Lahore Heritage Foundation

Lahore Heritage Foundation Lahore Heritage Foundation is non profit organization for the betterment of our rich culture and heritage of Lahore

16/03/2026

گئے زمانوں کی خوبصورت یادیں جب ہمیں عید کے دن ایک روپے دو روپے اور پانچ روپے عیدی ملتی تھی تو خوشی کی انتہا نہیں رہتی تھی سارا سارا دن کھانے کے بعد پھر بھی پیسے بچ جاتے تھے ان پیسوں میں برکت تھی افرا تفری تو اس زمانے میں بھی ہوگی مگر لالچ شاید کم
ہم رہ گئے ہمارا زمانہ چلا گیا

امرتسر میں بچپن کا رمضان اور سحری اے حمید نے امرتسر میں اپنے بچپن کی ایک سحری اور دہی لانے کا نقشہ کچھ ایسا کھینچا کہ بی...
12/03/2026

امرتسر میں بچپن کا رمضان اور سحری
اے حمید نے امرتسر میں اپنے بچپن کی ایک سحری اور دہی لانے کا نقشہ کچھ ایسا کھینچا کہ بیسیوں دفعہ پڑھ چکا ہوں لیکن ہر دفعہ وہی مزا ۔ آپ بھی دس منٹ لگا کر پڑھیں ۔ وقت رائیگاں نہیں جائے گا ۔

قیام پاکستان سے پہلے کا زمانہ ، دسمبر کی سرد ٹھٹھرتی رات کا پچھلا پہر، امرتسر شہر کے مکانوں کی چھتوں ، منڈیروں ، آنگنوں ، میدانوں اور باغوں پر کہرے کی لطیف یخ چادر سی بچھی ہے ۔ امرود کے اجڑتے ہوئے باغوں میں بے برگ وبار درختوں سے ٹھنڈی ٹھنڈی اوس ٹپک رہی ہے ۔سحری کا وقت شروع ہو گیا ہے ۔ ہماری گلی بیدار ہو رہی ہے ۔ دور سے ڈھول بجانے والے کی آواز آئی ہے ۔
ڈھول بجانے والا مگرابھی ہمارے محلے میں نہیں پہنچا ۔ وہ بجلی والے چوک یا مسجد خیرالدین کے آس پاس ہے ۔ایک بار بڑے زورشور سے ڈھول بجا کر اس نے آواز لگائی ہے ، ’’جاگو ! اللہ کے پیارو ! جلال دین آگیا ! سوتوں کو جگا گیا ! ‘‘میں پلنگ پر اپنے لحاف میں دبکے ہوئے دور سے یہ آواز سنتا ہوں ۔باہر صحن میں آپوجی( والدہ ) کے چلنے اور برتن اٹھانے رکھنے کی آواز آ رہی ہے۔سامنے والی مسجد میں موذن ٹونٹی کھول کے وضو کر رہا ہے اور زور سے کھانس کر اپنا گلا بھی صاف کر رہا ہے ۔ کہیں کہیں مسلمانوں کے مکانوں سے پانی بہنے کی آوازیں آنے لگی ہیں ۔آپو جی نے باورچی خانے سے میری بڑی بہن سرور کو آواز دی ہے ۔’ آج اٹھنا نہیں بانو ! ‘بانو کلمہ پڑھتے ہوئے اٹھ بیٹھی ہے اوردوپٹہ اوڑھ کر باہر صحن میں آ گئی ہے ۔مییں آنکھوں پر لحاف ذرا سے اٹھائے طاق پرجلتے ہوئے کڑوے تیل کے دیے کو دیکھ رہا ہوں ۔ مجھے اس کی لو میں روشنی اور نور کی ننھی منی پریاں ناچتی نظر آ رہی ہیں ۔

’ وے حمید ، وے اٹھ وے ، دہی لیا ۔‘ آپو جی کی آواز آتی ہے ۔ مجھے نیند بھی آ رہی ہے ، لیکن سحری کے وقت گلی میں نکلنے کا شوق بھی ہے ۔ ان لوگوں کو دیکھنے کا شوق جو ڈھول تاشے بجاتے روزہ داروں کو جگاتے ہیں۔ پکی گلی کی طرف سے گانے والوں کی ٹولی کی آواز آئی ہے ،

جلوہ گر ، جلوہ گر ، جلوہ گر ہو گیا
شاہ ِ جن وبشر جلوہ گر ہو گیا

سامنے والی مسجد کے موذن نے سحری کے شروع ہونے کی نوبت بجا دی ہے ، دھما دھم ، دھما دھم ، دھما دھم۔ میں لحاف سے آنکھیں ملتا ہوا اٹھا ہوں اور باہر صحن میں آ گیا ہوں ۔ باورچی خانے کے دروازے پر نمدا پڑا ہے ۔میں نمدا اٹھا کر اندر جاتا ہوں ۔ باورچی خانے کی فضا گرم ہے ، جیسے کسی نے اسکو گرم شال اوڑھا دی ہے ۔آپو جی نے دونوں چولہے جلا رکھے ہیں ۔ دیواروںپر لکڑی کے شعلوں کی چمک پھیلی ہوئی ہے ۔ایک چولہے پر رات کا پکا پالک کا ساگ گرم ہو رہا ہے ۔دوسرے چولہے پر سبز چائے دم ہو رہی ہے ۔

