Islam & Youth

Islam & Youth اسلام & یوتھ کا مقصد خدا کے ہر بندے تک خداکا پیغام پہنچا ہے

09/09/2024

The Quran
Chapter: 13 (Thunder)
Verses: 17

بِسۡمِ اللّٰہِ الرَّحۡمٰنِ الرَّحِیۡمِ

---- Translation / ترجمہ ----

1. اللہ نے آسمان سے پانی اتارا۔ پھر نالے اپنی اپنی مقدار کے موافق بہہ نکلے۔ پھر سیلاب نے ابھرتے جھاگ کو اٹھالیا اور اسی طرح کا جھاگ ان چیزوں میں بھی ابھر آتا ہے جن کو لوگ زیور یا اسباب بنانے کے ليے آگ میں پگھلاتے ہیں۔ اس طرح اللہ حق اور باطل کی مثال بیان کرتا ہے۔ پس جھاگ تو سوکھ کر جاتا رہتا ہے اور جو چیز انسانوں کو نفع پہنچانے والی ہے، وہ زمین میں ٹھہر جاتی ہے۔ اللہ اسی طرح مثالیں بیان کرتا ہے۔

---- Commentary / تفسیر ----

خدا نے اپنی دنیا اس طرح بنائی ہے کہ یہاں مادی واقعات اخلاقی حقیقتوں کی تمثیل بن گئے ہیں۔ جو کچھ اللہ تعالیٰ کو انسان سے شعور کی سطح پر مطلوب ہے، انھیں کو بقیہ دنیا میں مادی سطح پر دکھایا جارہا ہے ۔
یہاں قرآن میں فطرت کے دو واقعات کی طرف اشارہ کیا گیا ہے۔ ایک یہ کہ جب بارش ہوتی ہے اور اس کا پانی بہہ کر ندیوں اور نالوں میں پہنچتا ہے تو پانی کے اوپر ہر طرف جھاگ پھیل جاتی ہے۔ اسی طرح جب چاندی اور دوسری معدنیات کو صاف کرنے کے لیے آگ پر تپاتے ہیں تو اس کا میل کچیل جھاگ کی صورت میں اوپر آجاتاہے۔ مگر جلد ہی بعد یہ ہوتا ہے کہ دونوں چیزوں کا جھاگ، جس میں انسان کے لیے کوئی فائدہ نہیں فضا میں اڑ جاتاہے۔ اور پانی اور دھات اپنی جگہ پر محفوظ رہ جاتے ہیں جو انسان کے لیے مفید ہے۔
یہ فطرت کے واقعات ہیں جن کے ذریعے خدا تمثیل کے روپ میں دکھارہا ہے کہ اس نے زندگی کی کامیابی اور ناکامی کے لیے کیااصول مقرر فرمایاہے۔ وہ اصول یہ ہے کہ اس دنیا میں صرف اس شخص یا قوم کو جگہ ملتی ہے جو دوسروں کے لیے نفع بخشی کا ثبوت دے۔ جو فرد یا گروہ دوسرے انسانوں کو نفع پہنچانے کی طاقت کھو دے اس کے لیے خدا کی بنائی ہوئی دنیامیں کوئی جگہ نہیں۔

Tazkir ul Quran
Maulana Wahiduddin Khan

04/09/2024

The Quran
Chapter: 13 (Thunder)
Verses: 8-10

بِسۡمِ اللّٰہِ الرَّحۡمٰنِ الرَّحِیۡمِ

---- Translation / ترجمہ ----

1. اللہ جانتا ہے ہر مادہ کے حمل کو۔ اور جو کچھ رحموں میں گھٹتا اور بڑھتا ہے اس کو بھی۔ اور ہر چیز کا اس کے یہاں ایک اندازہ ہے۔

2. وہ پوشیدہ اور ظاہر کو جاننے والاہے، سب سے بڑا ہے، سب سے برتر۔

3. تم میں سے کوئی شخص چپکے سے بات کہے اور جو پکار کر کہے اور جو رات میں چھپا ہواہو اور جو دن میں چل رہا ہو، خدا کے ليے سب یکساں ہیں۔

