18/08/2024
*فنِ شاعری اور حسان الہند*
(مولانا احمد رضا خاں بطور شاعر )
عبد الستار ہمدانی صاحب کی تحقیق پر مبنی اردو ادب کی ایک نایاب کتاب اگرچہ اس کا بنیادی مقصد احمد رضا خان رحمتہ اللہ علیہ کہ شاعری کا تعارف ہے جس کے لئے دوسرے شعرا کے ساتھ ان کی شاعری کے موازنے کا طریقہ اپنا گیاہے اور اس موازنے میں ہی اردو ادب کی بے پناہ مفید معلومات ہیں ۔
کچھ نکات دیکھیے ۔
۱۔ جید شعرا میں ایک غزل میں سب سے زیادہ حسن مطلع کہنے کا اعزاز جگر مراد آبادی صاحب کے پاس ہے ۔ ایک غزل میں آٹھ حسن مطلعے ۔ اور احمد
رضا خان صاحب نے ایک غزل ،
تیری نسل پاک میں ہے بچہ بچہ نور کا
، تو ہے عین نور تیرا سب گھرانہ نور کا
میں 46 مطلعے کہے ۔ اور 90 سے زیادہ قافیے استعمال کئے ۔ اور یہ بھی حقیقت ہے کہ ایک خیال دوبارہ نہ آیا اور تمام اشعار فنی محاسن میں ایک سے بڑھ کر ایک ہیں ۔
2. بحر وافر سالم ۔ مفاعلتن مفاعلتن مفاعلتن مفاعلتن کو عربی بحر سمجھا جاتا تھا ۔ اور اس میں میر سے غالب اور غالب سے داغ تک کسی استاد شاعر کی کوئی قابل ذکر غزل دیکھنے میں نہیں آتی ۔ لیکن احمد رضا بریلوی صاحب نے
زمین و زماں تمہارے لئے ، مکین و مکاں تمہارے لئے
چنین و چناں تمہارے لئے ، بنے دو جہاں تمہارے لئے
والا کلام لکھ کر اس بحر کو نئی زندگی دی ۔ یہ نعت پڑھنے کے قابل ہے ۔ اس وقت کی نامانوس بحر میں کیا موسیقیت ڈالی ہے ۔
جناں میں چمن، چمن میں سمن، سمن میں پھبن ، پھبن میں دلہن
سزائے محن ، پہ ایسے منن، یہ امن و اماں تمہارے لئے
3. شمس الرحمان فاروقی نے شعر شور انگیز میں لکھا ہے کہ میر اس لئے خدائے سخن ہے اور غالب پر فوقیت رکھتا ہے کہ میر نے غزل کے علاوہ مثنوی اور دوسری اصناف مین بھی اچھا لکھا ہے ۔ اور احمد رضا خان صاحب ۔ اللہ اللہ
غزل، مثنوی ، قصیدہ ، مرثیہ ، قطعہ ، مثلت ، رباعی، مخمس ، مسدس ہر ایک میں لکھا ہے ۔
4. علامہ اقبال چونکہ قرآن پاک اور احادیت کے کے حوالے سے لکھتے تھے تو جید شعرا میں سے اقبال قرآن پاک یا احادیث کے عربی الفاظ کو اپنے اشعار میں استعمال کرنے والے شعرا میں سب سے آگے ہیں ۔ قریبا 5-10 اشعار ہیں اور احمد رضا صاحب نے اردو کے 39 اشعار میں قرآن پاک یا حدیث کا عربی متن کا ٹکڑا استعمال کیا ہے
ورفعنا لک ذکرک کا ہے سایہ تجھ پر
بول بالا ہے ترا ذکر ہے اونچا تیرا
تبارک اللہ شان تیری ، تجھی کو زیبا ہے بے نیازی
کہیں تو وہ جوش لن ترانی ، کہیں تقاضے وصال کے تھے
5. کسی شعر میں کوئی پورا مصرع یا ایک بند میں پورا ایک مصرع یا شعر کسی دوسری زبان کو ہو تو اسے صنعت تلمیع کہتے ہیں ۔ اس میں غالب نے ایک شعر لکھا ہے ۔
دھوپ کی تابش ، آگ کی گرمی
وقنا ربنا عذاب النار !!!
