IGS Pakistan

IGS Pakistan Page for All FMGs of Pakistan, International Graduates Society of Pakistan (IGS)

𝗗𝗿. 𝗨𝘀𝗮𝗺𝗮 𝗕𝗮𝘀𝗵𝗶𝗿 is an Anesthesia Post-Graduate Resident in 𝗖𝗠𝗛 𝗔𝗯𝗯𝗼𝘁𝗮𝗯𝗯𝗮𝗱. He is a graduate of Hubei University of Medi...
18/11/2025

𝗗𝗿. 𝗨𝘀𝗮𝗺𝗮 𝗕𝗮𝘀𝗵𝗶𝗿 is an Anesthesia Post-Graduate Resident in 𝗖𝗠𝗛 𝗔𝗯𝗯𝗼𝘁𝗮𝗯𝗯𝗮𝗱. He is a graduate of Hubei University of Medicine, China.

He is giving hands-on practice for intubation and other Anesthesia skills to his junior PGRs and House officers.

FMG Community is proud of him and may Allah excel him in his career. Aameen!

Regards,
𝗜𝗚𝗦 𝗣𝗮𝗸𝗶𝘀𝘁𝗮𝗻

11/11/2025
We are proud of 𝗗𝗿. 𝗛𝗮𝘀𝘀𝗮𝗺 𝗥𝗮𝗷𝗮 who is a graduate of Taishan Medical University, China. He is volunteering as a Doctor i...
30/08/2025

We are proud of 𝗗𝗿. 𝗛𝗮𝘀𝘀𝗮𝗺 𝗥𝗮𝗷𝗮 who is a graduate of Taishan Medical University, China. He is volunteering as a Doctor in Flood Relief Medical Camp in Sialkot.

𝗙𝗼𝗿𝗲𝗶𝗴𝗻 𝗠𝗲𝗱𝗶𝗰𝗮𝗹 𝗚𝗿𝗮𝗱𝘂𝗮𝘁𝗲𝘀 (𝗙𝗠𝗚𝘀) are an important asset of Pakistan and we don't stay back when our nations needs us.

Regards,
𝗜𝗚𝗦 𝗣𝗮𝗸𝗶𝘀𝘁𝗮𝗻

08/07/2025

𝗥𝗲𝗶𝗻𝘀𝘁𝗮𝘁𝗲𝗺𝗲𝗻𝘁 𝗼𝗳 𝗡𝗥𝗘 𝗳𝗼𝗿 𝗚𝗼𝘃𝘁. 𝗠𝗲𝗱𝗶𝗰𝗮𝗹 𝗚𝗿𝗮𝗱𝘂𝗮𝘁𝗲𝘀 & 𝗣𝗿𝗶𝘃𝗮𝘁𝗲 𝗠𝗲𝗱𝗶𝗰𝗮𝗹 𝗚𝗿𝗮𝗱𝘂𝗮𝘁𝗲𝘀 𝗜𝘀 𝗔𝗻 𝗜𝗻𝗷𝘂𝘀𝘁𝗶𝗰𝗲.

"I am a Foreign Medical Graduate and I know that PMDC has become a money-making machine for corrupt people."

"If government doesn't trust the examination system of UHS, KMU, Dow & Bolan Medical University then these universities should be shut down as it is a waste of taxpayers money."

Regards,
𝗗𝗿. 𝗧𝗮𝗵𝗶𝗿 𝗞𝗵𝗮𝗻 𝗦𝗶𝗸𝗮𝗻𝗱𝗿𝗶
Prominent Leader of FMG Doctors

01/04/2025

آپ تخیل کریں کہ آپ گھر سے دور عید کی ڈیوٹی پہ نشتر ہسپتال ملتاں موجود ہوں اور اسی وارڈ کے سربراہ سے محفوظ نا ہوں؟

پروفیسرز کیلئے خواتین کی ہراسگی ایک معمول بن چکا ہے۔ سو کیسز میں سے صرف ایک کیس رپورٹ ہوتا ہے اور صرف وہ لڑکی کرتی ہے جس کو جرات ہوتی ہے، جو ہمت کرتی ہے جو اس معاشرے میں جینا اور رہنا جانتی ہے۔

نشتر ہسپتال کے شعبہِ امراض سینہ کے سربراہ کی طرف سے ہراسگی اپنی نوعیت کا پہلا کیس نہیں۔ موصوف ایم بی بی ایس کی طالبات کے انباکس میں ہمہ وقت پائے جاتے ہیں تو کبھی کسی لیڈی ڈاکٹر کو ہراساں کرتے ہیں۔