---- Commentary / تفسیر ----

ماں کا پیٹ ایک حیرت انگیز فیکٹری ہے۔ اس خدائی فیکٹری میں جو انسانی پیداوار تیار ہوتی ہے اس کا ایک عجیب پہلو یہ ہے کہ وہ ’’مقرر مقدار‘‘ کے مطابق عمل کرتی ہے۔ آج کل کی زبان میں گویا ڈیمانڈ اور سپلائی کے درمیان مسلسل ایک توازن برقرار رہتا ہے۔
مثلاً یہ فیکٹری ہزاروں سال سے کام کررہی ہے۔ اس سے مرد بھی پیدا ہورہے ہیں اور عورتیں بھی۔ مگر دونوں جنسوں کی تعداد کے درمیان ہمیشہ ایک تناسب قائم رہتاہے۔ ایسا کبھی نہیں ہوتا کہ اس فیکٹری سے سب مرد ہی مرد پیدا ہوجائیں یا سب عورتیں ہی عورتیں پیدا ہونے لگیں۔ جنگ جیسا کوئی حادثہ مقامی طورپر کبھی اس تناسب کو برہم کردیتاہے۔ مگر حیرت انگیز طورپر دیکھا گیا ہے کہ کچھ عرصہ بعد ہی یہ قدرتی کارخانہ اس تناسب کو دوبارہ قائم کردیتاہے۔
یہی معاملہ اس فیکٹری سے نکلنے والے مردوعورت کے درمیان صلاحیتوں کے توازن کا ہے۔ مطالعہ بتاتا ہے کہ پیدا ہونے والے مرد وعورت سب یکساں استعداد کے نہیں ہوتے۔ ان کی صلاحیتوں میں بہت زیادہ تنوع (diversity)ہے۔ اس تنوع کی غیر معمولی تمدنی اہمیت ہے۔ کیوں کہ تمدن کے کاروبار کو چلانے کے لیے مختلف قسم کی صلاحیتوں کے انسان درکار ہیں۔ ماں کی فیکٹری نہایت خاموشی سے ہر قسم کی استعداد والے انسان اس طرح کامیابی کے ساتھ تیار کررہی ہے جیسے اس کو باہر سے ’’آرڈر‘‘ موصول ہوتے ہوں۔ اور وہ پیٹ کے اندر اس کے مطابق انسانوں کی تشکیل کررہی ہو۔ اگر انسانی پیداوار میں یہ تنوع نہ ہو تو تمدن کا سارا نظام سرد پڑ جائے اور تمام ترقیاں ماند ہو کر رہ جائیں۔
ماں کے پیٹ کے عمل میں اس منصوبہ بندی کا ہونا صریح طورپر اس بات کا ثبوت ہے کہ اس کے پیچھے کوئی منصوبہ ساز ہے۔ بالارادہ منصوبہ بندی کے بغیر اس قسم کا نظام اس قدر تسلسل کے ساتھ قائم نہیں رہ سکتا۔
اس سے یہ بھی ثابت ہوتا ہے کہ اس دنیا کا خالق ومالک ایک ایسی ہستی ہے جس کو نہ صرف کھلے کی خبر ہے بلکہ وہ چھپے کو بھی جانتا ہے۔ رحم کے اندر اور ماں کے پیٹ میں جو کچھ ہوتا ہے وہ بظاہر ایک مخفی چیز ہے۔ مگر مذکورہ واقعہ بتاتاہے کہ خدا کو اس کی مکمل خبر ہے۔ پھر جو ہستی ایک کے چھپے اور کھلے کو جانتی ہے وہ دوسرے کے چھپے اور کھلے کو کیوں نہیں جانے گی۔ فرشتوں کا عقیدہ بھی اسی سے ثابت ہوتاہے۔ کیوں کہ وہ ’’نگرانی‘‘ کے موجودہ نظام کی گویا توسیع ہے۔

Tazkir ul Quran
Maulana Wahiduddin Khan

28/08/2024

The Quran
Chapter: 12 (Joseph)
Verses: 109-110

بِسۡمِ اللّٰہِ الرَّحۡمٰنِ الرَّحِیۡمِ

---- Translation / ترجمہ ----

1. اور ہم نے تم سے پہلے مختلف بستی والوں میں سے جتنے رسول بھیجے سب آدمی ہی تھے۔ ہم ان کی طرف وحی کرتے تھے۔ کیا یہ لوگ زمین میں چلے پھرے نہیں کہ دیکھتے کہ ان لوگوں کا انجام کیا ہوا جو ان سے پہلے تھے اور آخرت کا گھر ان لوگوں کے ليے بہتر ہے جو ڈرتے ہیں، کیا تم سمجھتے نہیں۔

