 Classes Starting From: 17 August 2026

📞 For Details & Registration
0318 4354063

10/08/2026

Infertility Causes & Treatment: When Is IVF Necessary? | Dr. Sana Nazir With Shams Ul Haq



Infertility causes and treatment vary for every couple. In this detailed discussion, Dr. Sana Nazir explains when IVF is necessary, how the IVF process works, and when treatments such as IUI, ICSI and PGT may be recommended.

Many couples struggling with infertility start treatment without first identifying the underlying cause. This conversation explains why both husband and wife should undergo proper fertility assessment before deciding on treatment.

Dr. Sana Nazir discusses infertility causes, infertility treatment, IVF treatment, the IVF process, IUI treatment, ICSI, PGT, IVF success rates, egg freezing, embryo freezing, fresh vs frozen embryo transfer, and important lifestyle factors that can affect fertility.

The discussion also covers when couples should consult a fertility specialist, male and female fertility evaluation, semen analysis, ovarian reserve, hormonal problems, PCOS, age-related fertility concerns and preparation before IVF.

میری ذاتی کامیابیوں میں دو طرح کی صلاحیتوں  نے مجھے بہت زیادہ فائدہ دیا۔ ایک ابلاغ (Communication) اور دوسری نیٹ ورکنگ (...
10/08/2026

میری ذاتی کامیابیوں میں دو طرح کی صلاحیتوں نے مجھے بہت زیادہ فائدہ دیا۔ ایک ابلاغ (Communication) اور دوسری نیٹ ورکنگ (تعلقات بنانے) کی صلاحیت۔میں واضح کرتا جاؤں کہ ہمارے معاشر ے میں بے شمار چیزوں کی سمجھ بوجھ انتہائی سطحی ہے، اسی وجہ سے نیٹ ورکنگ کے بارے میں بھی کنفیوژن پائی جاتی ہے۔ دنیا میں نیٹ ورکنگ کو کئی ناموں سے پکارا جاتا رہا ہے۔ نپولین ہل کی کتاب Think and grow rich، جس کی تقریباً چار کروڑ کاپیاں فروخت ہو چکی ہیں، دنیا کی بے شمار زبانوں میں اس کا ترجمہ ہو چکا ہے اور آج بھی یہ کتاب World Classic ہے، میں نپولین ہل نے نیٹ ورکنگ کو "ماسٹر مائنڈ" کا نام دیا ہے جس میں ایک بندہ اپنے وقت کے بہترین دماغوں کے ساتھ رابطے میں ہوتا ہے اور ایک دوسرے کے مشترکہ مفادات کو سامنے رکھتے ہوئے مل کر ترقی کرنا (Together we fly) سیکھ جاتا ہے۔ میں نے اس موضوع پر جو کچھ پڑھا اور سیکھا اسے عملی طور پر زندگی میں شامل کیا۔ Networking کی صلاحیت نے نہ صرف پاکستان میں بلکہ پاکستان سے باہر دیگر ممالک میں بھی مجھے بھرپور فائدے دیے۔
میں نے زندگی میں اپنے ساتھ جڑے لوگوں کو تین حصوں میں تقسیم کیا ہے۔ پہلے نمبر پر فین ہیں جو کہ تقریباً دو کروڑ ہیں۔ (سوشل میڈیا کے تمام پلیٹ فارمز پر)، اس کے بعد فالورز ہیں، ان کی تعداد شاید لاکھوں میں ہوگی۔ تیسری قسم کے لوگ وہ ہیں جنھیں میں Devotee (مخلص ترین اور قابلیت رکھتے ہوئے چاہنے والے لوگ) کہتا ہوں۔ یہ لوگ عقیدت اور محبت رکھنے کے ساتھ ساتھ باصلاحیت بھی ہیں۔ اب ہم اس منفرد اور اہم ترین موضوع پر ایک ورکشاپ کا انعقاد کرنے جا رہے ہیں جس میں شرکت کر کے آپ وہ تمام راز جان پائیں گے جو فقط چند دنوں اور مہینوں میں آپ کی زندگی کو یکسر بدل دیں گے۔ یہ تبدیلی جہاں آپ کے تعلقات کو بہترین بنائے گی، وہیں آپ کی معاش، نام، عزت اور شہرت کو بھی اعلیٰ معیار پہ لے جائے گی۔
تو انتظار کس بات کا ، آئیے کچھ گھنٹے اکٹھے گزارتے ہیں اور ایک نئے سفر کا آغاز کرتے ہیں۔

Half-Day Paid Workshop
(Online & On Campus)

📅 Date: Sunday, 30th August
🕙 Time: 10:00 AM – 2:00 PM
📍 Venue: 8 Raza Block, Allama Iqbal Town, Lahore

📞 Register Now: 0311 1172737

09/08/2026

Psychological First Aid Training: How to Help Someone After Trauma | Dr. Umm E Rubab Kazmi

In this practical Psychological First Aid Training, Dr. Umm E Rubab Kazmi explains how to provide immediate emotional and practical support to people experiencing trauma or psychological distress.

