Lahore Heritage Foundation

Lahore Heritage Foundation Lahore Heritage Foundation is non profit organization for the betterment of our rich culture and heritage of Lahore

انگریزوں نے 1849ء میں سکھوں سے تختِ لاہور چھینا اور 1857ء میں تختِ دہلی پر بھی براجمان ہو گئے۔ لاہور میں فصیل کے باہر ان...
01/09/2026

انگریزوں نے 1849ء میں سکھوں سے تختِ لاہور چھینا اور 1857ء میں تختِ دہلی پر بھی براجمان ہو گئے۔ لاہور میں فصیل کے باہر انہوں نے کچھ فاصلے پر ایک جدید لاہور کی بنیادیں ڈالیں۔ لگ بھگ سات کلو میٹر لمبی مال روڈ کی بنیاد 1851ء میں رکھی گئی اور سول انجینئر لیفٹیننٹ کرنل نیپئر اس کے نقشے اور تعمیر کا ذمہ دار تھا۔
یہیں گورنر ہاؤس بھی بنایا گیا۔ اس کے دائیں بائیں پھوٹنے والی سڑکیں بھی اسی نئے لاہور کا حصہ بنیں۔ لاہور ریلوے سٹیشن 1859ء میں قائم ہوا تو اسے سڑکوں کے ذریعے مال روڈ سے بھی ملایا گیا۔
اس زمانے کی چیف کورٹ آف پنجاب (اب لاہور ہائیکورٹ) کے پہلو میں فین روڈ ہے۔ یہ سر ہنری فین (Henry Fane)کے نام سے منسوب ہے جو برٹش ہندوستان میں آئر لینڈ سے تعلق رکھنے والا کمانڈر انچیف تھا۔
ہائیکورٹ کے عقب میں ایک چھوٹی سڑک اب بھی ٹرنر روڈ کہلاتی ہے جو فین روڈ سے جڑ جاتی ہے۔ یہ الوائن ٹرنر (Alweyn Turner)کے نام سے منسوب ہے جو برٹش دور کا ایک نامور وکیل اور جج تھا۔

مال روڈ پر دوبارہ آئیں تو ریگل پر بائیں ہاتھ ہالز روڈ آتی ہے جو اَب الیکٹرانکس کی بڑی مارکیٹ ہے۔ یہاں چار بڑے ہال تھے جو نمائشوں اور اجتماعات کیلئے استعمال ہوتے تھے۔ اسی لیے اس کا نام ہالز روڈ ہے۔ یہ ہال وقت کے ساتھ ختم ہوکر کمرشل عمارتوں میں تبدیل ہو چکے۔

ہالز روڈ کی بغل میں بیڈن روڈ ہے جو مال روڈ کو میکلوڈ روڈ سے ملاتی ہے۔ اس کا نام Sir Cecil Beadon کے نام پر رکھا گیا جو بنگال کا لیفٹیننٹ گورنر تھا اور جس نے بطور کمانڈر 1857ء کی بغاوت کو فرو کرنے میں نمایاں کردار ادا کیا تھا۔

مال روڈ پر چیئرنگ کراس‘ جو اَب فیصل چوک ہے‘ لندن میں واقع چیئرنگ کراس کی طرز پر بنایا گیا تھا اور نام بھی یہی رکھا گیا تھا۔ یہاں ملکہ وکٹوریہ کا مجسمہ بھی بنایا گیا تھا۔
چیئرنگ کراس کے سامنے قرطبہ چوک جانے والی سڑک بظاہر اسی مجسمے کی رعایت سے کوئنز روڈ کہلاتی ہے۔ یہاں برطانوی افسروں اور امرا کی رہائش گاہیں تھیں۔
ہائیکورٹ کے مقابل مال روڈ سے ایک اور سڑک پھوٹتی ہے جس کا نام میکلوڈ روڈ ہے۔ یہ سڑک سر ڈونالڈ فرائل میکلوڈ کے نام سے منسوب کی گئی تھی۔ ڈونلڈ میکلوڈ نے لاہور میں کافی کام کیے۔ اورینٹل کالج کی داغ بیل بھی ڈالی اور اس کا بڑا کتب خانہ بھی اس کی موت کے بعد پنجاب یونیورسٹی کی لائبریری کا حصہ بنا۔ لاہور ریلوے سٹیشن بنانے میں بھی اس کا اہم حصہ تھا اور بظاہر اسی لیے یہ سڑک اس کے نام سے منسوب ہوئی۔

میکلوڈ روڈ پر جہاں لاہور ہوٹل ہے‘ ایک سڑک نکلسن روڈ اس سے پھوٹتی ہے جو قلعہ گجر سنگھ کی طرف سے ایمپریس روڈ جاتی ہے۔ نکلسن روڈ‘ جون نکلسن کے نام سے منسوب ہوئی جو ایسٹ انڈیا کمپنی کا فوجی افسر اور آئرش تھا۔ نکلسن 1857ء کی بغاوت میں دہلی میں مارا گیا تھا۔

