Naat Virsa نعت ورثہ

Naat Virsa   نعت ورثہ نعت ورثہ ہمہ وقت نعت گوئی اور نعت خوانی پر تحقیقی و تخلیقی کام کر رہا ہے تاکہ آنے والی نسلوں کے لیے یہ ورثہ محفوظ کرے-اس سلسلہ میں پاکستان کے م

سوال : کیا نعت میں شاعر کے جذبات و مناجاب بھی نعت کہلائیں گے ؟ اور کیا مدینہ، صحابہ اور اہل بیت کا ذکر بھی نعت ہوگا ؟مخت...
13/02/2026

سوال : کیا نعت میں شاعر کے جذبات و مناجاب بھی نعت کہلائیں گے ؟ اور کیا مدینہ، صحابہ اور اہل بیت کا ذکر بھی نعت ہوگا ؟

مختصر جواب :
ہم جذبات کے اظہار اور مناجات کو بھی نعت ہی مانتے ہیں ۔ اصحاب سے ایسے کئی اشعار منسوب ہیں ۔ یعنی ایسا کوئی بھی شعر جس سے محبت رسول کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم اجاگر ہو نعت کا شعر ہوگا ۔

متعلقات رسالت میں ایسی اشیاء جن کا رسول کریم صلی اللہ علیہ والہ وسلم کے علاوہ کوئی حوالہ نہ ہو ان کا شمار بھی میں نعت ہی میں گنتا ہوں کہ ان کی تعریف دراصل رسول کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے حوالے کی وجہ سے ہی ہے ۔ جیسے، کملی، سبز گنبد، مدینہ،

متعلقات رسالت میں ایسی ہستیاں یا اشیا جن کا اپنا کوئی حوالہ بھی ہو ان کی تعریف اگر اس طرح آئے کہ حضور ﷺ کے احسان یا نظر کرم کی بات ہو تو وہ نعت ہی ہوگی لیکن خالصتا ان کی تعریف ہو تو اسے نعت میں شامل رکھنا مشکل ہو جائے گا

اگر آپ کے ذہن میں بھی نعت کے متعلق کوئی سوال ہو تو کمنٹس میں پوچھیے کہ سلسلہ آگے چلتا رہے ۔

جسم اطہر ہے لطیف ایسا کہ سرکارمرے بوسہ ءِ حضرت جبریل سے جاگ اٹھتے ہیں
15/01/2026

جسم اطہر ہے لطیف ایسا کہ سرکارمرے
بوسہ ءِ حضرت جبریل سے جاگ اٹھتے ہیں

اندھیرا گہرا ہوتا جائے تو چراغ کی لو اور روشن لگتی ہے ۔ ہوا تیز ہو تو لو کی لپک بڑھ جاتی ہے ۔ تقدیسی ادب کے مسائل بڑھ رہ...
05/12/2025

اندھیرا گہرا ہوتا جائے تو چراغ کی لو اور روشن لگتی ہے ۔ ہوا تیز ہو تو لو کی لپک بڑھ جاتی ہے ۔ تقدیسی ادب کے مسائل بڑھ رہے ہیں ۔اپنے حصے کے چراغ جلانے والوں کو بھی زیادہ فعال ہونا ہوگا کہ نشاندہی کرتے جائیں ۔
ایک مسئلہ یہ بھی ہے کہ کنتے بھی معروضی ہو جاو ۔ اپنی ہی صفوں سے آپ پر بغض، گستاخی، منافقت اور کفر کے فتوے لگ جاتے ہیں ، اس لیے اپنے عقیدے کی وضاحت کرنا ضروری سمجھتا ہوں ۔ میں اس طبقے سے ہوں جو ایمان ابوطالب پر خاموش رہتا ہے ۔ان کی رسول کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم سے محبت، ان کی شفقت اور ان کی حمایت کو سلام کرتا ہے ۔ حضرت ابو طالب کی خدمات و خصائل پر تا قیامت بات ہوتی رہی گی
لیکن سرور کائنات صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے لیے ان اشعار میں یہ کیا لہجہ ہوا
تیرے سرور کو ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
یہ تو ایسے ہی جیسے کسی کو نیچا دکھانے کے لیے اس کے بڑوں کو بھی رگیدا جاتا ہے کہ
تیرے باپ پر یہ احسان کیا
تیرے بھائی کو کالج میں داخل کروایا ۔
وغیرہ وغیرہ
ایسا کون سا مسلک ہے جس میں رسول کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے لیے ایسا لہجہ روا ہے؟
اس کلام کا شاعر، پڑھنے والا نعت خواں اور محفل میں موجود تمام علماء "معصوم" ہی معلوم ہوتے ہیں ۔ انہیں ادراک ہی نہیں کہ کیا لکھ، پڑھ اور سن رہے ہیں ۔ حضور صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کو "تیرے سرور" کہہ دیا ۔ یعنی ان کے سرور نہیں ہیں ۔ کوئی حال نہیں ۔

