Fikr-e-Aam

Fikr-e-Aam السلام علیکم
آگاہی مثبت ہونی چاہیے بھلا ہونا چاہیے دور حاضر کے بے حس لوگو میں شمار نہ ہوں.

13/04/2026

👍🙂

13/04/2026

زین کے شہر میں خاموشی کا بسیرا تھا۔ لوگ سڑکوں پر چلتے پھرتے تو نظر آتے، مگر ان کی آنکھیں مستقل طور پر بند رہتیں۔ یہ ان کی روایت تھی، ان کا عقیدہ تھا۔ ان کا ماننا تھا کہ سچائی اتنی روشن اور اتنی تابناک ہے کہ اسے دیکھنے سے ان کی بینائی مستقل طور پر ختم ہو جائے گی۔
ایک دن، زین کے دل میں ایک انوکھی خواہش جاگی۔ اسے شہر سے باہر کی دنیا دیکھنے کا شوق ہوا۔ وہ اس خاموشی اور اس اندھیرے سے تنگ آ چکا تھا۔ اس نے اپنے دوستوں سے اپنی خواہش کا اظہار کیا، مگر انہوں نے اسے ڈرا کر خاموش کروا دیا۔ انہوں نے کہا کہ باہر کی دنیا خطرناک ہے، وہاں ایسی چیزیں ہیں جو ان کی سمجھ سے باہر ہیں۔
مگر زین کا تجسس اسے چین نہیں لینے دے رہا تھا۔ وہ اکیلا ہی شہر کی سرحدوں کو پار کر گیا۔ اس نے اپنی آنکھیں کھول دیں اور اسے ایسا محسوس ہوا جیسے وہ ایک نئی دنیا میں قدم رکھ رہا ہے۔
اس نے رنگین پھولوں، لہلہاتے درختوں اور بلند و بالا پہاڑوں کو دیکھا۔ اس نے پرندوں کی چہچہاہٹ اور دریا کی روانی کی آوازیں سنیں۔ اسے یہ سب کچھ بہت حیران کن اور دلکش لگا۔
جیسے جیسے وہ آگے بڑھتا گیا، اسے احساس ہوا کہ اس کے شہر کے لوگوں کا عقیدہ غلط تھا۔ سچائی اندھیرا نہیں، بلکہ روشنی تھی۔ اس نے فیصلہ کیا کہ وہ اپنے شہر واپس جائے گا اور لوگوں کو حقیقت بتائے گا۔
جب وہ شہر واپس پہنچا، تو لوگوں نے اسے دیکھتے ہی حیرت کا اظہار کیا۔ انہوں نے اس کی آنکھوں کو کھلا ہوا دیکھا اور ان کے دلوں میں ڈر سما گیا۔ انہوں نے اسے ایک جادوگر اور ایک خطرناک شخص سمجھا۔
زین نے انہیں سچ بتانے کی کوشش کی، مگر انہوں نے اس کی ایک نہ سنی۔ انہوں نے اسے پکڑ کر ایک قید خانے میں ڈال دیا۔
قید خانے میں، زین نے اپنی آنکھیں پھر سے بند کر لیں۔ اسے اپنے شہر کے لوگوں کی حالت پر ترس آ رہا تھا۔ وہ سوچ رہا تھا کہ کس طرح وہ اس جھوٹے عقیدے میں پھنسے ہوئے ہیں اور کس طرح وہ اپنی زندگی کو ایک محدود دائرے میں گزار رہے ہیں۔
کچھ دنوں کے بعد، زین نے ایک فیصلہ کیا۔ اس نے اپنی آنکھیں پھر سے کھول دیں اور قید خانے کی دیواروں پر اپنی انگلیوں سے کچھ لکھنا شروع کیا۔ اس نے لکھا: "سچائی روشن ہے، اور اس کا مشاہدہ کرنا ضروری ہے۔ اگر ہم اپنی آنکھیں بند رکھیں گے، تو کوئی دوسرا ہمارے راستے اور زندگی کو کنٹرول کرے گا۔"
زین کی یہ بات شہر کے لوگوں تک پہنچ گئی۔ کچھ لوگ اس کی باتوں سے متفق ہوئے، جبکہ کچھ لوگ ابھی بھی اس پر شک کر رہے تھے۔ مگر اس کے اس ایک قدم نے شہر کے لوگوں کے دلوں میں ایک نیا بیج بو دیا تھا۔
وقت گزرتا گیا، اور آہستہ آہستہ شہر کے لوگوں کے عقیدے میں تبدیلی آنے لگی۔ انہوں نے اپنی آنکھیں کھولنا شروع کر دیں اور انہوں نے سچائی کا مشاہدہ کیا۔ انہوں نے دیکھا کہ باہر کی دنیا میں کتنی خوبصورتی اور کتنے راز چھپے ہوئے ہیں۔
انہوں نے اپنے شہر کو ایک نئی شکل دی، اور انہوں نے اپنی زندگی کو اپنی مرضی کے مطابق گزارنا شروع کیا۔ زین کا وہ ایک قدم شہر کے لوگوں کے لیے ایک نئی زندگی کا آغاز تھا۔
اس کہانی کا حاصلِ کلام یہ ہے کہ سچائی کو جاننا اور اس کا مشاہدہ کرنا بہت ضروری ہے۔ اگر ہم اپنی آنکھیں بند رکھیں گے، تو ہم جھوٹے عقائد اور غلط نظریات کے جال میں پھنس جائیں گے، اور کوئی دوسرا ہماری زندگی کو اپنے فائدے کے لیے استعمال کرے گا۔ ہمیں اپنے حواس اور عقل کا استعمال کرنا چاہیے اور کسی بھی بات پر آنکھیں بند کر کے یقین کرنے کے بجائے تحقیق کرنی چاہیے۔ تب ہی ہم اپنی زندگی کو اپنی مرضی کے مطابق گزار سکیں گے اور سچی خوشی حاصل کر سکیں گے۔🙂

12/04/2026

🤣😜🙂👍


❤️
12/04/2026

❤️

👍
11/04/2026

👍

06/04/2026

👍😉


06/04/2026

سچائی کا دفاع کریں اور آپ دیکھیں گے

کہ ہر کوئی آپ سے کیسے نفرت کرے گا!!

01/04/2026

👍
28/03/2026

👍

Address

Karachi

Telephone

+923071558668

Website

Alerts

Be the first to know and let us send you an email when Fikr-e-Aam posts news and promotions. Your email address will not be used for any other purpose, and you can unsubscribe at any time.

Contact The Organization

Send a message to Fikr-e-Aam:

Share