ایمپریس روڈ ملکہ وکٹوریہ کے نام سے منسوب تھی اور یہ شملہ پہاڑی سے ریلوے سٹیشن کو جانے والی سڑک ہے۔ اسی پر ریلوے ہیڈ کوارٹرز بھی قائم کیے گئے تھے۔

ایجرٹن روڈ لیفٹیننٹ گورنر پنجاب سر رابرٹ ایجرٹن کے نام پر تھی۔ اسی روڈ پر واقع فلیٹیز ہوٹل ایک اطالوی تاجر انڈریا فلیٹی نے 1880ء میں قائم کیا تھا۔ ان دنوں ایسے ہوٹل کی گوروں کو سخت ضرورت تھی۔ قائداعظم محمد علی جناح سمیت نامور ترین افراد مثلاً مارلن برانڈو‘ ایوا گارڈنر بھی یہاں مقیم رہے ہیں۔

ڈیوس روڈ شملہ پہاڑی سے اَپر مال روڈ کو ملاتی ہے۔ یہ لیفٹیننٹ گورنر پنجاب سر رابرٹ ہنری ڈیوس کے نام پر تھی جو 1871ء میں گورنر پنجاب تھا۔ ویلز سے تھا اور اس نے لاہور چڑیا گھر اور میو سکول آف آرٹس (موجودہ این سی اے) کا ادارہ قائم کرنے میں اہم کردار ادا کیا تھا۔

سر لارڈ میو 1869ء سے 1872ء تک وائسرائے یعنی گورنر جنرل ہندوستان رہا۔ میو ہسپتال بھی اسی کے نام سے منسوب ہے لارڈ میو کا اصل نام رچرڈ ساؤتھ ویل بورک تھا اور وہ آئر لینڈ کی میو ریاست کا چھٹا ایرل (Earl) تھا۔ انڈیمان کے دورے پر وہاں سزا کاٹنے والے ایک آفریدی پٹھان نے اسے قتل کرکے اس کے عہدے اور زندگی کا خاتمہ کیا تھا۔

برطانوی فوجی چیمبرلین کے نام پر موجود سڑک‘ جو مسجد مائی لاڈو کو سرکلر روڈ سے ملاتی ہے‘ ڈپٹی کمشنر برانڈرتھ کے نام پر برانڈرتھ روڈ‘ سر رابرٹ منٹگمری (لیفٹیننٹ گورنر پنجاب) کے نام پر منٹگمری روڈ‘ کمشنر لاہور کے نام پر کوپر روڈ جہاں خواتین کا کالج اب بھی موجود ہے‘ چیف کمشنر پنجاب سر جون لارنس کے نام پر بنی سڑک‘ جو ریگل چوک مال روڈ سے چائنہ چوک کو ملاتی ہے اور جس پر لارنس کے نام کا لارنس گارڈن موجود ہے

16/03/2026

گئے زمانوں کی خوبصورت یادیں جب ہمیں عید کے دن ایک روپے دو روپے اور پانچ روپے عیدی ملتی تھی تو خوشی کی انتہا نہیں رہتی تھی سارا سارا دن کھانے کے بعد پھر بھی پیسے بچ جاتے تھے ان پیسوں میں برکت تھی افرا تفری تو اس زمانے میں بھی ہوگی مگر لالچ شاید کم
ہم رہ گئے ہمارا زمانہ چلا گیا

امرتسر میں بچپن کا رمضان اور سحری اے حمید نے امرتسر میں اپنے بچپن کی ایک سحری اور دہی لانے کا نقشہ کچھ ایسا کھینچا کہ بی...
12/03/2026

امرتسر میں بچپن کا رمضان اور سحری
اے حمید نے امرتسر میں اپنے بچپن کی ایک سحری اور دہی لانے کا نقشہ کچھ ایسا کھینچا کہ بیسیوں دفعہ پڑھ چکا ہوں لیکن ہر دفعہ وہی مزا ۔ آپ بھی دس منٹ لگا کر پڑھیں ۔ وقت رائیگاں نہیں جائے گا ۔

