09/05/2026
ابوریحان البیرونی اسلامی تاریخ کے ان عظیم سائنس دانوں میں شمار ہوتے ہیں جنہوں نے اپنی ذہانت، تحقیق اور مشاہدے کی بدولت دنیا کو حیران کر دیا۔ وہ نہ صرف ایک ماہرِ فلکیات تھے بلکہ ریاضی، جغرافیہ، فلسفہ اور طبیعیات میں بھی گہری مہارت رکھتے تھے۔ البیرونی نے ایسے دور میں زمین کے نصف قطر کا حساب لگایا جب نہ جدید آلات موجود تھے اور نہ ہی سائنسی ٹیکنالوجی۔ اس کے باوجود ان کی تحقیق حیرت انگیز طور پر درست ثابت ہوئی اور آج بھی سائنس کی تاریخ میں ایک عظیم کارنامہ سمجھی جاتی ہے۔
البیرونی کی پیدائش 973ء میں خوارزم کے علاقے میں ہوئی۔ وہ بچپن ہی سے غیر معمولی ذہانت کے حامل تھے اور علم حاصل کرنے کا بے حد شوق رکھتے تھے۔ انہوں نے مختلف علوم میں مہارت حاصل کی اور اپنی زندگی تحقیق و جستجو میں گزاری۔ وہ ہندوستان بھی آئے جہاں انہوں نے یہاں کی زبان، ثقافت، مذاہب اور علوم کا گہرا مطالعہ کیا۔ ان کی مشہور کتاب “کتاب الہند” آج بھی علمی دنیا میں بڑی اہمیت رکھتی ہے۔
زمین کے نصف قطر کی پیمائش البیرونی کا ایک ایسا کارنامہ ہے جس نے دنیا بھر کے سائنس دانوں کو متاثر کیا۔ انہوں نے موجودہ نندانہ کے مقام پر ایک پہاڑ کا انتخاب کیا اور وہاں اپنے تجربات انجام دیے۔ پہلے انہوں نے پہاڑ کی اونچائی معلوم کی اور پھر پہاڑ کی چوٹی سے افق تک جھکاؤ کے زاویے کی پیمائش کی۔ اس کے بعد انہوں نے علمِ مثلثات کے اصول استعمال کرتے ہوئے زمین کے نصف قطر کا حساب لگایا۔ ان کے مطابق زمین کا نصف قطر تقریباً 6339.6 کلومیٹر تھا، جبکہ آج جدید سائنس کے مطابق زمین کا اوسط نصف قطر تقریباً 6371 کلومیٹر مانا جاتا ہے۔ دونوں اعداد میں صرف تقریباً 0.3 فیصد فرق ہے، جو اس دور کے لحاظ سے حیران کن حد تک درست ہے۔
البیرونی کی اس تحقیق سے یہ ثابت ہوتا ہے کہ وہ ریاضی اور سائنسی اصولوں پر غیر معمولی عبور رکھتے تھے۔ انہوں نے بغیر کسی جدید مشین کے صرف مشاہدے، حساب اور ذہانت کی مدد سے ایک ایسا نتیجہ حاصل کیا جو آج بھی قابلِ تعریف ہے۔ ان کی تحقیق اس بات کا ثبوت ہے کہ مسلمان سائنس دانوں نے دنیا میں علم و تحقیق کے فروغ میں بہت اہم کردار ادا کیا۔
قلعہ نندانہ آج بھی اس عظیم کارنامے کی یاد دلاتا ہے۔ یہ مقام پاکستان کی تاریخی اور سائنسی اہمیت کا ایک قیمتی حصہ سمجھا جاتا ہے۔ دنیا بھر کے محققین اس بات کو تسلیم کرتے ہیں کہ البیرونی کی پیمائش انسانی تاریخ کے عظیم سائنسی کارناموں میں سے ایک ہے۔
البیرونی کی زندگی ہمیں یہ سبق دیتی ہے کہ علم، تحقیق اور مسلسل محنت انسان کو عظیم کامیابیوں تک پہنچا سکتی ہے۔ انہوں نے ثابت کیا کہ اگر انسان میں سیکھنے کا جذبہ ہو تو محدود وسائل کے باوجود بھی حیرت انگیز کارنامے انجام دیے جا سکتے ہیں۔ ان کا نام ہمیشہ سائنس کی تاریخ میں احترام اور فخر کے ساتھ یاد رکھا جائے گا۔