NikahGuide

NikahGuide Nikah is easy in Islam but unfortunately we have made standards other than what were prescribed in Islam. Contact us at: +92 333 4118298
(209)

For a peaceful and happy life we provide OLD (On Line/ On Door) courses & consultancy services to solve the issues before and after nikah especially husband and wife, son-in-law, daughter-in-law etc. We are here to help you find Muslim partner and for that we provide guidelines related to Marriage and Family life in accordance with Quran and Sunnah of Prophet PBUH.

12/04/2026

LAW is Law
LBW is Haram
LAW is Love after wedding
LBW is Love before wedding

12/04/2026
ایک بہن بھائی کی سچی کہانی : منقولادلے کا بدلہ۔۔ 6 بھائیوں کی اکلوتی 14 سالہ بہن گھر سے بھاگ نکلی، قصور وار بھائی سے کیا...
09/04/2026

ایک بہن بھائی کی سچی کہانی :
منقول
ادلے کا بدلہ۔۔ 6 بھائیوں کی اکلوتی 14 سالہ بہن گھر سے بھاگ نکلی، قصور وار بھائی سے کیا غلطی ہوئی تھی ؟ 6 بھائی اور ماں باپ ملکر بھی اپنی بہن اور بیٹی کو واپس گھر نہ لا سکے ۔
بہن بھائی دونوں آن لائن گیم کھیلتے تھے ، دونوں کو والدین نے لاڈ میں موبائل فراہم کررکھے تھے ، اسی چکر میں بھائی کی دوستی ایک لڑکی سے ہوگئی ، بھائی فخر سے بہن کے سامنے دوستی کو پروان چڑھاتا رہا اور ایک روز آیا کہ بھائی اس لڑکی کو گھر سے بھگا کر لے آیا اور کورٹ میرج کرکے بیوی بنا لیا ، لڑکی خوبصورت تھی ہنس مکھ اور خوش اخلاق تھی مگر افسوس کردار کے حوالے سے ذرا لبرل تھی ۔ 2 ماہ نوبیاہتا میاں بیوی اور لڑکے کی بہن ملکر آن لائن گیم کے لیول کراس کرتے رہے ، لیکن اس دوران گھر سے بھاگی ہوئی لڑکی یعنی دلہن گیم ڈال چکی تھی اس نے لڑکے کی بہن کو اپنی لائن پر لگا لیا اسکو ایسے ایسے خواب دکھائے کہ لڑکی اپنی بھابھی کی دیوانی ہو گئی ، پھر ایک روز اس گھر پر قیامت ٹوٹ پڑی ۔ دلہن اس 14 سالہ لڑکی کو گھومنے پھرنے اور بازار جانے کے بہانے گھر سے لیکر نکلی اور واپس نہ آئی ، 6 بھائی اور والدین دیوانہ وار اپنی بیٹی اور بہو یا بھابھی کو تلاش کرتے رہے ، بعد میں بچی کا پیغام آگیا میری فکر نہ کریں میں بالکل ٹھیک ہوں اور میں نے نکاح کر لیا ہے ۔ کئی ماہ گزر چکے ہیں ماں رو رو کر ہلکان ہو چکی ہے باپ ہاتھ جوڑ کر ہر دفتر ادارے تھانے کچہری میں دھکے کھا چکا ہے بھائی تلاش کرکے تھک چکے ہیں مگر لڑکی نہ ملی شاید اس نے واپس نہ آنے کی قسم کھا لی ہے ۔۔۔۔ یہ ہوتا ہے ادلے کا بدلہ یا جیسا کرو گے ویسا بھرو گے۔۔۔ اگر والدین اپنے بچوں پر نظر رکھیں انہیں موبائل سے دور رکھیں اور اسکی تباہ کاریوں سے بچا لیں تو ایسے افسوسناک واقعات کبھی سامنے نہ آئیں

نکاح مسائل نکاح اور فیملی کونسلنگ کے لئے  مفید اور معلوماتی چینل نکاح گائیڈ کو ضرور فالو کریں
09/04/2026

نکاح مسائل نکاح اور فیملی کونسلنگ کے لئے مفید اور معلوماتی چینل نکاح گائیڈ کو ضرور فالو کریں