قیام پاکستان سے پہلے کا زمانہ ، دسمبر کی سرد ٹھٹھرتی رات کا پچھلا پہر، امرتسر شہر کے مکانوں کی چھتوں ، منڈیروں ، آنگنوں ، میدانوں اور باغوں پر کہرے کی لطیف یخ چادر سی بچھی ہے ۔ امرود کے اجڑتے ہوئے باغوں میں بے برگ وبار درختوں سے ٹھنڈی ٹھنڈی اوس ٹپک رہی ہے ۔سحری کا وقت شروع ہو گیا ہے ۔ ہماری گلی بیدار ہو رہی ہے ۔ دور سے ڈھول بجانے والے کی آواز آئی ہے ۔
ڈھول بجانے والا مگرابھی ہمارے محلے میں نہیں پہنچا ۔ وہ بجلی والے چوک یا مسجد خیرالدین کے آس پاس ہے ۔ایک بار بڑے زورشور سے ڈھول بجا کر اس نے آواز لگائی ہے ، ’’جاگو ! اللہ کے پیارو ! جلال دین آگیا ! سوتوں کو جگا گیا ! ‘‘میں پلنگ پر اپنے لحاف میں دبکے ہوئے دور سے یہ آواز سنتا ہوں ۔باہر صحن میں آپوجی( والدہ ) کے چلنے اور برتن اٹھانے رکھنے کی آواز آ رہی ہے۔سامنے والی مسجد میں موذن ٹونٹی کھول کے وضو کر رہا ہے اور زور سے کھانس کر اپنا گلا بھی صاف کر رہا ہے ۔ کہیں کہیں مسلمانوں کے مکانوں سے پانی بہنے کی آوازیں آنے لگی ہیں ۔آپو جی نے باورچی خانے سے میری بڑی بہن سرور کو آواز دی ہے ۔’ آج اٹھنا نہیں بانو ! ‘بانو کلمہ پڑھتے ہوئے اٹھ بیٹھی ہے اوردوپٹہ اوڑھ کر باہر صحن میں آ گئی ہے ۔مییں آنکھوں پر لحاف ذرا سے اٹھائے طاق پرجلتے ہوئے کڑوے تیل کے دیے کو دیکھ رہا ہوں ۔ مجھے اس کی لو میں روشنی اور نور کی ننھی منی پریاں ناچتی نظر آ رہی ہیں ۔

’ وے حمید ، وے اٹھ وے ، دہی لیا ۔‘ آپو جی کی آواز آتی ہے ۔ مجھے نیند بھی آ رہی ہے ، لیکن سحری کے وقت گلی میں نکلنے کا شوق بھی ہے ۔ ان لوگوں کو دیکھنے کا شوق جو ڈھول تاشے بجاتے روزہ داروں کو جگاتے ہیں۔ پکی گلی کی طرف سے گانے والوں کی ٹولی کی آواز آئی ہے ،

جلوہ گر ، جلوہ گر ، جلوہ گر ہو گیا
شاہ ِ جن وبشر جلوہ گر ہو گیا

سامنے والی مسجد کے موذن نے سحری کے شروع ہونے کی نوبت بجا دی ہے ، دھما دھم ، دھما دھم ، دھما دھم۔ میں لحاف سے آنکھیں ملتا ہوا اٹھا ہوں اور باہر صحن میں آ گیا ہوں ۔ باورچی خانے کے دروازے پر نمدا پڑا ہے ۔میں نمدا اٹھا کر اندر جاتا ہوں ۔ باورچی خانے کی فضا گرم ہے ، جیسے کسی نے اسکو گرم شال اوڑھا دی ہے ۔آپو جی نے دونوں چولہے جلا رکھے ہیں ۔ دیواروںپر لکڑی کے شعلوں کی چمک پھیلی ہوئی ہے ۔ایک چولہے پر رات کا پکا پالک کا ساگ گرم ہو رہا ہے ۔دوسرے چولہے پر سبز چائے دم ہو رہی ہے ۔

چائے کی خوشبو اڑ رہی ہے ۔ آپو جی کا سرخ وسفید گول کشمیری چہرہ چائے کی خوشبو اور آگ کی روشنی میں دمک رہا ہے ۔میں دہی کا برتن اٹھا کر باہر جانے لگتا ہوں کہ آپو جی ڈانٹ کر کہتی ہیں ،’’ فرد لے کے جاویں وے ۔ ‘‘( یعنی کشمیری شال اوڑھ کر جانا ) ۔ میں فرد سے بڑا گھبراتا ہوں ۔ میں ابھی چھوٹا ہوں ۔ دس بارہ سال کی عمر ہو گی ۔فرد بڑی ہے ۔ وہ گلی میں مجھ سے سنبھالے نہیں سنبھلتی ہے ۔ ویسے بھی اس عمر میں سردی کم ہی لگا کرتی ہے ۔ پھر ہم غریب محنتی ماں باپ کی اولاد سردیوں میں ننگے پیر ہی گلیوں میں بھاگتے پھرا کرتے ہیں ۔کبھی زکام تک نہیں ہوا ۔
میں ٹھنڈا کٹورا ہاتھ میں لیے گلی میں آ گیا ہوں ۔ آسمان پر چمکیلے ستارے بڑے بڑے موتیوں کی طرح چمک رہے ہیں۔گلی دور تک سنسان ہے ۔مسجد کے کنویں میں برکت ماشکی بوکے نکال نکال کر مشک بھر رہا ہے۔کنویں کی چرخی کی چیوں چیوں گلی کی خاموش فضا میں گونج رہی ہے ۔ برکت ماشکی اپنے بچپن سے لوگوں کے گھروں میں پانی بھر رہا ہے ۔ اب بوڑھا ہو گیا ہے ۔ کمر جھک گئی ہے ۔ ہاتھوں اور پنڈلیوں کی سبز رگیں پھول گئی ہیں ۔ وہ کنویں میں سے پانی نکالتے ہوئے گا بھی رہا ہے ،

