VALUE Welfare Foundation

VALUE Welfare Foundation Value Welfare Foundation is to help the Humanity, our main focus is to empower youth.

26/09/2025

*پاکستان میں غربت کا سیلاب،ورلڈ بینک کی رپورٹ اور ہمارا مستقبل*

غربت محض ایک معاشی اشاریہ نہیں، بلکہ ایک ایسی لعنت ہے جو انسانی روح کو کھوکھلا کر دیتی ہے، خاندانوں کو توڑتی ہے، اور نسلوں کو پسماندگی کی زنجیروں میں جکڑے رکھتی ہے۔ یہ وہ مصیبت ہے جو بھوک کی شکل میں بچوں کے خواب چھین لیتی ہے، بیماریوں کی صورت میں زندگیاں نگل جاتی ہے، اور عدم مساوات کی آگ میں معاشرے کو جھلسا دیتی ہے۔ پاکستان جیسے ملک میں، جہاں آبادی کا بڑا حصہ روزانہ کی کمائی پر منحصر ہے، غربت نہ صرف افراد کی تقدیر بدلتی ہے بلکہ قومی استحکام کو بھی خطرے میں ڈالتی ہے یہ سیاسی تنازعات کو ہوا دیتی ہے، جرائم کی شرح بڑھاتی ہے، اور ترقی کی راہ میں سب سے بڑی رکاوٹ بنتی ہے۔ ورلڈ بینک کی تازہ رپورٹ اسی تلخ حقیقت کو سامنے لاتی ہے، جو ہمیں یاد دلاتی ہے کہ غربت کوئی قدرتی آفت نہیں بلکہ ناقص پالیسیوں اور عدم توازن کا نتیجہ ہے، اور اس کا خاتمہ صرف اعداد و شمار کی تبدیلی نہیں بلکہ نظام کی بنیادوں کو ہلانے سے ممکن ہے۔
رپورٹ کے تجزیے سے یہ واضح ہوتا ہے کہ پاکستان کی معیشت کا موجودہ ڈھانچہ، جو 2018 سے 2024 تک غربت کی سطح کو کم کرنے میں ناکام رہا ہے، بنیادی طور پر اشرافیہ کی اجارہ داری اور غیر متوازن ترقی پر قائم ہے۔ غربت کی شرح کا 25.3 فیصد تک بڑھنا جو تقریباً 6 کروڑ افراد کو افلاس کی دلدل میں دھکیل رہا ہے محض اتفاقی نہیں، بلکہ کئی باہم جڑے عوامل کا شاخسانہ ہے۔ زراعت کا سکڑاؤ، جو دیہی معیشت کی بنیاد ہے، پیداواریت کی کمی اور موسمی تغیرات کی وجہ سے مزدوروں کو بے روزگار کر رہا ہے، تعمیرات میں اجرتوں کی کمی قرضوں کے بوجھ کو مزید بھاری بنا رہی ہے اور سرمایہ کاری کی کمزوری نئی نوکریوں کے مواقع کو محدود کر رہی ہے۔ اس سے بھی زیادہ تشویش ناک پہلو یہ ہے کہ طاقتور اشرافیہ پالیسیوں کو اپنے فائدے کی طرف موڑتی رہتی ہے، جس کے نتیجے میں ٹیکس کا بوجھ نچلے طبقے پر پڑتا ہے اور مقامی حکومتوں کی ناقص ڈیلیوری سروسز تک رسائی کو ناممکن بنا دیتی ہے۔ لاکھوں نوجوانوں کی بیرون ملک ہجرت جو ایک طرح کا دماغی فرار ہے یہ ظاہر کرتی ہے کہ ملک کی معیشت انہیں یہاں رکھنے کے قابل نہیں رہی، جو طویل مدتی طور پر انسانی سرمائے کی کمی کا باعث بن رہی ہے۔ سیاسی عدم استحکام نے کاروباری اعتماد کو تباہ کر دیا ہے، جس سے سرمایہ کار گریزاں ہیں اور معیشت کی رفتار مزید سست پڑ رہی ہے۔
صوبائی سطح پر یہ عدم توازن مزید نمایاں ہے، جو پاکستان کی وفاقی ساخت کی کمزوریوں کو عیاں کرتا ہے۔ پنجاب میں غربت کی شرح 16.3 فیصد ہے، جو سب سے کم ہے، مگر اس کی بڑی آبادی کی وجہ سے ملک کے 40 فیصد غریب یہیں بستے ہیں یہ ایک ایسا تضاد ہے جو شہری اور دیہی تقسیم کو اجاگر کرتا ہے، جہاں شہری علاقوں میں کچھ ترقی تو ہے مگر دیہی علاقے پیچھے رہ جاتے ہیں۔ بلوچستان میں 42.7 فیصد کی شرح سب سے زیادہ ہے، جو وسائل کی غیر منصفانہ تقسیم اور بنیادی ڈھانچے کی کمی کی نشاندہی کرتی ہے، حالانکہ اس کی کم آبادی کل غریبوں کا صرف 12 فیصد بناتی ہے۔ سندھ میں 24.1 فیصد اور خیبر پختونخوا میں 29.5 فیصد کی شرح یہ بتاتی ہے کہ 2015 سے 2018 تک کا اضافہ علاقائی مسائل جیسے تنازعات اور قدرتی آفات کا نتیجہ ہے۔ ٹرانسپورٹ، کمیونیکیشن اور کان کنی جیسے شعبوں میں غریبوں کو نوکریاں نہ ملنا یہ ظاہر کرتا ہے کہ ترقی کا فائدہ صرف ایک محدود طبقے تک محدود ہے، جو معاشرتی تناؤ کو بڑھاتا ہے۔ رپورٹ کے مطابق، 2001 میں غربت 64.3 فیصد سے کم ہو کر 2018 تک 21.9 فیصد پر آئی تھی، مگر اب یہ واپس 25.3 فیصد پر پہنچ گئی ہے یہ الٹا سفر نہ صرف پچھلی کامیابیوں کو ضائع کر رہا ہے بلکہ یہ بھی ثابت کر رہا ہے کہ موجودہ ماڈل اب اپنی افادیت کھو چکا ہے۔
ورلڈ بینک کے چیف اکنامسٹ ٹوبیاس حقے کا بیان اس بحث کو مزید گہرا کرتا ہے، جب وہ کثیرالطرفہ قرض دہندگان کی پالیسیوں کا دفاع کرتے ہیں کہ غربت کا خاتمہ میکرو اکنامک استحکام، افراط زر میں کمی، آمدنی میں اضافہ، اور معیشت کو کھولنے جیسے عوامل پر منحصر ہے۔ یہ درست ہے، مگر یہ بھی حقیقت ہے کہ آئی ایم ایف اور ورلڈ بینک کی ہدایات پر مبنی یہ ماڈل پاکستان جیسے ملک میں مکمل طور پر کامیاب نہیں ہوا، کیونکہ یہ مقامی عوامل جیسے بدعنوانی اور سیاسی مداخلت کو نظر انداز کرتا ہے۔ بین الاقوامی خط افلاس پر غربت 45 فیصد ہے، جبکہ قومی پیمانے پر 25.3 فیصد یہ فرق پیمانوں کی مختلف تعریفوں سے زیادہ، حقیقت کی کمزور عکاسی کا نتیجہ ہے۔ پاکستان میں ورلڈ بینک کی کنٹری ڈائریکٹر بولورما آمگابازر کا مشورہ کہ اصلاحات کو تیز کیا جائے، خاص طور پر خواتین اور نوجوانوں کے لیے روزگار پیدا کر کے، ایک عملی راستہ دکھاتا ہے۔ مگر یہ تجاویز صرف کاغذی نہیں رہنی چاہییں؛ انہیں عملی جامہ پہنانے کے لیے سیاسی ارادے کی ضرورت ہے۔ رپورٹ یہ بھی بتاتی ہے کہ 2018 میں آبادی کا 14 فیصد معمولی جھٹکوں سے غربت میں گرنے کے خطرے میں تھا، جو معیشت کی کمزور لچک کو ظاہر کرتا ہے۔
اس صورتحال کا تجزیہ یہ بتاتا ہے کہ پاکستان کو ایک نئے ترقیاتی ماڈل کی ضرورت ہے ایک ایسا ماڈل جو شامل ہو، پائیدار ہو، اور کمزور طبقات کو تحفظ دے۔ زراعت کو جدید ٹیکنالوجی سے آراستہ کیا جائے، تعلیم اور صحت پر سرمایہ کاری بڑھائی جائے، ٹیکس سسٹم کو منصفانہ بنایا جائے، اور بدعنوانی کو جڑ سے اکھاڑا جائے۔ اگر یہ اصلاحات نہ کی گئیں تو غربت کی یہ دلدل مزید پھیلے گی، جو معاشرتی انتشار کا باعث بن سکتی ہے۔ مگر اگر ہم نے اب جرأت دکھائی تو یہ ملک خوشحالی کی نئی منزلوں کو چھو سکتا ہے۔ یہ وقت ہے کہ ہم اعداد سے آگے بڑھ کر انسانی درد کو دیکھیں اور ایک ایسا پاکستان بنائیں جہاں غربت تاریخ کی بات ہو۔
#غربت #غریبي #مہنگاہی
























Mian Shahid IslamMian Shahid IslamDHA Lahore Residents

Address

Lahore
54600

Website

Alerts

Be the first to know and let us send you an email when VALUE Welfare Foundation posts news and promotions. Your email address will not be used for any other purpose, and you can unsubscribe at any time.

Share