This detailed training covers the four essential PFA principles: Prepare, Look, Listen and Link. You will learn how to assess safety, recognize urgent physical and emotional needs, identify silent signs of distress, use active and reflective listening, calm an affected person and connect them with family, professional services and appropriate resources.

09/08/2026

Urdu Content Writing Internship Program

میں شریک طالبات کے تاثرات
خوب صورت میزبانی
بہترین تربیت

09/08/2026

کہانی خود کو لکھواتی ہے

09/08/2026

Tim Berners-Lee, World Wide Web Inventor | INFOTIVATION

Sir Tim Berners-Lee invented the World Wide Web in 1989. Sir Tim Berners-Lee is a British computer scientist. He was born in London, and his parents were early computer scientists, working on one of the earliest computers.

After watching this video you will know about the different paths that are connected to internet and that will be helpful for all of those who want to take serious benefit from it. In the end of video you will know about the three point which can also very helpful for all my viewers to get success from the internet.

سماجی حیثیت کا دکھاوا(قاسم علی شاہ)وہ پانچوں دوست یونیورسٹی میں ہم جماعت رہے تھے۔ وہاں سے فارغ ہوئے تو رزق کمانے کے لیے ...
09/08/2026

سماجی حیثیت کا دکھاوا
(قاسم علی شاہ)
وہ پانچوں دوست یونیورسٹی میں ہم جماعت رہے تھے۔ وہاں سے فارغ ہوئے تو رزق کمانے کے لیے مختلف شعبوں میں گئے، سب نے خوب محنت کی اور اپنے اپنے میدان میں ترقی پائی۔ ایک دن انھوں نے یونیورسٹی میں اپنے پسندیدہ استاد سے ملنے کا ارادہ کیا تاکہ استاد صاحب کی خیریت معلوم کریں اور اس کے ساتھ ساتھ کچھ دیر مل بیٹھ کر اپنے زمانہ طالب علمی کے خوب صورت وقت کو بھی یاد کرلیں۔ چنانچہ وہ استاد سے ملنے ان کے گھر پہنچے۔ پرانے شاگردوں کی آمد سے پروفیسر صاحب بڑے خوش ہوئے اور ان سے پوچھا، تم لوگوں کی زندگی کیسی گزر رہی ہے؟ سب نے ایک ایک کرکے اپنے کام، شادی اور بچوں کے بارے میں بتانا شروع کیا۔ کچھ وقت تک یہی گفتگو چلتی رہی پھر اچانک سب کی باتوں میں شکوہ جھلکنے لگا، اب ہر ایک اپنے مسائل بتانے لگا کہ کیسے زندگی کی مشکلات نے مجھے پریشان کیے رکھا ہے اور ان کی وجہ سے میرا ذہنی سکون برباد ہوا ہے۔ پروفیسر صاحب تحمل سے سب کی باتیں سنتے رہے، کچھ دیر بعد وہ باورچی خانے کی طرف گئے تاکہ اپنے شاگردوں کے لیے کافی تیار کرے۔ جب وہ آپس کمرے میں آئے تو ان کے ہاتھ میں ایک بڑی تھالی تھی جس میں کافی سے بھری پلاسٹک، شیشے اور چینی مٹی کی خوب صورت پیالیاں تھیں۔ انھوں نے تھالی میز پر رکھی اور اپنے شاگردوں کو پیالی اٹھانے کا اشارہ کیا۔ ہر ایک نے اپنی مرضی سے پیالی اٹھائی، پروفیسر صاحب نے سب پر ایک نگاہ ڈالی اور پھر مسکراتے ہوئے کہنے لگے، ”میں نے تھالی میں بہت سے پیالیاں رکھی تھیں، تم سب نے قیمتی اور خوب صورت پیالیاں اٹھالیں جب کہ سادہ اور کم قیمت پیالیاں چھوڑ دیں۔ بہترین چیز کا انتخاب انسانی فطرت ہے لیکن یہی خواہش دراصل تمھارے مسائل اور ذہنی دباؤ کی جڑ بھی ہے۔“سب نے چونک کر اپنے ہاتھ میں موجود پیالیوں اور پھر ایک دوسرے کی طرف دیکھا۔ پروفیسر صاحب مزید کہنے لگے، ”آپ سب جانتے ہیں کہ پیالی بذات خود کافی کے ذائقے میں کوئی اضافہ نہیں کرتی۔ اصل میں آپ کو کافی چاہیے تھی، پیالی نہیں، لیکن اس کے باوجود آپ نے لاشعوری طور پر بہترین پیالی کا انتخاب کیا اور اس کے بعد ایک دوسرے کی پیالی کے ساتھ موازنہ بھی کرنے لگے۔ اس نکتے کو غور سے سمجھو۔زندگی کافی کی مانند ہے، جب کہ ملازمت، دولت اور معاشرتی مقام پیالی کی طرح ہے۔ زندگی سب کو ایک جیسی قیمتی ملی ہے لیکن پیالیاں سب کی مختلف ہیں۔ ہم غلطی کرتے ہیں،ہم کافی کے بجائے پیالی کو اہم سمجھتے ہیں۔جب ہم حقیقت کو چھوڑ کرسراب کے پیچھے لگ جاتے ہیں تو ہمیں سزا ملتی ہے اور یہ سزا بے سکونی کی ہوتی ہے۔“
آپ نے یہ چیز اچھی طرح محسوس کی ہوگی کہ روزمرہ زندگی میں ہم جن لوگوں سے ملتے ہیں، ان میں سے اکثریت ایسی ہے جو ملاقات کے آغاز میں بڑی خوب صورت گفتگو کرتے ہیں، آپ ان سے حال احوال پوچھیں تو جواب میں الحمدللہ سننے کو ملتا ہے لیکن کچھ ہی دیر بعد ان کی گفتگو میں شکوہ نمایاں ہونے لگتا ہے۔ میراجب بھی ایسی صورت حال سے واسطہ پڑتاہے تویہ کافی والی مثال میرے سامنے آجاتی ہے۔ بدقسمتی سے ہمارے ہاں بھی لوگ شدید موازنے کا شکار ہیں۔ وہ اپنی ذات سے زیادہ دوسروں پر نظر رکھتے ہیں کہ فلاں کویہ کام یابی کیوں ملی، ادارے نے فلاں شخص کو ترقی کیوں دی، میں تو اس سے زیادہ سینئر ہوں، میرے پڑوسی نے نئی گاڑی کیسے لے لی میں تو ابھی تک بائیک پر گھوم رہا ہوں وغیرہ وغیرہ۔
حقیقت یہ ہے کہ ہماری زندگی میں ہر نیا آنے والا دن اپنے ساتھ بے شمار نعمتیں لے کر آتا ہے۔ صبح تندرستی کے ساتھ بستر سے اٹھنا، بچوں کا پیار، بیگم کا خلوص کے ساتھ آپ کے لیے ناشتہ تیارکرنا، آپ کے کپڑے تیار کرکے رکھنا اور آپ کو محبت کے ساتھ گھر سے رخصت کرنا، محلے میں موجود دکان والے کا آپ سے سلام کرنا، سفر کے لیے سواری کا ہونا، کام کی جگہ پر دوستوں کاآپ سے خیریت پوچھنا، مشکل کاموں میں آپ کی مدد کرنا، دوپہر کا کھانا، شام کی چائے، تازہ ہوا میں سانس لینا اور سب سے بڑھ کر آپ کے اندر موجود توانائی جو آپ کو یہ تمام کام کرنے کے قابل بناتی ہے اور... شام کوآپ تھکے ہارے گھر آتے ہیں توگھروالوں کااستقبال کرنا، یہ سب ایسی چیزیں ہیں جن کی کوئی قیمت نہیں، مگر افسوس کہ ہم غیر ضروری فکروں میں اس قدر الجھے ہوتے ہیں کہ اپنے سامنے موجودخوب صورت نعمتوں کو دیکھ ہی نہیں پاتے، ہم نے زندگی کو اس قدر مصروف اور تیز رفتار بنادیا ہے کہ ہم اس کے یادگارلمحوں سے لطف اندوز ہی نہیں ہوپاتے، اسی بے چینی، بے سکونی اور زیادہ سے زیادہ پیسے جمع کرنے کی دوڑ میں ہمیں احساس ہی نہیں ہوتا کہ ہمارے بال سفید ہوچکے ہیں، ہماری توانائی ختم ہوچکی ہے اور زندگی کاسورج کسی بھی وقت ڈھل سکتاہے۔
