14/05/2024
جوائنٹ عوامی ایکشن کمیٹی کی جانب سے آزاد حکومت ریاست جموں و کشمیر میں منہگائی ، مہنگی بجلی، آٹے کی زائد قیمتوں و دیگر مطالبات کو لے کر ملک گیر پر امن احتجاج کیا گیا۔ اس احتجاج کے دوران سیکیورٹی اداروں کی جانب سے فائرنگ کے نتیجے میں تین افراد شہید ہو گئے اور متعدد زخمی ہوئے۔ جس کے بعد حکومت آزاد جموں و کشمیر نے ایکشن کمیٹی کے مطالبات مان لیے تاہم شہداء کو خراج تحسین پیش کرنے اور اس ظلم کے خلاف آج مورخہ 14 مئی کو یوم سیاہ کے طور پر منایا گیا۔ لاہور میں مختلف جامعات کے طلبا و طالبات نے لاہور پریس کلب کے سامنے اپنا احتجاج ریکارڈ کروایا ۔ اس احتجاج میں پنجاب،سندھ، بلوچستان اور پختونخوا کے طلبا و طالبات نے بھی حصہ لیا اور کشمیری قوم کے ساتھ اظہار یک جہتی کی۔ مقررین نے موجودہ حکمرانوں کو اس بات کی توجہ دلائی کہ پوری قوم کشمیریوں کے ساتھ ہیں اور اسی طرح کشمیری بھی اپنے پاکستانی بھائیوں کے حقوق کے لیے ان کے ساتھ کھڑے ہیں۔ ظلم و جبر کا نظام قابل قبول نہیں ہے ۔ کشمیر کمیونٹی لاہور کے عہدے داران راجہ بابر، راجہ حسیب ، عمران خان اور راجہ عاصم کے علاؤہ سول سوسائٹی کے افراد نے اس احتجاج میں شرکت کی اور اس بات کی یقین دھانی کرائی کہ ہر مشکل وقت میں ہم اپنی قوم کے ساتھ کھڑے ہیں۔ شہداء کے لیے دعا گو ہیں کہ اللہ پاک ان کی قربانی قبول فرمائے آمین اور جموں و کشمیر کو آزاد خودمختار ریاست بنے کا خواب شرمندہ تعبیر ہو ۔