All Disable Welfare Society Balochistan

All Disable Welfare Society  Balochistan Helping of Poors and all Disabled Persons.

28/04/2026

اپیل معذور بچوں کے والدین کے نام تفصیلات کے لئے وڈیو کو ملاحظہ کریں

28/04/2026

🛑 بلوچستان کے معذور بچوں کے مستقبل کے ساتھ کھلواڑ بند کرو! 🛑
آل ڈس ایبل ویلفیئر سوسائٹی بلوچستان کی جانب سے محکمہ سماجی بہبود و خصوصی تعلیم (سوشل ویلفیئر) کے حالیہ غیر قانونی اقدامات کے خلاف ایک اہم اعلامیہ:
ہم محکمہ سماجی بہبود و خصوصی تعلیم بلوچستان کی جانب سے کوئٹہ میں واقع خصوصی تعلیم کے اداروں کے لیے "مختصر سلیبس" (Condensed Syllabus) متعارف کروانے کے اقدام کو یکسر مسترد کرتے ہیں اور اسے بین الاقوامی قوانین کی کھلی خلاف ورزی قرار دیتے ہیں۔
⚖️ قانونی دلائل اور یونائیٹڈ نیشنز کنونشن (UNCRPD) کے حوالہ جات:
محکمہ کا یہ فیصلہ اقوام متحدہ کے کنونشن برائے حقوقِ معذورین (UNCRPD) کے درج ذیل آرٹیکلز کی سنگین خلاف ورزی ہے:
آرٹیکل 3 (عمومی اصول): یہ آرٹیکل معذور افراد کی خودمختاری اور معاشرے میں مکمل شمولیت کا حق دیتا ہے۔ سلیبس کو مختصر کرنا ان کی ذہنی صلاحیتوں کو محدود کرنے کے مترادف ہے۔
آرٹیکل 5 (مساوات اور عدم امتیاز): تمام افراد قانون کی نظر میں برابر ہیں۔ معذور بچوں کے لیے الگ اور ناقص تعلیمی معیار رکھنا سراسر امتیازی سلوک ہے۔
آرٹیکل 24 (تعلیم): یہ آرٹیکل معذور افراد کے لیے "جامع نظامِ تعلیم" کی ضمانت دیتا ہے۔ نصاب میں کٹوتی ان کے تعلیمی ارتقاء کی راہ میں رکاوٹ ہے۔
آرٹیکل 29 (سیاسی اور عوامی زندگی میں شرکت): جب بچوں کو مکمل تعلیم ہی نہیں دی جائے گی، تو وہ مستقبل میں ایک فعال شہری کے طور پر معاشرے کا حصہ کیسے بنیں گے؟
⚠️ پرنسپل ڈائریکٹر کمپلیکس کا غیر سنجیدہ رویہ:
انتہائی افسوس کے ساتھ کہنا پڑتا ہے کہ پرنسپل ڈائریکٹر کمپلیکس برائے خصوصی تعلیم کوئٹہ اس حساس معاملے کو انتہائی غیر سنجیدگی سے لے رہے ہیں۔ متعدد بار سوشل میڈیا اور باقاعدہ خط و کتابت کے ذریعے آگاہ کرنے کے باوجود، موصوف ٹس سے مس نہیں ہو رہے۔ ان کا یہ رویہ معذور بچوں کے مستقبل کے خلاف ایک گہری سازش محسوس ہوتا ہے۔ ایک نااہل افسر کی ضد کی وجہ سے کوئٹہ اور صوبہ بلوچستان کے دیگر اداروں میں ہزاروں بچوں کا تعلیمی مستقبل داؤ پر لگا دیا گیا ہے۔
📢 حکومتِ بلوچستان سے ہمارا مطالبہ:
ہم وزیراعلیٰ بلوچستان، چیف سیکرٹری، اور سیکرٹری سوشل ویلفیئر سے پرزور مطالبہ کرتے ہیں کہ:
اس غیر قانونی "مختصر سلیبس" کے فیصلے کو فوری طور پر ریورس (منسوخ) کیا جائے۔
بچوں کے مستقبل سے کھیلنے والے اس نااہل افسر کو فوری طور پر عہدے سے ہٹایا جائے۔
⚖️ ہماری اگلی حکمتِ عملی:
اگر حکومت نے فوری طور پر ہنگامی ایکشن نہ لیا، تو ہم اس معاملے کو عدالتِ عالیہ میں لے کر جائیں گے۔ ہم UNCRPD کے آرٹیکل 24 کی خلاف ورزی پر محکمہ کے خلاف کیس کریں گے، جس کی تمام تر ذمہ داری محکمہ اور متعلقہ افسران پر ہوگی۔ یہ قانونی جنگ نہ صرف بچوں کے حق کے لیے ہے بلکہ محکمے کی ساکھ بچانے کے لیے بھی ضروری ہے جو چند افسران کی نااہلی کی وجہ سے داؤ پر لگی ہے۔
منجانب:
آل ڈس ایبل ویلفیئر سوسائٹی بلوچستان