نشتر میڈیکل یونیورسٹی کی “کمیٹی برائے انسدادِ ہراسیت” یا “ہراسیت کے خلاف شکایات کمیٹی” کے ممبران کا کام شکایات لگانے والوں کا تدارک کرنا ہے یا انہیں دھمکیاں دینا ہے کہ آپ کو ہاؤس جاب کی تجرباتی اسناد مہیا نہیں کی جائیں گی؟ کیا یہ شکایتی کمیٹی اب بھی فعال ہوگی؟ کیا یہ کمیٹی اپنا کردار ادا کرے گی یا وہی کردار ادا کرے گا جو وہ کل سے اب تک کرچکی ہے؟

کیا آپ کی بیٹی ان پروفیسرز کی وارڈ میں محفوظ ہے؟ کیا یہ پروفیسر اپنی بیٹیوں سے بھی چھوٹی لڑکیوں کو بیٹیاں سمجھتے ہیں؟ نشتر میڈیکل یونیورسٹی کا ہر وہ پروفیسر جو اس پروفیسر کو بچانے، صلح صفائی اور پریشر دیکر درخواست واپس لینے پہ مجبور کرے گا وہ جان لے کہ وہ بھی اس میں برابر کا شریک ہوگا۔

ان پروفیسرز کی نفسیات چیک کرانے کی ضرورت ہے۔ نشتر میڈیکل یونیورسٹی انتظامیہ نے اگر اس کیس کو دبانے کی کوشش کی تو یہ ان کے گلے کی ہڈی ثابت ہوگا۔ وائی ڈی اے ملتان خاتون ہاؤس آفیسر کے مکمل ساتھ ہے اور دھمکانے والوں کو وارننگ ہے کہ وہ معاملہ سلجھانے کی بجائے پروفیسرز کے خلاف کھڑا ہو اور اسے عبرت کا نشان بنائے ورنہ یاد رکھیں بیٹیاں کسی کی محفوظ نہیں رہیں گی۔

وائی ڈی اے ملتان/پنجاب

27/03/2025

مورخہ 25 مارچ 2025 کو جھنگ میں اڈہ کھیوہ کے مقام پر ڈاکٹر بابر کے کلینک پر سپیشل برانچ کے عمران نامی شخص اور جھنگ پولیس کے سعید نول نے تقریبا 20 نامعلوم افراد کے ہمراہ قاتلانہ حملہ کیا
۔ ڈاکٹر بابر کو ڈی ایچ کیو جھنگ میں زخمی حالت میں لایا گیا جس میں انکی حالت تشویشناک تھی۔بہانہ بنایا گیا کہ ہسپتال میں غلط آپریشن کیا گیا تو سپیشل برانچ کو شکایت ملی۔ یہ سپیشل برانچ کے داٸرہ اختیار میں ہی نہیں کہ وہ رجسٹرڈ ڈاکٹر کے کلینک پر جا کے بدمعاشی کرے بلکہ ہیلتھ کیٸر کمیشن اور محکمہ ہیلتھ اس پر قانون کے مطابق کارواٸی کرنے کا اختیار رکھتے ہیں۔ 15 پر کال کرنے پر پولیس نہ صرف دیر سے پہنچی بلکہ ملزم سپیشل برانچ سے ہونے کی وجہ سے تا حال ایف آٸی آر تک درج نہیں کی گٸ۔ محافظ بجاۓ حفاظت کے مسیحاٶں پر حملہ کرنے اور عوام کی خدمت کرنے میں رکاوٹ بننے کے ساتھ بھتہ دینے پر مجبور کرنے لگے ہیں۔ ظلم کی انتہا یہ ہے کہ ایف آٸی آر بھی ڈاکٹر بابر پر ہی کر دی گٸ ہے کیونکہ جنگل کا قانون اور اداروں کی آڑ میں کچھ لوگ قانون کا استعمال ذاتی مفادات کے لیے کررہے ہیں۔
واۓ ڈی اے فیصل آباد مشکل کی اس گھڑی میں ڈاکٹر بابر کے ساتھ کھڑی ہے اور آٸی جی پنجاب اور آر پی او فیصل آباد سے مطالبہ کرتی ہے کہ ملزمان پر فی الفور آیف آٸی آر درج کرے اور انہیں گرفتار کر کے سلاخوں کے پیچھے کرے۔ پولیس اور سپیشل برانچ اپنی صفوں میں موجود کالی بھیڑوں سے لا تعلقی کر کے انکی پشت پناہی کرنے سے گریز کریں ورنہ ہم احتجاجاً ڈویژن بھر میں اپنی سروسز بند کر دیں گے۔