2. یہاں تک کہ جب پیغمبر مایوس ہوگئے اور وہ خیال کرنے لگے کہ ان سے جھوٹ کہا گیا تھا تو ان کو ہماری مدد آپہنچی۔ پس نجات ملی جس کو ہم نے چاہا اور مجرم لوگوں سے ہمارا عذاب ٹالا نہیں جاسکتا۔

---- Commentary / تفسیر ----

تاریخ بتاتی ہے کہ جو لوگ رسالت اور پیغمبری کو مانتے تھے وہ بھی اس وقت اس کے منکر ہوگئے، جب کہ خود اپنی قوم کے اندر سے ایک شخص پیغمبر ہوکر ان کے سامنے کھڑا ہوا۔ اس کی وجہ یہ تھی کہ ماضی کا پیغمبر تاریخی طورپر ثابت شدہ پیغمبر بن چکا ہوتاہے، جب کہ حال کا پیغمبر ایک نزاعی شخصیت ہوتاہے۔ تاریخی پیغمبر کوماننا ہمیشہ انسان کے لیے آسان ترین کام رہا ہے اور نزاعی پیغمبر کو ماننا ہمیشہ اس کے لیے مشکل ترین کام۔
عاد اور ثمود اور مدین اور قوم لوط وغیرہ کی تباہ شدہ بستیاں قریش کے آس پاس کے علاقوں میں موجود تھیں۔ وہ اپنے سفروں کے دوران ان کو دیکھتے تھے۔ یہ آثار زبانِ حال سے کہہ رہے تھے کہ پیغمبر کو نزاعی دور میں نہ پہچاننے ہی کی وجہ سے ان قوموں پر خدا کا عذاب آیااور وہ ہلاک کردی گئیں۔ اس کے باوجود قریش نے ان سے سبق نہیں لیا۔ اس کی وجہ انسان کی یہ کمزوری ہے کہ وہ ایک غلط کام کرتاہے مگر کچھ خود ساختہ خیالات کی بنا پر اپنے آپ کو غلط کاروں کی فہرست سے الگ کرلیتاہے۔سورہ یوسف کی آیت 110 کی تشریح سورہ بقرہ کی آیت 214 سے ہورہی ہے جس میں ارشاد ہوا ہے— ’’کیا تم خیال کرتے ہو کہ تم جنت میں داخل کرديے جاؤ گے۔ حالانکہ تم پر ابھی وہ حالات گزرے ہی نہیں جو تم سے پہلے والوں پر گزرے تھے۔ ان کو سختی اور تکلیف پہنچی اور وہ ہلا مارے گئے۔یہاں تک کہ رسول اور اس کے ساتھ ایمان لانے والے پکار اٹھے کہ خدا کی مدد کب آئے گی۔ جان لو، خدا کی مدد قریب ہے‘‘۔
خدا ہمیشہ داعی کی مدد کرتاہے۔ مگر مدد مدعو کے خلاف داعی کے حق میں خدا کا فیصلہ ہوتا ہے، اسی لیے یہ مدد ہمیشہ اس وقت آتی ہے جب کہ دعوتی جدوجہد اپنی تکمیل کے آخری مرحلہ میں پہنچ چکی ہو، خواہ اس تاخیر کی وجہ سے دعوت دینے والوں پر مایوسی کے احساسات طاری ہونے لگیں۔
’’اور آخرت کا گھر متقیوں کے لیے زیادہ بہتر ہے‘‘— اس سے معلوم ہوا کہ دنیا میں اہل ایمان کے ساتھ جو سلوک کیا جاتا ہے وہ آخرت میں ان کے ساتھ كيے جانے والے سلوک کی علامت ہوتاہے۔
دنیا میں خدا حق کے داعیوں کی اس طرح مدد کرتاہے کہ ان کی بات تمام دوسری باتوں پر بلند وبالا ثابت ہوتی ہے۔ وہ اپنے دشمنوں کی تمام سازشوں اور مخالفتوں کے باوجود اپنا مشن پورا کرنے میں کامیاب ثابت ہوتے ہیں۔ یہی عزت اور سر بلندی ان کو آخرت میں زیادہ کامل اور معیاری صورت میں حاصل ہوگی۔

