Jinnah Foundation

Call Directions Contact the organization

Jinnah Foundation Rabia Raheel

Nankana Sahib Welfare Foundation is a non-profit organization in Pakistan, with an aim to improve the condition of underprivileged communities especially women and children and to uplift them on the base of their talent and abilities. Our main focus is on Child education, healthcare services and to provide financial, technical and vocational assistance to poor widows, orphan and needy people.

نادرا نے پنشنرز کے لیے پروف آف لائف سرٹیفکیٹ کے انتہائی آسان اور مفت اجراء کی سہولت فراہم کر دی  نادرا نے پنشنرز کے لیے ...
22/08/2026

نادرا نے پنشنرز کے لیے پروف آف لائف سرٹیفکیٹ کے انتہائی آسان اور مفت اجراء کی سہولت فراہم کر دی
نادرا نے پنشنرز کے لیے پروف آف لائف، یعنی تصدیقِ حیات کا سرٹیفکیٹ، مکمل طور پر بلا معاوضہ فراہم کرنے کا انتظام کر دیا ہے۔ یہ سہولت اب پاک آئی ڈی موبائل ایپ، نادرا رجسٹریشن مراکز، یونین کونسلز، ای سہولت فرنچائزز اور نادرا کی موبائل سروسز کے ذریعے ملک بھر میں دستیاب ہے۔
یہ اقدام وزیراعظم پاکستان محمد شہباز شریف کی خصوصی ہدایات پر وزارتِ داخلہ و انسدادِ منشیات، وزارتِ دفاع، کنٹرولر جنرل آف اکاؤنٹس (سی جی اے) اور ملٹری اکاؤنٹنٹ جنرل (ایم اے جی) کے اشتراک سے کیا گیا ہے۔ اس کا خاص مقصد بزرگ، صاحبِ فراش اور خصوصی افراد سمیت ایسے پنشنرز کو سہولت دینا ہے جن کے لیے پروف آف لائف کی متواتر ضرورت پوری کرنے کے لیے بینک یا پنشن دفتر جانا مشکل ہوتا ہے۔
اس سہولت کے حصول کا سب سے آسان طریقہ پاک آئی ڈی موبائل ایپ ہے جس کے ذریعے اہل پنشنرز گھر بیٹھے اپنا پروف آف لائف سرٹیفکیٹ حاصل کر سکتے ہیں۔ جو پنشنر خود پاک آئی ڈی استعمال نہیں کر سکتے، ان کے خاندان کا کوئی فرد اپنے پاک آئی ڈی اکاؤنٹ کے ذریعے شناختی تصدیق کی طے شدہ کارروائی مکمل کرکے پنشنر کا سرٹیفکیٹ حاصل کر سکتا ہے۔
جو پنشنرز معاونت کے ساتھ یہ سہولت حاصل کرنا چاہیں، ان کے لیے پروف آف لائف سرٹیفکیٹ ملک بھر میں پانچ ہزار سے زائد ای سہولت فرنچائزز پر بھی بلا معاوضہ دستیاب ہے۔
پنشنرز نو سو اٹھاسی سے زائد نادرا رجسٹریشن مراکز اور پانچ سو یونین کونسلز سے بھی یہ سہولت حاصل کر سکتے ہیں، جہاں انہیں معمول کی قطار میں انتظار کے بغیر ترجیحی بنیاد پر خدمات فراہم کی جا رہی ہیں۔
ایسے پنشنرز جو کسی سروس پوائنٹ تک بآسانی نہیں پہنچ سکتے، ان کے لیے یہی سہولت نادرا کی موبائل رجسٹریشن وینز، بائیکر سروس اور مین پیک سروس کے ذریعے بھی دستیاب ہے۔ اس طرح محدود نقل و حرکت یا رسائی رکھنے والے افراد بھی پروف آف لائف سرٹیفکیٹ حاصل کر سکتے ہیں۔
پروف آف لائف سروس ایک وسیع تر اصلاحاتی اقدام کا حصہ ہے، جس کے تحت نادرا نے نیشنل پنشنرز رجسٹر قائم کر دیا ہے۔ پہلے مرحلے میں سی جی اے اور ایم اے جی کے زیرانتظام پنشنرز کو اس رجسٹر میں شامل کیا گیا ہے، جس سے پنشنر کی شناخت اور اس کی حیات کی حیثیت کی تصدیق کے لیے ایک مستند ڈیجیٹل حوالہ میسر آ گیا ہے۔
نیشنل پنشنرز رجسٹر کو اس طرح ترتیب دیا گیا ہے کہ پنشنرز یا ان کے خاندانوں کو ایک ہی واقعے کی اطلاع بار بار مختلف اداروں کو دینے کی ضرورت نہ رہے۔ اگر کسی بنیادی یا ثانوی پنشنر کی وفات کسی صحت مرکز کی جانب سے نادرا کے ڈیتھ نوٹیفکیشن ٹول کے ذریعے رپورٹ ہو یا سول رجسٹریشن مینجمنٹ سسٹم (سی آر ایم ایس) میں درج کی جائے تو نادرا متعلقہ پنشن کنٹرولر کو اس کی روزانہ کی بنیاد پر ڈیجیٹل اطلاع فراہم کرتا ہے۔
اسی طرح ثانوی یا فیملی پنشنرز کی اہلیت پر اثرانداز ہونے والی تبدیلیاں، جن میں متعلقہ قواعد کے تحت عمر یا ازدواجی حیثیت کی شرائط شامل ہیں، اگر نادرا کے رجسٹریشن ریکارڈ میں ظاہر ہوں تو ان کی اطلاع بھی متعلقہ پنشن کنٹرولرز کو روزانہ کی بنیاد پر دی جاتی ہے۔ پنشن جاری رکھنے، اس میں تبدیلی یا اسے بند کرنے کا فیصلہ قابلِ اطلاق قواعد کے تحت متعلقہ مجاز پنشن اتھارٹی ہی کرتی ہے۔
نادرا نے بینکوں کے لیے بھی ایک علیحدہ تصدیقی سروس فراہم کر دی ہے جس کے ذریعے مجاز بینک نیشنل پنشنرز رجسٹر سے کسی پنشنر کا پروف آف لائف اسٹیٹس براہِ راست چیک کر سکتے ہیں۔ اس ڈیجیٹل سہولت سے پنشن کی ادائیگی کے لیے بار بار ذاتی طور پر حاضری یا کاغذی تصدیق پر انحصار کم ہوگا۔
اگلے مرحلے میں ضروری معاہدوں اور ادارہ جاتی انتظامات کی تکمیل کے بعد نیشنل پنشنرز رجسٹر کو دیگر وفاقی و صوبائی سرکاری اداروں، پبلک سیکٹر اداروں اور نجی اداروں کے پنشنرز تک توسیع دینے کا منصوبہ ہے۔
یہ مربوط نظام پنشنرز کے لیے پروف آف لائف کی شرط پوری کرنا آسان بناتا ہے، جبکہ پنشن کنٹرولرز اور بینکوں کو زیادہ تازہ، مستند اور تصدیق شدہ معلومات تک رسائی فراہم کرتا ہے۔