چائے کی خوشبو اڑ رہی ہے ۔ آپو جی کا سرخ وسفید گول کشمیری چہرہ چائے کی خوشبو اور آگ کی روشنی میں دمک رہا ہے ۔میں دہی کا برتن اٹھا کر باہر جانے لگتا ہوں کہ آپو جی ڈانٹ کر کہتی ہیں ،’’ فرد لے کے جاویں وے ۔ ‘‘( یعنی کشمیری شال اوڑھ کر جانا ) ۔ میں فرد سے بڑا گھبراتا ہوں ۔ میں ابھی چھوٹا ہوں ۔ دس بارہ سال کی عمر ہو گی ۔فرد بڑی ہے ۔ وہ گلی میں مجھ سے سنبھالے نہیں سنبھلتی ہے ۔ ویسے بھی اس عمر میں سردی کم ہی لگا کرتی ہے ۔ پھر ہم غریب محنتی ماں باپ کی اولاد سردیوں میں ننگے پیر ہی گلیوں میں بھاگتے پھرا کرتے ہیں ۔کبھی زکام تک نہیں ہوا ۔
میں ٹھنڈا کٹورا ہاتھ میں لیے گلی میں آ گیا ہوں ۔ آسمان پر چمکیلے ستارے بڑے بڑے موتیوں کی طرح چمک رہے ہیں۔گلی دور تک سنسان ہے ۔مسجد کے کنویں میں برکت ماشکی بوکے نکال نکال کر مشک بھر رہا ہے۔کنویں کی چرخی کی چیوں چیوں گلی کی خاموش فضا میں گونج رہی ہے ۔ برکت ماشکی اپنے بچپن سے لوگوں کے گھروں میں پانی بھر رہا ہے ۔ اب بوڑھا ہو گیا ہے ۔ کمر جھک گئی ہے ۔ ہاتھوں اور پنڈلیوں کی سبز رگیں پھول گئی ہیں ۔ وہ کنویں میں سے پانی نکالتے ہوئے گا بھی رہا ہے ،

’’کدی میں وی مدینے جاواں ‘‘

میں گلی کے موڑ پر ہوں ۔ ڈھول والا بازار میں پہنچ گیا ہے ۔ بڑے زوردار انداز میں ڈھول کو پیٹا ہے ، دھڑ دھڑ دھڑ ، اور آ واز لگائی ہے ،’جاگو ، اللہ کے پیارو ، جلال دین آ گیا ، سوتوں کو جگا گیا ۔‘میں بڑے اشتیاق سے اسے دیکھ رہا ہوں ۔ وہ دکان پر بیٹھے ہوئے میرے والد سے پوچھتا ہے ، خلیفہ جی ، ’کیہ وج گیا اے ۔‘اور پھراس طرح ڈھول بجاتا ہوا تیز تیز قدموں سے آگے نکل گیا ہے ۔ ڈاک خانے کے پاس گونگے کا تیزاور تلخ بگل گونج اٹھا ہے ۔ میں دہی ڈلوا کر واپس گلی میں مڑ رہا ہوں کہ گونگے کے بگل کی آواز بہت ہی قریب سے گونجتی ہے ۔اب وہ ہاتھ میں بگل تھامے بھاگتا ہوا بازار میں نمودار ہوا ہے ۔ گلی کی طرف منہ کرکے زور سے بگل بجایا ہے اور ٹارزن کی آواز میں وحشی چیخ مار کے آگے نکل گیا ہے ۔میں گھر کے پاس پہنچ گیا ہوں ۔ سامنے نعت خوانوں کی ٹولی کے گیس کی روشنیاں گلی میں جھلملا رہی ہیں ۔ انکو دیکھ کر میں مسجد کے تھڑے پرکھڑا ہو گیا ہوں ۔ ٹولی سبز رنگ کے گوٹہ کناری لگے جھلملاتے جھنڈے اٹھائے نعت پڑھتی آ رہی ہے ۔ وہ مسجد کے سامنے آ کے کھڑی ہو گئی ہے ۔
انھوں نے سروں پر سبز صافے باندھ رکھے ہیں ۔ آگے ایک آدمی نے گیس اٹھا رکھا ہے ۔گیس کی روشنی میں نعت خوانوں کے چہرے چمک رہے ہیں اور سردی میں گاتے وقت منہ سے بھاپ نکل رہی ہے۔میں فرد میں لپٹا ، دہی کا کٹورا ہاتھ میں لیے ، مسجد کے تھڑے پر کھڑا ، گردن ایک طرف ڈھلکائے آنکھیں سکیڑے اس ٹولی کو نعت پڑھتے ہوئے دیکھتا ہوں۔ مجھے ان ٹولیوں کو دیکھنے کا بڑا شوق ہے ۔
اکثر وہ میرے سوتے ہوئے ہی گلی میں سے نعتیں پـڑھتی نکل جایا کرتی ہیں ۔ لیکن جب میری آنکھ کھل جائے تو میں بھاگ کر کھڑکی میں کھڑا ہو جاتا ہوں ، یا گلی میں نکل آتا ہوں ۔ مجھے یوں لگتا ہے کہ جیسے نعت خوانوں کی یہ ٹولیاں خیال کی دنیا سے آتی ہیں اور خوابوں کی سرزمیں کو چلی جاتی ہیں ۔موذن مسجد کے رونث پر بیٹھا ہے ۔ وہ مجھے تھڑے پر اس طرح کھڑے دیکھ کر کہتا ہے ’اوے دہی لے کے گھر جا۔‘ عمدو کاکا نانبائی کے تنور سے نارنجی رنگ کے شعلے نکل کرچھت کو چھو رہے ہیں۔گامی سینڈو دونوں ہاتھوں سے میدے کے پیڑے بنا بنا کر تختے پر ساتھ ساتھ جوڑے جا رہا ہے۔ عمدو کاکا کٹورے میں دودھ اور کھجوریں بھگو رہا ہے۔ بودی چوکیدار منہ سر لپیٹے ڈنڈا ہاتھ میں لیے بنچ پر بیٹھا سگریٹ پی رہا ہے ۔
اس کابادامی رنگ کا کتا اس کے پاؤں میں سکڑا بیٹھا ہے ۔بودی اپنی طرز کا انوکھا پہرے دار ہے ۔ وہ ساری رات بوٹ پیٹی کے منہ سر لپیٹے بنچ پر دراز رہتا ہے ۔ادھر ادھر کہیں کوئی کھٹکا ہو تو کتا ہی جا کے خبر لاتا ہے ۔ بودی اپنی جگہ سے ہر گز نہیں ہلتا ۔ بودی ہر فن مولا بھی ہے ۔محلے میں کسی کا پنکھا ، گراموفون مشین ، بجلی کی استری ، تالہ ، کچھ خراب ہو ، بودی اسے ایک دم سارا کھول کر ٹھیک کر دیتا ہے ۔ گلی کے ہر گھر کے باورچی خانے میں لیمپ روشن ہیں۔ کہیں کہیں پرنالوں سے پانی گرنے کی آوازیں بھی آ رہی ہیں۔ جھکی ہوئی کمر والا بوڑھا گاماں ماشکی کمر پر پانی سے بھری ہوئی مشک لیے میرے قریب سے گزرا ہے ۔ چمڑے کی گیلی مشک سے پانی کے قطرے ٹپک رہے ہیں۔ اتنی سردی میں بھی وہ صبح صبح لوگوں کے یہاں پانی بھرتا ہے ، خدا جانے اسے سردی کیوں نہیں لگتی ۔ میں سوچتا ہوں میں دہی لے کر اپنے گھر آ گیا ہوں ۔ گھر میں سبھی جاگ چکے ہیں ۔ سحری تیار ہو چکی ہے۔مجھے لگا کہ باہرایک اور نعت خواں ٹولی نعت پڑھتی ہوئی گزر رہی ہے ،