28/04/2026

آل ڈسیبل ویلفیئر سوسائٹی بلوچستان کی طرف سے زہری ٹائون کوئٹہ میں معذور بچوں کو طعام مسکین فاونڈیشن کے تعاون سے راشن اور ٹی ایس او کی طرف سے ویل چیئر دی جا رہی ہے ہمارا رابطہ نمبر 03336979691

26/04/2026

کھلا خط وزیر اعلی بلوچستان سرفراز بگتی صاحب کے نام موضوع غیر اخلاقی رویے محترم وزیر اعلی صاحب آل ڈسیبل ویلفیئر سوسائٹی بلوچستان کا وفد اپنے دفتری امور کے سلسلے میں سیکرٹری سوشل ویلفیئر اسمت اللہ قریشی کے سامنے حاضر ہوا تو سیکرٹری موصوف نے وفد کے ساتھ انتہائی نامناسب رویہ اختیار کیا اس ادارے کا مقصد معذور افراد کے حقوق کا تحفظ کرنا ہے اگر سرکاری منصب پر بیٹھے افسران اس طرح کا رویہ اختیار کرتے ہیں تو یہ نہ قابل قبول اور قابل مذمت ہے ایسے رویے معاشرے کے لیے زہر قاتل ثابت ہوتے ہیں آل ڈسیبل ویلفیئر سوسائٹی بلوچستان صوبے بھر میں اپنی خدمات سرانجام دے رہی ہے اس لیے وفد کے ساتھ سیکرٹری موصوف کی جانب سے اس طرح کے ترز عمل سے تمام معذور افراد کے جذبات مجروح ہوئے ہیں ہم وزیر اعلی صاحب سے اپیل کرتے ہیں سیکرٹری سوشل ویلفیئر اسمت اللہ قریشی کے خلاف کارروائی کا آغاز کر کے سیکرٹری موصوف سے فوری جواب طلب کر کے سیکرٹری صاحب کو احکامات صادر فرمائیں کہ سیکرٹری سوشل ویلفیئر اسمت اللہ قریشی تمام معذور افراد سے اپنے رویے پر معافی مانگیں وزیر اعلی صاحب کیوں کہ ااپ عوامی نمائندے ہیں اس لیے آل ڈسیبل ویلفیئر سوسائٹی بلوچستان آپ سے توقع رکھتی ہے آپ ہمارے اس خط پر ہمدردانہ غور فرما کر تمام معذور افراد جن کی دلآزاری ہوئی ہے ان کی دلجوئی فرمائیں گے اللہ تبارک تعالآ آپ کو سلامت رکھے آمین یا رب العالمین منجانب ترجمان آل ڈسیبل ویلفیئر سوسائٹی بلوچستان

26/04/2026

آل ڈسیبل ویلفیئر سوسائٹی بلوچستان کی طرف سے نواں کلی کوئٹہ میں ایک باہمت خاتون کو ان کی دہلیز پر ویل چیئر دی جا رہی ہے ہمارا رابطہ نمبر 03336979691

