Jamil ud din foundation

Jamil ud din foundation Jamil Ud Din Foundation Township (JUFT) is a social association of well groomed people and its vision "To Excell the Solution for people of their problems"

16/11/2025
16/11/2025

تعزیتی ریفرنس: چیئرمین جمیل الدین فاؤنڈیشن ندیم الدین قریشی سیفی (ایڈووکیٹ) کی والدہ محترمہ کی اظہار تعزیت اور فاتحہ خوانی کے لئیے
ملک شہباز کھوکھر ایم پی اے اور اجمل ھاشمی لیگی رہنما سابق چیئرمین UC 232 ، سماجی راہنما اور فاؤنڈیشن کے صدر محمد سرفراز خان کی خصوصی آمد۔ اس موقع پر فیاض میر۔ سلیم الدین قریشی۔ محمد سمیر۔ عمران میر۔محمد ذیشان۔ رانا عظمت ۔عمر سلیم
رانا سلیم ، عامر گجر ، چوھدری نعیم کونسلرز، ریحان بیگ ، افضال خان ، راشد قریشی ، نازلی مہربان ، سرفراز خان، معین بٹ، اے آر بلوچ ، طارق پیا ، خوشحال خان ، ندیم بشیر ، سیف جٹ اور دیگر معززین علاقہ اور دوست موجود تھے۔ ان سے والدہ کی وفات پر اظہار تعزیت اور فاتحہ خوانی کی۔بعد ازاں محمد سرفراز خان نے والدہ صاحبہ کی مغفرت اور درجات کی بلندی کے لئیے خصوصی دعا کروائی۔۔۔۔

مسجد انتظامیہ کے لیئے پانی ضائع ہونے سے بچانے اور سنت پر عمل کرانے کی ایک تجویز:فل  توڑی کھولنا منع ہے خود بھی بچیں اور ...
05/08/2025

مسجد انتظامیہ کے لیئے پانی ضائع ہونے سے بچانے اور سنت پر عمل کرانے کی ایک تجویز:
فل توڑی کھولنا منع ہے خود بھی بچیں اور دوسروں کو بھی بچائیں:

سیدہ فاطمہ الزہرہؓ کی وفات کے بعد حضرت علیؓ نے ان کی وصیت کے مطابق دوسری شادی کی حسنؓ حسینؓ زینبؓ ابھی چھوٹے تھےآپ نے سی...
06/07/2025

سیدہ فاطمہ الزہرہؓ کی وفات کے بعد حضرت علیؓ نے ان کی وصیت کے مطابق دوسری شادی کی حسنؓ حسینؓ زینبؓ ابھی چھوٹے تھے
آپ نے سیدنا عقیلؓ کو رشتہ دیکھنے کے لیے کہا تو کلبسی بنو قلاب کے قبیلے کا انتخاب ہوا
سیدنا علیؓ کی خواہش تھی کہ کوئی ایسی خاتون ہو جو شجاعت سخاوت اور ایثار کی خصوصیات سے مالا مال ہو بنو قلاب کی خاتون فاطمہ بنت حزم کے گھر رشتہ بھیجا تو سردار حزم اپنی بیوی کے پاس گئے اور پوچھا کہ سیدنا علیؓ کا بیٹی فاطمہ کے لیے رشتہ آیا ہے کیا آپ نے اپنی بیٹی کی ایسی تربیت کی ہے جو نبیؐ کے خاندان میں بیاہی جا سکے رشتہ قبول ہوتا ہے تو فاطمہ بنت حزم( سیدہ ام البنین) سیدنا علیؓ کے گھر جاتی ہیں تو سیدنا حسنؓ حسینؓ اور بی بی زینبؓ فاطمہ کو گلے لگا لیتی ہیں
سیدنا علیؓ سے درخواست کرتی ہیں کہ ان بچوں کے سامنے آپ مجھے کبھی
فاطمہ مت کہئیے گا
انہیں اس سے ان کی ماں یاد آ جائے گی
میں اس گھر میں ان کی ماں بن کر نہیں آئی بلکہ کنیز بن کر آئی ہوں
میرا یہ مقام نہیں کہ ان کی ماں کی جگہ لے سکوں

ان کے چار بیٹے ہوئے اس لیے انہیں ام البنین بھی کہتے مطلب بیٹوں کی ماں
اپنے بیٹوں کو ہمیشہ حسنؓ حسینؓ کی اطاعت کا حکم دیا ادب سکھایا اور کہا جو وہ کہیں بس حکم بجا لانا ہے بحث نہیں کرنی