’’کدی میں وی مدینے جاواں ‘‘

میں گلی کے موڑ پر ہوں ۔ ڈھول والا بازار میں پہنچ گیا ہے ۔ بڑے زوردار انداز میں ڈھول کو پیٹا ہے ، دھڑ دھڑ دھڑ ، اور آ واز لگائی ہے ،’جاگو ، اللہ کے پیارو ، جلال دین آ گیا ، سوتوں کو جگا گیا ۔‘میں بڑے اشتیاق سے اسے دیکھ رہا ہوں ۔ وہ دکان پر بیٹھے ہوئے میرے والد سے پوچھتا ہے ، خلیفہ جی ، ’کیہ وج گیا اے ۔‘اور پھراس طرح ڈھول بجاتا ہوا تیز تیز قدموں سے آگے نکل گیا ہے ۔ ڈاک خانے کے پاس گونگے کا تیزاور تلخ بگل گونج اٹھا ہے ۔ میں دہی ڈلوا کر واپس گلی میں مڑ رہا ہوں کہ گونگے کے بگل کی آواز بہت ہی قریب سے گونجتی ہے ۔اب وہ ہاتھ میں بگل تھامے بھاگتا ہوا بازار میں نمودار ہوا ہے ۔ گلی کی طرف منہ کرکے زور سے بگل بجایا ہے اور ٹارزن کی آواز میں وحشی چیخ مار کے آگے نکل گیا ہے ۔میں گھر کے پاس پہنچ گیا ہوں ۔ سامنے نعت خوانوں کی ٹولی کے گیس کی روشنیاں گلی میں جھلملا رہی ہیں ۔ انکو دیکھ کر میں مسجد کے تھڑے پرکھڑا ہو گیا ہوں ۔ ٹولی سبز رنگ کے گوٹہ کناری لگے جھلملاتے جھنڈے اٹھائے نعت پڑھتی آ رہی ہے ۔ وہ مسجد کے سامنے آ کے کھڑی ہو گئی ہے ۔
انھوں نے سروں پر سبز صافے باندھ رکھے ہیں ۔ آگے ایک آدمی نے گیس اٹھا رکھا ہے ۔گیس کی روشنی میں نعت خوانوں کے چہرے چمک رہے ہیں اور سردی میں گاتے وقت منہ سے بھاپ نکل رہی ہے۔میں فرد میں لپٹا ، دہی کا کٹورا ہاتھ میں لیے ، مسجد کے تھڑے پر کھڑا ، گردن ایک طرف ڈھلکائے آنکھیں سکیڑے اس ٹولی کو نعت پڑھتے ہوئے دیکھتا ہوں۔ مجھے ان ٹولیوں کو دیکھنے کا بڑا شوق ہے ۔
اکثر وہ میرے سوتے ہوئے ہی گلی میں سے نعتیں پـڑھتی نکل جایا کرتی ہیں ۔ لیکن جب میری آنکھ کھل جائے تو میں بھاگ کر کھڑکی میں کھڑا ہو جاتا ہوں ، یا گلی میں نکل آتا ہوں ۔ مجھے یوں لگتا ہے کہ جیسے نعت خوانوں کی یہ ٹولیاں خیال کی دنیا سے آتی ہیں اور خوابوں کی سرزمیں کو چلی جاتی ہیں ۔موذن مسجد کے رونث پر بیٹھا ہے ۔ وہ مجھے تھڑے پر اس طرح کھڑے دیکھ کر کہتا ہے ’اوے دہی لے کے گھر جا۔‘ عمدو کاکا نانبائی کے تنور سے نارنجی رنگ کے شعلے نکل کرچھت کو چھو رہے ہیں۔گامی سینڈو دونوں ہاتھوں سے میدے کے پیڑے بنا بنا کر تختے پر ساتھ ساتھ جوڑے جا رہا ہے۔ عمدو کاکا کٹورے میں دودھ اور کھجوریں بھگو رہا ہے۔ بودی چوکیدار منہ سر لپیٹے ڈنڈا ہاتھ میں لیے بنچ پر بیٹھا سگریٹ پی رہا ہے ۔
اس کابادامی رنگ کا کتا اس کے پاؤں میں سکڑا بیٹھا ہے ۔بودی اپنی طرز کا انوکھا پہرے دار ہے ۔ وہ ساری رات بوٹ پیٹی کے منہ سر لپیٹے بنچ پر دراز رہتا ہے ۔ادھر ادھر کہیں کوئی کھٹکا ہو تو کتا ہی جا کے خبر لاتا ہے ۔ بودی اپنی جگہ سے ہر گز نہیں ہلتا ۔ بودی ہر فن مولا بھی ہے ۔محلے میں کسی کا پنکھا ، گراموفون مشین ، بجلی کی استری ، تالہ ، کچھ خراب ہو ، بودی اسے ایک دم سارا کھول کر ٹھیک کر دیتا ہے ۔ گلی کے ہر گھر کے باورچی خانے میں لیمپ روشن ہیں۔ کہیں کہیں پرنالوں سے پانی گرنے کی آوازیں بھی آ رہی ہیں۔ جھکی ہوئی کمر والا بوڑھا گاماں ماشکی کمر پر پانی سے بھری ہوئی مشک لیے میرے قریب سے گزرا ہے ۔ چمڑے کی گیلی مشک سے پانی کے قطرے ٹپک رہے ہیں۔ اتنی سردی میں بھی وہ صبح صبح لوگوں کے یہاں پانی بھرتا ہے ، خدا جانے اسے سردی کیوں نہیں لگتی ۔ میں سوچتا ہوں میں دہی لے کر اپنے گھر آ گیا ہوں ۔ گھر میں سبھی جاگ چکے ہیں ۔ سحری تیار ہو چکی ہے۔مجھے لگا کہ باہرایک اور نعت خواں ٹولی نعت پڑھتی ہوئی گزر رہی ہے ،

