Sheikh Muhammad Anwar

Sheikh Muhammad Anwar President Prem Union, Pakistan Railways. Central President of Pakistan Railways PREM Union CBA

بجٹ میں سرکاری ملازمین اور پنشنرز کی تنخواہوں و پنشن میں 100 فیصد اضافہ وقت کی اہم ضرورت ہے۔ مہنگائی، بجلی، گیس، پیٹرول ...
04/06/2026

بجٹ میں سرکاری ملازمین اور پنشنرز کی تنخواہوں و پنشن میں 100 فیصد اضافہ وقت کی اہم ضرورت ہے۔ مہنگائی، بجلی، گیس، پیٹرول اور ڈیزل کی بڑھتی ہوئی قیمتوں نے محنت کش طبقے کا جینا دوبھر کر دیا ہے۔ گزشتہ سال تنخواہ دار طبقے نے اربوں روپے ٹیکس ادا کیا، مگر پھر بھی سب سے زیادہ بوجھ انہی کے کندھوں پر ڈالا جا رہا ہے۔
ہم مطالبہ کرتے ہیں کہ آئی ایم ایف کی غلامانہ شرائط سے نجات حاصل کی جائے اور پاکستان ریلوے کو خصوصی حکومتی فنڈز فراہم کیے جائیں۔ اگر قومی اداروں خصوصاً پاکستان ریلوے پر سرمایہ کاری کی جائے تو یہی ادارہ چند برسوں میں ایشیا کی بہترین ریلوے بن کر ملک کی معیشت کا مضبوط ستون ثابت ہو سکتا ہے۔ عوام، ملازمین اور پنشنرز کو ریلیف دینا ہی حقیقی عوامی بجٹ ہوگا۔

02/06/2026
ملازمین اور ریٹائر ملازمین تنخواہوں میں 100 فیصد اضافہ کیا جائے مہنگائی بجلی کے بلوں پٹرول سوی گیس کے بلوں نے جینا محال ...
02/06/2026

ملازمین اور ریٹائر ملازمین تنخواہوں میں 100 فیصد اضافہ کیا جائے
مہنگائی بجلی کے بلوں پٹرول سوی گیس کے بلوں نے جینا محال کر دیا ھے

جس پاکستان ریلوے نے دفاعِ وطن کے ہر نازک مرحلے میں اپنی ذمہ داریاں نبھائیں، جنگوں کے دوران افواجِ پاکستان کی نقل و حرکت ...
01/06/2026

جس پاکستان ریلوے نے دفاعِ وطن کے ہر نازک مرحلے میں اپنی ذمہ داریاں نبھائیں، جنگوں کے دوران افواجِ پاکستان کی نقل و حرکت میں کلیدی کردار ادا کیا، ملک کے دور دراز علاقوں کو آپس میں جوڑا اور کروڑوں عوام کو سفری سہولیات فراہم کیں، آج وہی قومی ادارہ وسائل کی کمی اور حکومتی عدم توجہی کا شکار ہے۔
پاکستان ریلوے صرف ایک محکمہ نہیں بلکہ قومی یکجہتی، دفاعی استحکام اور معاشی ترقی کی علامت ہے۔ افسوس کہ گزشتہ 78 برسوں میں اسے وہ توجہ، وسائل اور سرمایہ کاری نہ مل سکی جس کی یہ حقیقی معنوں میں مستحق تھی۔ اگر پاکستان ریلوے کو بھی دیگر قومی اداروں کی طرح مناسب مالی معاونت، جدید انفراسٹرکچر اور ترقیاتی وسائل فراہم کیے جائیں تو یہ نہ صرف اپنے پاؤں پر کھڑی ہو سکتی ہے بلکہ ایشیا کے بہترین ریلوے نظاموں میں اپنا نمایاں مقام حاصل کر سکتی ہے۔
وقت کا تقاضا ہے کہ ریلوے کو بوجھ نہیں بلکہ پاکستان کی معیشت کی کنجی سمجھا جائے۔ ایک مضبوط، جدید اور مستحکم ریلوے نظام نہ صرف سستی اور محفوظ سفری سہولیات فراہم کرتا ہے بلکہ تجارت، صنعت، روزگار اور قومی ترقی کے نئے دروازے بھی کھولتا ہے۔ ریلوے کو وسائل دیجیے، پاکستان کو ترقی دیجیے۔

