Sukhan Sra

Sukhan Sra Welcome to Sukhan Sra! Sukhan Sra is an Urdu poetry portal
Admin:- Hammad Ali

ہم جو سوئے تو جگ گئے ترے ہاتھخواب گاہوں کو ٹھگ گئے ترے ہاتھآنکھ روشن ہوئی تو ہم پہ کھلاہم اندھیرے میں لگ گئے ترے ہاتھجسم...
30/01/2023

ہم جو سوئے تو جگ گئے ترے ہاتھ
خواب گاہوں کو ٹھگ گئے ترے ہاتھ

آنکھ روشن ہوئی تو ہم پہ کھلا
ہم اندھیرے میں لگ گئے ترے ہاتھ

جسم کی خاک چھاننے کے لیے
باقیوں سے الگ گئے ترے ہاتھ

ہم وہ دیوارِ تازہ رنگ، جہاں
بے خیالی میں لگ گئے ترے ہاتھ

ہم جو لوگوں پہ ہنس رہے تھے، ہمیں
کس سہولت سے ٹھگ گئے ترے ہاتھ

میرے نازک مزاج ! کیا کہنے
جگنووں سے سلگ گئے ترے ہاتھ

راز احتشام
ٹیم سخن سرا کی جانب سے جنم دن کی ڈھیروں مبارکباد🎂❤

پھر اس کے بعد نہ جانے کبھی ملیں نہ ملیں ابھی میں جتنا میسر ہوں استفادہ کرو عدنان فرخ || Adnan Farrukh
30/01/2023

پھر اس کے بعد نہ جانے کبھی ملیں نہ ملیں
ابھی میں جتنا میسر ہوں استفادہ کرو

عدنان فرخ || Adnan Farrukh

ہمارے خواب مرتے جا رہے ہیںاجل کی نیند پوری ہو رہی ہےصبا تابشٹیم سخن سرا کی جانب سے جنم دن کی ڈھیروں مبارکباد❤🎂
25/01/2023

ہمارے خواب مرتے جا رہے ہیں
اجل کی نیند پوری ہو رہی ہے

صبا تابش

ٹیم سخن سرا کی جانب سے جنم دن کی ڈھیروں مبارکباد❤🎂

آسماں اوڑھے ہوئے سوئے زمیں ہوتا ہےعید کا چاند ستاروں میں نہیں ہوتا ہےبعض اوقات تجھے دیکھ کے جی اٹھتے ہیںبعض اوقات تو ایس...
24/01/2023

آسماں اوڑھے ہوئے سوئے زمیں ہوتا ہے
عید کا چاند ستاروں میں نہیں ہوتا ہے

بعض اوقات تجھے دیکھ کے جی اٹھتے ہیں
بعض اوقات تو ایسا بھی نہیں ہوتا ہے

تم کو اس خانہءوحشت میں خدا لے آیا
شوق سے کون مرے دل کا مکیں ہوتا ہے

ہجر میں آنکھ کے آنسو بھی دعا ہوتے ہیں
شوق میں رشک بھی سجدے کی جبیں ہوتا ہے

جب سے پہنا ہے ان آنکھوں پہ بصیرت کا لباس
وہ بھی دِکھتا ہے جو ممکن ہی نہیں ہوتا ہے!

ہم نے دیکھی ہیں وہ بکھری ہوئی ساحر زلفیں
ہم سے پوچھو کہ یہ غم کتنا حسیں ہوتا ہے

داؤد سیدؔ

تجھے میں دل میں تو رکھ لوں مگر پتہ ہے مجھےکہ ملنا تو نے بھی اک روز آستین سے ہے !حیاء آفریدی
22/01/2023

تجھے میں دل میں تو رکھ لوں مگر پتہ ہے مجھے
کہ ملنا تو نے بھی اک روز آستین سے ہے !

حیاء آفریدی

خوبانِ شہرِ دل کے مکینوں کے واسطےبوسے بنے چمکتی جبینوں کے واسطےدنیا ہو مال و زر ہو کہ شہرت ؛ پرے مریںمیرا "نہیں" جواب ہے...
22/01/2023

خوبانِ شہرِ دل کے مکینوں کے واسطے
بوسے بنے چمکتی جبینوں کے واسطے

دنیا ہو مال و زر ہو کہ شہرت ؛ پرے مریں
میرا "نہیں" جواب ہے تینوں کے واسطے

اس خوف سے کہ رستے بنا لیں نہ تیز لوگ
دریا رواں دواں ہیں سفینوں کے واسطے

اے شخص ہر برس میں ترا ساتھ چاہیئے
پچیس گھنٹے تیرہ مہینوں کے واسطے

لے ڈوبے ہم کو مخملیں جسموں کے خدوخال
سینے فگار ہو گئے سینوں کے واسطے

اس فاحشہ سے اپنی تو بنتی نہیں مگر
دنیا کمال شئے ہے کمینوں کے واسطے

آخر زمین دونوں کو زیرٍ زمیں ملی
دو بھائ لڑ پڑے تھے زمینوں کے واسطے

آؤ مہاجرینٍ محبت سفر بخیر
دل خالی ہے پناہ گزینوں کے واسطے

راکب مختار

ٹیم سخن سرا کی جانب سے راکب بھائی کو جنم دن کی بہت مبارکباد🎂❤

مرا سکوت جو ٹوٹا تو سب مٹا دے گاترے وجود کی بنیاد کو ہلا دے گادبی ہوئی کوئی چنگاری آج بھڑکے گیترا خیال بجھی آگ کو ہوا دے...
18/01/2023