تینڈی سواری یا نبی عرش بریں اتے گئی اے
دیکھ کے جلوہ طور تے ، موسیٰ نوں ہوش نہ رہی اے

میں پھر کھڑکی کی طرف بھاگتاہوں ، ٹولی گیس کی روشنی میں سبز جھنڈے لہراتی گلی کا موڑ مڑ رہی ہے ،اور تھوڑی دیر میں وہاں کوئی بھی نہیں تھا ۔
یہاں پہنچ کر اے حمید صاحب کی آواز بھرا گئی۔ ان کی آنکھوں میں تیرتی نمی دیکھی جا سکتی تھی ۔ناصر کاظمی نے کہا تھا ،
دھیان کے آتش دان میں ناصرؔ
بجھے دنوں کا ڈھیر پڑا ہے!

لو پھر بسنت ائی میں بہت عرصے سے یہ سوچ رہا تھا کہ بسنت کے بارے میں کچھ نہ کچھ ضرور لکھوں چونکہ اس کے ساتھ میرے بچپن کی ب...
24/01/2026

لو پھر بسنت ائی
میں بہت عرصے سے یہ سوچ رہا تھا کہ بسنت کے بارے میں کچھ نہ کچھ ضرور لکھوں چونکہ اس کے ساتھ میرے بچپن کی بہت سی یادیں جڑی ہوئی ہیں نہ وہ بسنت بنانے والے میرے یار دوست رہے اور نہ ہی وہ رشتہ دار جن کی وجہ سے لاہور کی چھتوں پر رونک ہوا کرتی تھی اج بھی شاہ عالمی اور گوالمنڈی کا وہ منظر یاد ہے جہاں پر ایسی رونق ہوا کرتی تھیں جو شاید اس بار نہ ہو چونکہ یہ بسنت جو کہ عام ادمی کا تہوار تھا اب خاص کے لیے ہو چکا ہے اور یہ بھی کیا بسنت کہ صرف تین دن کے لیے یہ حلال ہو اور پھر پورا سال حرام ہو البتہ ان تین دنوں کے بعد مجھے یہ خوف ہےکہ لوگوں کا بچا ہوا مال سارا سال استعمال نہ ہو پھر کسی نہ کسی کا گلا کٹے اور کوئی خاندان اپنوں کے غم میں انسو بہائے مجھے امید ہے حکومت پنجاب تمام ایس او پیز پہ سخت سے عمل پیرا کروائیں گے
اگرچہ حکومت نے اس دفعہ بسنت منانے کا اعلان تو کر دیا جو کہ ایک خوش ائند عمل ہے مگر پھر بھی نہ جانے میرے دل میں اس اعلان کے لیے کوئی خوشی نہیں مجھے ایسا لگ رہا ہے جیسے ہم زبردستی کی بسنت منانے لگے ہیں میں اپ کے ساتھ کچھ ماضی اور اپنے بچپن کی یادوں کو بھی شیئر کرتا ہوں
پتنگ بازی ایک ایسا کھیل ہے جس کے متعلق نہ تو کسی طرح کے اصول ضوابط مرتب کئے گئے ہیں اور نہ ہی اس سے متعلق قوانین کی کوئی کتاب موجود ہے۔ بسنت منانے کی روایت اور طریقہ سینہ بسینہ ایک نسل سے دوسری نسل کو منتقل ہوتا رہتا ہے۔
تجربہ کار لوگ نوجوان پتنگ بازوں کو جو پہلا سبق پڑھاتےہیں وہ یہ ہے کہ پتنگ بازی کے دوران نہ کوئی جھگڑا ہونا چاہیے اور نہ ہی کوئی فاؤل اور یہی وجہ تھی کہ میں نے بچپن میں کبھی کسی پتنگ باز کو جھگڑتے لڑتے نہیں دیکھا ہمارے اپنے گھروں کی چھتوں پر ہفتے میں ایک بار تو پیچے ضرور ہوتے تھے مجھے اچھی طرح یاد ہے کہ موچی دروازے کے باغ میں بسنت کی تیاری کے لیے کئی مہینوں پہلے ڈور کی تیاری کا سلسلہ شروع ہو جاتا تھا لاہور کے بہترین مانجھا لگانے والے کاریگر بسنت کے دنوں کی راہ تکتے اور موچی کے باغ میں رونکیں لگ جاتی نامی گرامی پتنگ باز اپنی مرضی سے مانجہ لگواتے اور بہت سے لوگوں کو مشورہ بھی دیتے ہیں
پتنگ لوٹنا اور دوسروں کی ڈور توڑنا لاہور میں کبھی بھی عزت کا کام نہیں رہا۔ ہر علاقے میں ایک یا دو گھر ایسا کرتے آئے ہیں مگر لوگ انہیں لٹیرے کے نام سے یاد کرتے ہیں۔
یہ لٹیرے لوٹ کے مال سے دوسرے دن بسنت منایا کرتے تھے مگر اب وہ لوٹی ہوئی گڈیوں اور ڈور کو سستے داموں بیچ دیتے ہیں۔
لگ بھگ دو دہائی قبل بسنت صبح صادق سے غروب آفتاب تک ہی منائی جاتی تھی۔ لوگ بسنت سے قبل رات کو دیر تک جاگتے تھے اور اپنی اپنی گڈیوں کو طنابیں ڈالتے تھے۔ اس رات کو لاہور کی روایت میں طنابوں و الی رات کہا جاتا تھا بہت سے لوگ تو سفید رنگ کا نخلوقاٹ بھی اڑاتے تھے
