25/05/2026
پاکستان میں خواتین کو ہراساں کرنے کے خلاف قوانین اور سزائیں
Laws and Punishments Against Harassment of Women in Pakistan
پاکستان میں خواتین کو ہراساں کرنے، راہ چلتی لڑکیوں کو چھیڑنے (Eve-teasing) یا بازاروں اور پبلک مقامات پر برے اشارے کرنے کے خلاف انتہائی سخت قوانین موجود ہیں۔ پاکستان پینل کوڈ (PPC) کے تحت یہ قابلِ دست اندازیِ پولیس (Cognizable) جرائم ہیں، یعنی پولیس ملزم کو بغیر وارنٹ کے گرفتار کر سکتی ہے۔
اُردو زبان میں ان قوانین کی تفصیلی معلومات درج ذیل ہیں:
1. تعزیراتِ ہند/پاکستان (PPC) کی دفعات
دفعہ 509 Section 509 PPC: پبلک جگہ پر چھیڑ خانی اور برے اشارے
یہ دفعہ خاص طور پر گلی محلوں، سڑکوں، بازاروں یا کسی بھی عوامی جگہ پر خواتین کو ہراساں کرنے سے متعلق ہے۔
• جرم کی نوعیت: اگر کوئی شخص کسی خاتون کی حیا (Modesty) کو ठेس پہنچانے کی نیت سے:
◦ کوئی ایسا لفظ بولے یا ایسی آواز نکالے (جو خاتون سن سکے)۔
◦ کوئی ایسا اشارہ کرے یا اپنے جسم کی کوئی ایسی حرکت دکھائے (جو خاتون دیکھ سکے)۔
◦ خاتون کی خلوت یا پرائیویسی میں خلل ڈالے۔
• سزا:
◦ کم از کم 3 سال تک قید کی سزا سنائی جا سکتی ہے۔
◦ اس کے ساتھ بھاری جرمانہ بھی عائد کیا جا سکتا ہے (یا دونوں سزائیں یکجا ہو سکتی ہیں)۔
دفعہ 354 (Section 354 PPC): خاتون پر حملہ یا مجرمانہ قوت کا استعمال
اگر بات صرف زبانی چھیڑ خانی یا اشاروں سے بڑھ کر جسمانی دست درازی یا زبردستی تک پہنچ جائے۔
• جرم کی نوعیت: اگر کوئی شخص کسی خاتون پر اس نیت سے حملہ کرے یا مجرمانہ طاقت (Criminal Force) کا استعمال کرے کہ اس کی بے حرمتی کی جائے یا حیا کو پامال کیا جائے۔
• سزا:
تو Section 354 PPC کا اطلاق ہو گا جس میں 2 سال تک قید کی سزا، یا جرمانہ، یا پھر یہ دونوں سزائیں ایک ساتھ دی جا سکتی ہیں۔
دفعہ 354-A (Section 354-A PPC): خاتون کے کپڑے پھاڑنا یا برہنہ کرنا
یہ خواتین کے خلاف کیے جانے والے جرائم میں شدید ترین جرم شمار ہوتا ہے۔
• جرم کی نوعیت: اگر کوئی شخص کسی خاتون پر حملہ کر کے پبلک کے سامنے اس کے کپڑے پھاڑ دے، اسے برہنہ (Naked) کرے یا اس نیت سے اسے گھسیٹے۔
• سزا:
◦ عمر قید یا موت کی سزا۔
2. کام کی جگہ پر ہراساں کرنے کا قانون (Workplace Harassment)
The Protection Against Harassment of Women at the Workplace Act
یہ قانون خواتین کو ان کے دفاتر، یونیورسٹیوں، کالجوں، یا کسی بھی ایسی جگہ جہاں وہ کام کرتی ہیں، تحفظ فراہم کرتا ہے۔ اس میں ملازمت پر آتے جاتے راستے میں ہراساں کیا جانا بھی شامل ہے اگر وہ فرائضِ منصبی کے سلسلے میں ہو۔
• ہراساں کرنے کی تعریف: کسی بھی قسم کا جنسی اشارہ، ناپسندیدہ گفتگو، جسمانی تعلقات کی کوشش، یا ایسا رویہ جو خاتون کے لیے کام کا ماحول خراب یا خوفناک بنا دے۔
• سزائیں:
◦ معمولی سزائیں: سرزنش کرنا، پروموشن یا سالانہ انکریمنٹ روکنا۔
◦ بڑی سزائیں: ملازمت سے معطلی (Suspension)، نوکری سے برطرفی (Dismissal)، اور بھاری جرمانہ (جو متاثرہ خاتون کو بطور ہرجانہ دیا جاتا ہے)۔
3. انٹرنیٹ اور سوشل میڈیا پر ہراساں کرنا (Cyber Harassment)
پیکا قانون (PECA - Prevention of Electronic Crimes Act)
اگر کوئی شخص انٹرنیٹ، واٹس ایپ، فیس بک، انسٹاگرام یا کسی بھی ڈیجیٹل ذریعے سے لڑکی کو برے پیغامات یا اشارے بھیجے، اس کی تصاویر خراب کر کے وائرل کرنے کی دھمکی دے یا بلیک میل کرے۔
• سزا: اس قانون کے تحت 3 سے 5 سال تک قید اور 10 لاکھ سے 50 لاکھ روپے تک کا جرمانہ ہو سکتا ہے۔
متاثرہ خاتون کے لیے قانونی اقدامات اور ہیلپ لائنز
اگر کسی خاتون یا لڑکی کو اس قسم کی صورتحال کا سامنا ہو، تو وہ فوراً درج ذیل ذرائع سے مدد حاصل کر سکتی ہیں:
1. پولیس مدد (15): کسی بھی ہنگامی صورتحال میں فوراً کال کریں۔
2. وویمن سیفٹی ایپ (Women Safety App): پنجاب پولیس اور دیگر صوبوں کی مخصوص ایپس موجود ہیں جہاں صرف ایک بٹن دبانے سے لائیو لوکیشن پولیس تک پہنچ جاتی ہے۔
3. صوبائی یا وفاقی محتسب (Ombudsman): اگر معاملہ کام کی جگہ یا تعلیمی ادارے کا ہو تو براہِ راست محتسب کو شکایت درج کروائی جا سکتی ہے۔
4. ایف آئی اے سائبر کرائم ونگ (FIA Cyber Crime): آن لائن ہراساں کیے جانے کی صورت میں شکایت کے لیے۔