یہ اہلبیت ہیں ہم ان کے نوکر ہیں

چار بیٹوں میں عباس ابن علیؓ، عبداللہ ابن علیؓ، جعفر ابن علیؓ اور عثمان ابن علیؓ تھے
سیدنا عباسؓ لشکر حسین کے سپہ سالار بھی رہے
شجاعت میں یہ ایک مقام رکھتے تھے، دونوں ہاتھوں سے تلوار چلاتے تھے
جنگ صفین میں سیدنا علیؓ نے ان کو بھیجا تو محمد بن حنفیہ کہتے کہ مولا آپ صرف عباسؓ کو کیوں آگے بھیجتے ہیں تو سیدنا عباس کہنے لگے حسنؓ حسینؓ میرے ابا کی آنکھیں ہیں اور میں ان کا بازو اور بازو ہمیشہ آنکھوں کی حفاظت کرتے ہیں

حالانکہ عمر میں حسنؓ و حسینؓ سے چھوٹے تھے

مطلب کہ یہ سوال بھی نہیں بنتا، ماں کی تربیت ہر مقام پر جھلکتی تھی

واقعہ کربلا میں جب ایک ایک کرکے لشکر حسینؓ کے سپاہی شہید ہوتے گئے تو سیدنا عباسؓ نے حضرت امام حسینؓ سے درخواست کی کہ مجھے جانے دیں
سیدنا امام حسینؓ ان سے تلواریں لے لیتے ہیں کہ بس عباسؓ تم پانی لے آؤ
آپ پانی لینے جاتے ہیں تو یزیدی لشکر ان پر حملہ کر دیتا ہے دونوں بازو کاٹ دئیے جاتے ہیں
امام عالی مقام کی آنکھیں بھر آتی ہیں
سیدنا عباسؓ حضرت امام حسینؓ سے درخواست کرتے ہیں کہ میرے گھٹنے سے تیر نکال دیں اور کہتے ہیں کہ میری والدہ سے کہہ دیجئیے گا کہ عباسؓ کے دونوں بازو نہیں تھے اس لیے صرف آپ کو تیر نکالنے کا کہا
یہ وہ ادب تھا وہ اطاعت تھی جو سیدہ ام البنین کی تربیت تھی جنہوں نے ساری زندگی نبیؐ کے اس گھرانے کی کنیز بن کر گزار دی
آپ کے چاروں بیٹے اس جنگ میں شہید ہو گئے

حضرت علیؓ کے پانچ بیٹوں نے میدان کربلا میں جام شہادت پائی
جس میں 4 سیدہ ام البین کے فرزندان تھے
جو لشکر حسینؓ کا نہ صرف حصہ بنے بلکہ امام عالی مقام پر اپنی جان تک قربان کر دی اور ساری عمر کبھی زبان پر کوئی سوال نہ لائے
سیدہ ام البنین کو جب بیٹوں کی شہادت کی خبر ملی تو کہا عباسؓ شہد ہوا جعفرؓ شہید ہوا عثمانؓ شہید ہوا عبداللہؓ بھی شہید ہو گیا
فرمانے لگی سب چھوڑیں میرے حسینؓ کا بتائیں تو بتایا کہ وہ بھی شہید ہو گئے تو کہنے لگی کیا میرے بیٹے حسینؓ سے پہلے شہید ہوئے کہ بعد میں تو بتایا کہ نہیں وہ پہلے شہید ہوئے اور امام عالی مقام کی حفاظت کے لئے خوب لڑے تو شکر ادا کیا کہ انہوں نے بیشک حق ادا کر دیا

یہ وہ ماں تھی جو اہلبیت کے مقام کو سمجھتی تھی جس نے اپنے سارے بیٹوں کو ساری عمر صرف اطاعت سکھائی ادب سکھایا خود کو اس گھر کی کنیز بنایا

خدا ہم سب کو اہلبیت کا مقام سمجھنے اور اس ادب و اطاعت کی ہدایت فرمائے جو سیدہ ام البینین نے اپنی اولاد کو سکھایا

( آمین )

9 محرم کوکربلا میں سکوت تھا مگر دل کی دھڑکنیں تیز تھیں خیموں میں تڑپ تھی مگر زبانیں خاموش تھیں۔خاموشی وہ نہیں جو ختم ہون...
05/07/2025

