04/06/2026
بعض ریاستی نمائندے اور بلوچستان اسمبلی کے چند اراکین کی جانب سے میرے، میرے ساتھیوں اور بلوچ یکجہتی کمیٹی (BYC) کے خلاف لگائے گئے حالیہ الزامات نہ صرف بے بنیاد ہیں بلکہ بلوچستان میں پرامن سیاسی جدوجہد کو بدنام کرنے کی ایک واضح اور منظم کوشش کا حصہ ہیں۔ یہ الزامات ایسی فضا پیدا کرنے کے لیے استعمال کیے جا رہے ہیں جہاں سیاسی اختلاف کو جرم اور انسانی حقوق کے مطالبے کو ریاست دشمنی قرار دیا جائے۔
بلوچ یکجہتی کمیٹی ایک عوامی، غیر مسلح اور پرامن پلیٹ فارم ہے جو قیام سے اب تک بلوچ عوام کے بنیادی حقوق، انصاف اور انسانی وقار کے لیے جدوجہد کرتی رہی ہے۔ ہمارے مطالبات واضح ہیں: جبری گمشدگیاں ختم ہوں، ماورائے قانون گرفتاریوں کا خاتمہ ہو، اظہارِ رائے کی آزادی یقینی ہو، بلوچستان کے وسائل پر بلوچ عوام کے حق کو تسلیم کیا جائے ،اور بلوچستان کے عوام کو ان کے آئینی اور تاریخی حقوق دیے جائیں۔
بدقسمتی سے ریاستی عناصر ان مطالبات کا جواب دینے کے بجائے جھوٹے الزامات، کردار کشی اور پروپیگنڈے کے ذریعے عوامی تحریک کو بدنام کرنے کی کوشش کر رہے ہیں۔ یہ الزامات نہ صرف میرے اور میرے ساتھیوں کی ساکھ کو متاثر کرنے کے لیے ہیں بلکہ بلوچ یکجہتی کمیٹی کے پرامن جدوجہد کو بھی نشانہ بنا رہے ہیں۔گزشتہ ایک سال سے بلوچ یکجہتی کمیٹی مرکزی رہنماؤں ڈاکٹر صبیحہ بلوچ ، سمی بلوچ، لالا وہاب اور دیگر ورکران نے انتہائی مشکل حالات میں بھی تنظیم زمہداریوں کو پورا کیا ، بی وائی سی بلوچستان میں جاری انسانی حقوق کے پامالیوں کے زمہ دارانہ رپورٹنگ کر رہی ہے ،بلوچ یکجہتی کمیٹی بلوچ عوام کے نمائندہ تنظیم ہے ، عوامی تحریک کو بزور طاقت کچلنے سے بلوچستان کے عوام کو یہ پیغام دیا گیا ہے اس ریاست میں پر امن جدوجہد کیلئے کوئی جگہ نہیں ، جنگی منافع خوروں کیلئے بلوچ قوم کے زندگیوں کی کوئی قیمت نہیں ۔
یہ امر انتہائی تشویشناک ہے کہ بلوچ سیاسی کارکنوں اور انسانی حقوق کے لیے آواز بلند کرنے والوں کو مسلسل ہراساں کیا جا رہا ہے، جبکہ ان کے خلاف لگائے گئے الزامات کے لیے کوئی قابلِ اعتماد شواہد موجود نہیں ہیں۔بلوچستان میں مسلح تنظیموں کے کاروائی کے بعد ریاستی ادارے اپنے نہ اہلی کو چھپانے کے ناکام کوشش میں بی وائی سی کے خلاف ایک نیا جھوٹا پروپیگنڈہ تیار کرتے ہے، اور پھر بلوچ عوام کے وسائل کا استعمال کر کے اس پروپیگنڈے کو پرنٹ اور سوشل میڈیا میں شائع کیا جاتی ہے ، ہم سوال کرتے ہے کہ کیا اس پروپیگنڈے سے آپ بلوچ قوم کے دلوں میں محفوظ ریاستی جبر کے داستانوں کو مٹا سکتے ہے ؟ کیا آپ جبراً پریس کانفرنس کروا کر بلوچ ماں کے دل سے اس کے بیٹے کے وجو