04/06/2024
زندگی سے بڑی سزا ہی نہیں
اور کیا جرم ہے پتا ہی نہیں
اتنے حصوں میں بٹ گیا ہوں میں
میرے حصے میں کچھ بچا ہی نہیں
چاہے سونے کے فریم میں جڑ دو
آئینہ جھوٹ بولتا ہی نہیں
دھن کے ہاتھوں بک گئے ہیں سبھی
اب کسی جرم کی سزا ہی نہیں،
سچ گھٹے یا بڑھے تو سچ نا رہے
جھوٹ کی کوئی انتہا ہی نہیں.