ہمیں نشاندہی کرتے رہنا چاہیے کہ اندھیرے منہ زور نہ ہو جائیں ۔

https://www.youtube.com/shorts/9FJqdRNdXlE

ابو الحسن خاور، لاہور

استقبال رمضان کے لیے نعتیہ اشعار کہیں
08/02/2025

استقبال رمضان کے لیے نعتیہ اشعار کہیں

قصیدہ پڑھتے  ہوں پہلی قطار میں کھڑے ہوںاسلام آباد سے تعلق رکھنے والے بہت منکسر المزاج، ملنسار اور نفیس الطبع دوست ڈاکٹر ...
04/10/2024

قصیدہ پڑھتے ہوں پہلی قطار میں کھڑے ہوں

اسلام آباد سے تعلق رکھنے والے بہت منکسر المزاج، ملنسار اور نفیس الطبع دوست ڈاکٹر جنید آزر کی تازہ نعت مبارکہ ملاحظہ فرمائیے ۔

نعت ِ رسول کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم
--------------------------------------------

قصیدہ پڑھتے ہوں پہلی قطار میں کھڑے ہوں
حضور آئیں تو ہم انتظار میں کھڑے ہوں

قدم قدم پہ جمی ہوں نگاہیں رستے پر
خمارِ دیدہ لیے ہم خمار میں کھڑے ہوں

حضور قصویٰ پہ ہو کر سوار آٸیں اور
ہم ایسے دشتِ عرب کے غبار میں کھڑے ہوں

اُتر رہے ہوں فلک سے ملک سلامی کو
چمن کے پھول بھی اپنے نکھار میں کھڑے ہوں

برس رہی ہو زمانوں پہ بارشِ رحمت
ہم ایسے عاصی بھی رم جھم پھوار میں کھڑے ہوں

زمانہ دیکھ رہا ہو نئی رُتوں کی طرف
مہکتے پھولوں کی پہلی بہار میں کھڑے ہوں

وہ وقت آئے کہ ہم اپنی قسمتیں لے کر
حضورِ محرمِ لیل و نہار میں کھڑے ہوں

تڑپ رہے ہوں کہ اُن کی جھلک نظر آئے
ہو بے قراری بھی لیکن قرار میں کھڑے ہوں

ڈاکٹر جنید آزر

17/09/2024

الحمدللہ، سادگی کے جلو میں یہ ایک پروقار اور طویل دعوت ِ میلاد النبی تھی جو صبح سات بجے شروع ہوئی اور وقفے وقفے سے نماز عشا تک جاری رہے ۔ واپڈا ٹاون جیسے علاقے میں معززین کا ورکرز اور ہر خاص عام کے ساتھ مل بیٹھ کر اس دعوت کا حصہ بن جانے کی ہمیں کچھ خاص توقع تو نہ تھی ۔ بس ایک کوشش تھی اور وہ کامیاب ہوئی ۔
اس دعوت کا مقصد تھا کہ قبل اس کے کہ ہمارے ماڈرن بچے ہیلووین، ہیپی نیو ائیر، کرسمس اور ویلنٹائن ڈے کو اپنے تہوار سمجھ لیں اور مذہبی اذہان ڈھول دھمکے کی وجہ سے میلاد النبی ؐ جیسے عظیم الشان دن کو خرافات سمجھ لیں ، ہم انہیں اس عظیم دن کو پروقار طریقے سے منانے کی ایک مثال پیش کر دیں ۔