25/04/2026

آل ڈسیبل ویلفیئر سوسائٹی بلوچستان کی جانب سے کوئٹہ کی ایک بچی کو ویل چیئر دی جا رہی اگر آپ کو ہمارا کام پسند آ رہا ہے تو تعاون کے لیے ہمارا رابطہ نمبر 03336979691

25/04/2026

اسپیشل ایجوکیشن کمپلیکس اور نابینہ افراد۔ تاریخ کو بھُلا دینے والی اقوام ہمیشہ زوال پذیر ہوتی ہیں، اور یہی اس وقت ہمارے ادارے کے ساتھ ہو رہا ہے۔ شاید لوگ بھول گئے ہیں یا نہیں جانتے کہ اس ادارے کی بنیاد رکھنے والے نابینہ افراد ہیں، جنہوں نے اس ادارے کو نہ صرف اسٹیبلش کیا بلکہ ہمیشہ اس کی تعمیر و ترقی میں پیش پیش رہے۔ تاریخ گواہ ہے کہ جب تک نابینہ افراد کا اثر و رسوخ اس ادارے پر قائم رہا، ادارے میں نہ صرف معیاری تعلیم دی جاتی رہی بلکہ یہی سے کامیاب ہو کر نابینہ طلباء و طالبات نے پورے صوبے میں ادارے کا نام روشن کیا۔

بعد ازاں ادارے کو ہائی جیک کر لیا گیا اور معذور افراد کے بجائے غیر معذور افراد نے تسلط سنبھال لیا۔ غیر تجربہ کاری اور عدم دلچسپی کی وجہ سے ادارہ معیار سے گرنے لگا۔ نابینہ افراد کے بارے میں یہ تاثر پھیلایا گیا کہ یہ افلاطون ہیں، رکاوٹیں کھڑی کرتے ہیں، اور یوں افسران نے غیر معذور افراد کی لفّاظی سے متاثر ہو کر نہ صرف نابینہ افراد بلکہ بالعموم تمام معذور افراد کو فیصلہ سازی سے الگ کر دیا۔

یہاں یہ بات واضح رہنی چاہیے کہ غیر معذور افراد بھی اس ادارے کے لیے اہم ہیں، ان کا کردار اور خدمات اپنی جگہ قابلِ قدر ہیں، لیکن اصولی اور قانونی طور پر اولین ترجیح صرف اور صرف معذور افراد کو ہی دی جانی چاہیے، کیونکہ یہی اس ادارے کے اصل اور حقیقی اسٹیک ہولڈرز ہیں۔

نتیجتاً آج ادارے نے ایکسکلوسیو کوئسچن پیپر بنا کر نہ صرف اپنے تعلیمی معیار بلکہ اپنی کریڈیبلٹی پر بھی سوال اٹھا دیا ہے۔ مزید برآں، ایسی پالیسیاں ترتیب دی جا رہی ہیں جو United Nations Convention on the Rights of Persons with Disabilities (CRPD) سے متصادم ہیں، جو کہ ایک سنگین معاملہ ہے۔

سی آر پی ڈی کے مطابق:

* آرٹیکل 24 (تعلیم): معذور افراد کے لیے انکلوسو اور مساوی تعلیم کی ضمانت دیتا ہے، نہ کہ علیحدگی یا امتیازی نظام۔
* آرٹیکل 4(3): واضح طور پر ریاستوں کو پابند کرتا ہے کہ معذور افراد کو ان سے متعلقہ پالیسی سازی اور فیصلہ سازی میں شامل کیا جائے۔
* آرٹیکل 5 (مساوات اور عدم امتیاز): ہر قسم کے امتیازی سلوک کی ممانعت کرتا ہے۔
* آرٹیکل 29 (شرکت): معذور افراد کی فعال شرکت کو یقینی بنانے کی ہدایت دیتا ہے۔

ان اصولوں کی خلاف ورزی نہ صرف قومی قوانین بلکہ بین الاقوامی ذمہ داریوں کی بھی خلاف ورزی ہے۔

قانونی طور پر اس کے خلاف درج ذیل کارروائیاں ممکن ہیں:

* ہائی کورٹ میں آئینی درخواست (Writ Petition) دائر کی جا سکتی ہے، بنیادی حقوق کی خلاف ورزی کی بنیاد پر۔
* نیشنل کمیشن برائے انسانی حقوق اور صوبائی محتسب کو باضابطہ شکایت درج کرائی جا سکتی ہے۔
* وفاقی و صوبائی محکمہ سوشل ویلفیئر کے خلاف انکوائری کی درخواست دی جا سکتی ہے۔
* بین الاقوامی سطح پر United Nations Committee on the Rights of Persons with Disabilities کو رپورٹ کیا جا سکتا ہے۔
* سول سوسائٹی اور ہیومن رائٹس آرگنائزیشنز کے ذریعے ایڈووکیسی مہم چلائی جا سکتی ہے۔

یہ بھی واضح رہے کہ اگر یہ معاملہ صوبائی، ملکی یا بین الاقوامی اداروں کے نوٹس میں آتا ہے تو یہ نہ صرف ادارے بلکہ پورے صوبے اور ملک کے لیے شرمندگی کا باعث بن سکتا ہے، جو کسی طور بھی مفاد میں نہیں۔

لہٰذا ضروری ہے کہ ضد اور یکطرفہ فیصلوں کو ترک کیا جائے، تمام اسٹیک ہولڈرز کو ساتھ لے کر چلا جائے، اور خاص طور پر معذور افراد کے بنیادی اور قانونی حقوق کو تسلیم کرتے ہوئے انہیں فیصلہ سازی میں مرکزی حیثیت دی جائے، تاکہ ادارہ دوبارہ اپنی اصل سمت میں آ سکے۔

23/04/2026

جنرل سیکرٹری آل ڈسیبل ویلفیئر سوسائٹی بلوچستان جناب ثنا اللہ مری نے ٹی ایس او کے صدر محترم جناب ریاض بلوچ صاحب سے ملاقات کی

23/04/2026

**کھلا خط بنام: جناب حاجی ولی محمد نورزئی صاحب**
**پارلیمانی سیکرٹری برائے سوشل ویلفیئر، حکومتِ بلوچستان، کوئٹہ۔**
**موضوع: میٹرک کے نصاب میں تبدیلی اور الگ امتحانی پیپر کے فیصلے کی واپسی کے لیے دردمندانہ اپیل**
**جنابِ عالی،**
نابینا اتحاد بلوچستان اس کھلے خط کے ذریعے آپ کی توجہ ایک انتہائی حساس تعلیمی مسئلے کی جانب مبذول کروانا چاہتا ہے، جس کا تعلق بلوچستان کے سینکڑوں نابینہ طلبہ و طالبات کے مستقبل سے ہے۔
محکمہ سوشل ویلفیئر اینڈ اسپیشل ایجوکیشن کی جانب سے حال ہی میں میٹرک کی سطح پر معذور بچوں کے لیے الگ اور مختصر امتحانی پیپر تیار کرنے کا جو فیصلہ کیا گیا ہے، وہ ہمارے طلبہ کے تعلیمی کیریئر کے لیے شدید خطرہ ثابت ہو رہا ہے۔ اس فیصلے کے حوالے سے ہمارے تحفظات درج ذیل ہیں:
1. **جنرل ایجوکیشن سسٹم سے علیحدگی:** خصوصی بچوں کے لیے الگ امتحانی نظام انہیں عام تعلیمی دھارے سے دور کر دے گا، جو کہ حکومت کی شمولیت (Inclusion) کی پالیسی کے سراسر خلاف ہے۔
2. **اعلیٰ تعلیم کے حصول میں رکاوٹ:** مختصر پیپر ہونے کی وجہ سے ان بچوں کی مارکنگ دیگر طلبہ کے مساوی نہیں ہوگی۔ اس کے نتیجے میں جب یہ طلبہ میٹرک کے بعد جنرل کالجز اور یونیورسٹیوں میں داخلے کے لیے جائیں گے، تو وہاں کے میرٹ پر پورا نہ اترنے کی وجہ سے انہیں ایکسیپٹ (Accept) نہیں کیا جائے گا۔
3. **مستقبل کا عدم تحفظ:** اس تعلیمی تفریق سے یہ خدشہ پیدا ہو گیا ہے کہ ان کی اسناد (Degrees) کو دیگر ادارے تسلیم کرنے سے ہچکچائیں گے، جس سے ان کی تمام تر محنت پر پانی پھر جائے گا۔
**جنابِ عالی!**
آپ ایک عوامی نمائندے اور ذمہ دار شخصیت ہیں، اور ہم آپ سے یہ امید رکھتے ہیں کہ آپ محروم طبقات کے حقوق کے تحفظ کے لیے اپنا اثر و رسوخ استعمال کریں گے۔ ہماری آپ سے پرزور گزارش ہے کہ معذور افراد، بالخصوص نابینہ طلبہ و طالبات کے وسیع تر مفاد میں اس فیصلے پر نظرِ ثانی فرمائیں اور اسے فوری طور پر **واپس (Reverse)** لانے میں اپنا کلیدی کردار ادا کریں۔ ان بچوں کا امتحان بھی اسی طرز اور نصاب پر لیا جائے جو جنرل سسٹم میں رائج ہے، تاکہ یہ بچے معاشرے کے دیگر بچوں کے ساتھ قدم سے قدم ملا کر چل سکیں۔
ہمیں قوی امید ہے کہ آپ اس معاملے کی سنگینی کو سمجھتے ہوئے ہمارے بچوں کے مستقبل کو محفوظ بنانے کے لیے فوری اقدامات فرمائیں گے۔
**منجانب:**
نابینا اتحاد بلوچستان
کوئٹہ
**تاریخ:** 23 اپریل 2026