اپنے بچوں کو بڑا ہونے دیں!۔ (خاص بات) ۔۔۔۔۔۔ محمد الیاس رفیق سب والدین کی خواہش ہوتی ہے کہ ان کے بچے جلد سے جلد بڑے ہوں۔...
06/04/2026

اپنے بچوں کو بڑا ہونے دیں!۔ (خاص بات) ۔۔۔۔۔۔ محمد الیاس رفیق
سب والدین کی خواہش ہوتی ہے کہ ان کے بچے جلد سے جلد بڑے ہوں۔ہمارا المیہ یہ ہے کہ ہمارے بچے جسمانی طور پر تو ماشااللہ بڑے ہو جاتے ہیں لیکن ذہنی طور پر بڑے نہیں ہوپاتے کیونکہ ہم خود ان کو بڑا نہیں ہونے دیتے۔ یہ نہ کرنا وہ نہ کرنا، ہر بات پر ٹوکنا اور حوصلہ شکنی کرتے رہنا وغیرہ۔ کئی لوگ جوان بچوں کو تعلیم کے لیے دوسرے شہروں میں نہیں بھیجتے۔اگر وہ گھر سے باہرنہیں نکلیں گے تو وہ سیکھےگےکہاں سے ،ان کے اندر خود اعتمادی کہاں سے پیدا ہوگی، وہ بڑے بڑے فیصلے کرنے کے قابل کیسے ہونگے۔
جب والدین سارے کام اپنے ذمہ لے لیتے ہیں اوربچوں پر کوئی ذمہ داری نہیں ڈالتے تو ان کی تخلیقی صلاحیتیں، نئی چیزیں سیکھنے کاشوق اور قوت فیصلہ بہت متاثر ہوتی ہے وہ ہر کام کے متعلق یہی کہتا ہے کہ اماں کر لیں گی ، ابا کرلیں گے۔ حتٰی کہ یہ کہتے کہتے وہ خود اماں ابا بھی بن جائیں تو خود کوئی کا م نہیں کر سکتے ، کوئی فیصلہ نہیں کر سکتے۔نقصان اور گھاٹے کا ڈر اور خوف ان کے اوپر ساری زندگی چھایا رہتا ہے۔
بے جا لاڈ پیار میں رہی سہی کسر ہماری ماؤں نے پوری کر دی ہے، بچہ سکول سے آتا ہے تو اسے اپنا جوتا تک اتارنے کی اجازت نہیں وہ بھی والدہ اتاریں گی۔ کپڑے والدہ تبدیل کروائیں گی۔ کھانے کے نوالے بیڈ پر بیٹھےصاحبزادے کے منہ میں ڈالے جاتے ہیں۔ایس بچوں کو کیسے پتہ چلے گا کہ جوتے کیسے رکھنے ہیں۔ کپڑے کیسے تبدیل کرنے ہیں اورکس طرح ترتیب سے رکھنے ہیں۔ایک جگہ پر جانا ہواتو ان کے ڈرائنگ روم میں جب بیٹھے تو دیکھا کہ ہر چیز بے ترتیب اور بکھری پڑی تھی۔ میں نے پوچھا یہ کیا ہے ان کی والدہ کہتی ہیں کہ بچیاں یونیورسٹی میں اعلیٰ تعلیم حاصل کر رہی ہیں ان کے پاس گھر کی مینیجمنٹ کا ٹائم نہیں۔ مزید حیرانی اس وقت ہوئی جب میںنے پوچھا کہ وہ کون سی اعلی تعلیم ہے جو مینیجمنٹ ہی نہیں سکھاتی وہ پریشان ہو کر بولیں وہ ایچ آر میں ایم بی اے یعنی مینیجمنٹ ہی پڑھ رہی ہیں۔یاد رکھیں بچے کالج میں صرف تھیوری پڑھتے ہیں پریکٹیکل کرنے کا موقع اس کو گھر میں اس کے والدین دیتے ہیں۔ اپنے بچوں کو چھوٹا مت سمجھیں ان کو ٹارگٹ دیں اور مواقع فراہم کریں۔ان کے اندر سے ڈر اور خوف ختم کریں اور ان کو واقعی جوان ہونے دیں۔

06/04/2026
اگرجہ حرام ہے پھر بھی پی جائیں۔  محمد الیاس رفیق              غصہ وہ واحد چیز ہے جو حرام ہے لیکن اسے پینے کے لیے کہا گیا...
05/04/2026