اس دعوت میں

دعوت تلاوت قرآن پاک اور درود و سلام سے شروع ہوئی اور بعد میںمروجہ نعت خوانی کے بجائے ٹیپ ریکارڈر پر ہلکی آواز میں درود شریف نے فضا کو معطر رکھا
ہر خاص عام کو دعوت طعام تھی ۔ جو آتا گیا ۔ کھاتا گیا۔
تمام احباب کو چاہے وہ ڈرائیور تھا یا مالی ، مالک تھا دوکاندار جہاں جگہ ملی وہیں بٹھا کر عزت و توقیر کے ساتھ کھانا پیش کیا گیا ۔
خواتین کے لیے علیحدہ انتظام تھا تاہم کچھ فیمیلیز اور خواتین نے الگ ٹیبلز پر بیٹھ کر بھی کھانا کھایا ۔
صبح کے ناشتہ 8 سے 11 میں ہال ہی میں تیار کئی جانے والی انتہائی لذیذ حلوہ پوڑی ، دوپہر کے کھانے ظہر سے عصرمیں ڈرم سٹکس والی بریانی اور شام کے کھانے مغرب سے عشا میں اچار اور چنوں کے ساتھ گرما گرم پٹھورے پیش کیے گئے ۔
صبح سادہ چائے اور شام کو سبز چائے پیش کی گئی۔
بچوں کے لیے کینڈیز کے خوبصورت پیکٹس اور بڑوں کے لیے کھجوریں اور پتیسہ بھی گاہے بہ گاہے پیش کیا جاتا رہا ۔
ناشتے میں مہمانان قدرے آہستہ روی اور سہولت سے پہنچے ۔ اگرچہ دعوت بھی بہت منظم تھی لیکن پھر بھی شاید لوگوں کا خیال تھا کہ روایتی لنگر ہوگا ۔ لیکن واپڈا کے سوشل گروپ میں پہلے سیشن کی پکچرز دیکھ کر کھانے میں ظہر کی نماز کے فورا بعد ہی سے آمد شروع ہوگئی چار سو مہمانوں کا بندوبست تھا لیکن مہمان قدرے زیادہ رہے لیکن اللہ کا کرم ہوا اور سب نے سیر ہو کر کھایا اور رات کے سیشن میں قریبا 250 افراد کا انتظام تھا لیکن پٹھورے تھے ہی اتنے مزیدار کہ شروع کے مہمانوں کا ہاتھ نہ رکا اور بعد والوں کو صرف ایک ایک دو دو پٹھوروں پر گذارا کرنا پڑا

اب ہم پاکستانی ہیں تو کچھ احباب کا دو دو سیشنز اٹینڈ کرنا تو بنتا ہی ہے 🙂
اللہ رب العزت کا احسان عظیم کہ ہر کھانا انتہائی خوش ذائقہ رہا اور سب نے بے انتہا تعریف کی ۔

ہم عموما ایسی ذاتی محفلوں اور دعوتوں کی تشہیر پسند نہیں کرتے لیکن یہ چونکہ ایک بالکل مختلف کوشش تھی جس میں اہلیان محلہ میں سے ہر مسلک اور طبقہ فکر نے شرکت اور اسے پسند بھی کیا تو مناسب جانا کہ اسے دوستوں کے ساتھ شئیر کیا جائے کہ شاید یہ کسی کے سوچنے کو انداز کے تبدیل کرے

18/08/2024

*فنِ شاعری اور حسان الہند*

(مولانا احمد رضا خاں بطور شاعر )