9 محرم کوکربلا میں سکوت تھا مگر دل کی دھڑکنیں تیز تھیں خیموں میں تڑپ تھی مگر زبانیں خاموش تھیں۔
خاموشی وہ نہیں جو ختم ہونے والی ہو…
یہ وہ سکوت ہے جس کے پیچھے صدیاں بولتی ہیں۔

خیموں میں پانی مکمل ختم ہو چکا ہے۔
📘 البدایہ والنہایہ – ابن کثیر، جلد 8، صفحہ 188

“8 محرم کو حسینؑ کے خیمے پانی سے خالی ہو چکے تھے، بچے پیاس سے بے قرار تھے، اور پانی تک رسائی مکمل روکی جا چکی تھی۔”

علی اصغرؑ ماں کی گود میں بے چین ہیں۔
ربابؑ کی آنکھیں خشک، لب لرزتے ہوئے…
نہ وہ رو سکتی ہیں، نہ بچہ چپ ہوتا ہے۔

سکینہؑ، امام حسینؑ سے لپٹ کر پوچھتی ہیں:
“بابا، کیا فرات ہمارا نہیں؟”

دریا کے کنارے عمرو بن حجاج کے سپاہی پہرہ دے رہے ہیں،
کسی کو قریب تک نہیں آنے دیا جا رہا۔
📘 تاریخ طبری، جلد 5، صفحہ 419

“ابن زیاد کے حکم پر فرات پر پہرہ سخت کر دیا گیا تھا، کوئی بچہ، عورت یا مرد پانی تک نہ پہنچ سکتا تھا۔”

شمر بن ذی الجوشن آج کربلا پہنچا۔
ایک ظالم، بدزبان، اہلِ بیت دشمن…

اپنے ساتھ ابن زیاد کا پیغام لایا:
“اگر حسینؑ بیعت نہیں کرتے، تو جنگ کرو!”
📘 الکامل فی التاریخ – ابن اثیر، جلد 4

“شمر بن ذی الجوشن کو خاص طور پر بھیجا گیا تاکہ عمر بن سعد پر حملے کا دباؤ بڑھایا جا سکے۔”

عمر بن سعد اب بھی جنگ سے جھجک رہا ہے،
شمر کا آنا لشکر میں زہر بھرنے کے مترادف تھا۔

امام حسینؑ نے اپنے خیمے والوں کو جمع کیا۔
سکوت کے عالم میں سب بیٹھے،
اور امامؑ نے فرمایا:

“میں تم سب کو اجازت دیتا ہوں۔
رات ہے، اندھیرا ہے…
تم میں سے جو جانا چاہے، چلا جائے۔
دشمن صرف میرے خون کا پیاسا ہے۔”

📘 انساب الاشراف – بلاذری، جلد 3

“امام حسینؑ نے 8 محرم کی رات خیمے والوں کو جانے کی اجازت دی،
مگر کسی نے خیمہ نہ چھوڑا۔”

سب نے کہا:
“یا حسینؑ! ہم آپ کے ساتھ جئیں گے،
اور آپ ہی کے ساتھ مریں گے!”

حضرت عباسؑ نے تلوار کھینچ لی،
زہیر بن قین نے کہا:
“اگر ہمیں ستر بار بھی زندہ کیا جائے،
تو ہم ہر بار آپ کے قدموں میں جان دے دیں گے۔”

فرات بہتا رہا…
مگر ایک قطرہ نہ آیا۔
کربلا میں سانسیں چلتی رہیں…
مگر روح پیاس میں گھلتی رہی۔

رات کا سناٹا،
بچوں کی سسکیاں،
اور ایک آواز جو زمین پر گونج رہی تھی:

“بیعت نہیں ہوگی!”

اب دریا سے لاشیں نکال کر فخر سے بتایا جاۓ گا اتنی لاشیں ریسکیو کر لی گئیں ۔بے حس حکمران اور ادارے اور انتظامیہ اس کی ذمد...
28/06/2025