Tazkir ul Quran
Maulana Wahiduddin Khan

26/08/2024

The Quran
Chapter: 12 (Joseph)
Verses: 102-104

بِسۡمِ اللّٰہِ الرَّحۡمٰنِ الرَّحِیۡمِ

---- Translation / ترجمہ ----

1. یہ غیب کی خبروں میں سے ہے جو ہم تم پر وحی کر رہے ہیں اور تم اس وقت ان کے پاس موجود نہ تھے، جب یوسف کے بھائیوں نے اپنی رائے پختہ کی اور وہ تدبیریں کر رہے تھے۔

2. اور تم خواہ کتنا ہی چاہو، اکثر لوگ ایمان لانے والے نہیں ہیں۔

3. اور تم اس پر ان سے کوئی معاوضہ نہیں مانگتے۔ یہ تو صرف ایک نصیحت ہے تمام جہان والوں کے ليے۔

---- Commentary / تفسیر ----

حضرت یوسف کا قصہ جو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی زبان پر جاری ہوا وہ بجائے خود اس بات کا ثبوت ہے کہ قرآن وحی ربّانی ہے، نہ کہ کلام انسانی۔ یہ واقعہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے تقریباً ڈھائی ہزار سال پہلے پیش آیا۔ آپ نے اس واقعہ کونہ تو بطورخود دیکھا تھا اور نہ وہ کسی تاریخ میں لکھا ہوا تھا کہ آپ اس کو پڑھیں یا کسی سے پڑھوا کر سنیں۔ وہ صرف تورات کے صفحات میں تھا۔ اور پریس کے دور سے قبل تورات ایک ایسی کتاب تھی جس کی واقفیت صرف یہودی مراکز کے چند یہودی علماء کو ہوتی تھی، اور کسی کو نہیں۔مزید یہ کہ قرآن میں اس واقعہ کو جس طرح بیان کیا گیا ہے، بنیادی طورپر تورات کے مطابق ہونے کے باوجود، تفصیلات میں وہ اس سے کافی مختلف ہے۔ یہ اختلاف بذات خود قرآن کے وحی الہٰی ہونے کا ثبوت ہے۔ کیونکہ جہاں جہاں دونوں میں اختلاف ہے وہاں قرآن کا بیان واضح طورپر عقل وفطرت کے مطابق معلوم ہوتا ہے۔ قرآن کا بیان پڑھ کر واقعی یہ سمجھ میں آتا ہے کہ وہ حضرت یعقوب اور حضرت یوسف کی پیغمبرانہ سیرت کے مناسب ہے جب کہ تورات کے بیانات پیغمبرانہ سیرت کے مناسب حال نہیں ۔ اسی طرح واقعہ کے کئی بے حد قیمتی اجزاء (مثلاً قید خانہ میں حضرت یوسف کی تقریر، آیت 37-40) جو قرآن میں منقول ہوئی ہے۔ بائبل یا تالمود میں اس کا کوئی ذکر نہیں۔ حتی کہ بعض تاریخی غلطیاں جو بائبل میں موجود ہیں ان کا اعادہ قرآن میں نہیں ہوا ہے۔ مثال کے طورپر بائبل حضرت یوسف کے زمانہ کے بادشاہ کو فرعون کہتی ہے۔ حالاں کہ فرعون کا خاندان حضرت یوسف کے پانچ سو سال بعد مصر میں حکمراں بنا ہے۔ حضرت یوسف کے زمانہ میں مصر میں ایک عرب خاندان حکومت کررہاتھا جس کو چرواہے بادشاہ (Hyksos kings) کہا جاتا ہے (تقابل کے ليے ملاحظہ ہو، بائبل، کتاب پیدائش)۔
حق کو نہ ماننے کا سبب اگر دلیل ہو تو دلیل سامنے آنے کے بعد آدمی فوراً اس کو مان لے گا۔ مگر اکثر حالات میں انکارِ حق کا سبب ہٹ دھرمی ہوتاہے۔ ایسے لوگ حق کو اس لیے نہیں مانتے کہ وہ اس کو ماننا نہیں چاہتے۔ حق کو ماننا اکثر حالات میں اپنے کو چھوٹا کرنے کے ہم معنی ہوتاہے، اور اپنے کو چھوٹا کرنا آدمی کے لیے سب سے زیادہ مشکل کام ہے۔ یہی وجہ ہے کہ اس قسم کے لوگ ہر قسم کے دلائل اور قرائن سامنے آنے کے بعد بھی اپنی روش کو نہیں چھوڑتے۔ وہ اس کو گوارا کرلیتے ہیں کہ حق چھوٹا ہوجائے مگر وہ اپنے آپ کو چھوٹا کرنے پر راضی نہیں ہوتے۔ وہ بھول جاتے ہیں کہ جو دنیا میں اپنے آپ کو چھوٹا کرلے وہ آخرت میں بڑا کیا جائے گا۔ اور جو شخص دنیا میں اپنے كو چھوٹا نہ کرے وہی وہ شخص ہے جو آئندہ آنے والی دنیا میں ہمیشہ کے لیے چھوٹا ہو کر رہ جائے گا۔