تینڈی سواری یا نبی عرش بریں اتے گئی اے
دیکھ کے جلوہ طور تے ، موسیٰ نوں ہوش نہ رہی اے

میں پھر کھڑکی کی طرف بھاگتاہوں ، ٹولی گیس کی روشنی میں سبز جھنڈے لہراتی گلی کا موڑ مڑ رہی ہے ،اور تھوڑی دیر میں وہاں کوئی بھی نہیں تھا ۔
یہاں پہنچ کر اے حمید صاحب کی آواز بھرا گئی۔ ان کی آنکھوں میں تیرتی نمی دیکھی جا سکتی تھی ۔ناصر کاظمی نے کہا تھا ،
دھیان کے آتش دان میں ناصرؔ
بجھے دنوں کا ڈھیر پڑا ہے!

لو پھر بسنت ائی میں بہت عرصے سے یہ سوچ رہا تھا کہ بسنت کے بارے میں کچھ نہ کچھ ضرور لکھوں چونکہ اس کے ساتھ میرے بچپن کی ب...
24/01/2026

لو پھر بسنت ائی
میں بہت عرصے سے یہ سوچ رہا تھا کہ بسنت کے بارے میں کچھ نہ کچھ ضرور لکھوں چونکہ اس کے ساتھ میرے بچپن کی بہت سی یادیں جڑی ہوئی ہیں نہ وہ بسنت بنانے والے میرے یار دوست رہے اور نہ ہی وہ رشتہ دار جن کی وجہ سے لاہور کی چھتوں پر رونک ہوا کرتی تھی اج بھی شاہ عالمی اور گوالمنڈی کا وہ منظر یاد ہے جہاں پر ایسی رونق ہوا کرتی تھیں جو شاید اس بار نہ ہو چونکہ یہ بسنت جو کہ عام ادمی کا تہوار تھا اب خاص کے لیے ہو چکا ہے اور یہ بھی کیا بسنت کہ صرف تین دن کے لیے یہ حلال ہو اور پھر پورا سال حرام ہو البتہ ان تین دنوں کے بعد مجھے یہ خوف ہےکہ لوگوں کا بچا ہوا مال سارا سال استعمال نہ ہو پھر کسی نہ کسی کا گلا کٹے اور کوئی خاندان اپنوں کے غم میں انسو بہائے مجھے امید ہے حکومت پنجاب تمام ایس او پیز پہ سخت سے عمل پیرا کروائیں گے
اگرچہ حکومت نے اس دفعہ بسنت منانے کا اعلان تو کر دیا جو کہ ایک خوش ائند عمل ہے مگر پھر بھی نہ جانے میرے دل میں اس اعلان کے لیے کوئی خوشی نہیں مجھے ایسا لگ رہا ہے جیسے ہم زبردستی کی بسنت منانے لگے ہیں میں اپ کے ساتھ کچھ ماضی اور اپنے بچپن کی یادوں کو بھی شیئر کرتا ہوں
پتنگ بازی ایک ایسا کھیل ہے جس کے متعلق نہ تو کسی طرح کے اصول ضوابط مرتب کئے گئے ہیں اور نہ ہی اس سے متعلق قوانین کی کوئی کتاب موجود ہے۔ بسنت منانے کی روایت اور طریقہ سینہ بسینہ ایک نسل سے دوسری نسل کو منتقل ہوتا رہتا ہے۔
تجربہ کار لوگ نوجوان پتنگ بازوں کو جو پہلا سبق پڑھاتےہیں وہ یہ ہے کہ پتنگ بازی کے دوران نہ کوئی جھگڑا ہونا چاہیے اور نہ ہی کوئی فاؤل اور یہی وجہ تھی کہ میں نے بچپن میں کبھی کسی پتنگ باز کو جھگڑتے لڑتے نہیں دیکھا ہمارے اپنے گھروں کی چھتوں پر ہفتے میں ایک بار تو پیچے ضرور ہوتے تھے مجھے اچھی طرح یاد ہے کہ موچی دروازے کے باغ میں بسنت کی تیاری کے لیے کئی مہینوں پہلے ڈور کی تیاری کا سلسلہ شروع ہو جاتا تھا لاہور کے بہترین مانجھا لگانے والے کاریگر بسنت کے دنوں کی راہ تکتے اور موچی کے باغ میں رونکیں لگ جاتی نامی گرامی پتنگ باز اپنی مرضی سے مانجہ لگواتے اور بہت سے لوگوں کو مشورہ بھی دیتے ہیں
پتنگ لوٹنا اور دوسروں کی ڈور توڑنا لاہور میں کبھی بھی عزت کا کام نہیں رہا۔ ہر علاقے میں ایک یا دو گھر ایسا کرتے آئے ہیں مگر لوگ انہیں لٹیرے کے نام سے یاد کرتے ہیں۔
یہ لٹیرے لوٹ کے مال سے دوسرے دن بسنت منایا کرتے تھے مگر اب وہ لوٹی ہوئی گڈیوں اور ڈور کو سستے داموں بیچ دیتے ہیں۔
لگ بھگ دو دہائی قبل بسنت صبح صادق سے غروب آفتاب تک ہی منائی جاتی تھی۔ لوگ بسنت سے قبل رات کو دیر تک جاگتے تھے اور اپنی اپنی گڈیوں کو طنابیں ڈالتے تھے۔ اس رات کو لاہور کی روایت میں طنابوں و الی رات کہا جاتا تھا بہت سے لوگ تو سفید رنگ کا نخلوقاٹ بھی اڑاتے تھے
