30/01/2023
ہم جو سوئے تو جگ گئے ترے ہاتھ
خواب گاہوں کو ٹھگ گئے ترے ہاتھ
آنکھ روشن ہوئی تو ہم پہ کھلا
ہم اندھیرے میں لگ گئے ترے ہاتھ
جسم کی خاک چھاننے کے لیے
باقیوں سے الگ گئے ترے ہاتھ
ہم وہ دیوارِ تازہ رنگ، جہاں
بے خیالی میں لگ گئے ترے ہاتھ
ہم جو لوگوں پہ ہنس رہے تھے، ہمیں
کس سہولت سے ٹھگ گئے ترے ہاتھ
میرے نازک مزاج ! کیا کہنے
جگنووں سے سلگ گئے ترے ہاتھ
راز احتشام
ٹیم سخن سرا کی جانب سے جنم دن کی ڈھیروں مبارکباد🎂❤