تحریر شیخ محمد انور صدر پاکستان ریلوے پریم یونین،ٹیکس کا بوجھ صرف تنخواہ دار طبقے پر کیوں؟100ایکڑ ،1000ایکڑ،1000مربے رکھ...
31/05/2026

تحریر شیخ محمد انور
صدر پاکستان ریلوے پریم یونین،
ٹیکس کا بوجھ صرف تنخواہ دار طبقے پر کیوں؟
100ایکڑ ،1000ایکڑ،1000مربے رکھنے والے جاگیرداروں نے 12 ارب ٹیکس جمع کروایا، مڈل کلاس سزا وار!
605 ارب ٹیکس دینے والے تنخواہ دار طبقے کا جرم کیا ہے؟
ریاست کی آمدن یا مڈل کلاس کا استحصال؟
تنخواہ دار طبقہ: قومی خزانے کا سب سے بڑا سہارا
امیر بے فکر، متوسط طبقہ زیرِ بار
ٹیکس نظام میں انصاف کب آئے گا؟
پاکستان میں ٹیکس نظام ایک ایسے مرحلے پر پہنچ چکا ہے جہاں انصاف اور مساوات کے بنیادی اصول بری طرح متاثر ہوتے دکھائی دیتے ہیں۔ ایک طرف ملک کے بڑے بڑے جاگیردار، وڈیرے اور ہزاروں ایکڑ اراضی کے مالکان موجود ہیں جنہوں نے اربوں روپے کے واجب الادا ٹیکس بھی قومی خزانے میں جمع نہیں کرائے، جبکہ دوسری جانب تنخواہ دار طبقہ ہے جو ہر ماہ اپنی آمدن سے باقاعدگی کے ساتھ ٹیکس ادا کرنے پر مجبور ہے۔
اعداد و شمار اس حقیقت کی واضح نشاندہی کرتے ہیں کہ وسیع زرعی اراضی کے مالکان اور بڑے جاگیردار مجموعی طور پر چند ارب روپے کا بھی ٹیکس ادا نہیں کر پائے، جبکہ صرف تنخواہ دار طبقے نے گزشتہ مالی سال کے دوران 605 ارب روپے سے زائد ٹیکس قومی خزانے میں جمع کرایا۔ مزید یہ کہ رواں مالی سال کے ابتدائی نو ماہ میں ہی یہ طبقہ تقریباً 450 ارب روپے ٹیکس ادا کر چکا ہے۔ یہ صورتحال اس بات کی عکاس ہے کہ ملک کا ٹیکس نظام حقیقی معنوں میں متوازن نہیں بلکہ اس کا زیادہ تر بوجھ ایک محدود طبقے کے کندھوں پر ڈال دیا گیا ہے۔
متوسط طبقہ کسی بھی ملک کی معاشی ریڑھ کی ہڈی سمجھا جاتا ہے۔ یہی طبقہ سرکاری و نجی اداروں میں خدمات انجام دیتا ہے، بچوں کی تعلیم، علاج، رہائش اور روزمرہ ضروریات پوری کرنے کے لیے مسلسل جدوجہد کرتا ہے۔ لیکن افسوسناک امر یہ ہے کہ آج یہی طبقہ سب سے زیادہ معاشی دباؤ کا شکار ہے۔ تنخواہ ملنے سے پہلے ہی اس پر انکم ٹیکس عائد کر دیا جاتا ہے، جبکہ بازار سے خریدی جانے والی تقریباً ہر چیز پر بالواسطہ ٹیکس الگ سے وصول کیا جاتا ہے۔
دودھ، دہی، چینی، آٹا، بجلی، گیس، پٹرول، موبائل فون، انٹرنیٹ، ٹرانسپورٹ اور روزمرہ استعمال کی بے شمار اشیاء پہلے ہی مختلف قسم کے ٹیکسوں اور ڈیوٹیوں کے بوجھ تلے دبی ہوئی ہیں۔ ایسے میں جب ایک ملازم اپنی تنخواہ وصول کرتا ہے تو اس کی آمدن کا ایک حصہ پہلے ہی حکومت کے پاس جا چکا ہوتا ہے۔ پھر جب وہ اپنی ضروریات زندگی پوری کرنے نکلتا ہے تو ہر قدم پر اسے مزید ٹیکس ادا کرنا پڑتا ہے۔ یہ صورتحال متوسط طبقے کے لیے زندگی کو انتہائی دشوار بنا رہی ہے۔
ہم سمجھتے ہیں کہ ایک لاکھ پچیس ہزار روپے ماہانہ تنخواہ حاصل کرنے والے افراد کو انکم ٹیکس سے مکمل استثنیٰ دیا جانا چاہیے۔ موجودہ مہنگائی، بڑھتے ہوئے یوٹیلٹی بلز، تعلیمی اخراجات، کرایوں اور دیگر ضروریات کے پیش نظر یہ آمدن اب کسی بھی صورت میں خوشحال طبقے کی نمائندگی نہیں کرتی۔ حقیقت یہ ہے کہ یہ طبقہ بھی روز بروز معاشی دباؤ اور مالی مشکلات کا شکار ہوتا جا رہا ہے۔
یہ مطالبہ صرف کم آمدنی والوں کے لیے نہیں بلکہ زیادہ تنخواہ حاصل کرنے والے افراد کے لیے بھی منصفانہ ٹیکس اصلاحات کا متقاضی ہے۔ حکومت کو چاہیے کہ ٹیکس کا دائرہ کار وسیع کرے، ان شعبوں اور طبقات کو بھی ٹیکس نیٹ میں لائے جو برسوں سے مراعات اور استثنیٰ سے فائدہ اٹھا رہے ہیں۔ جب تک ٹیکس کی ذمہ داری مساوی بنیادوں پر تقسیم نہیں ہوگی، تب تک قومی معیشت میں حقیقی بہتری اور عوامی اعتماد پیدا نہیں ہو سکے گا۔
وقت آ گیا ہے کہ حکومت تنخواہ دار طبقے کو صرف ایک آسان ہدف سمجھنے کے بجائے اسے ریلیف فراہم کرے۔ ملک کی تعمیر و ترقی میں سب سے زیادہ حصہ ڈالنے والے اسی طبقے کو معاشی تحفظ دینا ریاست کی ذمہ داری ہے۔ اگر متوسط طبقہ مزید کمزور ہوا تو نہ صرف ملکی معیشت متاثر ہوگی بلکہ سماجی اور معاشی عدم استحکام میں بھی اضافہ ہوگا۔
لہٰذا حکومت سے پرزور مطالبہ ہے کہ ایک لاکھ پچیس ہزار روپے ماہانہ تنخواہ تک مکمل ٹیکس چھوٹ دی جائے، ٹیکس نظام میں مساوات قائم کی جائے، بڑے جاگیرداروں اور بااثر طبقات سے واجب الادا ٹیکس وصول کیا جائے اور مڈل کلاس کو ریلیف فراہم کیا جائے۔ یہی معاشی انصاف کا تقاضا ہے اور یہی ایک مضبوط اور خوشحال پاکستان کی بنیاد بن سکتا ہے۔