Tazkir ul Quran
Maulana Wahiduddin Khan

09/08/2024

The Quran
Chapter: 12 (Joseph)
Verses: 43-45

بِسۡمِ اللّٰہِ الرَّحۡمٰنِ الرَّحِیۡمِ

---- Translation / ترجمہ ----

1. اور بادشاہ نے کہا کہ میں خواب میں دیکھتا ہوں کہ سات موٹی گائیں ہیں جن کو سات دبلی گائیں کھا رہی ہیں اور سات ہری بالیاں ہیں اور دوسری سات سوکھی بالیاں، اے دربار والو، میرے خواب کی تعبیر مجھے بتاؤ اگر تم خواب کی تعبیر دیتے ہو۔

2. وہ بولے یہ خیالی خواب ہیں۔ اور ہم کو ایسے خوابوں کی تعبیر معلوم نہیں۔

3. ان دو قیدیوں میں سے جو شخص بچ گیا تھا اور اس کو ایک مدت کے بعد یاد آیا، اس نے کہا کہ میں تم لوگوں کو اس کی تعبیر بتاؤں گا، پس مجھ کو (یوسف کے پاس) جانے دو۔

---- Commentary / تفسیر ----

مصر کا بادشاہ اگر چہ مشرک اور شرابی تھا، مگر خدا کی طرف سے اس کو مستقبل کے بارے میں ایک سچا خواب دکھایا گیا۔ اس سے اندازہ ہوتا ہے کہ خدا حق کے داعیوں کی مدد کن کن طریقوں سے کرتاہے۔ ان میں سے ایک طریقہ یہ ہے کہ فریق ثانی کو کوئی ایسا خواب دکھایا جائے جس سے اس کے ذہن پر داعی کی عظمت اور اہمیت قائم ہو اور اس کا دل نرم ہو کر داعی کے لیے نئے راستے کھل جائیں۔
بادشاہ کے ساقی نے جب بادشاہ کا خواب سنا اس وقت اس کو قید خانہ کا ماجرا یاد آیا۔ اس نے بادشاہ اور درباریوں کے سامنے اپنا ذاتی تجربہ بتایا کہ کس طرح یوسف کی بتائی ہوئی خواب کی تعبیر دو قیدیوں کے حق میں لفظ بلفظ صحیح ثابت ہوئی۔ اس کے بعد وہ بادشاہ سے اجازت لے کر قید خانہ پہنچا تاکہ یوسف سے بادشاہ کے خواب کی تعبیر دریافت کرے۔
حضرت یوسف کی اسی حیثیت کے تعارف سے ان کے لیے قید خانہ سے باہر آنے کا راستہ کھلا خدا ایسا کرسکتا تھا کہ رہائی کے بعد حضرت یوسف کو مزید قید خانہ میں نہ رہنے دے۔ وہ ساقی کو محل کے اندر پہنچتے ہی یاد دلا سکتا تھا کہ وہ وعدہ کے مطابق بادشاہ کے سامنے یوسف کا ذکر کرے۔ مگر خدا کا ہر کام اپنے مقرر وقت پر ہوتا ہے۔ وقت سے پہلے کوئی کام کرنا خدا کا طریقہ نہیں۔