تاکہ اگر کسی کی پتنگ کٹے تو اس کو چوموڑ سکیں اور بعض تو شڑلا اڑاتے تھے تاکہ بڑے گڈوں کو چپ کر کے ہاتھ پھیر سکیں
ہنسی مذاق، گڈی اور ڈور کے معیار کی جانچ پڑتال اور کھانے میں کشمیری چائے، دال چاول، گاجر کا حلوہ اور مونگ پھلی اس رات کا خاصا ہوا کرتے تھے۔
اکثر اوقات بسنت کی چاند رات کو حسب معمول ہوا چلی جاتی اور مجھے اچھی طرح یاد ہے کہ ہم کڈوں کو تنکے مار مار کے اڑانے کی کوشش کرتے مگر ناکام ہم تمام بہن بھائی اپنے تایا کے گھر گوالمنڈی اور نسبت روڈ چلے جاتے تھے جہاں پر ساری رات پتنگ بازی ہوتی مگر اپنے بروں کے کہنے پر ہم اس شرط پر جلدی سو جاتے کہ صبح اٹھ کر سب سے پہلے بو کاٹا کی اواز ہمارے ہی گھر سے بلند ہو یہاں تک کہ رات چھتوں پر ہی سو جایا کرتے تھے اور صبح کا ناشتہ بھی وہیں ا جایا کرتا تھا رات بھر اللہ بخشے میری تائی پاوے تر لیا کرتی تھی اور صبح صبح گرم گرم کلچے اور پائے کے ساتھ ناشتہ بھی چھت پر ہی کیا جاتا تھا
پھر دوپہر کو مہمانوں کا انے کا سلسلہ جاری رہتا مزے مزے کے کھانے پی پکائے جاتے چھوٹے بچوں کو ہرگز اس بات کی اجازت نہ تھی کہ وہ کوئی پتنگ یا گڈی اڑا سکیں تاکہ پیچے میں کوئی خلل نہ ائے ہم سب چونکہ بڑے پیچے باز نہ تھے مگر اس فیسٹیول کو بھرپور طریقے سے انجوائے کرتے تھے
غروب آفتاب سے کچھ در پہلے جب باقی لوگ تھک جاتے تو محلے سے سب تجربہ کار پتنگ باز یا استاد جی بہت بڑے پتنگ اّڑا کر شام کلیان پیچا لگاتے
غروب آفتاب کے وقت بسنت کے تہوار کو بھنگڑے اور آتش بازی سے رخصت کیا جاتا تھا۔ گھر کے بڑے بانس اور اس پر لگی گڈیاں لوٹنے کے لئے کام آنے والی جھاڑی کی خاردار ٹہنی کو آگ لگا دیا کرتے تھے۔ بعض گھروں میں تو بسنت پر بچ جانے والی ڈور اور گڈیوں کو بھی نذر آتش کر دیا جاتا تھا جو اس بات کا اشارہ ہوا کرتا تھا کہ اس دن کے بعد بچوں نے ساراسال پڑھائی پر توجہ دینی ہے اور نوجوانوں کو روزگار پر۔
مجھے اچھے سے یاد ہے کہ شام ڈھلے جب ہم شاہی محلے کا رخ کرتے جہاں پر رونقیں عروج پر ہوتی علی پارک کی پچھلی طرف جو تمام چھتیں تھیں وہ گانوں سے گونج اٹھتی کہیں پر مجرہ ہو رہا ہے اور کہیں پر بھڑکھیں ماڑی جا رہی ہیں فریحہ پرویز کے گانے کے دل ہوا بو کاٹا پر جو بھنگڑا ڈالا جاتا تھا ابھی تحریر لیتے ہوئے میرے اندر بھنگڑے کی کیفیت ہے
سوجی کا دیسی گھی کا حلوہ اور گرما گرم جلیبیوں کا سواد میں اب بھی محسوس کر رہا ہوں ہاں اگر ساتھ نہیں ہے تو ان دوستوں کا جو ان 18 سالوں میں اس دنیا سے چلے گئے بزرگوں کا جن کی محفلوں میں ہم پسند کے تہوار کو بہت انجوائے کرتے تھے اج یہ تمام اپنے ساتھ نہیں اور نئی نسل کو پسنت کا کیا پتہ اب تو شاید بہت سے لوگوں کا پیچے کا حافظہ بھی جا چکا ہو بسنت کے لیے سوچ اور جذبے کا جنم لینا بہت ضروری ہے اس کے بغیر یہ تہوار منایا ہی نہیں جا سکتا مگر یہ سوچ اور جذبات سے 18 سال قبل ختم ہو چکا ہے یقینا مجھ جیسے کئ لاہوریوں کے دلوں میں اس تہوار کی وہ خوشی نہیں ہوگی جو اج سے کئی سالوں قبل تھی
حالیہ واقعوں نے اس قدر خوف میں مبتلا کر دیا ہے اور خاص طور پر جب کسی اپنے عزیز کے گردن کو کٹتے ہوئے دیکھا کو یقین کیجئے اب یہ شوق بھی جاتا رہا اخر میں میں یہ شعر کہہ کے اپنی تحریر کو ختم کروں گا اگرچہ بہت سی یاد اب بھی میرے دل میں ہے
کچھ وعدے قسمیں یادیں تھیں
کچھ کہہ کے تھے فریادیں تھی
کچھ چہرے تھے جو بھائے تھے
کچھ دھوکے تھے جو کھائے تھے
اب پاس میرے کچھ بھی نہیں
بس یادوں کی زنجیریں ہیں
کچھ لفظ مٹی تحریریں ہیں
کچھ رنگ اڑی تصویریں ہیں

