10/08/2026
چاچا لعل دین، ایک عبرت انگیز کہانی
کل کا بے تاج بادشاہ، آج سڑک کنارے چند روپوں کی سبزی بیچنے پر مجبور ہے۔
سوشل میڈیا پر گردش کرنے والی یہ تصویر حافظ آباد کے چاچا لعل دین سے منسوب کی جاتی ہے۔ بتایا جاتا ہے کہ ایک وقت تھا جب وہ 100 سے زائد پاور لومز کے مالک تھے۔ کاروبار، دولت، عزت اور اثر و رسوخ، سب کچھ ان کے پاس تھا۔ ان کے دروازے پر ضرورت مند آتے اور وہ غریبوں اور بیواؤں کی مدد دل کھول کر کرتے تھے۔
پھر وقت نے کروٹ لی۔
اولاد جوان ہوئی تو انہوں نے اپنی زندگی بھر کی کمائی، جائیداد، کاروبار اور فیکٹریاں بچوں میں تقسیم کر دیں۔ شاید انہیں یہ اندازہ نہ تھا کہ اثاثوں کے ساتھ ان کی اپنی اہمیت بھی تقسیم ہو جائے گی۔
آج وہی بزرگ حافظ آباد کے مرکزی بازار میں ایک دیوار کے سہارے، سبزی کی چھوٹی سی ٹوکری سامنے رکھے بیٹھے دکھائی دیتے ہیں۔
کبھی لاکھوں کے کاروبار کا حساب رکھنے والا شخص، آج دس اور بیس روپے کی سبزی کا حساب کر رہا ہے۔
کبھی جس کے اشارے پر فیکٹریوں کی مشینیں چلتی تھیں، آج وہ خاموشی سے کسی گاہک کا انتظار کرتا ہے۔
جب کوئی شخص چند روپے کم کروانے کے لیے بحث کرتا ہے تو وہ جواب نہیں دیتے۔ بس ایک پھیکی سی مسکراہٹ کے ساتھ سبزی تھیلے میں ڈال دیتے ہیں۔ کون جانتا ہے، اس لمحے انہیں اپنی گزری ہوئی زندگی کے کتنے منظر یاد آتے ہوں گے۔
وہ فیکٹریاں، وہ ملازمین، وہ عزت، وہ دولت اور وہ دن جب ان کے دروازے سے کوئی ضرورت مند خالی ہاتھ نہیں لوٹتا تھا۔
اس واقعے کی تمام جزئیات کی آزادانہ تصدیق ضروری ہے، لیکن اس تصویر میں چھپا پیغام ایک ناقابلِ انکار معاشرتی حقیقت ہے:
والدین کی جائیداد میں حق مانگنے سے پہلے، ان کے بڑھاپے کی ذمہ داری بھی یاد رکھیے۔
ایک باپ جب اپنی جائیداد تقسیم کرتا ہے تو وہ صرف زمین، مکان یا کاروبار نہیں دیتا، وہ اپنی پوری زندگی کی محنت، جوانی اور خواب اپنی اولاد کے حوالے کرتا ہے۔
بدلے میں اسے دولت نہیں چاہیے ہوتی۔ اسے صرف عزت، تحفظ، دو وقت کا سکون اور اپنے بچوں کا ساتھ درکار ہوتا ہے۔
بڑھاپا بوجھ نہیں، زندگی کا وہ مرحلہ ہے جس میں والدین کو ہماری سب سے زیادہ ضرورت ہوتی ہے۔ اپنی اولاد کے لیے ضرور کمائیے، مگر حلال و حرام کی تمیز، اپنی ضروریات اور بڑھاپے کے تحفظ کو کبھی نظر انداز نہ کیجیے۔
Elder Care Pakistan کی جانب سے اپیل ہے کہ اپنے والدین اور بزرگوں کو وقت، عزت، محبت اور تحفظ دیں۔ کہیں ایسا نہ ہو کہ جن ہاتھوں نے ہمیں سنبھالا، وہی ہاتھ بڑھاپے میں سہارے کے لیے ترس جائیں۔
اللہ تعالیٰ ہمیں اپنے والدین اور بزرگوں کے حقوق سمجھنے اور انہیں پورا کرنے کی توفیق عطا فرمائے۔ آمین۔