نادرا کے اقدامات کی بدولت رواں سال میں پہلی بار شناختی کارڈ بنوانے والی خواتین کی تعداد میں مسلسل اضافہ کا رجحان دیکھنے ...
06/08/2026

نادرا کے اقدامات کی بدولت رواں سال میں پہلی بار شناختی کارڈ بنوانے والی خواتین کی تعداد میں مسلسل اضافہ کا رجحان دیکھنے میں آیا ہے۔ جنوری سے جولائی 2026 کے دوران پہلی بار شناختی کارڈ بنوانے والے کل 10 لاکھ 27 ہزار افراد میں خواتین کا تناسب اوسطاً 63 فیصد جبکہ مردوں کا تناسب 37 فیصد رہا ہے۔ ماہانہ اعدادوشمار بھی اسی رجحان کی عکاسی کرتے ہیں اور تمام مہینوں کے دوران پہلی بار شناختی کارڈ بنوانے والے مردوں کی نسبت خواتین کی تعداد نمایاں حد تک زیادہ رہی۔

بچے کی پیدائش کے 30 دن کے اندر یونین کونسل میں اندراج کرائیں اور نادرا سے ب فارم بنوائیں، میعاد ختم ہونے پر اس کی بروقت ...
25/06/2026

بچے کی پیدائش کے 30 دن کے اندر یونین کونسل میں اندراج کرائیں اور نادرا سے ب فارم بنوائیں، میعاد ختم ہونے پر اس کی بروقت تجدید کرائیں
نادرا کی جانب سے ہر بچے کا الگ ب فارم بنایا جاتا ہے۔ تین سال تک عمر کے بچوں کی تصویر اور فنگرپرنٹس کی ضرورت نہیں ہے البتہ اگر بعد میں بچے کا پاسپورٹ بنوانا ہو تو تصویر ضروری ہو گی۔ تین سے دس سال تک عمر کے بچوں کی تصویر جبکہ دس سے اٹھارہ سال تک عمر کے بچوں کی تصویر اور فنگرپرنٹس لئے جاتے ہیں۔
نادرا دفتر سے ب فارم بنوانے کے لئے والدین اپنے شناختی کارڈ نمبر اور یونین کونسل کا پیدائش سرٹیفکیٹ یا سی آر ایم ایس نمبر ہمراہ لائیں۔ تین سال سے کم عمر بچے کا ب فارم حاصل کرنے کے بعد پاسپورٹ بنوانا ہو تو اسے تصویر کے لئے ہمراہ لائیں، بصورت دیگر تین سال سے زیادہ عمر کے بچوں کو ہمراہ لائیں۔

*پولیس خدمت مرکز موبائل وین ننکانہ کا ویکلی شیڈول*
16/02/2026

*پولیس خدمت مرکز موبائل وین ننکانہ کا ویکلی شیڈول*

Address

Lahore
54810

Telephone

+923053053881

Website

Alerts

Be the first to know and let us send you an email when Jinnah Foundation posts news and promotions. Your email address will not be used for any other purpose, and you can unsubscribe at any time.

Contact The Organization

Send a message to Jinnah Foundation:

Shortcuts

Share