Straight From The Bible

Straight From The Bible Straight from the Bible, is a project of Alpha Bible College to provide biblical education and spiritual awareness in Christian community in backward areas.

الفا بائبل کالج"مسیحی تعلیم و تربیت کا عالمی مرکز"الفا بائبل کالج (Alpha Bible College) پاکستان کا پہلا اور سب سے بڑا آن...
22/10/2024

الفا بائبل کالج
"مسیحی تعلیم و تربیت کا عالمی مرکز"

الفا بائبل کالج (Alpha Bible College) پاکستان کا پہلا اور سب سے بڑا آن لائن اردو بائبل کالج ہے، جو 2017 میں قائم ہوا۔ الفا بائبل کالج نے اپنی تیز رفتار ترقی کے ساتھ سیکڑوں طلباء کی روحانی، تعلیمی، اور مذہبی تربیت کا بیڑا اٹھایا ہے، اور آج اس کی خدمات بین الاقوامی سطح پر بھی تسلیم کی جا رہی ہیں۔

الفا بائبل کالج کا پس منظر
الفا بائبل کالج کی بنیاد آصف نذیر نے رکھی، جو مسیحیت کی خدمت کے لیے ایک منفرد مقصد اور وژن رکھتے ہیں۔ کالج کا مقصد بائبل کی سچی تعلیمات کو نہ صرف پاکستان بلکہ دنیا بھر کے طلباء تک پہنچانا ہے تاکہ وہ روحانی، فکری، اور عملی طور پر مضبوط ہو سکیں۔ کالج کا مقصد عالمی کلیساؤں اور منسٹریز کے ساتھ الحاق کرنا ہے تاکہ طلباء پادری کے طور پر اپنی خدمات انجام دے سکیں اور کلیساؤں کی قیادت کر سکیں۔

کورسز اور پروگرامز
الفا بائبل کالج مختلف سطحوں پر کورسز فراہم کرتا ہے تاکہ ہر طالب علم اپنی تعلیمی ضرورت اور روحانی اہداف کے مطابق کورسز کا انتخاب کر سکے۔

1.سرٹیفکیٹ ان تھیولوجی (C. Th.):
یہ ایک سالہ پروگرام ہے جو بائبل کی بنیادی تعلیمات اور مسیحی الہیات کا تعارف فراہم کرتا ہے۔ اس پروگرام کے ذریعے ابتدائی طلباء بائبل کی گہرائی اور اہم موضوعات سے روشناس ہوتے ہیں۔

2. ڈپلومہ ان تھیولوجی (D. Th.):
یہ دو سالہ کورس ہے جو طلباء کو مسیحی الہیات میں مزید گہرائی فراہم کرتا ہے۔ اس میں بائبل کے مختلف موضوعات، مسیحی عقائد، اور اخلاقی اصولوں کا تفصیلی مطالعہ شامل ہوتا ہے۔

3. بیچلر ان تھیولوجی (B. Th.):
یہ تین سالہ ڈگری پروگرام ہے جو طلباء کو بائبل کی تعلیمات میں مہارت فراہم کرنے کے لیے ترتیب دیا گیا ہے۔ اس پروگرام کا مقصد ان افراد کو تیار کرنا ہے جو پادری بننا چاہتے ہیں یا مسیحی منسٹری کی خدمت کرنا چاہتے ہیں۔

تعلیمی نظام اور آن لائن سہولتیں
الفا بائبل کالج کا تعلیمی نظام مکمل طور پر آن لائن ہے، جو اسے ایک جدید اور عالمی معیار کا ادارہ بناتا ہے۔ طلباء گھر بیٹھے اپنے موبائل، کمپیوٹر، یا لیپ ٹاپ کے ذریعے کورسز میں شرکت کر سکتے ہیں۔ کورسز آسان اردو زبان میں دستیاب ہیں تاکہ ہر طبقے کے طلباء ان سے استفادہ کر سکیں۔

انتظامیہ اور طلباء کی رہنمائی
الفا بائبل کالج کی انتظامیہ اس بات کو یقینی بناتی ہے کہ طلباء کو ان کے تعلیمی سفر میں ہر ممکن رہنمائی فراہم کی جائے۔ انتظامیہ کے زیر انتظام مختلف علمی اور روحانی مواقع فراہم کیے جاتے ہیں تاکہ طلباء اپنی تعلیم کو مؤثر طریقے سے مکمل کر سکیں۔