21/04/2026

آل ڈسیبل ویلفیئر سوسائٹی بلوچستان کی طرف سے مری گلی زہری ٹائون کوئٹہ میں دو بہن بھائیوں کو ویل چیئر دی جا رہی ہے

20/04/2026

آل ڈسیبل ویلفیئر سوسائٹی بلوچستان کی ٹیم نے اپنے دفتر کے سلسلے میں سیکرٹری سوشل ویلفیئر اسمت اللہ قریش سے ملاقات کی تو ایسے لگ رہا تھا کہ جیسے یہ شخص سیکرٹری سوشل ویلفیئر کی شکل میں یزید ہے سیکرٹری سوشل ویلفیئر نے آل ڈسیبل ویلفیئر سوسائٹی بلوچستان کی ٹیم کے ساتھ انتہائی بدتمیزی کی جس کی وجہ سے تمام معذور افراد کی دلآزاری ہوئی یہ زمینی خدا ی بھی بھول گیا کہ جن کے نام پر اس کو یہ سیٹ ملی انہی لوگوں کے ساتھ شدید بدتمیزی نہ صرف اس کے منصب کی خلاف ورزی ہے بلکہ غیر انسانی سلوک بھی ہے آل ڈسیبل ویلفیئر سوسائٹی بلوچستان حکام بالا سے مطالبہ کرتی ہے فوری طور پہ سیکرٹری سوشل ویلفیئر سے جواب طلب کر کے اس افسوسناک واقعہ کا نوٹس لے بصورت دیگر آل ڈسیبل ویلفیئر سوسائٹی بلوچستان اپنے لاہعمل کا اعلان کرے گی ترجمان آل ڈسیبل ویلفیئر سوسائٹی بلوچستان

15/04/2026

آل ڈسیبل ویلفیئر سوسائٹی بلوچستان کی ٹیم نے ان معذور بھائیوں کی داستان سنی تو دل دہل کر رہ گیا کوئی ہے جو کوئٹہ کے ان مجبور لوگوں کی امداد کر سکے ہمارا رابطہ نمبر 03336979691

Address

All Disable Welfare Society Head Office Kohlu
Kohlu
87300

Alerts

Be the first to know and let us send you an email when All Disable Welfare Society Balochistan posts news and promotions. Your email address will not be used for any other purpose, and you can unsubscribe at any time.

Contact The Organization

Send a message to All Disable Welfare Society Balochistan:

Share