Tazkir ul Quran
Maulana Wahiduddin Khan

08/08/2024

The Quran
Chapter: 12 (Joseph)
Verses: 41-42

بِسۡمِ اللّٰہِ الرَّحۡمٰنِ الرَّحِیۡمِ

---- Translation / ترجمہ ----

1. اے میرے قید خانہ کے ساتھیو، تم میں سے ایک اپنے آقا کو شراب پلائے گا۔ اور جو دوسرا ہے اس کو سولی دی جائے گی۔ پھر پرندے اس کے سر میں سے کھائیں گے۔ اس امر کا فیصلہ ہوگیا جس کے بارے میں تم پوچھ رہے تھے۔

2. اور یوسف نے اس شخص سے کہا جس کے بارے میں اس نے گمان کیا تھا کہ وہ بچ جائے گا کہ اپنے آقا کے پاس میرا ذکر کرنا۔ پھر شیطان نے اس کو اپنے آقا سے ذکر کرنا بھلادیا۔ پس وہ قید خانہ میں کئی سال پڑا رہا۔

---- Commentary / تفسیر ----

دو نوجوان جو جیل میں لائے گئے وہ شاہ مصر (ریان بن الولید) کے ساقی اور خبّاز تھے۔ دونوں پر یہ الزام تھاکہ انھوں نے بادشاہ کے کھانے میں زہر ملانے کی کوشش کی۔ ان میں سے جو ساقی تھا وہ تحقیق کے بعد الزام سے بری ثابت ہوا اور رہائی پاکر دوبارہ بادشاہ کا ساقی مقرر ہوا۔ اس کے خواب کامطلب یہ تھا کہ اب وہ بادشاہ کو خواب میں شراب پلا رہا ہے کچھ دن بعد وہ بیداری میں اس کو شراب پلائے گا۔ خبّاز پر الزام ثابت ہوگیا۔ اس کو سولی دے کر چھوڑ دیاگیا کہ چڑیاں اس کا گوشت کھائیں اور وہ لوگوں کے لیے عبرت ہو۔
حضرت یوسف کی دونوں تعبیریں بالکل درست ثابت ہوئیں۔ مگر ساقی قید سے چھوٹ کر دوبارہ محل میں پہنچا تو وہ حسبِ وعدہ بادشاہ سے حضرت یوسف کا ذکر کرنا بھول گیا۔ اس کو اپنا کیا ہوا وعدہ صرف اس وقت یاد آیا جب کہ بادشاہ نے ایک خواب دیکھا اور درباریوں سے کہا کہ اس کی تعبیر بتاؤ۔

Tazkir ul Quran
Maulana Wahiduddin Khan

06/08/2024

The Quran
Chapter: 12 (Joseph)
Verses: 35-36

بِسۡمِ اللّٰہِ الرَّحۡمٰنِ الرَّحِیۡمِ

---- Translation / ترجمہ ----

1. پھر نشانیاں دیکھ لینے کے بعد ان لوگوں کی سمجھ میں آیا کہ ایک مدت کے ليے اس کو قید کردیں۔

2. اور قید خانہ میں اس کے ساتھ دو اور جو ان داخل ہوئے۔ ان میں سے ایک نے (ایک روز) کہا کہ میں خواب میں دیکھتا ہوں کہ میں شراب نچوڑ رہا ہوں اور دوسرے نے کہا کہ میں خواب میں دیکھتا ہوں کہ میں اپنے سر پر روٹی اٹھائے ہوئے ہوں جس میں سے چڑیاں کھارہی ہیں۔ ہم کو اس کی تعبیر بتاؤ۔ ہم دیکھتے ہیں کہ تم نیک لوگوں میں سے ہو۔