تحریر پسند ائے تو اپنی رائے ضرور دیجئے گا اور اگر اپ کی بھی بسنت کی یادیں ہیں تو کمنٹ میں ضرور بتائیے گا
لاہور جو ایک شہر تھا اب ایک ہجوم ہے
فقط اپ کا عادل لاھوری البسنتوی ول دکھوی ۔۔

انار کلی کا 60 کی دہائی کا خوبصورت منظر بے شمار دکانیں ابھی موجود ہیں مگر کاروبار کی نوعیت بالکل بدل چکی ہے لکھنو تمباکو...
22/01/2026

انار کلی کا 60 کی دہائی کا خوبصورت منظر بے شمار دکانیں ابھی موجود ہیں مگر کاروبار کی نوعیت بالکل بدل چکی ہے لکھنو تمباکو شاپ جو کہ اب پرفیوم اور ہوزری میں بدل چکی ہے لوہاری کی لکھن ولیوں اور وچھووالی کی لاجو جی ارکلی میں خاصی مقبول تھیں قیام پاکستان سے قبل لاہور میں پرفیوم کے کاروبار سے منسلک زیادہ تر سکھ حضرات تھے جن کا تعلق ہوشیار پور اور امبرسر سے تھا اور بٹوارے کے بعد دہلی اور لکھنو سے بہت بڑی تعداد میں پرفیوم کا کاروبار کرنے والے حضرات اج بھی نسل در نسل یہی کاروبار کر رہے ہیں ان کے بارے میں مزید تفصیل سے اگلی پوسٹ میں لکھوں گا
تحریر عادل لاہوری