متحد رہیں مضبوط رہیں۔

ڈاکٹر چوہدری نعمان
صدر واۓ ڈی اے الاٸیڈ ہسپتال فیصل آباد

ڈاکٹر نعیم عباس بگھلیرا
چیٸرمین واۓ ڈی اے الاٸیڈ ہسپتال فیصل آباد

ڈاکٹر احسن گجر
جنرل سیکرٹری واۓ ڈی اے الاٸیڈ ہسپتال فیصل آباد

إِنَّا ِلِلَّٰهِ وَإِنَّا إِلَيْهِ رَاجِعُونَRequest For Prayers.Dr. Khalil Ullah Age 28 years belongs to South Wazirist...
03/11/2024

إِنَّا ِلِلَّٰهِ وَإِنَّا إِلَيْهِ رَاجِعُونَ

Request For Prayers.

Dr. Khalil Ullah Age 28 years belongs to South Waziristan. He completed his bachelor degree MD from Afghanistan and just started internship. He suffered from dengue fever 3 days back that suddenly collapsed and started internal bleeding. CT scan show intracranial hemorrhage and was admitted in Advance Hospital Islamabad in Surgical ICU and was on mechanical ventilator support.

His condition deriorated and just passed away. His dreams from childhood was to become a doctor. He struggled a lot in his career and just entered his professional life but who knew life has no guarantee. He left us all in tears. Family members are all in a very deep grief.

May Allah grant him high ranks in Jannah and give sabar to the family members. Aameen!
Death of loved ones is never easy. May Allah protect all from such a situation. Aameen!

21/10/2024

House Job opportunities at Primary & Secondary Healthcare Department - P&SHD

Primary & Secondary Healthcare Department offering opportunities for graduates till 27th October, 2024.

Apply on the link below

PSHD - PRIMARY & SECONDARY HEALTH CARE DEPARTMENT

پاکستان میں موٹرسائیکل سواروں کے لیے ہیلمٹ پہننا انتہائی ضروری اور زندگی بچانے والا اقدام ہے۔ ایک ڈاکٹر کی حیثیت سے، میں...
17/09/2024

