09/09/2026
افسوسناک! جامشورو پولیس کا مبینہ ظلم، روزگار مانگنے والے نوجوان کو گرفتار کرنے پر خواتین اور بچوں میں کہرام
جامشورو: سینڈوز کمپنی کے مرکزی گیٹ کے سامنے بے روزگار نوجوانوں، خواتین اور بچوں نے روزگار کے حصول کے لیے احتجاجی دھرنا دیا۔ احتجاج کے دوران پولیس نے ایک نوجوان کو حراست میں لینے کی کوشش کی تو خواتین اور بچوں میں شدید خوف و ہراس پھیل گیا اور وہ چیخ و پکار کرنے لگے۔
اس موقع پر ایس ایچ او اے سیکشن جامشورو منظور دل اور پولیس اہلکاروں کی احتجاجی مظاہرین کے ساتھ مبینہ تلخ کلامی اور ہاتھا پائی کی صورتحال پیدا ہوگئی، جبکہ پولیس ایک نوجوان کو حراست میں لے گئی۔
سوال یہ ہے کہ روزگار کا مطالبہ کرنے والے بے روزگار نوجوانوں، خواتین اور بچوں کے ساتھ پولیس کا یہ رویہ کس قانون کے تحت قابلِ قبول ہے؟ اگر احتجاج پرامن تھا تو ایک نوجوان کو حراست میں لینے کی ضرورت کیوں پیش آئی؟
پاکستان ہیومن رائٹس ویلفیئر فاؤنڈیشن (PHRWF) کے CEO نے واقعے پر شدید افسوس کا اظہار کرتے ہوئے آئی جی سندھ اور وزیراعلیٰ سندھ سے فوری نوٹس لینے کا مطالبہ کیا ہے۔
PHRWF کا مطالبہ ہے کہ واقعے کی غیر جانب دارانہ اور شفاف تحقیقات کرائی جائیں، احتجاجی مظاہرین کے ساتھ مبینہ ناروا سلوک کا جائزہ لیا جائے اور اگر کسی پولیس اہلکار نے اختیارات سے تجاوز کیا ہے تو اس کے خلاف قانون کے مطابق سخت کارروائی کی جائے۔
روزگار مانگنا جرم نہیں، پُرامن احتجاج ہر شہری کا حق ہے۔ پولیس عوام کی محافظ ہے، خوف پھیلانے والی قوت نہیں۔