اس کے علاوہ کسی جید شاعر کا کوئی شعر نظر سے نہیں گذرتا ۔ اور احمد رضا صاحب ۔ کیا خدا کی عطا ہے ۔ ان سے اس صنعت پر نعت لکھنے کی فرائش کی گی تو آپ نے چار زبانوں پر مشتمل نعت لکھ دی ۔ اور ہر سخن فہم جانتا ہے کہ حق ادا کیا
لم یات نظیرک و فی نظر
مثل تو نہ شد پیدا جانا
جب راج کو تاج تورے سر سوہے
میں نے تجھ کو شہہ دوسرا جانا
6. بچپن میں صنعت تجنیس کا ایک شعر سنا تھا ۔
اے پھول میرے پھول کو یہ پھول دے دینا
کہنا کہ تیرے پھول نے یہ پھول بھیجا ہے
ایک لفظ نے ایک شعر میں 5 معنی دیئے ہیں ۔ اور یہی اس شعر کی خوبی تھی ۔ احمد رضا خان صاحب کا شعر دیکھئے ۔ ایک مصرعے میں ایک لفظ کے 5 اور شعر میں 7 مطلب ۔ سیدہ زاہرہ سلام اللہ علیہ کے لئے لکھتے ہیں
نور، بنت نور و زوج نور و ام نور و نور
نور مطلق کی کنیز ، اللہ دے لینانور کا
7. صنعت ترصیع ۔ جس میں پہلے مصرع الفاظ دوسرے مصرع کے جیسے ہوں یا ہم قافیہ ہوں ۔ مثلا
نام۔۔۔۔۔ تیرا ۔۔۔۔۔۔۔ ہے ۔۔۔۔۔۔۔۔۔ زندگی ۔۔۔۔۔۔۔۔۔ میری
کام ۔۔۔۔میرا ۔۔۔۔۔۔۔ ہے ۔۔۔۔۔۔۔۔۔بندگی ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔ تیری
اس صنعت میں شعر ڈھونڈھنے سے نہیں ملتا ۔ لیکن احمدرضا یہاں بھی کمال کر کرگئے ۔ اس صنعت میں بھی چار اشعار کہہ گئے
دھارے ۔۔۔۔ چلتے ۔۔۔۔۔۔۔ ہیں ۔۔۔۔۔۔۔عطا ۔۔۔۔۔ کے ۔۔۔۔۔۔ وہ ۔۔۔۔۔۔۔۔ ہے ۔۔۔۔۔۔قطرہ ۔۔۔۔۔تیرا
تارے ۔۔۔۔۔۔۔۔ کھلتے ۔۔۔۔ ہیں ۔۔۔۔۔ سخا ۔۔۔۔۔ کے ۔۔۔۔۔۔۔وہ ۔۔۔۔۔۔۔ ہے ۔۔۔۔ ذرہ ۔۔۔۔۔۔۔ تیرا
اور شعر برائے شعر نہیں بلکہ ایک شعر تو زبان زد عام ہے ۔ لیکن اس صنعت کا رات ہی پتا چلا
سب سے ۔۔۔۔۔۔۔۔ اولٰی او اعلیٰ ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔ ہمارا نبی
سب سے ۔۔۔۔۔۔ بالا و والا ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔ ہمارا نبی ۔
اس تلمیحانہ شعر پر تو گویا قلم ہی توڑ دیا ہے؛
حسن یوسف پہ کٹیں مصر میں انگشت زناں
سر کٹاتے ہیں ترے نام پہ مردان عرب
1۔ اُدھر حسن ہے، اِدھر نام
2۔ ادھر یوسفؑ، اسم معرفہ، یعنی ممدوح کا نام لیا گیا تاکہ سامعین کو معلوم ہو جائے کہ کس ہستی کا ذکر کیا جارہا ہے، یہاں نام تک لینے کی ضرورت پیش نہ آئی ـ صرف لفظ "ترے" سے ہی ذات واضح ہو گئی
3۔ ادھر ماضی کا صیغہ ہے، "کٹیں" یعنی ایک بار کٹیں، ادھر مضارع کا صیغہ ہے "کٹاتے ہیں" یعنی عشاق بار بار کٹاتے ہیں
4۔ ادھر "کٹیں" میں فعل لاشعوری طور پر سرانجام پایا، یہاں "کٹاتے ہیں" میں قصدا سر کٹایا جاتا ہے
5۔ وہاں مصر ہے جس کی تاریخ فراعین سے بھری پڑی ہے، یہاں عرب ہے جس کی تاریخ انبیائے کرام کی وجہ سے سرفراز ہے
6۔ وہاں مصر کی عورتیں ہیں، یہاں عرب کے مرد! - تقابل یوں ہوا کہ مرد عورت کی نسبت اعصاب پر زیادہ قابو رکھتے ہیں لیکن اس کے باوجود شعوری طور پر "نام" پر ہی سر کٹا دیتے ہیں۔
7۔ مصر کی عورتیں نازکی میں مشہور ہیں، اور عرب کے مرد جفاکشی میں۔ یعنی جفا کش اور سخت جان ہونے کے باوجود سرکارﷺ کے نام پر کٹ مرنے کے معاملے میں نازک ہیں، فورا تیار ہو جاتے ہیں
8۔ وہاں صرف انگلیاں ہیں، یہاں سر!
9۔ وہاں مصر کے اندر انگلیاں کٹی تھیں، یہاں منظر یوں ہے کہ مردان عرب پر صرف عرب ہی کی کوئی قید نہیں!!
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
ملک سخن کی شاہی تم کو رضاؔ مسلم
جس سمت آگئے ہو، سکے بٹھا دئے ہیں
قصیدہ مرصعہ
ایسا قصیدہ جس میں مطلع اور حسن مطلع کے بعد ہر شعر کا پہلا مصرع (کیونکہ دوسرے میں تو ردیف ہوتی ہے ) حروف تہجی کو ترتیب سے ادا کرے ۔ یعنی پہلے شعر الف ، دوسرے میں بے ، تیسرے میں تے آئے ۔ احمد رضا صاحب نے سلام کی شکل میں یہ قصیدہ بھی کہہ ڈالا
اور کوئی غیب کیا تم سے نہاں ہو بھلا ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔ الف
جب نہ خدا ہی چھپا، تم پہ کروڑوں درود
ذات ہوئی انتخاب ، وصف ہوئے لا جواب ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔ ب
نام ہوا مصطفی تم پہ کروڑوں درود ۔
بس بھئی ، پورا قصیدہ نہیں لکھ سکتا اور نہ ہی ان کی شاعری کے سب محاسن لکھ سکتا ہون ۔ صرف ایک خاکہ دینا تھا دوستوں کو کہ اردو ادب کے اس قادر الکلام استاد شاعر کو مسلک کی بھینٹ چڑھا دیا گیا اور اردو ادب میں اس کا حق نہیں ملا۔
تحریر : ابوالحسن خاور
نعت ورثہ ہمہ وقت نعت گوئی اور نعت خوانی پر تحقیقی و تخلیقی کام کر رہا ہے تاکہ آنے والی نسلوں کے لیے یہ ورثہ محفوظ کرے-اس سلسلہ میں پاکستان کے م