تاکہ اگر کسی کی پتنگ کٹے تو اس کو چوموڑ سکیں اور بعض تو شڑلا اڑاتے تھے تاکہ بڑے گڈوں کو چپ کر کے ہاتھ پھیر سکیں
ہنسی مذاق، گڈی اور ڈور کے معیار کی جانچ پڑتال اور کھانے میں کشمیری چائے، دال چاول، گاجر کا حلوہ اور مونگ پھلی اس رات کا خاصا ہوا کرتے تھے۔
اکثر اوقات بسنت کی چاند رات کو حسب معمول ہوا چلی جاتی اور مجھے اچھی طرح یاد ہے کہ ہم کڈوں کو تنکے مار مار کے اڑانے کی کوشش کرتے مگر ناکام ہم تمام بہن بھائی اپنے تایا کے گھر گوالمنڈی اور نسبت روڈ چلے جاتے تھے جہاں پر ساری رات پتنگ بازی ہوتی مگر اپنے بروں کے کہنے پر ہم اس شرط پر جلدی سو جاتے کہ صبح اٹھ کر سب سے پہلے بو کاٹا کی اواز ہمارے ہی گھر سے بلند ہو یہاں تک کہ رات چھتوں پر ہی سو جایا کرتے تھے اور صبح کا ناشتہ بھی وہیں ا جایا کرتا تھا رات بھر اللہ بخشے میری تائی پاوے تر لیا کرتی تھی اور صبح صبح گرم گرم کلچے اور پائے کے ساتھ ناشتہ بھی چھت پر ہی کیا جاتا تھا
پھر دوپہر کو مہمانوں کا انے کا سلسلہ جاری رہتا مزے مزے کے کھانے پی پکائے جاتے چھوٹے بچوں کو ہرگز اس بات کی اجازت نہ تھی کہ وہ کوئی پتنگ یا گڈی اڑا سکیں تاکہ پیچے میں کوئی خلل نہ ائے ہم سب چونکہ بڑے پیچے باز نہ تھے مگر اس فیسٹیول کو بھرپور طریقے سے انجوائے کرتے تھے
غروب آفتاب سے کچھ در پہلے جب باقی لوگ تھک جاتے تو محلے سے سب تجربہ کار پتنگ باز یا استاد جی بہت بڑے پتنگ اّڑا کر شام کلیان پیچا لگاتے
غروب آفتاب کے وقت بسنت کے تہوار کو بھنگڑے اور آتش بازی سے رخصت کیا جاتا تھا۔ گھر کے بڑے بانس اور اس پر لگی گڈیاں لوٹنے کے لئے کام آنے والی جھاڑی کی خاردار ٹہنی کو آگ لگا دیا کرتے تھے۔ بعض گھروں میں تو بسنت پر بچ جانے والی ڈور اور گڈیوں کو بھی نذر آتش کر دیا جاتا تھا جو اس بات کا اشارہ ہوا کرتا تھا کہ اس دن کے بعد بچوں نے ساراسال پڑھائی پر توجہ دینی ہے اور نوجوانوں کو روزگار پر۔
مجھے اچھے سے یاد ہے کہ شام ڈھلے جب ہم شاہی محلے کا رخ کرتے جہاں پر رونقیں عروج پر ہوتی علی پارک کی پچھلی طرف جو تمام چھتیں تھیں وہ گانوں سے گونج اٹھتی کہیں پر مجرہ ہو رہا ہے اور کہیں پر بھڑکھیں ماڑی جا رہی ہیں فریحہ پرویز کے گانے کے دل ہوا بو کاٹا پر جو بھنگڑا ڈالا جاتا تھا ابھی تحریر لیتے ہوئے میرے اندر بھنگڑے کی کیفیت ہے
سوجی کا دیسی گھی کا حلوہ اور گرما گرم جلیبیوں کا سواد میں اب بھی محسوس کر رہا ہوں ہاں اگر ساتھ نہیں ہے تو ان دوستوں کا جو ان 18 سالوں میں اس دنیا سے چلے گئے بزرگوں کا جن کی محفلوں میں ہم پسند کے تہوار کو بہت انجوائے کرتے تھے اج یہ تمام اپنے ساتھ نہیں اور نئی نسل کو پسنت کا کیا پتہ اب تو شاید بہت سے لوگوں کا پیچے کا حافظہ بھی جا چکا ہو بسنت کے لیے سوچ اور جذبے کا جنم لینا بہت ضروری ہے اس کے بغیر یہ تہوار منایا ہی نہیں جا سکتا مگر یہ سوچ اور جذبات سے 18 سال قبل ختم ہو چکا ہے یقینا مجھ جیسے کئ لاہوریوں کے دلوں میں اس تہوار کی وہ خوشی نہیں ہوگی جو اج سے کئی سالوں قبل تھی
حالیہ واقعوں نے اس قدر خوف میں مبتلا کر دیا ہے اور خاص طور پر جب کسی اپنے عزیز کے گردن کو کٹتے ہوئے دیکھا کو یقین کیجئے اب یہ شوق بھی جاتا رہا اخر میں میں یہ شعر کہہ کے اپنی تحریر کو ختم کروں گا اگرچہ بہت سی یاد اب بھی میرے دل میں ہے
کچھ وعدے قسمیں یادیں تھیں
کچھ کہہ کے تھے فریادیں تھی
کچھ چہرے تھے جو بھائے تھے
کچھ دھوکے تھے جو کھائے تھے
اب پاس میرے کچھ بھی نہیں
بس یادوں کی زنجیریں ہیں
کچھ لفظ مٹی تحریریں ہیں
کچھ رنگ اڑی تصویریں ہیں