مستقبل کے منصوبے
الفا بائبل کالج کی توسیع کا سفر جاری ہے اور اس کے کورسز میں مسلسل اضافہ کیا جا رہا ہے۔ ادارہ مستقبل میں ماسٹرز اور ڈاکٹریٹ کے پروگرامز بھی متعارف کروانے کا ارادہ رکھتا ہے تاکہ طلباء مزید اعلیٰ تعلیم حاصل کر سکیں۔

الفا بائبل کالج اپنی بے مثل خدمات اور علمی فضیلت کے ساتھ پاکستان اور دنیا بھر کے طلباء کے لیے ایک روشن مستقبل کا ذریعہ بن چکا ہے۔ اس ادارے کے ذریعے سیکڑوں طلباء مسیحی عقائد میں مضبوطی حاصل کر چکے ہیں اور اپنی روحانی زندگی کو بہتر بنا رہے ہیں۔

الفا بائبل کالج سے رابطہ
اگر آپ الفا بائبل کالج کا حصہ بننا چاہتے ہیں یا مسیحی تعلیم میں گہرائی سے مطالعہ کرنے کے خواہشمند ہیں، تو آپ کالج کی ویب سائٹ یا درج ذیل رابطہ نمبرز پر رابطہ کر سکتے ہیں۔

رابطہ نمبر: 00923054500058
ویب سائٹ: alphabiblecollege.org
ای میل: [email protected]

"والسلام، آصف نذیر"

"اور  پیالہ اُلٹ گیا"ایک نام نہاد اسلامک سکالر کا مناظرہ ڈرامہتحریر: آصف نذیران دنوں پاکستان میں ایک اسلامی سکالر کی آمد...
16/10/2024

"اور پیالہ اُلٹ گیا"
ایک نام نہاد اسلامک سکالر کا مناظرہ ڈرامہ

تحریر: آصف نذیر

ان دنوں پاکستان میں ایک اسلامی سکالر کی آمد نے خاصی دلچسپ صورتِ حال پیدا کر دی ہے۔ موصوف نے بڑے زور و شور سے یہ اعلان کیا کہ اگر کوئی مسیحی "مائی کا لال" ہے تو وہ ان سے مناظرہ کرے۔ یہ چیلنج کچھ اس انداز سے دیا گیا جیسے کوئی بڑا علمی معرکہ برپا ہونے والا ہو۔ مسیحی علماء نے سوشل میڈیا پر فوراً اس چیلنج کا جواب دیتے ہوئے اسے قبول کرنے کا اعلان کیا، لیکن حیران کن طور پر اسلامی سکالر کی جانب سے کوئی ردعمل سامنے نہ آیا۔

پھر اچانک، سیمسن جون نامی مسیحی اسکالر اور مناظر، بہادری سے اس اسلامی سکالر کے مجمع میں جا پہنچے۔ سیمسن جون نہ صرف جراتمند تھے بلکہ علمی طور پر مناظرہ کرنے کی پوری صلاحیت رکھتے تھے۔ جیسے ہی انہوں نے اسلامی سکالر کا چیلنج قبول کیا اور براہ راست مناظرے کی دعوت دی، مجمعے میں خاموشی چھا گئی۔ سکالر صاحب کو اس بات کی توقع نہیں تھی کہ کوئی یوں ان کے سامنے آکر چیلنج قبول کرے گا۔

یہ صورتحال سکالر صاحب کے لیے بالکل چار سو چالیس وولٹ کے جھٹکے سے کم نہ تھی، کیونکہ اب وہ ایک ایسی کشتی میں سوار ہو چکے تھے جس کا ساحل نظر نہیں آ رہا تھا۔ اپنی عزت بچانے کے لیے انہوں نے فوری طور پر بہانے تراشنا شروع کر دیے۔ پہلا بہانہ یہ نکالا کہ وہ صرف اُس شخص سے مناظرہ کریں گے جو 30 ہزار لوگوں کا مجمع اکٹھا کرے۔ حیرت کی بات یہ ہے کہ سیمسن جون اور مسیحی علماء نے اس شرط کو بھی بخوشی قبول کر لیا، جس کے بعد سکالر صاحب کے چہرے پر ہوائیاں اڑنے لگیں اور بہانے ختم ہوتے نظر آنے لگے۔