جانے کہاں گئے وہ خوبصورت دن ۔۔۔ایک وہ وقت بھی تھا جب "دوکاندار کے پاس کھوٹا سکا چلا دینا ہی سب سے بڑا فراڈ سمجھا جاتا تھ...
15/12/2025

جانے کہاں گئے وہ خوبصورت دن ۔۔۔

ایک وہ وقت بھی تھا جب "دوکاندار کے پاس کھوٹا سکا چلا دینا ہی سب سے بڑا فراڈ سمجھا جاتا تھا۔ 🤔

یہ ان دنوں کا ذکر ہے جب:

٭ماسٹر اگر بچے کو مارتا تھا تو بچہ گھر آکر اپنے باپ کو نہیں بتاتا تھا۔
اور اگر بتاتا تو باپ اْسے ایک اور تھپڑ رسید کردیتا تھا ۔❤👍🤔

٭یہ وہ دور تھا جب ’’اکیڈمی‘‘کا کوئی تصّور نہ تھا اور ٹیوشن پڑھنے والے بچے نکمے شمار ہوتے تھے۔🤔

٭بڑے بھائیوں کے کپڑے چھوٹے بھائیوں کے استعمال میں آتے تھے اور یہ کوئی معیوب بات نہیں سمجھی جاتی تھی۔👍❤🤔

٭لڑائی کے موقع پر کوئی ہتھیار نہیں نکالتا تھا۔ صرف اتنا کہنا کافی ہوتا ’’ میں تمہارے ابا جی سے شکایت کروں گا۔‘‘ یہ سنتے ہی اکثر مخالف فریق کا خون خشک ہوجاتا تھا۔👍❤🤔

٭اْس وقت کے اباجی بھی کمال کے تھے۔
صبح سویرے فجر کے وقت کڑکدار آواز میں سب کو نماز کے لیے اٹھا دیا کرتے تھے۔بے طلب عبادتیں کرنا ہر گھرکا معمول تھا۔❤👍🤔

٭کسی گھر میں مہمان آجاتا تو اِردگرد کے ہمسائے حسرت بھری نظروں سے اْس گھر کودیکھنے لگتے اور فرمائشیں کی جاتیں کہ ’’ مہمانوں ‘‘ کو ہمارے گھر بھی لے کرآئیں۔جس گھر میں مہمان آتا تھا وہاں پیٹی میں رکھے فینائل کی خوشبو ملے بستر نکالے جاتے ۔
خوش آمدید اور شعروں کی کڑھائی والے تکئے رکھے جاتے ۔
مہمان کے لیے دھلا ہوا تولیہ لٹکایا جاتااورغسل خانے میں نئے صابن کی ٹکیا رکھی جاتی تھی۔👍🤔

٭جس دن مہمان نے رخصت ہونا ہوتا تھا۔
سارے گھر والوں کی آنکھوں میں اداسی کے آنسو ہوتے تھے۔ مہمان جاتے ہوئے کسی چھوٹے بچے کو دس روپے کا نوٹ پکڑانے کی کوشش کرتا تو پورا گھر اس پر احتجاج کرتے ہوئے نوٹ واپس کرنے میں لگ جاتا ۔
تاہم مہمان بہرصورت یہ نوٹ دے کر ہی جاتا۔👍❤🤔

٭شادی بیاہوں میں سارا محلہ شریک ہوتا تھا۔
شادی غمی میں آنے جانے کے لیے ایک جوڑا کپڑوں کا علیحدہ سے رکھا جاتا تھا جو اِسی موقع پر استعمال میں لایا جاتا تھا۔
جس گھر میں شادی ہوتی تھی اْن کے مہمان اکثر محلے کے دیگر گھروں میں ٹھہرائے جاتے تھے۔
محلے کی جس لڑکی کی شادی ہوتی تھی بعد میں پورا محلہ باری باری میاں بیوی کی دعوت کرتا تھا۔👍❤🤔

٭کبھی کسی نے اپنا عقیدہ کسی پر تھوپنے کی کوشش نہیں کی۔ کبھی کافر کافر کے نعرے نہیں لگے۔
سب کا رونا ہنسنا سانجھا تھا۔
سب کے دْکھ ایک جیسے تھے ۔👍❤
جانے کہاں گئے وہ دن ۔۔۔

کیا آپکو یاد ہے کچھ
13/12/2025

کیا آپکو یاد ہے کچھ

Address

Bhatti Gate Androon Lahore
Lahore
54000

Opening Hours

Monday 09:00 - 17:00
Tuesday 09:00 - 17:00
Wednesday 09:00 - 17:00
Thursday 09:00 - 17:00
Friday 09:00 - 17:00
Saturday 09:00 - 17:00
Sunday 09:00 - 17:00

Website

Alerts

Be the first to know and let us send you an email when Lahore Heritage Foundation posts news and promotions. Your email address will not be used for any other purpose, and you can unsubscribe at any time.

Shortcuts

Share