تحریر پسند ائے تو اپنی رائے ضرور دیجئے گا اور اگر اپ کی بھی بسنت کی یادیں ہیں تو کمنٹ میں ضرور بتائیے گا
لاہور جو ایک شہر تھا اب ایک ہجوم ہے
فقط اپ کا عادل لاھوری البسنتوی ول دکھوی ۔۔

انار کلی کا 60 کی دہائی کا خوبصورت منظر بے شمار دکانیں ابھی موجود ہیں مگر کاروبار کی نوعیت بالکل بدل چکی ہے لکھنو تمباکو...
22/01/2026

انار کلی کا 60 کی دہائی کا خوبصورت منظر بے شمار دکانیں ابھی موجود ہیں مگر کاروبار کی نوعیت بالکل بدل چکی ہے لکھنو تمباکو شاپ جو کہ اب پرفیوم اور ہوزری میں بدل چکی ہے لوہاری کی لکھن ولیوں اور وچھووالی کی لاجو جی ارکلی میں خاصی مقبول تھیں قیام پاکستان سے قبل لاہور میں پرفیوم کے کاروبار سے منسلک زیادہ تر سکھ حضرات تھے جن کا تعلق ہوشیار پور اور امبرسر سے تھا اور بٹوارے کے بعد دہلی اور لکھنو سے بہت بڑی تعداد میں پرفیوم کا کاروبار کرنے والے حضرات اج بھی نسل در نسل یہی کاروبار کر رہے ہیں ان کے بارے میں مزید تفصیل سے اگلی پوسٹ میں لکھوں گا
تحریر عادل لاہوری

جانے کہاں گئے وہ خوبصورت دن ۔۔۔ایک وہ وقت بھی تھا جب "دوکاندار کے پاس کھوٹا سکا چلا دینا ہی سب سے بڑا فراڈ سمجھا جاتا تھ...
15/12/2025

جانے کہاں گئے وہ خوبصورت دن ۔۔۔

ایک وہ وقت بھی تھا جب "دوکاندار کے پاس کھوٹا سکا چلا دینا ہی سب سے بڑا فراڈ سمجھا جاتا تھا۔ 🤔