ہنری ڈیوڈایک معروف شاعر اورفلسفی گزرا ہے، وہ کہتاہے کہ ”انسان اتنا ہی مال دار ہے جتنی چیزوں کو چھوڑدینے کی وہ استطاعت رکھتاہے۔“
جب کہ حقیقت یہ ہے کہ ہمارے ہاں لوگ اپنی چیزوں کو چھوڑناتو دور کی بات، دوسروں سے چھین کر کھانے کی کوشش کرتے ہیں۔سوشل میڈیاپر وائرل ڈکیتیوں کی ویڈیوز دیکھ کرآپ اس بات سے ضرور اتفاق کریں گے۔بدقسمتی سے لالچ کی یہ آگ کبھی نہیں بجھتی،انسان جس قدر زیادہ کماتاہے اسی قدر اس کی ہوس بڑھتی جاتی ہے اوراس کوشش میں وہ حرام حلال کی تمیز بھی نہیں کرتا۔
اس رویے کوبڑھاوا دینے والی ایک چیز سوشل اسٹیٹس ہے جس کے بخار میں ہر فرد مبتلا ہے۔سماجی حیثیت کادکھاوا، معاشرے کی ایک بڑی حقیقت بن چکا ہے۔لوگ برانڈڈگاڑیوں، موبائل فون اور گھڑیوں کی تشہیر کرتے ہیں۔لباس جو جسم ڈھانپنے اور وقار حاصل کرنے کے لیے استعمال ہوتا تھا، آج وہ پہچان اور برتری کی علامت بن چکا ہے۔ بڑے عہدے اورمنصب پر براجمان شخص اپنی حیثیت کوفخر و نمائش کاذریعہ بناتاہے۔شادی بیاہ میں مہنگے ہالوں، قیمتی لباس، پرتکلف کھانوں اورگاڑیوں کاخصوصی اہتمام کیاجاتاہے تاکہ مہمان میزبانوں کی شان وشوکت سے مرعوب ہوں، اگر چہ اس مقصد کے لیے لاکھوں روپے قرض کیوں نہ لینے پڑیں۔
دین نے اس رویے کی شدید حوصلہ شکنی کی ہے۔آپ صلی اللہ علیہ وسلم کاارشاد ہے کہ جو شخص دکھاوے کے لیے کوئی عمل کرتاہے تواللہ قیامت کے دن اسے رسواکردے گااور جو کوئی لوگوں کی نظروں میں بڑا بننے کے لیے عمل کرتاہے تواللہ اس کے چھپے عیبوں کو لوگوں کے سامنے ظاہر کردے گا۔(صحیح بخاری، 6499)
نمود و نمائش بہ ظاہر بڑی دلکش لگتی ہے، لیکن اس کے پیچھے ایسے نقصانات چھپے ہوتے ہیں جو آہستہ آہستہ انسان کی زندگی کو متاثر کرتے رہتے ہیں۔ سب سے پہلا اور بڑا نقصان ذہنی دباؤ ہے۔ جب انسان ہر وقت دوسروں سے بہتر دکھنے کی کوشش میں لگا رہے تو اس کا ذہن کبھی پُرسکون نہیں رہتا۔ اسے ہر وقت یہ فکر لاحق رہتی ہے کہ لوگ کیا سوچیں گے؟ میری زندگی دوسروں جیسی چمک داراوردلکش نظر آ رہی ہے یا نہیں؟ اور میں کہیں پیچھے تو نہیں رہ گیا؟ یہ سوچ اسے ذہنی طورپر تھکا دیتی ہے۔
نمود و نمائش کی وجہ سے انسان احساسِ کمتری میں مبتلا ہوجاتاہے۔جب وہ اپنی زندگی کا موازنہ دوسروں کی ظاہری کامیابیوں سے کرتاہے تو اسے محسوس ہوتاہے کہ میرے پاس کچھ بھی نہیں۔ حال آنکہ ہر شخص کی زندگی کے حالات، وسائل اور ترجیحات مختلف ہوتی ہیں۔ لیکن سوشل میڈیا اور معاشرے میں موجود مقابلہ بازی کی فضا ہمیں یہ یقین دلاتی ہے کہ اگر ہمارے پاس مہنگی چیزیں نہیں تو ہم ناکام ہیں۔ یہ احساس آہستہ آہستہ ہماری شخصیت کو کمزور کر دیتا ہے۔