پاکستان میں موٹرسائیکل سواروں کے لیے ہیلمٹ پہننا انتہائی ضروری اور زندگی بچانے والا اقدام ہے۔ ایک ڈاکٹر کی حیثیت سے، میں روزانہ ایسے حادثات کا سامنا کرتا ہوں جہاں موٹرسائیکل سواروں کی جان یا تو سر کی چوٹ کی وجہ سے ضائع ہوتی ہے یا پھر شدید زخموں کے باعث وہ معذوری کا شکار ہو جاتے ہیں۔ ہیلمٹ ایک بنیادی حفاظتی آلہ ہے جو حادثے کی صورت میں سر کو شدید چوٹوں سے بچانے میں اہم کردار ادا کرتا ہے۔
سب سے پہلے، ہمیں یہ سمجھنا ہوگا کہ موٹرسائیکل سواروں کا جسم دیگر گاڑیوں کے مقابلے میں زیادہ غیر محفوظ ہوتا ہے کیونکہ موٹرسائیکل کھلی گاڑی ہے۔ گاڑیوں کے برعکس، موٹرسائیکل سوار کے لیے کسی قسم کی حفاظتی ڈھانچہ یا ایئر بیگ نہیں ہوتے جو حادثے کی صورت میں اس کی حفاظت کریں۔ ایسے میں ہیلمٹ سر کو ممکنہ چوٹوں سے محفوظ رکھنے کے لیے واحد دفاعی ڈھال ثابت ہوتا ہے۔
سر پر چوٹ لگنے کے بعد دماغ کو نقصان پہنچنے کے امکانات بہت زیادہ ہوتے ہیں، اور یہ چوٹ زندگی کے لیے خطرناک ثابت ہو سکتی ہے۔ دماغ کے نازک حصوں کو تحفظ فراہم کرنا نہایت ضروری ہوتا ہے کیونکہ دماغی چوٹیں فوری طور پر جان لیوا ثابت ہو سکتی ہیں یا مستقل معذوری کا سبب بن سکتی ہیں۔ زیادہ تر حادثات میں جہاں ہیلمٹ استعمال نہیں کیا گیا ہوتا، وہاں سر کی چوٹ شدید نوعیت کی ہوتی ہے اور اس کے نتائج سنگین ہو سکتے ہیں، جیسے کہ کوما، برین ہیمرج، یا مستقل دماغی نقصان۔
عالمی ادارہ صحت (WHO) کے مطابق، موٹرسائیکل سواروں میں سر کی چوٹوں کی وجہ سے ہونے والی اموات میں ہیلمٹ پہننے سے 40 فیصد تک کمی ہو سکتی ہے، جبکہ زخمی ہونے کی شرح میں 70 فیصد تک کمی کا امکان ہوتا ہے۔ یہ اعداد و شمار اس بات کا واضح ثبوت ہیں کہ ہیلمٹ کا استعمال حادثے کی شدت کو کم کرنے اور جان بچانے کے لیے کس قدر ضروری ہے۔
پاکستان میں، جہاں موٹرسائیکل ایک عام ذریعۂ نقل و حمل ہے، بدقسمتی سے لوگوں میں ہیلمٹ کے استعمال کا رجحان کم ہے۔ اس کی وجوہات میں شعور کی کمی، قوانین پر سختی سے عمل نہ کرنا، اور کچھ لوگوں کی جانب سے ہیلمٹ کو غیر آرام دہ سمجھنا شامل ہیں۔ تاہم، یہ سوچنا کہ ہیلمٹ غیر ضروری ہے یا تکلیف دہ ہے، ایک سنگین غلطی ہے جس کے نتائج انتہائی نقصان دہ ہو سکتے ہیں۔
ایک ڈاکٹر کے طور پر، میں نے دیکھا ہے کہ ہیلمٹ پہننے والے افراد زیادہ تر معمولی چوٹوں سے محفوظ رہتے ہیں، جبکہ وہ افراد جو ہیلمٹ نہیں پہنتے، زیادہ سنگین چوٹوں یا اموات کا شکار ہوتے ہیں۔ سر کی چوٹوں کا علاج بہت پیچیدہ اور مہنگا ہوتا ہے، اور اکثر مریض مستقل طور پر کسی نہ کسی جسمانی یا ذہنی معذوری کا شکار ہو جاتے ہیں۔
اس کے علاوہ، ہیلمٹ پہننے سے نہ صرف جسمانی حفاظت ہوتی ہے، بلکہ یہ معاشی نقصان سے بھی بچاتا ہے۔ حادثات کے بعد علاج کے اخراجات، کام کی معطلی، اور جسمانی معذوری کی صورت میں زندگی بھر کے لیے مالی بوجھ بڑھ جاتا ہے۔ ہیلمٹ کا استعمال ان تمام مسائل سے بچا سکتا ہے۔
پاکستان میں ٹریفک قوانین کے تحت ہیلمٹ کا استعمال لازمی قرار دیا گیا ہے، لیکن بدقسمتی سے اس پر مکمل عمل درآمد نہیں ہوتا۔ عوامی آگاہی مہمات، میڈیا کی مداخلت، اور حکومت کی جانب سے سخت قانون سازی کے ذریعے اس مسئلے کو حل کیا جا سکتا ہے۔ اسکولوں، کالجوں، اور عوامی مقامات پر حفاظتی تدابیر کے حوالے سے آگاہی فراہم کرنا اور ٹریفک پولیس کی جانب سے قوانین کی سختی سے نگرانی کرنا بھی حادثات کی شرح کو کم کرنے میں مددگار ثابت ہو سکتا ہے۔
آخر میں، ایک ڈاکٹر کی حیثیت سے، میں ہر موٹرسائیکل سوار سے گزارش کرتا ہوں کہ وہ اپنی اور اپنے پیاروں کی حفاظت کے لیے ہیلمٹ کا استعمال کریں۔ زندگی قیمتی ہے اور اس کی حفاظت ہماری اولین ذمہ داری ہے۔ ہیلمٹ کا استعمال ایک چھوٹا سا قدم ہے جو بڑے نقصان سے بچا سکتا ہے، اور یہ وہ اقدام ہے جسے ہمیں نظر انداز نہیں کرنا چاہیے۔

از ڈاکٹر ثاقب بشیر بسراء

Address

Lahore
54000

Alerts

Be the first to know and let us send you an email when IGS Pakistan posts news and promotions. Your email address will not be used for any other purpose, and you can unsubscribe at any time.

Contact The Organization

Send a message to IGS Pakistan:

Share