یہ ان دنوں کا ذکر ہے جب:

٭ماسٹر اگر بچے کو مارتا تھا تو بچہ گھر آکر اپنے باپ کو نہیں بتاتا تھا۔
اور اگر بتاتا تو باپ اْسے ایک اور تھپڑ رسید کردیتا تھا ۔❤👍🤔

٭یہ وہ دور تھا جب ’’اکیڈمی‘‘کا کوئی تصّور نہ تھا اور ٹیوشن پڑھنے والے بچے نکمے شمار ہوتے تھے۔🤔

٭بڑے بھائیوں کے کپڑے چھوٹے بھائیوں کے استعمال میں آتے تھے اور یہ کوئی معیوب بات نہیں سمجھی جاتی تھی۔👍❤🤔

٭لڑائی کے موقع پر کوئی ہتھیار نہیں نکالتا تھا۔ صرف اتنا کہنا کافی ہوتا ’’ میں تمہارے ابا جی سے شکایت کروں گا۔‘‘ یہ سنتے ہی اکثر مخالف فریق کا خون خشک ہوجاتا تھا۔👍❤🤔

٭اْس وقت کے اباجی بھی کمال کے تھے۔
صبح سویرے فجر کے وقت کڑکدار آواز میں سب کو نماز کے لیے اٹھا دیا کرتے تھے۔بے طلب عبادتیں کرنا ہر گھرکا معمول تھا۔❤👍🤔

٭کسی گھر میں مہمان آجاتا تو اِردگرد کے ہمسائے حسرت بھری نظروں سے اْس گھر کودیکھنے لگتے اور فرمائشیں کی جاتیں کہ ’’ مہمانوں ‘‘ کو ہمارے گھر بھی لے کرآئیں۔جس گھر میں مہمان آتا تھا وہاں پیٹی میں رکھے فینائل کی خوشبو ملے بستر نکالے جاتے ۔
خوش آمدید اور شعروں کی کڑھائی والے تکئے رکھے جاتے ۔
مہمان کے لیے دھلا ہوا تولیہ لٹکایا جاتااورغسل خانے میں نئے صابن کی ٹکیا رکھی جاتی تھی۔👍🤔

٭جس دن مہمان نے رخصت ہونا ہوتا تھا۔
سارے گھر والوں کی آنکھوں میں اداسی کے آنسو ہوتے تھے۔ مہمان جاتے ہوئے کسی چھوٹے بچے کو دس روپے کا نوٹ پکڑانے کی کوشش کرتا تو پورا گھر اس پر احتجاج کرتے ہوئے نوٹ واپس کرنے میں لگ جاتا ۔
تاہم مہمان بہرصورت یہ نوٹ دے کر ہی جاتا۔👍❤🤔

٭شادی بیاہوں میں سارا محلہ شریک ہوتا تھا۔
شادی غمی میں آنے جانے کے لیے ایک جوڑا کپڑوں کا علیحدہ سے رکھا جاتا تھا جو اِسی موقع پر استعمال میں لایا جاتا تھا۔
جس گھر میں شادی ہوتی تھی اْن کے مہمان اکثر محلے کے دیگر گھروں میں ٹھہرائے جاتے تھے۔
محلے کی جس لڑکی کی شادی ہوتی تھی بعد میں پورا محلہ باری باری میاں بیوی کی دعوت کرتا تھا۔👍❤🤔

٭کبھی کسی نے اپنا عقیدہ کسی پر تھوپنے کی کوشش نہیں کی۔ کبھی کافر کافر کے نعرے نہیں لگے۔
سب کا رونا ہنسنا سانجھا تھا۔
سب کے دْکھ ایک جیسے تھے ۔👍❤
جانے کہاں گئے وہ دن ۔۔۔

کیا آپکو یاد ہے کچھ
13/12/2025

کیا آپکو یاد ہے کچھ

Pakistan Zindabad
14/08/2025

Pakistan Zindabad

Golden Mosque Lahore
14/08/2025

Golden Mosque Lahore

جب ہوش سنبھال تو پھوپھی (جو کہ ہماری ممانی بھی تھی)کے گھر ایک شو کیس میں بڑا ریڈیو دیکھااس پر عموما آل انڈیا ریڈیو سے خب...
26/07/2025