مصنوعی زندگی کی وجہ سے حسد اور مقابلہ بازی بھی بڑھتی ہے۔ اگر کوئی شخص نیاگھر لیتاہے تواس کے دوست خوش ہونے کے بجائے بے چین ہوناشروع ہوجاتے ہیں۔ اگر کسی کی ترقی ہوجائے توباقی رشتہ داراس پرکڑھتے رہتے ہیں جس کی وجہ سے پیار و محبت ختم ہوجاتی ہے اورخاندان موازنے کا میدان بن جاتاہے۔
دکھاوا انسان پر معاشی بوجھ بھی ڈالتا ہے۔بہت سے لوگ صرف دکھاوے کی خاطر اپنی آمدنی سے زیادہ خرچ کر دیتے ہیں۔ قسطوں پر گاڑیاں لینا، کریڈٹ کارڈ کا بے جا استعمال اور غیر ضروری خریداری،یہ چیزیں وقتی خوشی تو دیتی ہیں لیکن بعد میں قرض کے بوجھ اور پریشانی کا سبب بھی بنتی ہیں۔سکون خریدنے کی کوشش میں انسان اپنی زندگی کو بے سکون بنالیتاہے۔
اس کاایک اور نقصان یہ ہے کہ رشتوں میں کھوکھلا پن آجاتا ہے۔ جب تعلقات کی بنیاد اخلاص کے بجائے مفاد یا اسٹیٹس پر ہو تو پھر وہ تعلقات دیرپانہیں رہتے۔مصنوعی زندگی میں لوگ ایک دوسرے سے دل کی بات نہیں کرتے بلکہ اپنی ذات اور اپنی زندگی سے ایک دوسرے کومرعوب کرنے کی کوشش کرتے ہیں جس کی وجہ سے دلوں میں فاصلے پیدا ہوناشروع ہوجاتے ہیں۔
مصنوعی پن کاسب سے بڑانقصان یہ ہوتاہے کہ انسان حقیقی خوشی کھودیتاہے۔وہ چھوٹی چھوٹی نعمتوں سے لطف اندوز ہونا بھول جاتا ہے، کیوں کہ وہ ہمیشہ کسی بڑی اور نمایاں چیز کی تلاش میں رہتا ہے۔ وہ حال میں جینے کے بجائے دوسروں کو متاثر کرنے میں مصروف رہتا ہے۔
جب کہ اس کے برعکس ظاہری چمک دمک کوچھوڑ کر زندگی کی اصل قدروں کو اپنانے والے انسان کی زندگی میں خوش گوار تبدیلی آتی ہے۔حقیقی زندگی کی طرف لوٹناانسان کو سکون عطا کرتا ہے۔ جب وہ اپنی حیثیت، استطاعت اور حقیقت کو قبول کر لیتا ہے تو اس کے دل سے بہت سی فکریں خودبخود رخصت ہو جاتی ہیں۔ پھر وہ دوسروں کو متاثر کرنے کی کوشش نہیں کرتا،اس لیے وہ غیرضروری دباؤ سے بھی بچ جاتاہے۔
زندگی کی اصل قدروں کو اہمیت دیناانسان کی زندگی میں خوشی لاتا ہے۔یہ ایسی خوشی نہیں جو مادی چیزیں خریدنے سے حاصل ہوتی ہے بلکہ یہ دائمی خوشی ہے جس سے شکرگزاری، سادگی اورپرخلوص تعلقات جنم لیتے ہیں۔زندگی میں موجود نعمتوں کااحساس کرنا اور انھیں گنتے رہنا ایسا عمل ہے جوفرد کو یہ احساس دلاتاہے کہ وہ محروم نہیں بلکہ رب نے اسے بے شمارچیزوں سے نوازا ہے۔یہ احساس زندگی کو خوب صورت بنا دیتا ہے۔
یہ تو طے ہے کہ دنیا میں رہتے ہوئے ہم مادی چیزوں کومکمل طورپر چھوڑ نہیں سکتے لیکن حقیقت اور مادیت میں توازن ضرور لاسکتے ہیں۔اس کے لیے سب سے پہلا قدم شکرگزاری کی عادت ڈالنا ہے۔ روزانہ چند منٹ نکال کر یہ سوچیں کہ اللہ نے ہمیں کیا کچھ دیا ہے۔ صحت، گھر، خاندان، دوست، روزگار، یہ سب بڑی نعمتیں ہیں۔ جب ہم اپنی نعمتوں پر غور کرتے ہیں تو دوسروں کی چیزیں ہمیں کم اہم لگنے لگتی ہیں۔ شکرگزاری دل کو مطمئن کرتی ہے اور غیرضروری خواہشات کو کم کرتی ہے۔
دوسرا قدم اپنی ترجیحات واضح کرنا ہے۔ خود سے سوال کریں: میں زندگی میں کیا چاہتا ہوں؟ سکون یا لوگوں کی واہ واہ اور ستائشی جملے؟مجھے پرخلوص اور مضبوط رشتے چاہییں یا سوشل میڈیاکے لائکس؟ جب مقصد واضح ہو جاتا ہے تو فیصلے آسان ہو جاتے ہیں۔ پھر ہم ہر کام صرف اس لیے نہیں کرتے کہ لوگ کیا کہیں گے، بلکہ اس لیے کرتے ہیں کہ وہ ہماری اقدار کے مطابق ہے۔