عبد الستار ہمدانی صاحب کی تحقیق پر مبنی اردو ادب کی ایک نایاب کتاب اگرچہ اس کا بنیادی مقصد احمد رضا خان رحمتہ اللہ علیہ کہ شاعری کا تعارف ہے جس کے لئے دوسرے شعرا کے ساتھ ان کی شاعری کے موازنے کا طریقہ اپنا گیاہے اور اس موازنے میں ہی اردو ادب کی بے پناہ مفید معلومات ہیں ۔

کچھ نکات دیکھیے ۔

۱۔ جید شعرا میں ایک غزل میں سب سے زیادہ حسن مطلع کہنے کا اعزاز جگر مراد آبادی صاحب کے پاس ہے ۔ ایک غزل میں آٹھ حسن مطلعے ۔ اور احمد
رضا خان صاحب نے ایک غزل ،

تیری نسل پاک میں ہے بچہ بچہ نور کا
، تو ہے عین نور تیرا سب گھرانہ نور کا

میں 46 مطلعے کہے ۔ اور 90 سے زیادہ قافیے استعمال کئے ۔ اور یہ بھی حقیقت ہے کہ ایک خیال دوبارہ نہ آیا اور تمام اشعار فنی محاسن میں ایک سے بڑھ کر ایک ہیں ۔

2. بحر وافر سالم ۔ مفاعلتن مفاعلتن مفاعلتن مفاعلتن کو عربی بحر سمجھا جاتا تھا ۔ اور اس میں میر سے غالب اور غالب سے داغ تک کسی استاد شاعر کی کوئی قابل ذکر غزل دیکھنے میں نہیں آتی ۔ لیکن احمد رضا بریلوی صاحب نے

زمین و زماں تمہارے لئے ، مکین و مکاں تمہارے لئے
چنین و چناں تمہارے لئے ، بنے دو جہاں تمہارے لئے

والا کلام لکھ کر اس بحر کو نئی زندگی دی ۔ یہ نعت پڑھنے کے قابل ہے ۔ اس وقت کی نامانوس بحر میں کیا موسیقیت ڈالی ہے ۔

جناں میں چمن، چمن میں سمن، سمن میں پھبن ، پھبن میں دلہن
سزائے محن ، پہ ایسے منن، یہ امن و اماں تمہارے لئے

3. شمس الرحمان فاروقی نے شعر شور انگیز میں لکھا ہے کہ میر اس لئے خدائے سخن ہے اور غالب پر فوقیت رکھتا ہے کہ میر نے غزل کے علاوہ مثنوی اور دوسری اصناف مین بھی اچھا لکھا ہے ۔ اور احمد رضا خان صاحب ۔ اللہ اللہ

غزل، مثنوی ، قصیدہ ، مرثیہ ، قطعہ ، مثلت ، رباعی، مخمس ، مسدس ہر ایک میں لکھا ہے ۔

4. علامہ اقبال چونکہ قرآن پاک اور احادیت کے کے حوالے سے لکھتے تھے تو جید شعرا میں سے اقبال قرآن پاک یا احادیث کے عربی الفاظ کو اپنے اشعار میں استعمال کرنے والے شعرا میں سب سے آگے ہیں ۔ قریبا 5-10 اشعار ہیں اور احمد رضا صاحب نے اردو کے 39 اشعار میں قرآن پاک یا حدیث کا عربی متن کا ٹکڑا استعمال کیا ہے

ورفعنا لک ذکرک کا ہے سایہ تجھ پر
بول بالا ہے ترا ذکر ہے اونچا تیرا

تبارک اللہ شان تیری ، تجھی کو زیبا ہے بے نیازی
کہیں تو وہ جوش لن ترانی ، کہیں تقاضے وصال کے تھے

5. کسی شعر میں کوئی پورا مصرع یا ایک بند میں پورا ایک مصرع یا شعر کسی دوسری زبان کو ہو تو اسے صنعت تلمیع کہتے ہیں ۔ اس میں غالب نے ایک شعر لکھا ہے ۔

دھوپ کی تابش ، آگ کی گرمی
وقنا ربنا عذاب النار !!!

