20/04/2026
میں نے اس طور سے تجھے چاہا اکثر
جیسے مہتاب کو بے انت سمندر چاہے
جیسے سورج کی کرن سیپ کے دل میں اترے
جیسے خوشبو کو ہوا رنگ سے ہٹ کر چاہے
جیسے پتھر کے کلیجے سے کرن پھوٹتی ہے
جیسے غنچے کھلے موسم سے حنا مانگتے ہیں
جیسے خوابوں میں خیالوں کی کمان ٹوٹتی ہے
جیسے بارش کی دعا آبلہ پا مانگتے ہیں
مرا ہر خواب مرے سچ کی گواہی دے گا
وسعت دید نے تجھ سے تری خواہش کی ہے
مری سوچوں میں کبھی دیکھ سراپا اپنا
میں نے دنیا سے الگ تیری پرستش کی ہے
خواہش دید کا موسم کبھی ہلکا جو ہوا
نوچ ڈالی ہیں زمانوں کی نقابیں میں نے
تری پلکوں پہ اترتی ہوئی صبحوں کےلیے
توڑ ڈالی ہیں ستاروں کی طنابیں میں نے
میں نے چاہا کہ تیرے حسن کی گلنار فضا
میری غزلوں کی قطاروں سے دہکتی جائے
میں نے چاہا کہ مرے فن کے گلستان کی بہار
تری آنکھوں کے گلابوں سے مہکتی چائے
طے تو یہ تھا سجاتا رہے لفظوں کے کنول
میرے خاموش خیالوں میں تکلم ترا
رقص کرتا رہے ، بھرتا رہے خوشبو کا خمار
مری خواہش کے جزیروں میں تبسم ترا
تو مگر اجنبی ماحول کی پروردہ کرن
مری بجھتی ہوئی راتوں کو سحر کر نہ سکی
تری سانسوں میں مسیحائی تھی لیکن تو بھی
چارہ زخم غم دیدہ کر نہ سکی
تجھ کو احساس ہی کب ہے کہ درد کا داغ
آنکھ سے دل میں اتر جائے تو کیا ہوتا ہے
تو کہیں سیماب طبیعت ہے تجھے کیا معلوم
موسم ہجر ٹھہر جائے تو کیا ہوتا ہے
تو نے اس موڑ پہ توڑا ہے تعلق کہ جہاں
دیکھ سکتا نہیں کوئی بھی پلٹ کر جاناں
اب یہ عالم ہے کہ آنکھیں جو کھلیں گی اپنی
یاد آئے گا تری دید کا منظر جاناں
مجھ سے مانگے گا ترے عہد محبت کا حساب
ترے ہجراں کا دہکتا ہوا محشر جاناں
یوں مرے دل کے برابر ترا غم آیا ہے
جیسے شیشے کے مقابل کوئی پتھر جاناں __!!