29/05/2025
*السلام علیکم اج دوپہر 12 بج کر پانچ منٹ پر میرے واٹس ایپ نمبر پر ملتان کے مشہور سیاسی اور سماجی شخصیت الطاف سعیدی رحمانی کی طرف سے میسجز آتے ہیں۔*
*میسجز میں یہ بتایا جاتا ہے الطاف بھائی کی طرف سے ان کا ایک بھتیجا جس کا نام سمیع اللہ ہے جو 26 تاریخ کا گم ہوا تھا اور گمشدگی کی ایف ائی ار بھی مجھے سینڈ کی اور ساھ بچے کی تصویر بھی سینڈ کی اور ساتھ میں اس شخص کا بھی نمبر سینڈ کیا جس کے پاس اس وقت ضلع قصور کے کسی گاؤں میں انکا بھتیجا موجود تھا جن کا نام میاں حنیف تھا۔الطاف سعیدی رحمانی صاحب نے یہ کہا کہ شہباز بھائی ہمیں وہاں سے کوئی رحمانی بھائی دیں جو ہمیں ان تک پہنچائیں تاکہ ہم اپنے بھتیجے کو لے کر واپس ملتان خیر و عافیت سے اپنے گھر پہنچ جائیں۔تو سب سے پہلے میں نے قصور میں کھڈیاں خاص سے عرفان مختار رحمانی صاحب سے رابطہ کیا اور ان کو میاں حنیف کا نمبر سینڈ کیا انہوں نے ان سے کال کر کے ساری انفارمیشن حاصل کی پھر انہوں نے مجھے بتایا کہ پیرووالہ گاؤں میں بچہ موجود ہے جو قصور سٹی سے تقریبا“ 10 منٹ کی مسافت پہ موجود ہے۔اب دوسرا مرحلہ یہ تھا کہ میں اب پیرو والا گاؤں کا کسی رحمانی بھائی کا رابطہ ڈھونڈتا یا اس کے قریب قریب تو میں نے پھر دوسری بار کھڈیاں ہی کے گاٶں چورکوٹ کے رحمانی بھائی سنگر راجہ رفاقت رحمانی صاحب سے رابطہ کیا اور ان سے ساری انفارمیشن شیئر کی تو انہوں نے بھی پتہ کر کے مجھے یہی انفارمیشن دی تو پیروں والا گاؤں میں ہے۔پھر میں نے پیرووالا کے قریب قصور سٹی سے پنجاب پولیس سے مُنسلک رزاق رحمانی صاحب سے معلومات شٸیر کی تو انہوں نے کہا کہ یہ میرے سے 15 منٹ کی مسافت پہ ہے مگر میں اس وقت لاہور ہاٸیکورٹ ہوں۔اگر میاں حنیف زیادہ دیر بچے کو اپنے پاس رکھنے پہ آمادہ نہیں تو میں اسے کہہ دیتا ہوں یا متعلقہ پولیس کو کہتا ہوں وہ اپنی تحویل میں لے لیں پھر اس تھانے سے بچے کو وصول کر لیں گے مگر اس تجویز پہ الطاف سعیدی صاحب آمادہ نہیں ہوۓ۔پھر میں نے سٹی قصور بار کے ایڈوکیٹ غفار رحمانی صاحب سے رابطہ کیا تو انہوں نے کہا کہ میں اس وقت کورٹ کے اندر ہوں دوبارہ رابطہ کرتا ہوں۔دوبارہ رابطہ کرنے اور ساری معلومات شٸیر کرنے کے بعد ایڈوکیٹ غفار رحمانی صاحب نے میاں حنیف کو بچے کی اچھی دیکھ بھال کرنے کا جو غفار صاحب کے کلاٸنٹ رہے ہیں۔اور تھوڑی دیر بعد ایڈوکیٹ غفار رحمانی صاحب سب کام چھوڑ کر بچے کے پاس پیرووالہ گاٶں پہنچے اور الطاف سعیدی رحمانی صاحب کی بچے سے بات کرواٸی۔اس سے پہلے جب بھی میری اور عرفان مختار صاحب اور راجہ رفاقت رحمانی صاحب کی میاں حنیف سے باری باری بات ہوٸی تو میاں حنیف کا کہنا تھا کہ میں نیکی کر کے پھنس گیا میں مزدور آدمی ہوں اور اس بچے کی پہرے داری پہ مامور ہوں جبکہ بچے کے لواحقین کو آتے آتے شام ہو جانی ہے۔ تو راجہ رفاقت رحمانی نے کہا میں ابھی کام پہ ہوں مگر میرا ایک دوست وکیل جو پیرووالا گاٶں کے پاس ہی ہے اسکو کہتا ہوں کہ وہ بچے کو گاڑی میں بٹھا کر کھڈیاں چورکوٹ گاٶں لے آۓ اور الطاف صاحب سے کہتے ہیں کہ وہ سیدھا کھڈیاں آ جاٸیں تاکہ انکی اتنے لمبے سفر کے بعد تواضع کی جا سکے اگر لیٹ ہوجاٸیں تو رات ٹھہرنے کا بندوبست کیا جاسکے۔ راجہ رفاقت کی اس تجویز سے عرفان مختار رحمانی آف کھُڈیاں کو آگاہ کیا تو وہ بھی کہنے لگے کہ ٹھیک ہے پھر آنے والے مہمان کھانا میرے گھر سے کھاٸیں۔جب اس بارے الطاف سعیدی صاحب سے راۓ لی تو انہوں نے کہا کہ میں پوچھ کر بتاتا ہوں مگر وہ شاید تین دنوں کی پریشانی کیوجہ سے بچے کو دوسری کسی جگہ منتقل کرنے سے کترا رہے تھے تو ہم نے بھی زیادہ زور نہیں دیا حالانکہ ایسے بچے کو اپنے پاس رکھنا جس کے گمشدہ ہونے کی ایف آٸی آر درج ہوٸی ہو کسی بہت بڑے خطرے سے خالی بات نہیں تھی۔بعدازاں راجہ رفاقت رحمانی نے اپنے ماموں کو بھی بچے کے پاس بھیجا جو اسی گاٶں پیرووالہ میں رہتے تھے۔ اس کے علاوہ ملتان سے لیکر قصور بچے کے پاس پہنچنے تک الطاف سعیدی رحمانی صاحب سے رابطے میں رہے اور راستہ بتاتے رہے۔الطاف سعیدی صاحب نے بھی پیرووالہ گاٶں پہنچنے سے پہلے راجہ رفاقت رحمانی صاحب سے کھڈیاں میں مختصر ملاقات کی اور اس کے بعد بچے کو لیکر اب سے تھوڑی دیر پہلے بابا بھُلے شاہ کے مزار پہ حاضری دینے کے بعد ملتان واپسی کے لیے روانہ ہونے والے تھے۔اس سارے واقعے کے بعد میں یہ بات ضرور کہوں گا ایک تو رحمانی برادری سے محبت کرنے والے بہت لوگ ہیں جنکی نہ توکوٸی اپنی تنظیم ہے اور نہ تو وہ کسی تنظیم سے منسلک ہیں اور نہ ہی انہیں کسی عہدے کی لالچ ہے اور نہ ہی انکو اپنی شہرت کے لیے دوسروں کی پوسٹوں کے نیچے اپنی تصویریں اور نمبر سینڈ کرنے کی ضرورت ہے وہ یہ سب برادری سے درد رکھنے کیوجہ سے کرتے ہیں اور دوسرا یہ کہ اپنے بچوں کو پیار سے سمجھاٸیں ورنہ بچے باغی ہوجاتے ہیٍں یہ تو اللہ کا شکر ہے کہ رحمانی بھاٸیوں کے تعاون سے معاملہ خیریت سے اختتام کو پُہنچا ورنہ قصور بچوں کے ساتھ غیر اخلاقی حرکات کے حوالے سے گذشتہ کچھ سالوں سے بہت خبروں میں ہے۔۔میں ایڈوکیٹ غفار رحمانی صاحب سٹی قصور۔رزاق رحمانی پنجاب پولیںس سٹی قصور۔عرفان مختار رحمانی صاحب کھڈیاں خاص۔راجہ رفاقت رحمانی صاحب کھڈیاں ان سب کا شکریہ ادا کرتا ہوں جنہوں نے برادری کے درد کو اپنا درد سمجھا اور یہی حقیقت میں برادری کے چمکتے ہوۓ ستارے ہیں*
*والسلام*
*سیٹھ شہباز رحمانی*