" Knowledge of inner-self "
اقبال نے جب یہ فیصلہ کیا کہ انہیں مسلمانوں کو زبوں حالی سے نجات دلانے کے لئے اپنی شاعری کا استعمال کرنا ہے تو سب سے پہلے انہوں نے اس زبوں حالی کے اسباب کا پتا لگانے کی کوشش کی. تو انہیں اندازہ ہوا کہ مسلمانوں کی بربادی کی وجہ" بے عملی" ہے اور یہ ترک دنیا کی تعلیم کا نتیجہ ہے اور اس کی وجہ "فلسفہ وحدت الوجود ہے"
"وحدت الوجود سے مراد یہ ہے کہ حقیقی وجود تو صرف الله تعالٰی
ہے باقی سب اس کی حقیقت کی پرچهائیں ہیں" یہ فلسفہ کچھ تو افلاطون کے خیالات کا نتیجہ تها اور کچھ ویدانت کا.
مسلمانوں میں اسے محی الدین ابن عربی نے عام کیاتها. اقبال کے نزدیک یہ فلسفہ اسلام کی تعلیمات کے بلکل خلاف تها.
اور اسے رد کرنا وہ ضروری خیال کرتے تهے. چناچہ اس کے مقابلے مین انہوں نے "فلسفہ خودی" پیش کیا.
اقبال کو یقین تها کہ ہر انسان میں کچھ پوشیدہ صلاحیتیں موجود ہوتی ہیں. اس کا فرض ہے کہ وہ ان صلاحیتوں کا پتہ لگائے اور یہی عمل "خود شناسی یا عرفان ذات کہلاتا ہے"