---- Commentary / تفسیر ----

مصر کے اعلیٰ طبقہ کی خواتین جب حضرت یوسف کو اپنی طرف راغب نہ کرسکیں تو اس کے بعد انھوں نے آپ کے لیے جو مقام پسند کیا وہ قید خانہ تھا۔ چوں کہ اس وقت آپ کی حیثیت ایک غلام کی تھی اس لیے قدیم رواج کے مطابق آپ کو قید خانہ بھیجنے کے لیے کسی عدالتی کارروائی کی ضرورت نہ تھی۔ آپ کا آقا خود اپنے فیصلہ سے آپ کو قید میں ڈالنے کااختیار رکھتا تھا۔
مگر قید خانہ آپ کے لیے نیا عظیم تر زینہ بن گیا۔ اب تک ایسا تھا کہ مصر کے ایک یا چند افسروں کے گھرانے آپ سے متعارف ہوئے تھے۔ اب اس کا امکان پیداہوگیا کہ آپ کی شخصیت کا چرچا خود بادشاہ مصر تک پہنچے۔
اس کی صورت یہ ہوئی کہ آپ جس قید خانہ میں رکھے گئے اس میں دو اور نوجوان قید ہو کر آئے۔ یہ دونوں شاہی محل سے تعلق رکھتے تھے۔ ان دونوں نے قید خانہ میں خواب دیکھے اور آپ سے اس کی تعبیر پوچھی۔ آپ نے انھیں خواب کی تعبیر بتادی۔ یہ تعبیر بالکل صحیح ثابت ہوئی۔ اس کے بعد ان میں سے ایک قید خانہ سے چھوٹ کر دوبارہ شاہی محل میں پہنچا تو اس نے ایک موقع پر بادشاہ سے بتایا کہ قید خانہ میں ایک ایسا نیک انسان ہے جو خواب کی بالکل صحیح تعبیر بتاتا ہے — اس طرح آپ کا قید ہونا آپ کے لیے شاہی محل تک رسائی کا ابتدائی زینہ بن گیا۔

Tazkir ul Quran
Maulana Wahiduddin Khan

31/07/2024

The Quran
Chapter: 12 (Joseph)
Verses: 15-18

بِسۡمِ اللّٰہِ الرَّحۡمٰنِ الرَّحِیۡمِ

---- Translation / ترجمہ ----

1. پھر جب وہ اس کو لے گئے اور یہ طے کرلیا کہ اس کو ایک اندھے کنویں میں ڈال دیں اور ہم نے یوسف کو وحی کی کہ تو ان کوان کا یہ کام جتائے گااور وہ تجھ کو نہ جانیں گے۔

2. اور وہ شام کو اپنے باپ کے پاس روتے ہوئے آئے۔

3. انھوں نے کہا کہ اے ہمارے باپ، ہم دوڑ کا مقابلہ کرنے لگے اور یوسف کو ہم نے اپنے سامان کے پاس چھوڑ دیا۔ پھر اس کو بھیڑیا کھا گیا۔ اور آپ ہماری بات کا یقین نہ کریں گے، چاہے ہم سچے ہوں۔

4. اور وہ یوسف کی قمیص پر جھوٹا خون لگاکر لے آئے۔ باپ نے کہا نہیں، بلکہ تمھارے نفس نے تمھارے ليے ایک بات بنادی ہے۔ اب صبر ہی بہتر ہے۔ اور جو بات تم ظاہر کر رہے ہو، اس پر اللہ ہی سے مدد مانگتا ہوں۔

---- Commentary / تفسیر ----

حضرت یوسف کا اصل قصہ یقینی طورپر اس سے زیادہ مفصّل ہے جتنا کہ قرآن میں بیان ہوا ہے۔ مگر قرآن کا اصل مقصد نصیحت ہے، نہ کہ واقعہ نگاری۔ اس لیے وہ صرف ان پہلوؤں کو لیتاہے جو نصیحت اور تذکیر کے لیے مفید ہوں۔ اور بقیہ تمام اجزاء کو حذف کردیتاہے تاکہ تاریخ نگار اس کو مرتب کریں۔
روایات کے مطابق حضرت یوسف تین دن تک اندھے کنوئیں میں رہے۔ انھیں تین دنوں میں غالباً خواب کے ذریعہ آپ کو آپ کا مستقبل دکھایا گیا۔ اس میں آپ نے دیکھا کہ آپ کنویں سے نکلتے ہیں اور پھر عظمت وشان کے ایک اونچے مقام پر پہنچتے ہیں۔ حتی کہ آپ کے اور آپ کے بھائیوں کے درمیان حیثیت کے اعتبار سے اتنا فرق ہوجاتاہے کہ وہ آپ کو دیکھتے ہیں تو پہچان نہیں پاتے۔حضرت یوسف کے بھائیوں نے جو کچھ کیا وہ انتہائی اشتعال انگیز حرکت تھی۔ مگر ایک طرف حضرت یوسف کا حال یہ تھا کہ انھوں نے اپنے معاملہ کو خداکے حوالے کردیا اور سنسان مقام پر اندھے کنویں کے اندر خاموش بیٹھے ہوئے خدا کی مدد کا انتظار کرتے رہے۔ دوسری طرف آپ کے والد حضرت یعقوب نے صبر جمیل کی روش اختیار کی۔ بعض تفسیروں میں آیا ہے کہ انھوں نے اپنے بیٹوں سے کہا : اگر یوسف کو بھیڑیا کھا جاتا تو وہ اس کی قمیص کو بھی ضرور پھاڑ ڈالتا (لَوْ أَكَلَهُ السَّبْعُ لَخَرَقَ الْقَمِيصَ) تفسیر الطبری، جلد13، صفحہ۔یعنی وہ بھیڑیا بھی کیسا شریف بھیڑیا تھا جو یوسف کو تو اٹھالے گیا اور خون آلود قمیص کو نہایت صحیح وسالم حالت میں اتار کر تمھارے حوالے کرگیا۔

