22/02/2026
خیرپور میں جنگلات کی تباہی کا میگا اسکینڈل بے نقاب، سابق ڈی ایف اوز پر کروڑوں کی کرپشن اور ہزاروں درختوں کی کٹائی کا الزام
خیرپور (خصوصی انویسٹیگیٹیو رپورٹ): خیرپور ضلع کے مختلف جنگلاتی علاقوں میں مبینہ طور پر بڑے پیمانے پر درختوں کی غیر قانونی کٹائی اور قومی اثاثوں کی بندربانٹ کا انکشاف ہوا ہے۔ ذرائع کے مطابق اس مبینہ میگا اسکینڈل میں ڈسٹرکٹ فارسٹ افسران ضیاءالدین لغاری اور سابق معطل شده افسر مالک ڈنو ملاح کے نام سامنے آئے ہیں، جن پر الزام ہے کہ انہوں نے اپنے دورِ تعیناتی کے دوران جنگلات کو شدید نقصان پہنچایا اور کروڑوں روپے کے اثاثے بنائے۔
اندرونی انکوائری رپورٹ کے مطابق کیٹی پیر صاحب، ٹنڈو میر علی فارسٹ، گڑنگ کٹوہر، بھوگ فارسٹ اور شاہانی بلاک گمبٹ رینج میں ہزاروں کھڑے کیرل اور دیگر اقسام کے درخت مبینہ طور پر بغیر نیلامی ٹھیکیداروں راشد جونيجو، حمید ابڑو، رضوان میمن اور شاهد پٹھان کے ذریعے فروخت کیے گئے۔
رپورٹ میں انکشاف کیا گیا ہے کہ گڑنگ کٹوہر فارسٹ میں جہاں سرکاری ریکارڈ کے مطابق 380 درخت موجود تھے، وہاں مبینہ طور پر تقریباً 8 ہزار درخت کاٹ کر فروخت کر دیے گئے۔ اسی طرح کیٹی پیر صاحب لفٹ بینک فارسٹ کے 100 ایکڑ رقبے پر موجود درخت بھی کٹوا کر روزانہ کی بنیاد پر مختلف شہروں لاڑکانہ، ٹھری، کنڈیارو اور نوشہرو فیروز منتقل کیے جاتے رہے، جبکہ محکمہ کے اعلیٰ حکام کی جانب سے کوئی مؤثر کارروائی سامنے نہ آئی۔
ذرائع کا کہنا ہے کہ ڈی ایف او ضیاءالدین لغاری نے دریا کے دوسرے کنارے 40 سے 50 ہزار درخت کٹوا کر جنگلات کو شدید نقصان پہنچایا۔ خلیفہ اکرام کو مبینہ طور پر 100 ایکڑ رقبے پر کٹائی کی اجازت دی گئی، جبکہ محکمہ کے اندر “مال کماؤ” کے معاملے پر گروپ بندی اور سرد جنگ بھی جاری رہی۔
رپورٹ میں یہ بھی کہا گیا ہے کہ سابق ڈی ایف او مالک ڈنو ملاح نے انگریز دور کے لگائے گئے قدیمی شیشم کے تقریباً 30 ٹاریاں اپنے گھر منتقل کروائیں اور سروے آف پاکستان کے ریکارڈ میں مبینہ ردوبدل کر کے سینکڑوں ایکڑ زمین کو ریونیو زمین ظاہر کیا۔ اندازے کے مطابق مالک ڈنو ملاح پر 25 سے 30 کروڑ روپے جبکہ ضیاءالدین لغاری پر 9 کروڑ روپے سے زائد کرپشن کے الزامات ہیں۔
انکوائری کے دوران تقریباً 200 ریونیو پاس مختلف فرنٹ مینوں کے نام جاری ہونے کا انکشاف بھی ہوا، جنہیں کسی چیک پوسٹ پر نہیں روکا گیا۔ انکوائری رپورٹ میں ضیاءالدین لغاری سمیت 6 اہلکاروں کی معطلی کی تصدیق کی گئی ہے، جبکہ مالک ڈنو ملاح کے بھتیجے اسباط ملاح کا نام بھی تحقیقات میں شامل ہے۔
کنزرویٹر افتخار آرائیں کے مطابق معاملہ قومی جرم کے زمرے میں آتا ہے اور ذمہ داران کے خلاف سخت کارروائی کی سفارش کی گئی ہے، جس میں دونوں سابق افسران کو نوکری سے برطرف کرنے اور آئندہ تین سے چار سال تک کسی بھی پوسٹ پر تعینات نہ کرنے کی تجویز شامل ہے۔ رپورٹ سیکرٹری فاریسٹ کو ارسال کر دی گئی ہے جبکہ مقامی شہریوں نے اینٹی کرپشن کو خط لکھنے کا اعلان بھی کیا ہے۔
ذرائع کے مطابق دونوں سابق افسران خود کو بچانے کے لیے بااثر سیاسی شخصیات سے رابطے کر رہے ہیں، جبکہ یہ بھی الزام سامنے آیا ہے کہ ایف آئی آر سے بچنے کے لیے 50 لاکھ روپے کی پیشکش کی گئی۔
Forest Destruction Mega Scandal Exposed in Khairpur; Former DFOs Accused of Massive Corruption and Illegal Logging
Khairpur (Special Investigative Report): A major alleged corruption scandal involving illegal logging and destruction of forest land has surfaced in various forest ranges of Khairpur district. According to credible sources, former District Forest Officers Ziauddin Laghari and Malik Dino Mallah have been named in an internal inquiry for allegedly causing large-scale environmental damage and accumulating assets worth millions.
The internal report states that thousands of standing karel and other trees in Keti Pir Sahib, Tando Mir Ali Forest, Garang Katoher, Bhog Forest, and Shahani Block Gambat Range were allegedly sold without auction through contractors including Rashid Junejo, Hameed Abro, Rizwan Memon, and Shahid Pathan.
In Garang Katoher Forest, where official records showed 380 trees, approximately 8,000 trees were allegedly cut and sold. Similarly, trees spread over 100 acres in Keti Pir Sahib Lift Bank Forest were reportedly cut and transported daily to Larkana, Thari, Kandiaro, and Naushahro Feroze without effective oversight from senior officials.
Sources claim that 40,000 to 50,000 trees were cut on the river’s other side under the supervision of the former DFO. It is further alleged that about 200 revenue passes were issued to front men without proper verification at check posts.
The inquiry confirms suspension of six officials, including Ziauddin Laghari, while Malik Dino Mallah’s nephew Asbat Mallah has also been named. The report recommends dismissal of both former officers and barring them from holding any post for the next three to four years.
The report has been submitted to the Secretary Forest, and local citizens have announced plans to approach the Anti-Corruption Department. Sources also allege attempts by the accused to seek political influence to avoid legal action.