جب ہوش سنبھال تو پھوپھی (جو کہ ہماری ممانی بھی تھی)کے گھر ایک شو کیس میں بڑا ریڈیو دیکھااس پر عموما آل انڈیا ریڈیو سے خبرسنی جاتی تھی اور رات کو بی بی سی کے علاوہ ریڈیو سیلون بھی سنا جاتا تھا ایک لمبے (زمین سے تقریبا چالیس فٹ اونچے) بانس پر اس کا انٹینا تھا۔ جب ہم پڑھنا لکھنا سیکھ گئے توریڈیو پر نام ٹیلی فنکن ( Telefunken) لکھا دیکھا۔کسی کو ریڈیو کو ہاتھ لگانے کی اجازت نہیں سوائے گھر کے بڑے بزرگوں کے۔ چھے بینڈ کا یہ ریڈیو تھا اور اس کا ڈیزائن زیر نظر تصویر کی طرح تھا جب راقم الحروف بڑا ہوا تو ریڈیو آپریٹ کرتا تھا شارٹ وویوز پر جیسے جیسے اسٹیشن صاف ہوتے تو ریڈیو کی میجک آئی قریب آتی‘ فائن ٹیونگ کا ایک بٹن تھا جسے گھما کر بڑا مزا آتا تھا۔پھوپھی بتاتی تھی کہ یہ ریڈیو 1952ء میں ایک ہزار 2سو روپے میں خریدا تھا‘ پھوپھی ریڈیو سے زیادہ اس کے لائسنس کی حفاظت کرتی تھی کیونکہ انٹینا اوپر لگا تھا اور سال میں ایک بار لائسنس چیک ضرور ہوتا تھا‘ کسی کے پاس لائسنس نہ ہونے کی صورت میں جرمانہ عائد کیا جاتا تھا اور یہ جرمانہ وائرلیس ٹیلی گرافی ایکٹ مجریہ1933ء کے تحت لگایا جاتا تھا۔1970ء میں جب ہمارے گھر میں RGAکا ریڈیو آیا تو چیکنگ کے دوران پھوپھی کہتی تھی کہ ریڈیو ہمارے حوالے کردو کیونکہ ایک لائسنس پر دو ریڈیو رکھنے کی اجازت تھی۔
آج ماضی میں جانا اس لئے پیش آگیا کہ گزشتہ تقریبا ایک ہفتے سے ((((ریڈیو دادا نے استعمال کیا اور فیس ہم ادا کرے گے))) والی پوسٹ دھڑا دھڑ سوشل میڈیا پر بغیر کسی تحقیق کے شیئر ہورہی ہے‘ نئی نسل کو یہ معلوم تک نہیں کہ ریڈیو کی فیس سنہ1991تک وصول کی جاتی تھی اور اس کا لائسنس پاکستان پوسٹ آفس جاری کرتا تھا غالبا 1992ء میں صدر پاکستان نے جب V C R کو قانونی حیثیت دی اور V C R کی سالانہ فیس 200روپے مقرر کی تو اس حکم کے بعد ریڈیو کی فیس ختم کردی گئی۔ لہذا یہ کہنا کہ ریڈیو کی فیس کبھی وصول ہی نہیں کی جاتی تھی سراسر غلط خبر اور بے بنیاد پروپیگنڈا اور ماضی کو فراموش کردینے والا واقعہ بنا کر پیش کیا جارہا ہے۔

Copied

ہمارے بہت ہی خوبصورت دوست فیضان عباس نقوی المعروف لاہور کے کھوجی کی ایک منفرد کاوش یہ کتاب نہیں بلکہ معلومات کا ایک خزان...
25/07/2025

ہمارے بہت ہی خوبصورت دوست فیضان عباس نقوی المعروف لاہور کے کھوجی کی ایک منفرد کاوش
یہ کتاب نہیں بلکہ معلومات کا ایک خزانہ ہے
بقول لاہور کے کھوجی کے ۔۔

میں ، لاہور کی کھوج اور پندرہ سال

یہ ٹایٹل میری آیندہ انے والی کتاب کا ہے جو میری پندرہ سال کی محنت کا ثمر ہے۔ کتاب عالمی معیار کے مطابق انگریزی اور اردو دونوں زبانوں میں ہے اور اس کی اشاعت ایک کافی ٹیبل بک کے فارمیٹ پر کی جاے گی ۔تمام۔کتاب اعلی کوالٹی کے آرٹ پیپر پر رنگین ہوگی۔
اس کتاب میں لاہور کی 100 اہم لیکن غیر معروف تاریخی عمارتیں شامل ہیں جو نظر انداز ہو چکی ہیں یا ہو رہی ہیں۔
البتہ چند ایک عمارتیں مرمت بھی ہو چکی ہیں۔ ان تاریخی عمارتوں میں شامل مساجد ، گرودوارے ، مندر ، حویلیاں ، مزار ، مقبرے ، یادگاریں اور متفرقات شامل ہیں۔
ہر عمارت سے متعلق چار سے آٹھ رنگین تصاویر شامل ہیں کتاب کے کل صفحات 248 ہونگے۔

ہزاروں لوگ یہ دعویٰ کرتے ہیں کہ ہم تاریخ دوست اور ورثہ دوست ہیں ہم لاہور پر بڑا کام کررہے ہیں۔ بڑا کام یہ بھی ہوتا ہے کہ آپ لاہور پر ہونے والے کام کی سرپرستی و حوصلہ افزای کریں اور اس کو پرموٹ کریں۔ میں یہ سمجھتا ہوں کہ میرے اس قدر طویل صبر آزما اور مہنگے ترین کام کو قدر دانوں کی ضرورت ان پہنچی ہے تاکہ اہلیان لاہور کو ایک اچھی دستاویز میسر آسکے ۔اب دیکھنا یہ ہے کہ کتنے حقیقی ورثہ دوست ، تاریخ دوست سامنے آتے ہیں۔
اس کتاب کی قیمت اس کی محنت ، ڈیزائینگ ، انگلش ترجمہ ، آرٹ پیپر پر پرنٹنگ کے اخراجات کے مطابق 8000 ہوگی۔
لیکن جو دوست قبل از اشاعت آرڈر بک کروا کر ادایگی کریی گے ان کو صرف آدھی قیمت پر یہ کتاب میسر آسکے گی۔
اس کتاب کی اشاعت یہ طے کرے گی کہ مجھے لاہور پر مزید
لکھنے پڑھنے کا کام کرنا چاہے یا پھر یہ سب کچھ چھوڑ کر
مجھے کوی اور کام دھندہ کرنا چاہیے۔