اب جبکہ کوئی راستہ نہ بچا، تو سکالر صاحب نے پرلے درجے کی حرکتوں کا سہارا لیا۔ پہلے سیمسن جون کا منہ (مائیک) بند کروا دیا اور پھر غیر علمی رویہ اپنایا تاکہ کسی طرح سیمسن کو مجمع سے باہر نکالا جا سکے۔ عوام یہ دیکھ کر دنگ رہ گئے کہ یہی وہ صاحب ہیں جو بڑے زور و شور سے مناظرے کا چیلنج دے رہے تھے، لیکن جب کوئی حقیقتاً ان کے سامنے آ گیا، تو سکالر صاحب کے قدم لڑکھڑانے لگے۔ یہاں تک کہ ان کے اپنے مریدین بھی یہ تماشہ دیکھ کر حیران و پریشان ہو گئے۔

اس تمام صورتحال نے واضح کر دیا کہ سکالر صاحب محض باتوں کے بادشاہ ہیں۔ حقیقت میں ان کی علمی اہلیت اتنی مضبوط نہیں کہ کسی مسیحی اسکالر کا سامنا کر سکیں۔ جیسا کہ کسی نے خوب کہا کہ مناظرے کے لیے صرف تین افراد کی ضرورت ہوتی ہے: دو مناظر اور ایک منصف۔ لیکن ہمارے سکالر صاحب کو تو 30 ہزار کا مجمع چاہیے، شاید اس لیے کہ بھیڑ میں بہانے زیادہ آسانی سے چھپائے جا سکیں۔

آخر میں بس یہی کہا جا سکتا ہے کہ "اور پیالہ اُلٹ گیا!" سکالر صاحب نے جس طرح مناظرے سے دامن بچانے کی کوشش کی، وہ یقینی طور پر ایک مزاحیہ ڈرامے سے کم نہیں تھا۔

پاکیستانی کرسچن منسٹریز اور ڈیجیٹل بھکاری تحریر: آصف نذیرآج کل سوشل میڈیا پر نظر دوڑائیں تو بے شمار پادری، ایونجلسٹ، اور...
10/10/2024

پاکیستانی کرسچن منسٹریز اور ڈیجیٹل بھکاری

تحریر: آصف نذیر

آج کل سوشل میڈیا پر نظر دوڑائیں تو بے شمار پادری، ایونجلسٹ، اور خود ساختہ خدمت گزار اپنی عبادات، کلیسیاؤں، اور مختلف سرگرمیوں کی تصاویر اور ویڈیوز سے بھرے ہوئے نظر آتے ہیں۔ یہ لوگ غریبوں میں راشن تقسیم کرتے ہوئے، کلیسیا کی خواتین کی تصویریں ، یا بچوں میں تحائف بانٹتے دکھائی دیتے ہیں۔ سوال یہ پیدا ہوتا ہے: آخر یہ لوگ کون ہیں؟ وہ ایسا کیوں کر رہے ہیں؟ کیا یہ عمل پاکستانی مسیحیت کے لیے مثبت اثرات کا حامل ہے، یا اس میں کوئی سنگین خطرات پوشیدہ ہیں؟

پاکستانی مسیحیوں کی اکثریت بدقسمتی سے معاشی بدحالی کا شکار ہے۔ زیادہ تر مسیحی افراد کو معیاری تعلیم تک رسائی نہیں ہوتی، جس کی وجہ سے وہ اچھی نوکریوں کے قابل نہیں ہوتے۔ اس کے علاوہ، کاروباری مواقع اور وسائل بھی ان کے لیے دستیاب نہیں ہوتے، جس کی وجہ سے وہ غربت کی زندگی گزارتے ہیں یا محنت مزدوری تک محدود رہتے ہیں۔ تاہم، ایک چھوٹا سا طبقہ مسیحیوں کا ایسا بھی ہے جو مالی طور پر خوشحال ہے، ان میں سے کچھ نے محنت اور قابلیت سے ترقی حاصل کی، جبکہ دیگر پادری یا مذہبی خادم بن کر اچانک غیر معمولی طور پر امیر ہوگئے۔

