29/04/2026
بابر عدیل قتل کیس طویل عرصے تک ایک معمہ بنا رہا۔ ایک طرف یہ کیس پولیس کے لیے بڑا چیلنج تھا تو دوسری جانب سوشل میڈیا اور عوامی سطح پر افواہوں اور قیاس آرائیوں کا طوفان برپا تھا۔ “سو منہ سو باتیں” کے مصداق ہر شخص اپنے اندازے کے مطابق کسی نہ کسی کو موردِ الزام ٹھہرا رہا تھا، جس سے نہ صرف نئی دشمنیاں جنم لے رہی تھیں بلکہ غلط فہمیوں کا بازار بھی گرم تھا۔ عوام شدید بے چینی کا شکار تھے کہ آخر قاتل کیوں گرفتار نہیں ہو رہے اور کیسے اس قدر مہارت سے غائب ہو گئے کہ کوئی سراغ نہیں مل رہا۔
اب ذرائع کے مطابق اس کیس میں اہم پیش رفت سامنے آئی ہے۔ پولیس نے تحصیل تخت نصرتی سے دو نوجوانوں کو حراست میں لے لیا ہے، جنہوں نے ابتدائی تفتیش کے دوران مبینہ طور پر اعتراف جرم کرتے ہوئے واقعے کی تفصیلات بھی بیان کی ہیں۔ تاہم قانونی تقاضوں کے پیش نظر فی الحال زیادہ تفصیلات منظر عام پر لانا مناسب نہیں۔
اطلاعات کے مطابق ملزمان سے واقعے میں استعمال ہونے والا پستول اور موٹر سائیکل بھی برآمد کیے جانے کی توقع ہے، جس کے بعد پولیس انہیں میڈیا کے سامنے پیش کرے گی۔ ابتدائی معلومات یہ بھی بتاتی ہیں کہ گرفتار افراد کا مقتول بابر عدیل سے کوئی خاندانی تعلق یا پرانی دشمنی نہیں تھی، جو اس کیس کے ایک اہم پہلو کو واضح کرتا ہے۔
یہ بات بھی سامنے آئی ہے کہ ملزمان نے گرفتاری سے قبل ایک پولیس اہلکار سے گن پوائنٹ پر موٹر سائیکل اور نقدی بھی چھینی، جس کے بعد ان کی گرفتاری ممکن ہوئی اور اسی دوران بابر عدیل قتل کیس میں بھی اہم پیش رفت سامنے آئی۔
ڈی پی او عمران، ڈی ایس بی ٹیم اور اس کیس کے لیے تشکیل دی گئی خصوصی ٹیمیں یقیناً خراجِ تحسین کی مستحق ہیں جنہوں نے مسلسل محنت کے بعد اس پیچیدہ کیس کو اہم مرحلے تک پہنچایا۔
آنے والے 24 گھنٹوں میں مزید حقائق سامنے آنے کی توقع ہے۔ امید کی جا رہی ہے کہ کیس میں مزید کوئی پیچیدگی یا نیا موڑ سامنے نہیں آئے گا اور حقیقت مکمل طور پر واضح ہو جائے گی۔ مزید تفصیلات کے لیے کچھ انتظار ضروری ہے۔