تیسرا اہم قدم موازنہ چھوڑدینا ہے۔ یاد رکھیں، ہر انسان کا سفر مختلف ہے۔ کسی کو جلدی کام یابی ملتی ہے توکسی کو دیر سے۔ کسی کے وسائل زیادہ ہیں، کسی کے کم۔ اگر ہم ہر وقت دوسروں کو دیکھتے رہیں گے تو اپنی منزل بھول جائیں گے،لہٰذا اپنی رفتار سے چلنا سیکھیں، یہی ذہنی سکون کا راز ہے۔
چوتھا قدم سادگی اپنانا ہے۔ سادگی کا مطلب غیر معیاری زندگی گزارنا نہیں بلکہ ضرورت اور خواہش کے فرق کو سمجھنا اورتکبر، حرص ونمائش سے بچناہے۔زندگی گزارنے کے لیے ضروری نہیں کہ ہر چیز نئی اور بیش قیمت خریدی جائے بلکہ بعض اوقات کم قیمت چیز بھی انسان کوخوشی دیتی ہے۔سادگی اختیارکرنے والا شخص خوش نصیب ہے۔ اس کی دلیل اس حدیث سے ملتی ہے جس میں آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ خوش نصیب ہے وہ شخص جو اسلام لایا، بس ضرورت بھر سامان رکھتاہے اور جو کچھ اللہ نے اسے دیا اس پرقانع ہے۔(صحیح مسلم، 2426)
پانچواں قدم روحانیت ہے۔ عبادت، دعا، قرآن کی تلاوت یا خاموشی میں چند لمحے گزارنا انسان کو اپنی اصل کی طرف واپس لے آتا ہے۔ جب دل مضبوط ہو توبیرونی چمک دمک اس پر اثرانداز نہیں ہوتی۔
چھٹا قدم خود احتسابی ہے۔ وقتاً فوقتاً رُک کر اپنے آپ سے پوچھیں: کیا میں دوسروں کو متاثر کرنے کے لیے جی رہا ہوں یا اپنی خوشی کے لیے اور کیا میں ان نعمتوں پر خوش ہوں جو اللہ نے مجھے عنایت کی ہیں؟ یہ سوال ہمیں دکھاوے اور نمود و نمائش کے فریب سے نکالے گا اور حقیقی زندگی کی طرف لے کرآئے گا۔

08/08/2026

How Strong Nations Are Built: Leadership, Constitution & Governance | Sayyid Hasnain Naqvee

In this thought-provoking lecture, Sayyid Hasnain Naqvee explains how constitutions, leadership, governance, institutions and responsible citizens contribute to the strength and stability of a nation.

The lecture explores the constitution as a social contract between the state and its citizens, defining their rights, responsibilities and relationship with public institutions. It also examines why some political systems remain stable during leadership changes and national crises, while others become dependent on individual personalities.

Address

Qasim Ali Shah Foundation/8 Raza Block Allama Iqbal Town, Wahdat Road Lahore, Near PU Examination Hall
Lahore
54000

Alerts

Be the first to know and let us send you an email when Qasim Ali Shah Foundation posts news and promotions. Your email address will not be used for any other purpose, and you can unsubscribe at any time.

Contact The Organization

Send a message to Qasim Ali Shah Foundation:

Shortcuts

Share