اب دریا سے لاشیں نکال کر فخر سے بتایا جاۓ گا اتنی لاشیں ریسکیو کر لی گئیں ۔بے حس حکمران اور ادارے اور انتظامیہ اس کی ذمداری ایک دوسے پر ڈالیں گے بلکہ اسی بد قسمت خاندان پر ہی ڈالیں گے وہ وہاں گئے ہی کیوں تھے ۔ ہوٹل انتظامیہ انہیں ناشتہ ہوٹل پریمزیز میں ہی دے دیتی؟ دریا کنارے ہوٹل بنے ہی نہ ہوتے؟ وغیرہ وغیرہ ۔۔۔۔۔کیا یہ اپنی نوعیت کا پہلا واقعہ ہے؟—-افسوس کہ ہم کسی بھی مسئلے کا مستقل اور پریکٹیکل حل نکالنے کی بجائے سوشل میڈیا پہ چند دن سوگ منا کر آئیندہ ایسے واقعات کے رونما ہونے تک خاموش ہو جاتے ہیں۔ جائے حادثہ سے سوات موٹروے انٹرچینج کا فاصلہ تقریبا 30 کلومیٹر ہے جہاں سے ریسکو ہیلی کاپٹر زیادہ سے زیادہ پانچ منٹ میں جائے حادثہ پر پہنچ سکتا ہے تو کیا سوات انٹرچینج پر ایک ہیلی پیڈ نہیں بنایا جا سکتا جو کسی بھی ناگہانی صورتحال میں سوات، منگورہ، مالم جبہ، کالام اور کمراٹ سمیت دیگر سیاحتی مقامات تک چند منٹوں میں رسائی حاصل کر سکتا ہے۔
اسی طرح کی ایک ایئر ایمبولنس سروس ہزارہ موٹروے پر قائم کی جا سکتی ہے جو بالاکوٹ سے لے کر بابوسرٹاپ، گلگت، ہنزہ اور خنجراب تک ریسکو سروس مہیا کر سکتی ہے۔
اسی طرز پر مظفراباد میں ایئر ایمبولنس سروس کے زریعے پیر چناسی، وادی لیپا، رتی گلی، کیرن، شاردہ، ارنگ کیل اور تاوبٹ وغیرہ جیسے مقامات تک فضائی رسائی ممکن بنائی جا سکتی ہے۔
بالعموم جون سے لے کر اگست تک ان علاقوں میں سیاحوں کا رش ہوتا ہے اور سیاحوں کی لاپرواہی اور عدم احتیاط کی وجہ سے ان سیاحتی مقامات پہ بے شمار جان لیوا حادثات رونما ہوتے ہیں۔ کیا حکومت صرف تین ہیلی کاپٹر ان تین مہینوں کے لیے ان اہم لیکن خطرناک سیاحتی مقامات کے لیے تعینات نہیں کر سکتی؟
بالکل کر سکتی ہے اگر ارباب اختیار اس مسئلے پر سنجیدگی سے غور کریں۔

جہاز کا واحد زندہ بچنے والا مسافر۔۔۔!!جب موت آئی ہو تو اپنے ہاسٹل میں سکون سے کھانا کھاتے ڈاکٹر بھی جہاز تلے دب کر مر جا...
13/06/2025

جہاز کا واحد زندہ بچنے والا مسافر۔۔۔!!
جب موت آئی ہو تو اپنے ہاسٹل میں سکون سے کھانا کھاتے ڈاکٹر بھی جہاز تلے دب کر مر جاتے ہیں اور جب زندگی ابھی باقی ہو تو تباہ شدہ جہاز کے 242 افراد میں سے ایک شخص زندہ بھی نکل آتا ہے۔
شاید اس لیے، تاکہ لوگ جان لیں کہ
موت کسی جہاز میں ہونے یا نہ ہونے سے نہیں آتی۔

🕋 *خطبہ حج 2025 کا خلاصہ*📿 تقویٰ اور توحید کی تلقینشیخ صالح بن حمید نے فرمایا:> "اے ایمان والو! اللہ سے ڈرو اور تقویٰ اخ...
05/06/2025

🕋 *خطبہ حج 2025 کا خلاصہ*

📿 تقویٰ اور توحید کی تلقین

شیخ صالح بن حمید نے فرمایا:

> "اے ایمان والو! اللہ سے ڈرو اور تقویٰ اختیار کرو، یہی ایمان والوں کی شان ہے۔"

انہوں نے مزید کہا کہ:

> "اللہ کی عبادت کرو، اس کے ساتھ کسی کو شریک نہ کرو۔ نیکوکاروں اور تقویٰ اختیار کرنے والوں کے لیے آخرت میں اچھا انجام ہے۔"

🤝 سماجی انصاف اور اخلاقیات

امام حرم نے فرمایا:

> "یتیموں، مساکین، بیواؤں اور ہمسایوں کے ساتھ شفقت فرماؤ۔ اللہ کسی تکبر اور غرور کرنے والوں کو پسند نہیں کرتا۔"

انہوں نے مزید کہا کہ:

> "نماز قائم کرو، زکوٰۃ ادا کرو، رمضان کے روزے رکھو اور حج کرو۔ روزہ صبر اور برداشت کا درس دیتا ہے۔"

🕊️ بدعت اور غیبت سے اجتناب

شیخ صالح بن حمید نے تاکید کی:

> "بدعت اور غیبت سے دور رہو۔ رب کے سوا کسی غیر کی عبادت مت کرنا۔ نبی اکرم ﷺ اللہ کے آخری رسول ہیں، وہ خاتم النبیین ہیں۔"

🇵🇸 فلسطین کے لیے خصوصی دعا

خطبہ کے اختتام پر امام حرم نے دعا کی:

> "اے اللہ! فلسطین کے بھائیوں کی مدد فرما، ان کے شہداء کو معاف فرما، زخمیوں کو شفا دے اور ان کے دشمنوں کو تباہ و برباد کر دے۔"


#تقویٰ
#توحید
#فلسطین

#حج2025

‏((ہلدی اور دودھ کے فائدے )) 1. سانس کی بیماری ہلدی کا دودھ ایک اینٹی مائکروبیل ہے جو بیکٹیریل انفیکشن 150 وائرل انفیکشن...
04/06/2025

‏((ہلدی اور دودھ کے فائدے ))
1. سانس کی بیماری
ہلدی کا دودھ ایک اینٹی مائکروبیل ہے جو بیکٹیریل انفیکشن 150 وائرل انفیکشنز پر حملہ کرتا ہے۔

یہ نظام تنفس سے متعلق بیماریوں کے علاج کے لیے مفید ہے، کیونکہ یہ مسالا آپ کے جسم کو گرم کرتا ہے اور پھیپھڑوں کی بھیڑ اور سینوس سے جلد آرام پہنچاتا ہے۔

یہ دمہ اور برونکائٹس کے علاج کے لیے بھی ایک موثر دوا ہے۔

2. کینسر:
یہ دودھ چھاتی، جلد، پھیپھڑوں، پروسٹیٹ اور بڑی آنت کے کینسر کی نشوونما کو روکتا اور روکتا ہے، کیونکہ اس میں سوزش کی خصوصیات ہیں۔

یہ کینسر کے خلیوں کو ڈی این اے کو نقصان پہنچانے سے روکتا ہے اور کیموتھراپی کے مضر اثرات کو کم کرتا ہے۔

3. سوزش مخالف:
ہلدی کا دودھ سوزش کش ہے، جو گٹھیا اور پیٹ کے السر کو روک سکتا ہے اور اس کی حفاظت کر سکتا ہے۔

اسے 'قدرتی اسپرین' کے نام سے بھی جانا جاتا ہے جو سر درد، سوجن اور درد کو ٹھیک کر سکتی ہے۔

4. نزلہ اور کھانسی:
ہلدی کا دودھ اینٹی وائرل اور اینٹی بیکٹیریل خصوصیات کی وجہ سے نزلہ اور کھانسی کا بہترین علاج سمجھا جاتا ہے۔
یہ گلے کی خراش، کھانسی اور زکام میں فوری آرام دیتا ہے۔

5. گٹھیا:
ہلدی کا دودھ گٹھیا کے علاج اور رماٹائیڈ آرتھرائیٹس کی وجہ سے سوجن کے علاج کے لیے استعمال ہوتا ہے۔

یہ درد کو کم کرکے جوڑوں اور پٹھوں کو لچکدار بنانے میں بھی مدد کرتا ہے۔

6. درد اور درد:
ہلدی کا سنہری دودھ درد اور درد سے بہترین آرام دیتا ہے۔
یہ جسم میں ریڑھ کی ہڈی اور جوڑوں کو بھی مضبوط بنا سکتا ہے۔

7. اینٹی آکسیڈینٹ:
ہلدی والا دودھ اینٹی آکسیڈنٹس کا بہترین ذریعہ ہے، جو فری ریڈیکلز سے لڑتا ہے۔
اس سے بہت سی بیماریوں کا علاج ہو سکتا ہے۔

8. خون صاف کرنے والا:
ہلدی والا دودھ ایک بہترین خون صاف کرنے والا اور صاف کرنے والا سمجھا جاتا ہے۔
یہ جسم میں خون کی گردش کو بحال اور بڑھا سکتا ہے۔
یہ خون کو پتلا کرنے والا بھی ہے جو لمفی نظام اور خون کی نالیوں کو تمام نجاستوں سے پاک کرتا ہے۔

