08/07/2021
پریس ریلیز
تنظیم نوجوانان بلوچاں اور ٹکری ایجوکیشن سینٹر کی جانب سے ماری پور میں لاٸبریری کے قیام کے لٸے ماری پور ٹکری فٹبال گراؤنڈ سے کیماڑی ٹاؤن آفس گریکس تک ایک پر امن ریلی نکالی گٸی۔اس پر امن ریلی کا مقصد سندھ حکومت سے مطالبہ کرنا تھا کہ وہ ماری پور میں ایک مرکزی لاٸبریری کا قیام عمل میں لاٸے تاکہ ماری پور کے طالب علم سمیت مختلف طبقہ فکر کے لوگ اس سے مستفید ہوسکیں۔
پر امن ریلی کے شرکاء نے ہاتھوں میں پلے کارڈ اٹھاٸے ہوٸے تھے جس میں لاٸبریری کے قیام کے لٸے اپیل کی گٸی تھی۔
اس ریلی میں کراچی کی معزز شخصیات سمیت بلوچ یکجہتی کمیٹی,لیاری عوامی محاذ اور لیاری لٹریری فورم کے ذمہ داران نے شرکت کی۔
ریلی سے خطاب کرتے ہوٸے شرکاء نے کہا کہ
تنظیم نوجوانان بلوچاں اور ٹکری ایجوکیشن سینٹر کی کاوشوں نے ماری پور کے عوام کو ایک ایسا شعوری پروگرام دیا جس کی وجہ سے آج یہ مجموعہ اکٹھا ہوا اور یہی شعوری لوگوں کا مجموعہ ہماری سب سے بڑی کامیابی ہے۔اور ہم اپنے کامیابی کا تسلسل اس وقت تک آگے بڑھاتے رہینگے جب آپ عوام ہمارے ساتھ ہونگے آپ عوام کا ساتھ ہی ہمیں اپنے مقصد میں کامیاب کرواٸیں گا۔
ماری پور جہاں ضروریات زندگی کی سہولیات نا پید ہے جہاں نہ تعلیم کا کوٸی بہترین نظام ہے اور نہ ہی صحت کا نظام۔ہم پوچھنا چاہتے ہیں کہ زندگی کے دو اہم شعبوں سے ہمیں کیوں محروم کردیا گیا ہے۔
ہم سندھ حکومت سے پوچھنا چاہتے ہیں کہ ماری پور میں کیوں لاٸبریری کا قیام عمل میں نہیں لایا گیا۔
کتاب کا مطالعہ ہی انسان کو مستقبل کے سفر میں کامیاب کرواسکتا ہے۔آٸیں ہم کتاب بینی کے کلچر کو فروغ دیکر ماری پور کے نوجوانوں کی صلاحیتوں کو آشکار کریں۔
ماری پور با صلاحیت لوگوں کی زمین ہے جہاں آپ کو بیش بہا قیمتی ہیرے ملیں گے جو مستقبل میں ماری پور سمیت پورے کراچی کے رہنماٸی کے فراٸض سر انجام دے سکتے ہیں لیکن ان ہیروں کو تراشنے کے لٸے سہولیات کی ضرورت ہے اور یہ سہولیات فراہم کرنا حکومت کی ذمہ داری ہے کیا آپ ہمیں یہ سہولیات فراہم کرسکتے ہیں۔کیا آپ ہمیں موقع فراہم کرنا چاہتے ہیں کہ ہم اپنے مستقبل کو اپنے ہاتھوں میں لیں۔
ماری پور کراچی کا وہ علاقہ ہے جس نے اسپورٹس کے میدان میں سینکڑوں کی تعداد میں گوہر نایاب عطا کٸےجنہوں نے ہر سطح پر ملک و قوم کا نام روشن کیا۔آج اگر آپ ان نوجوانوں کو موقع فراہم کرینگے تو کل یہ تعلیم کے شعبے میں بھی ترقی کرکے قوم کو آگے لے جاٸینگے۔
ہم اسکولز سے محروم ہے۔ہم کالجز سے محروم ہے۔ہم لاٸبریری سے محروم ہے۔ہم صحت کے شعبوں سے محروم ہے۔لیکن ہمیں کیوں محروم رکھا گیا ہے۔ ہمارے علاقے میں گرلز کی لٸے سیکنڈری اسکول نہیں۔ٹکری ولیج میں سیکنڈری اسکول نہیں۔
ماری پور کی آبادی بیس ہزار سے زاٸد ہوگی اور اسکے لٸے صرف ایک غیر فعال بواٸز کالج۔کیا یہ ماری پور کے عوام کے ساتھ انصاف ہے۔
ریلی کے آخر میں وزیر علی نے تمام شرکا کا شکریہ ادا کیا اور ماری پور کے تمام فٹبال کلبز اور سماجی و مذہبی تنظیموں کا شکریہ ادا کیا جبکہ سندھ حکومت سے مطالبہ کیا گیا کہ وہ ماری پور میں لاٸبریری کے قیام کو یقینی بنانے کے لٸے اقدامات کریں۔