مرا سکوت جو ٹوٹا تو سب مٹا دے گا
ترے وجود کی بنیاد کو ہلا دے گا

دبی ہوئی کوئی چنگاری آج بھڑکے گی
ترا خیال بجھی آگ کو ہوا دے گا

ہمارے بیچ رہے گا کوئی نہ کوئی یہاں
جو درمیاں کے سفر میں مجھے تھکا دے گا

سخن طراز سہی تُو مگر یہ دل زدگاں
کہاں یہ حرف تسلی انہیں شفا دے گا

بہت ہیں مرحلے آنکھوں سے منزلِ دل تک
جسے ہے پانے کی عجلت ہمیں گنوا دے گا

یہ سبز رُت میں نظر بھر کے دیکھنا تجھ کو
خزاں کی شام اچانک ہمیں رُلا دے گا

جو رنج سہہ کے بھی رہتے ہیں مبتلا تیرے
تُو اُن کے صبر کا آخر کوئی صلہ دے گا ؟

انفال رفیق

نئی کہاں یہ روایت بہت پرانی ہےیہ صبر تو مِرے اجداد کی نشانی ہےتمہارے پاس سبھی کچھ ہے یعنی ہم بھی ہیں ہمارے پاس فقط رنج ر...
05/01/2023

نئی کہاں یہ روایت بہت پرانی ہے
یہ صبر تو مِرے اجداد کی نشانی ہے

تمہارے پاس سبھی کچھ ہے یعنی ہم بھی ہیں
ہمارے پاس فقط رنج رائگانی ہے

فریحہ نقوی || Fareeha Naqvi - poetry. فریحہ نقوی

ٹیم سخن سرا کی جانب سے جنم دن کی ڈھیروں مبارکباد🎂❤

تُجھ سے سِینے پہ اگر وار نہیں ہو سکتاتو مِری فوج کا سالار نہیں ہو سکتاپِیٹھ پر وار فقط یار ہی کر سکتے ہیںمیرے دشمن کا یہ...
04/01/2023

تُجھ سے سِینے پہ اگر وار نہیں ہو سکتا
تو مِری فوج کا سالار نہیں ہو سکتا

پِیٹھ پر وار فقط یار ہی کر سکتے ہیں
میرے دشمن کا یہ معیار نہیں ہو سکتا

اسیر ہاتف

01/01/2023

چلے آؤ جو آنا ہے کسی کو
کہ میں نے بھی بھلانا ہے کسی کو

نظر آنے کی محنت تو الگ ہے
چمک کر بھی دکھانا ہے کسی کو

میں استعمال ہو بھی جاؤں تو کیا
سبق بھی تو سکھانا ہے کسی کو

مرا انجام سب کے سامنے ہے
سو اب بھی دل لگانا ہے کسی کو؟

یہاں میرے سوا کوئی نہیں ہے
اور اس نے آزمانا ہے کسی کو

تم ایسے ڈر رہی ہو باتیں کر کے
کہ جیسے ہم نے مانا ہے کسی کو

اگر وہ اپنا سر اس سے ہٹا لے
یہ شانہ آشیانہ ہے کسی کو

سرِ راہِ محبت سب ہیں لیکن
کسی نے کب بچانا ہے کسی کو

دانش درانی || Danish Durrani

ماحول مناسب ہو تو اوپر نہیں جاتےہم تازہ گھٹن چھوڑ کے چھت پر نہیں جاتےدیکھو مجھے اب میری جگہ سے نہ ہلاناپھر تم مجھے ترتیب...
01/01/2023

ماحول مناسب ہو تو اوپر نہیں جاتے
ہم تازہ گھٹن چھوڑ کے چھت پر نہیں جاتے

دیکھو مجھے اب میری جگہ سے نہ ہلانا
پھر تم مجھے ترتیب سے رکھ کر نہیں جاتے

بدنام ہیں صدیوں سے ہی کانٹوں کی وجہ سے
عادت سے مگر آج بھی کیکر نہیں جاتے

جس دن سے شکاری نے ادا کی کوئ منت
دربار پہ اس دن سے کبوتر نہیں جاتے

سو تم مجھے حیرت زدہ آنکھوں سے نہ دیکھو
کچھ لوگ سنبھل جاتے ہیں سب مر نہیں جاتے

دانش نقوی Danish Naqvi دانش نقوی

ٹیم سخن سرا کی جانب سے جنم دن بہت مبارک🎂❤

ترے فلک کے خزانوں سے اک فقیر کا رزقاتر بھی آئے تو پورا نہیں اترتا ہے پتا کرو کہ مرے ساتھ کون اترا تھازمیں پہ کوئی اکیلا ...
31/12/2022

ترے فلک کے خزانوں سے اک فقیر کا رزق
اتر بھی آئے تو پورا نہیں اترتا ہے

پتا کرو کہ مرے ساتھ کون اترا تھا
زمیں پہ کوئی اکیلا نہیں اترتا ہے

احمد عبدالله

Address

چونگی امر سدهو
Lahore

Telephone

+923144674356

Website

Alerts

Be the first to know and let us send you an email when Sukhan Sra posts news and promotions. Your email address will not be used for any other purpose, and you can unsubscribe at any time.

Contact The Organization

Send a message to Sukhan Sra:

Share