یہ حیران کن ہے کہ کچھ پادری ایک دم امیر ہو جاتے ہیں، لیکن ان کی کلیسیائیں اسی غربت کا شکار رہتی ہیں۔ سوال یہ پیدا ہوتا ہے کہ آخر ایک پادری اتنا امیر کیسے ہو سکتا ہے؟ بہت سے پادری مختلف غیر شفاف طریقوں سے پیسہ اکٹھا کرتے ہیں۔ وہ بیرون ملک سے ملنے والے ڈونیشنز کا غلط استعمال کرتے ہیں اور اکثر سوشل میڈیا پر اپنی خدمت کی جھوٹی تصویر کشی کرتے ہیں۔ یہ منسٹریز غریبوں کی مدد اور کلیسیاؤں کی بحالی کے نام پر بڑے پیمانے پر فنڈز اکٹھا کرتی ہیں، لیکن یہ پیسے کلیسیاؤں پر خرچ ہونے کے بجائے پادریوں کی ذاتی عیش و عشرت میں استعمال ہوتے ہیں۔

یہ پادری اور ان کی منسٹریز سوشل میڈیا کو اپنی دولت اکٹھا کرنے کا ذریعہ بناتے ہیں۔ وہ اپنی تصاویر اور ویڈیوز کو بیرون ملک ڈونرز تک پہنچاتے ہیں تاکہ ان سے زیادہ سے زیادہ فنڈز حاصل کیے جا سکیں۔ اس وجہ سے بہت سے نوجوان، جو ان پادریوں سے متاثر ہوتے ہیں، اسی پیشے کو اپنانے کے لیے نکل پڑتے ہیں۔ نتیجتاً، ایسے خود ساختہ پادری، ایونجلسٹ، خادم، اور بشپ بغیر کسی دینی تعلیم یا شاگردیت کے صرف پیسے کمانے کے لیے اپنی منسٹری شروع کر دیتے ہیں۔

یہ "ڈیجیٹل بھکاری" خدمت کے نام پر بھیک مانگتے ہیں اور مسیحیت کی تذلیل کا سبب بنتے ہیں۔ یہ افراد نہ صرف اپنی کلیسیاؤں اور جماعتوں کیلئے ٹھوکر کا سبب بنتے ہیں بلکہ مسیحیت کے مقدس پیغام کو بھی غلط رنگ میں پیش کرتے ہیں۔ ان کے غلط طریقوں کی وجہ سے نئی نسلوں کی تربیت اور خدمت کا اصل مقصد ضائع ہو رہا ہے۔

سوشل ورک اور خدمت کرنا یقینی طور پر ایک قابل تعریف کام ہے، لیکن اس کے لیے ایک منظم اور شفاف طریقہ کار کی ضرورت ہے۔ اس کا کوئی شاٹ کٹ نہیں ہے۔ جو لوگ واقعی پادری یا خدمت گزار بننا چاہتے ہیں، انہیں پہلے صحیح تعلیم اور تربیت حاصل کرنی چاہیے، شاگردیت کرنی چاہیے، اور انٹرنشپ کے ذریعے عملی تجربہ حاصل کرنا چاہیے۔ اس طرح وہ صحیح علم اور سمجھ بوجھ کے ساتھ خدمت کا آغاز کریں گے اور ان کا کام دوسروں کے لیے ٹھوکر کا باعث نہیں بلکہ برکت کا وسیلہ بنے گا۔

خدمت کے اس مقدس کام میں شفافیت اور ایمانداری کو یقینی بنانا ضروری ہے۔ خود ساختہ پادری اور غیر ذمہ دار منسٹریاں نہ صرف کلیسیاؤں کے لیے نقصان دہ ہیں، بلکہ وہ مسیحیت کی بنیادوں کو بھی ہلا دیتی ہیں۔ ہمیں ضرورت ہے کہ ہم نوجوانوں کو صحیح رہنمائی، تعلیم، اور تربیت فراہم کریں تاکہ وہ اس عظیم کام کو پورے خلوص اور ایمانداری کے ساتھ انجام دے سکیں اور مسیحیت کا پیغام سچائی اور محبت کے ساتھ آگے بڑھا سکیں۔

🌟 الفا بائبل کالج - روحانی تعلیم کا نیا آغاز 🌟کیا آپ بائبل کی گہری تعلیمات اور مسیحی الہیات میں عبور حاصل کرنا چاہتے ہیں...
10/10/2024

🌟 الفا بائبل کالج - روحانی تعلیم کا نیا آغاز 🌟

کیا آپ بائبل کی گہری تعلیمات اور مسیحی الہیات میں عبور حاصل کرنا چاہتے ہیں؟
الفا بائبل کالج (ABC) آپ کو ایک منفرد موقع فراہم کر رہا ہے کہ آپ اپنی روحانی تعلیم کو جدید آن لائن پلیٹ فارم پر مکمل کر سکیں!