جاگیرداروں سے اربوں کا ٹیکس وصول نہ ہو سکا، مگر تنخواہ دار طبقہ 605 ارب جمع کرا چکا ہے۔
ہر خریداری پر ٹیکس، ہر بل پر ٹیکس، اور پھر تنخواہ پر بھی ٹیکس؛ آخر کب تک؟
مڈل کلاس ریاست کی ریڑھ کی ہڈی ہے، بوجھ اٹھانے کی مشین نہیں۔
ایک لاکھ پچیس ہزار تک تنخواہ والوں کو ٹیکس فری قرار دیا جائے۔
ٹیکس نیٹ وسیع کریں، صرف تنخواہ دار طبقے کو نشانہ نہ بنائیں۔
معاشی انصاف کا تقاضا ہے کہ بااثر طبقات بھی برابر ٹیکس ادا کریں۔
مہنگائی کے طوفان میں ٹیکسوں کا بوجھ متوسط طبقے کے لیے ناقابل برداشت ہو چکا ہے۔

Address

Lahore

Opening Hours

Monday 09:00 - 16:00
Tuesday 09:00 - 16:00
Wednesday 09:00 - 16:00
Thursday 09:00 - 16:00
Friday 09:00 - 16:00

Telephone

+923332250719

Alerts

Be the first to know and let us send you an email when Sheikh Muhammad Anwar posts news and promotions. Your email address will not be used for any other purpose, and you can unsubscribe at any time.

Contact The Organization

Send a message to Sheikh Muhammad Anwar:

Share