اس کے علاوہ کسی جید شاعر کا کوئی شعر نظر سے نہیں گذرتا ۔ اور احمد رضا صاحب ۔ کیا خدا کی عطا ہے ۔ ان سے اس صنعت پر نعت لکھنے کی فرائش کی گی تو آپ نے چار زبانوں پر مشتمل نعت لکھ دی ۔ اور ہر سخن فہم جانتا ہے کہ حق ادا کیا

لم یات نظیرک و فی نظر
مثل تو نہ شد پیدا جانا
جب راج کو تاج تورے سر سوہے
میں نے تجھ کو شہہ دوسرا جانا

6. بچپن میں صنعت تجنیس کا ایک شعر سنا تھا ۔

اے پھول میرے پھول کو یہ پھول دے دینا
کہنا کہ تیرے پھول نے یہ پھول بھیجا ہے

ایک لفظ نے ایک شعر میں 5 معنی دیئے ہیں ۔ اور یہی اس شعر کی خوبی تھی ۔ احمد رضا خان صاحب کا شعر دیکھئے ۔ ایک مصرعے میں ایک لفظ کے 5 اور شعر میں 7 مطلب ۔ سیدہ زاہرہ سلام اللہ علیہ کے لئے لکھتے ہیں

نور، بنت نور و زوج نور و ام نور و نور
نور مطلق کی کنیز ، اللہ دے لینانور کا

7. صنعت ترصیع ۔ جس میں پہلے مصرع الفاظ دوسرے مصرع کے جیسے ہوں یا ہم قافیہ ہوں ۔ مثلا

نام۔۔۔۔۔ تیرا ۔۔۔۔۔۔۔ ہے ۔۔۔۔۔۔۔۔۔ زندگی ۔۔۔۔۔۔۔۔۔ میری
کام ۔۔۔۔میرا ۔۔۔۔۔۔۔ ہے ۔۔۔۔۔۔۔۔۔بندگی ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔ تیری

اس صنعت میں شعر ڈھونڈھنے سے نہیں ملتا ۔ لیکن احمدرضا یہاں بھی کمال کر کرگئے ۔ اس صنعت میں بھی چار اشعار کہہ گئے

دھارے ۔۔۔۔ چلتے ۔۔۔۔۔۔۔ ہیں ۔۔۔۔۔۔۔عطا ۔۔۔۔۔ کے ۔۔۔۔۔۔ وہ ۔۔۔۔۔۔۔۔ ہے ۔۔۔۔۔۔قطرہ ۔۔۔۔۔تیرا
تارے ۔۔۔۔۔۔۔۔ کھلتے ۔۔۔۔ ہیں ۔۔۔۔۔ سخا ۔۔۔۔۔ کے ۔۔۔۔۔۔۔وہ ۔۔۔۔۔۔۔ ہے ۔۔۔۔ ذرہ ۔۔۔۔۔۔۔ تیرا

اور شعر برائے شعر نہیں بلکہ ایک شعر تو زبان زد عام ہے ۔ لیکن اس صنعت کا رات ہی پتا چلا

سب سے ۔۔۔۔۔۔۔۔ اولٰی او اعلیٰ ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔ ہمارا نبی
سب سے ۔۔۔۔۔۔ بالا و والا ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔ ہمارا نبی ۔