Tazkir ul Quran
Maulana Wahiduddin Khan

30/07/2024

The Quran
Chapter: 12 (Joseph)
Verses: 11-14

بِسۡمِ اللّٰہِ الرَّحۡمٰنِ الرَّحِیۡمِ

---- Translation / ترجمہ ----

1. انھوں نے اپنے باپ سے کہا، اے ہمارے باپ، کیا بات ہے کہ آپ یوسف کے معاملہ میں ہم پر بھروسہ نہیں کرتے۔ حالاںکہ ہم تو اس کے خیر خواہ ہیں۔

2. کل اس کو ہمارے ساتھ بھیج دیجيے، کھائے اور کھیلے، اور ہم اس کے نگہبان ہیں۔

3. باپ نے کہا، میں اس سے غمگین ہوتا ہوں کہ تم اس کو لے جاؤ اور مجھ کو اندیشہ ہے کہ اس کو کوئی بھیڑیا کھا جائے جب کہ تم اس سے غافل ہو۔

4. انھوں نے کہا کہ اگر اس کو بھیڑ یا کھا گیا جب کہ ہم ایک پوری جماعت ہیں، تو ہم بڑے خسارے والے ثابت ہوں گے۔

---- Commentary / تفسیر ----

حضرت یعقوب نے اپنے بیٹوں کو جو جواب دیا اس سے معلوم ہوتاہے کہ حالات کے مطالعہ سے انھوں نے اندازہ کرلیا تھا کہ یہ صحرامیں کھیلنے کودنے کا معاملہ نہیں ہے۔ بلکہ یوسف کے خلاف ان کے بھائیوں کی سازش کا معاملہ ہے۔مگر اللہ سے ڈرنے والا انسان اللہ پر بھروسہ کرنے والا انسان ہوتاہے۔ حضرت یعقوب نے اگر چہ اپنی فراست سے یہ محسوس کرلیا تھا کہ کیا ہونے جارہا ہے۔ تاہم وہ خدا کی قدرت کو ہر دوسری چیز سے اوپر سمجھتے تھے۔ ان کو خدا کی بالا دستی پر کامل یقین تھا۔ چنانچہ واضح خطرات کے باوجود انھوں نے یوسف کو خدا کے بھروسہ پر ان کے بھائیوں کے حوالے کردیا۔
یہ خدا سے ڈرنے والے انسان کی تصویر تھی۔ دوسری طرف حضرت یوسف کے بھائیوں میں ان لوگوں کی تصویر نظر آتی ہے جن کے دل خدا کے خوف سے خالی ہوں۔ یہ لوگ ایک بندۂ خدا کو ناحق برباد کرنے کے منصوبے بنا رہے تھے۔ وہ یہ بھول گئے تھے کہ وہ ایک ایسی دنیا میں ہیں جہاں خداکے سوا کسی اور کو کوئی اختیار حاصل نہیں۔ وہ لفظوں کے اعتبار سے اپنے کو خیر خواہ ثابت کررہے تھے۔ حالانکہ خدا کے نزدیک خیر خواہ وہ ہے جو عمل کے اعتبار سے اپنے کو خیر خواہ ثابت کرے۔

Tazkir ul Quran
Maulana Wahiduddin Khan

28/07/2024

Address

Lahore

Website

Alerts

Be the first to know and let us send you an email when Islam & Youth posts news and promotions. Your email address will not be used for any other purpose, and you can unsubscribe at any time.

Contact The Organization

Send a message to Islam & Youth:

Share