جو لاہور دوست ، ورثہ دوست اس پراجیکٹ میں رفیق کار بننا چاہیں میرے اس کام کو پرموٹ کریں اور کتاب کی قبل از اشاعت بکنگ کروایں

نوٹ اس کتاب کی آمدن ادارہ لاہور شناسی کی ملکیت ہوگی اور آیندہ لاہور پر مزید ہونے والے پراجیکٹس میں
استعمال ہوگی

براے رابطہ
لاہور کا کھوجی
03454176691

[email protected]

You can send the amount on following account.
This is my updated bank account details .
0074-0078-007672-50-3
Syed Faizan Abbas
Bank Al Habib garhi shahu branch Lahore.

پلازہ سنیما شمار کا لاہور کے پرانے سنیماوں میں ہوتا ہے۔ کوئنز روڈ پر واقع یہ سنیما 1933 میں تعمیر ہوا تھا اور اس کا نام ...
25/07/2025

پلازہ سنیما شمار کا لاہور کے پرانے سنیماوں میں ہوتا ہے۔ کوئنز روڈ پر واقع یہ سنیما 1933 میں تعمیر ہوا تھا اور اس کا نام ساگر تھیٹر تھا۔ پلازہ سنیمالاہور کے خوبصورت سنیماوں میں شمار ہوتا تھا۔ا۔تقسیم کے بعد اس کا نام پلازہ رکھا گیا۔اس سنیما میں عام طور پرانگریزی فلمیں نمائش کے لئے پیش کی جاتی تھیں اورلاہوری اشرافیہ فلمیں دیکھنے آتی تھی۔
اسلامانئزیشن کے زیراثرجب فلم انڈسٹری کا زوال ہوا توانگریزی فلموں پر بھی پابندی عائد کردی گئی۔سنیما انڈسٹری کی زوال پذیری کےاثرات پلازہ سنیما پربھی مرتب ہوئے اور یہ سنیما لمبےعرصے کے لئے بند ہوگیا تھا۔
پلازہ سنیما کا مالک مرزا اقبال بیگ تھا اور اب شائد اس کے اولاد ہو۔ مرز اقبال بیگ کی وجہ شہرت ان کا مبینہ طور پر منشیات فروشی میں ملوث ہونا بتایا جاتا تھا۔ مرزا اقبال بیگ کو بے نظیر کے پہلے دور حکومت میں امریکہ کے حوالے کیا گیا تھاجہاں وہ منشیات کی سمگلنگ میں ملوث ہونے کی بنا پر مطلوب تھے۔ مرز اقبال امریکہ سے سزا بھگت کر واپس آیا اور کئی سال زندہ رہا۔
معروف ادیب حمید اختر نے اپنے فلمی رسالے جلوہ کا دفتر بھی پلازہ سنیما میں بنایا تھا۔انھوں نے روزنامہ امروز کے ایڈیٹر کےطور پرجو پلاٹ ملتان کی لو انکم سکیم میں لیا تھا اس کی فروخت کے کاغذات پر دستخط کرانے کے لئے میں وہیں ان کے پاس گیا تھا۔ جلوہ بہت معیاری فلمی رسالہ تھا۔
پھرایسا ہوا کہ ۔پلازہ سنیما میں پنجابی سٹیج ڈرامے دکھائے جانے لگے لیکن جب بالی وڈ کی فلمیں آنا شروع ہوئیں تو پلازہ میں بھارتی فلمیں چلنا شروع ہوگئیں اور ایک دفعہ پھراس کی رونق بحال ہوگئی تھی۔عمران حکومت نے ایک بار پھر بھارتی فلموں پر پابندی عائد کی تو جہاں دوسرے سنیما بند ہوئے پلازہ سنیما بھی بند ہوگیا۔
کل ادھر سے گذرنا ہوا تو دیکھا کہ پلازہ سنیما کو گرایا جارہا ہے۔ اپنی جوانی میں دو بہترین فلمیںSummer of 42اورRyan Daughterاس سنیما میں دیکھی تھیں جن دوست احباب کے ساتھ یہ فلمیں دیکھی تھیں ان کی شکلیں نظروں میں گھوم گئیں۔ پلازہ سنیما کا انہدام پرانے لاہور باسیوں کے لئے صدمے کا باعث ہے۔ پرانا لاہور تو پہلے ختم ہوچکا تھا جو بچا کچھا تھا وہ تیزی سے معدوم ہورہا ہے

Address

Bhatti Gate Androon Lahore
Lahore
54000

Opening Hours

Monday 09:00 - 17:00
Tuesday 09:00 - 17:00
Wednesday 09:00 - 17:00
Thursday 09:00 - 17:00
Friday 09:00 - 17:00
Saturday 09:00 - 17:00
Sunday 09:00 - 17:00

Website

Alerts

Be the first to know and let us send you an email when Lahore Heritage Foundation posts news and promotions. Your email address will not be used for any other purpose, and you can unsubscribe at any time.

Share