اس تلمیحانہ شعر پر تو گویا قلم ہی توڑ دیا ہے؛

حسن یوسف پہ کٹیں مصر میں انگشت زناں
سر کٹاتے ہیں ترے نام پہ مردان عرب

1۔ اُدھر حسن ہے، اِدھر نام
2۔ ادھر یوسفؑ، اسم معرفہ، یعنی ممدوح کا نام لیا گیا تاکہ سامعین کو معلوم ہو جائے کہ کس ہستی کا ذکر کیا جارہا ہے، یہاں نام تک لینے کی ضرورت پیش نہ آئی ـ صرف لفظ "ترے" سے ہی ذات واضح ہو گئی
3۔ ادھر ماضی کا صیغہ ہے، "کٹیں" یعنی ایک بار کٹیں، ادھر مضارع کا صیغہ ہے "کٹاتے ہیں" یعنی عشاق بار بار کٹاتے ہیں
4۔ ادھر "کٹیں" میں فعل لاشعوری طور پر سرانجام پایا، یہاں "کٹاتے ہیں" میں قصدا سر کٹایا جاتا ہے
5۔ وہاں مصر ہے جس کی تاریخ فراعین سے بھری پڑی ہے، یہاں عرب ہے جس کی تاریخ انبیائے کرام کی وجہ سے سرفراز ہے
6۔ وہاں مصر کی عورتیں ہیں، یہاں عرب کے مرد! - تقابل یوں ہوا کہ مرد عورت کی نسبت اعصاب پر زیادہ قابو رکھتے ہیں لیکن اس کے باوجود شعوری طور پر "نام" پر ہی سر کٹا دیتے ہیں۔
7۔ مصر کی عورتیں نازکی میں مشہور ہیں، اور عرب کے مرد جفاکشی میں۔ یعنی جفا کش اور سخت جان ہونے کے باوجود سرکارﷺ کے نام پر کٹ مرنے کے معاملے میں نازک ہیں، فورا تیار ہو جاتے ہیں
8۔ وہاں صرف انگلیاں ہیں، یہاں سر!
9۔ وہاں مصر کے اندر انگلیاں کٹی تھیں، یہاں منظر یوں ہے کہ مردان عرب پر صرف عرب ہی کی کوئی قید نہیں!!
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔

ملک سخن کی شاہی تم کو رضاؔ مسلم
جس سمت آگئے ہو، سکے بٹھا دئے ہیں

قصیدہ مرصعہ

ایسا قصیدہ جس میں مطلع اور حسن مطلع کے بعد ہر شعر کا پہلا مصرع (کیونکہ دوسرے میں تو ردیف ہوتی ہے ) حروف تہجی کو ترتیب سے ادا کرے ۔ یعنی پہلے شعر الف ، دوسرے میں بے ، تیسرے میں تے آئے ۔ احمد رضا صاحب نے سلام کی شکل میں یہ قصیدہ بھی کہہ ڈالا

اور کوئی غیب کیا تم سے نہاں ہو بھلا ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔ الف
جب نہ خدا ہی چھپا، تم پہ کروڑوں درود
ذات ہوئی انتخاب ، وصف ہوئے لا جواب ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔ ب
نام ہوا مصطفی تم پہ کروڑوں درود ۔
بس بھئی ، پورا قصیدہ نہیں لکھ سکتا اور نہ ہی ان کی شاعری کے سب محاسن لکھ سکتا ہون ۔ صرف ایک خاکہ دینا تھا دوستوں کو کہ اردو ادب کے اس قادر الکلام استاد شاعر کو مسلک کی بھینٹ چڑھا دیا گیا اور اردو ادب میں اس کا حق نہیں ملا۔

تحریر : ابوالحسن خاور

نعت ورثہ ہمہ وقت نعت گوئی اور نعت خوانی پر تحقیقی و تخلیقی کام کر رہا ہے تاکہ آنے والی نسلوں کے لیے یہ ورثہ محفوظ کرے-اس سلسلہ میں پاکستان کے م

Address

132B Iqbal Avenue Housing Society, Phase 1
Lahore
54770

Alerts

Be the first to know and let us send you an email when Naat Virsa نعت ورثہ posts news and promotions. Your email address will not be used for any other purpose, and you can unsubscribe at any time.

Contact The Organization

Send a message to Naat Virsa نعت ورثہ:

Share

ادارہ نعت ورثہ! تحقیق وتخلیق نعت گوئی و نعت خوانی-ادارہ نعت ورثہ 2015 سے نعت گوئی و نعت خوانی پر تحقیق کر رہا ہے

www.naatkainaat.org