اگرجہ حرام ہے پھر بھی پی جائیں۔ محمد الیاس رفیق غصہ وہ واحد چیز ہے جو حرام ہے لیکن اسے پینے کے لیے کہا گیا ہے۔ آپ نے کئی بار یہ جملہ سنا ہوگا کہ جی مجھے غصہ بہت آتا ہے مجھ سے غلط بات برداشت نہیں ہوتی۔ بندہ پوچھے کہ اچھا بھئی تم سے غلط برداشت نہیں ہوتی تو کون سی برداشت ہوتی ہے جو ٹھیک ہو۔ جو ٹھیک ہو وہ تو برداشت کرنی ہی نہیں پڑتی۔ اور رہی دوسری بات کہ مجھے غصہ بہت آتا ہے جناب غصہ خود نہیں آتا یہ ہم خود کرتے ہیں ۔ ہم جھوٹ بولتے ہیں کہ غصے پرقابو پانا ہمارے کنٹرول اور برداشت میں نہیں ہے۔ ہم اپنے غصہ کو کنٹرول کرتے ہیں لیکن ہر جگہ پر نہیں اور ہر موقع پر نہیں۔ جہاں ہمارابس نہیں چلتا وہاں تو ہمارا غصہ آرام سے کنڑول ہو جاتا ہے اور جہاں ہمارا بس چلتا ہے غصہ نکالنے کا ہم فورا نکال دیتے ہیں۔جیسے کہتے ہیں کہ پانی ہمیشہ اوپر سے نیچے کی طرف آتا ہے ہمارے غصہ کی بھی یہی حالت ہے یہ ہمیشہ اپنے سے چھوٹے اور ماتحت لوگوں پر ہی آتا ہے جبکہ اپنے سے بڑے لوگوں اور اپنے باس پر کبھی نہیں آتا ۔دفتر میں تو ہم اپنے باس کی گالیاں بھی بڑے شوق سے کھاتے ہیں اور سر نیچا کر کے سنتے رہتے ہیں جیسے ہی گھر پہنچتے ہیں تو بیگم یا بچوں نے کوئی کام خراب کر دیا تو ان کی شامت آجاتی ہے وہاں ہمارا غصہ کنڑول سے باہر ہو جاتا ہے۔ ثابت ہوا کہ غصہ کوئی سو سو نہیں ہے جو کنٹرول نہیں ہو سکتا ۔ اس پر ہر جگہ اور موقع پر کنٹرول کرنا سیکھیے۔ اور خود بھی سکون سے رہیں اور باقی معاشرہ کو بھی سکون سے رہنے دیں۔

جوائنٹ فیملی سے تعلق رکھنے والے سبھی سنجیدہ افراد ضرور پڑھیں۔ایک عورت صبح اٹھی، فریج میں پڑے انڈے اٹھائے، ناشتہ بنایا، خ...
01/04/2026

جوائنٹ فیملی سے تعلق رکھنے والے سبھی سنجیدہ افراد ضرور پڑھیں۔
ایک عورت صبح اٹھی، فریج میں پڑے انڈے اٹھائے، ناشتہ بنایا، خود کھایا، شوہر کو دیا، شوہر اپنے کام پر چلا گیا، عورت اپنے کام پر چلی گئی۔ چند گھنٹوں بعد شوہر نے بیوی کو کال کرکے کہا کہ گھر پہ تھوڑا مسئلہ ہوگیا ہے، تم آج سیدھی امی کی طرف چلی جانا۔ میں معاملہ نمٹا کر تمہیں لے آؤں گا۔۔۔۔

بیوی نے پوچھا کہ کیا معاملہ ہے تو شوہر ٹال گیا، لیکن بیوی کے اصرار کرنے پر اس نے بتا دیا کہ صبح جو تم نے فریج سے انڈے لے کر بنائے تھے وہ امی نے باجی کے لیے منگوا کر رکھے تھے۔ امی کو لگتا ہے تم نے وہ جان بوجھ کر اٹھا کر استعمال کیے ہیں۔ امی تھوڑی ناراض ہیں۔ تم اپنی امی کی طرف چلی جانا، میں گھر جا کر معاملہ سلجھا کر شام تک تمہیں لے آؤں گا۔