9. لیور ڈیٹوکس جگر سمیت کو صاف کرنے کے لیے
ہلدی کا دودھ ایک قدرتی جگر کو detoxifier اور خون صاف کرنے والا ہے جو جگر کے کام کو بڑھاتا ہے۔
یہ جگر کو سہارا دیتا ہے اور لمفی نظام کو صاف کرتا ہے۔

10. ہڈیوں کی صحت:
ہلدی والا دودھ کیلشیم کا ایک اچھا ذریعہ ہے جو ہڈیوں کو صحت مند اور مضبوط رکھنے کے لیے ضروری ہے۔
ہلدی کا دودھ ہڈیوں کے گرنے اور آسٹیوپوروسس کو کم کرتا ہے۔

11. ہاضمہ کی صحت:
یہ ایک طاقتور جراثیم کش ہے جو آنتوں کی صحت کو فروغ دیتا ہے اور پیٹ کے السر اور کولائٹس کا علاج کرتا ہے۔
یہ بہتر ہاضمہ صحت میں مدد کرتا ہے اور السر، اسہال اور بدہضمی کو روکتا ہے۔

12. ماہواری کے درد:
ہلدی کا دودھ حیرت انگیز کام کرتا ہے کیونکہ یہ اینٹی اسپاسموڈک ہے جو ماہواری کے درد اور درد کو کم کرتا ہے۔
حاملہ خواتین کو آسان ڈیلیوری، پیدائش کے بعد صحت یابی، بہتر دودھ پلانے اور بیضہ دانی کے تیزی سے سکڑنے کے لیے سنہری ہلدی والا دودھ لینا چاہیے۔

13. دھپڑ دھبے اور جلد کی سرخی:
قدیم ملکہیں نرم، کومل اور چمکدار جلد کے لیے ہلدی کے دودھ سے غسل کرتی تھیں۔
اسی طرح چمکدار جلد کے لیے ہلدی والا دودھ پیئے۔

ہلدی دودھ کو روئی کی گیند میں بھگو دیں؛ جلد کی لالی اور دھبوں والے دھبوں کو کم کرنے کے لیے متاثرہ جگہ پر 15 منٹ کے لیے لگائیں۔

اس سے جلد پہلے سے زیادہ چمکدار اور چمکدار ہو جائے گی۔

14. وزن میں کمی:
ہلدی والا دودھ غذائی چربی کو توڑنے میں مدد کرتا ہے۔
یہ وزن کو کنٹرول کرنے کے لیے مفید ہو سکتا ہے۔

15. ایگزیما:
ایگزیما کے علاج کے لیے ایک گلاس ہلدی والا دودھ روزانہ پییں۔

16. بے خوابی:
ہلدی کا گرم دودھ ایک امینو ایسڈ، ٹرپٹوفن پیدا کرتا ہے۔ جو پرامن اور خوشگوار نیند لاتا ہے۔

ہم وزیر اعلی پنجاب محترمہ مریم نواز صاحبہ سے درخواست کرتے ہیں اس موضوع پر بھی توجہ فرمائیں شاید کہ اتر جائے ہمارے حکمران...
19/05/2025

ہم وزیر اعلی پنجاب محترمہ مریم نواز صاحبہ سے درخواست کرتے ہیں اس موضوع پر بھی توجہ فرمائیں شاید کہ اتر جائے ہمارے حکمرانوں کہ دلوں میں ہماری بات۔۔۔۔۔

آغاز اللہ اکبر سے اور اختتام انشاءاللہ الحمد و للہ  سے ہوگا7 Down Nowانڈیا کی مانگ کا سندور اجاڑ دیا گیا۔۔7 Down Nowانڈی...
07/05/2025

آغاز اللہ اکبر سے اور اختتام انشاءاللہ الحمد و للہ سے ہوگا

7 Down Nowانڈیا کی مانگ کا سندور اجاڑ دیا گیا۔۔

7 Down Nowانڈیا کی مانگ کا سندور اجاڑ دیا گی

7 Down Nowانڈیا کی مانگ کا سندور اجاڑ دیا گی

Address

Main Road 11-12 Township Lahore
Lahore

Telephone

+923018456812

Website

Alerts

Be the first to know and let us send you an email when Jamil ud din foundation posts news and promotions. Your email address will not be used for any other purpose, and you can unsubscribe at any time.

Contact The Organization

Send a message to Jamil ud din foundation:

Share