17/06/2025
17 جون 2014ء کے دن ماڈل ٹاؤن لاہور میں ہمارے تحریکی بھائیوں اور بہنوں کے ساتھ بلا جواز، بلا اشتعال، خون کی ہولی کھیلی گئی، جہاں ہمارے تحریکی بھائی شہید ہوئے وہاں ہماری 2 بہنوں تنزیلہ امجد اور شازیہ مرتضیٰ کو بھی شہید کر دیا گیا۔ شہادت کے یہ واقعات اور مناظر آج بھی ہماری آنکھوں میں تلخ یادوں کے ساتھ محفوظ ہیں اور اس دکھ اور تکلیف کو ہم آج تک اپنے قلب و روح پر برابر محسوس کرتے ہیں۔ شہداء کے بچوں کو یتیم کیا گیا، کسی کے سر سے باپ اور کسی کے سر سے ماں کا سایہ چھینا گیا۔ بلاشبہ قتلِ ناحق ایک ایسا سنگین جرم اور گناہِ کبیرہ ہے جس پر دنیا کی عدالتیں جو بھی فیصلہ کریں، مگر قاتل اللہ کی عدالت میں عبرت ناک انجام سے ہرگز نہیں بچ سکیں گے۔ تنزیلہ امجد شہید کی بیٹی بسمہ امجد اپنی تعلیم مکمل کرنے کے بعد رشتۂ ازدواج میں منسلک ہوچکی ہیں مگر آج بھی اس کی آنکھیں مامتا کی شفقت کی متلاشی ہیں۔ چیف جسٹس سپریم کورٹ آف پاکستان نے 2018 میں بسمہ امجد کے سر پر ہاتھ رکھ کر یہ وعدہ کیا تھا کہ آپ تعلیم حاصل کرنے والا اپنی ماں کا خواب پورا کریں، انصاف آپ کو سپریم کورٹ دے گی۔ امید ہے عدالتِ عظمیٰ قوم کی بیٹی بسمہ امجد کے ساتھ انصاف کرنے کے اپنے وعدے کو ضرور پورا کرے گی اور ماڈل ٹاؤن کے مظلوموں کے آنسو بصورت انصاف پونچھے گی۔ یہ مظلوم مسلسل 11 سال سے عدل کے ایوانوں کی طرف دیکھ رہے ہیں۔ حضور شیخ الاسلام دامت برکاتہم العالیہ نے اپنے کارکنان اور اپنے بیٹوں اور بیٹیوں کو ہمیشہ قانون کے احترام کی تعلیم دی ہے۔ یہی وجہ ہے کہ مسلسل 11 سال سے شہید کارکنان قانون کی عدالت سے انصاف مانگ رہے ہیں۔ اللہ رب العزت ہماری بہنوں تنزیلہ امجد شہید، شازیہ مرتضیٰ شہید اور ہمارے شہید بھائیوں کے درجات بلند کرے۔ آمین۔ پوری تحریک اور قائدِ تحریک کا یہ عزم اور وعدہ ہے کہ جب تک سانس چل رہی ہے شہید کارکنوں کے انصاف کے لیے جدوجہد جاری رہے گی۔