لیکن عورت نے شوہر کی بات نہ مانی۔ جاب سے سیدھی گھر گئی۔ جاتے ہوئے ایک درجن انڈے لیتی ہوئی گئی۔ گھر پہنچ کر انڈے لے جا کر ساس کے سامنے رکھے اور کہا ان انڈوں کی وجہ سے آپ نے جھگڑا کھڑا کیا تھا ناں؟ دو اٹھائے تھے بارہ لے کر آئی ہوں۔ شوہر بھی یہ سب سن رہا تھا۔ ساس نے بیٹے کو آواز دی اور کہا کہ دیکھو اس نے انڈے لا کر میرے منہ پر مارے ہیں۔ آج تو تم نے اپنی آنکھوں سے دیکھ لیا کہ یہ میرے ساتھ کتنی بدتمیزی کرتی ہے۔ تم اسے ابھی کے ابھی فارغ کرو۔ معاملہ بگڑتا بگڑتا اس حد تک پہنچا کہ شوہر نے وہیں کھڑے کھڑے بیوی کو ایک طلاق دے ڈالی۔
دو انڈوں کی وجہ سے ایک گھر ٹوٹ گیا۔

قصور وار کون کون تھا؟
1_ ساس جس نے بہو کی اتنی سی بات پر فساد برپا کیا۔
2_ شادی شدہ بہن، جو ماں کو روک نہ سکی، سمجھا نہ سکی۔
3_ بیوی جس نے شوہر کو اپنے طریقے سے معاملہ حل نہ کرنے دیا۔
4_ شوہر جو بالآخر ماں کے دباؤ میں آکر اتنی سی بات پر طلاق دے بیٹھا۔

اس سب پر کیسے کیسے قابو پایا جاسکتا تھا؟
1_ ساس بڑا پن دکھاتی، انڈے دوبارہ منگوا لیتی۔
2_ بہن ماں کو کسی نہ کسی طرح ٹھنڈا کر لیتی۔
3_شوہر ماں کی بات کو ہلکے پھلکے انداز میں نظرانداز کرکے فون پر ہی سمجھا دیتا کہ کوئی بات نہیں، اگر میری بیوی سے اتنی سی غلطی ہوگئی ہے تو چھوڑیں، دو انڈے ہی تو ہیں، منگوا لیں۔ اور بیوی کو فون نہ کرتا۔
4_ بیوی اس کو انا کا مسئلہ نہ بناتی، شوہر کی بات مان کر ماں کے گھر چلی جاتی یا سسرال جاکر خاموشی اختیار کرتی یا ساس سے معذرت کرلیتی کہ اوہو امی! مجھے تو پتا ہی نہیں چلا وغیرہ وغیرہ۔
5_ شوہر کسی نہ کسی طرح اپنے اعصاب کو قابو میں رکھ لیتا۔ بیوی سے ناراض ہوجاتا، اسے کچھ دن اس کی ماں کے گھر بھیج دیتا لیکن یہ انتہائی قدم نہ اٹھاتا۔

ہمارے معاشرے میں ہمیشہ نہیں تو اکثر جھگڑے "دو انڈوں" جیسی بے مول چیزوں پر ہی شروع ہوتے ہیں، پھر انا، زبان کی تیزی اور غصہ معاملے کو طلاق تک لے جاتا ہے۔ یہ معاملات بگاڑنے میں جو لوگ شامل ہوتے ہیں ان ہی میں سے کسی ایک کی ذرا سی کوشش، تھوڑی سی معاملہ فہمی، دور اندیشی اور انا پر سمجھوتہ گھر ٹوٹنے سے بچا سکتا ہے۔
بس جب بھی ایسا کوئی معاملہ پیش آئے تو سمجھیں کہ میں ہی وہ واحد انسان ہوں جو اس معاملے کو سلجھا سکتا ہے، لہذا اپنا مثبت کردار ادا کرنے کی ہر ممکن کوشش کریں اور نسلوں کو بربادی سے بچا لیں۔ Copied

31/03/2026

Address

Lahore

Opening Hours

Monday 11:00 - 19:00
Tuesday 11:00 - 19:00
Wednesday 11:00 - 19:00
Thursday 11:00 - 19:00
Friday 11:00 - 19:00
Saturday 11:00 - 19:00

Telephone

+923046475075

Website

Alerts

Be the first to know and let us send you an email when NikahGuide posts news and promotions. Your email address will not be used for any other purpose, and you can unsubscribe at any time.

Share