---

📚 دستیاب کورسز:

- سرٹیفکیٹ ان تھیولوجی (C. Th.):
ایک سالہ کورس، بائبل اور مسیحیت کی بنیادی تعلیمات کے لیے۔

- ڈپلومہ ان تھیولوجی (D. Th.):
دو سالہ کورس، الہیات اور بائبل کے گہرے علم کے لیے۔

- بیچلر ان تھیولوجی (B. Th.):
تین سالہ مکمل پروگرام، الہیات میں مہارت حاصل کرنے والوں کے لیے۔

---

💡 الفا بائبل کالج کیوں ؟

- مکمل آن لائن سسٹم:
کسی بھی جگہ، کسی بھی وقت اپنی تعلیم حاصل کریں۔
آپ کی تعلیم مکمل طور پر آپ کے ہاتھ میں!

آسان اردو کورسز:
بائبل اور الہیات کی تعلیم اردو میں، آسانی سے سمجھنے کے لیے۔

- کوئی لکھنے کی ضرورت نہیں!
ہر سبق کے بعد ایک آسان ٹیسٹ، جہاں آپ کو لکھنے کی ضرورت نہیں، صرف یاد کریں اور فوراً نتائج پائیں۔

- ہر روز کیلئے ایک سبق:
آپ کو ہر 24 گھنٹے بعد ایک نیا سبق پڑھنے کو ملے گا!

- مسیحی اور غیر مسیحی طلباء:
تمام طلباء کے لیے، خواہ وہ اپنی روحانی ترقی کے لیے سیکھنا چاہتے ہیں یا صرف بائبل کی بنیادی تعلیمات جاننا چاہتے ہیں۔

---

💸 کم فیس، اعلیٰ معیار:
- ہر کورس کی ماہانہ فیس انتہائی مناسب رکھی گئی ہے تاکہ آپ کی تعلیم آسان ہو۔

---

📢 ابھی داخلہ لیں اور اپنی روحانی تعلیم کا سفر شروع کریں!

🌐 مزید معلومات کے لیے وزٹ کریں:
[الفا بائبل کالج کی ویب سائٹ](https://alphabiblecollege.org)

📞 رابطہ کریں:
Email: [email protected]
Phone: +92 305 4500058

---

الفا بائبل کالج - مسیحی علم اور روحانی ترقی کا مرکز!

واٹس ایپ کیلئے اس لنک پر کلک کریں: Message Alpha Bible College on WhatsApp. https://wa.me/message/…
09/10/2024

واٹس ایپ کیلئے اس لنک پر کلک کریں:

Message Alpha Bible College on WhatsApp. https://wa.me/message/…

23/09/2024

"Faith is more than belief; it requires us to take steps in obedience. When we act on our faith, we open ourselves to God’s healing and blessings."

~Asif Nazir~

23/09/2024

"Trusting God for the best, rather than settling for good, truly honors His greatness and opens the door for His incredible plans in our lives. "

~Asif Nazir~

08/09/2024

"God’s love is so personal that He goes to great lengths for each one of us. We are deeply valued and cherished.
– Asif Nazir

06/09/2024

The battle belongs to God, and He fights for us with His infinite power and wisdom.

04/09/2024

"Jesus' declaration of His authority over heaven and earth reassures us of His sovereignty and control. We can trust in His power and guidance in every aspect of our lives. 🙏✨

04/09/2024

How about this for your tweet?

"Jesus' declaration of His authority over heaven and earth reassures us of His sovereignty and control. We can trust in His power and guidance in every aspect of our lives. 🙏✨ "

03/09/2024

God, we ask for Your renewal and strength today. Empower us to live fully for You, reflecting Your love and grace in all we do. Amen.

Address

Lahore

Telephone

+923456743793

Website

Alerts

Be the first to know and let us send you an email when Straight From The Bible posts news and promotions. Your email address will not be used for any other purpose, and you can unsubscribe at any time.

Contact The Organization

Send a message to Straight From The Bible:

Share