Nagar Students Federation - NSF

Nagar Students Federation - NSF The Nagar Students Federation (NSF) is a non-governmental organization (NGO) that was established in 21 July 1969.

It is primarily a students' federation with its own hostel in Karachi. The NSF is one of the largest student federations in Pakistan.

31/07/2026

پورے ضلع نگر کے سرکاری سکولوں کا سیکنڈری لیول کے سالانہ نتائج خاطر خواہ بہترین رہے ۔ صرف ایک سکول کے علاوہ باقی 18 میں سے 17 سکولوں کا مجموعی رزلٹ 100 فیصد رہا ۔ مگر افسوس ہے ابھی تک کسی بھی پلیٹ فارم پر اس اچیومنٹ کی حوصلہ افزائی نہیں کی گئی ۔ تاہم اپنی فطرت سے مجبور کچھ لوگوں کی طرف سے کلاس نہم کی رزلٹ کو لے کر نکتہ چینی ضرور کی گئی ہے ۔ ہماری فطرت من حیث القوم مکھیوں والی ہے ۔ جس طرح مکھیاں سارا صاف جگہ چھوڑ کر گندگی ڈھونڈتی ہیں ویسے ہی کچھ لوگ گندگی ڈھونڈتے رہتے ہیں ۔ ہم یہ بھی نہیں کہتے ہیں کہ تنقید نہ ہو ، جہاں تنقید نہ ہو وہ ادارے جمود کا شکار ہو جاتی ہیں ۔ تنقید اگر اصلاح کی نیت سے ہو تو وہ ہمارے سر آنکھوں پر ، مگر افسوس سے کہنا پڑ رہا ہے لوگ تنقید کے نام پر اپنے دل میں موجود حسد ، کینہ ، بغض اور عناد تنقید کے نام پر نکال دیتے ہیں ۔ سال بھر سرکاری سکولوں میں کیا ہوتا ہے کیا نہیں ہوتا، کوئی ٹیچر ڈیوٹی سے ہمیشہ غیر حاضر تو نہیں رہتا ، بچوں کی طرف سے اساتذہ کو کوئی شکایت تو نہیں ، کیا سکولوں میں تعلیمی سرگرمیاں میرٹ پر چلتی ہیں یا نہیں، سکولوں کو کسی طرح کی کوئی انتظامی مسئلہ درپیش تو نہیں ؟ نہ ان مسائل کے بارے میں کوئی قومی پلیٹ فارم کی طرف سے باز پرس ہوتا ہے نہ ہی عوامی حلقوں کی طرف سے اور نہ والدین کی طرف سے ۔۔۔ بس انتظار میں رہتے ہیں کہ کسی طرح بورڑ رزلٹ خراب آجائے ، اساتذہ کو تماشہ بنائیں گے ۔ افسوس صد افسوس ۔
بس انہیی وجوہات کی وجہ سے ہمارا معاشرہ ترقی کی بجائے تنزلی کا شکار ہے ۔

دعوت نامہعید غدیر اور عید مباہلہ کی مناسبت سے عید ملن تقریب کا انعقاد کیا ہے زمان و مکان کے حساب کے کراچی میں موجود نگر ...
13/06/2026

دعوت نامہ
عید غدیر اور عید مباہلہ کی مناسبت سے عید ملن تقریب کا انعقاد کیا ہے زمان و مکان کے حساب کے کراچی میں موجود نگر کے سیاسی، سماجی و تنظیمی فکر سے وابستہ افراد کو دعوت دی جاتی ہے۔
آج بتاریخ 13-06-2026 رات 9 بجے
بمقام : نیو ویژن اسکول چشتی نگر

10/06/2026
02/06/2026
"اور بھی غم ہیں زمانے میں سیاست کے سوا..."عید کے تیسرے دن وادیٔ نگر کا ایک نوجوان، آنکھوں میں خواب اور دل میں ہزاروں ارم...
29/05/2026

"اور بھی غم ہیں زمانے میں سیاست کے سوا..."
عید کے تیسرے دن وادیٔ نگر کا ایک نوجوان، آنکھوں میں خواب اور دل میں ہزاروں ارمان لیے، وادیٔ حسین کی آغوشِ خاک میں ہمیشہ ہمیشہ کے لیے سو گیا۔
یہ سوچ کر دل کانپ اٹھتا ہے کہ اس کے والدین پر کیا گزری ہوگی۔ اس درد کی شدت کو محسوس کرنا شاید ممکن ہو، مگر اسے الفاظ میں بیان کرنا یقیناً آسان نہیں۔
مرحوم تنویر عباس میرا شاگرد تھا۔ ایک محنتی، خوددار اور باہمت نوجوان، جس نے محدود وسائل اور دشوار حالات کے باوجود اپنی تعلیم کا بوجھ خود اٹھایا۔ کراچی میں وہ ہر وہ جائز محنت کرتا تھا جس سے نہ صرف اپنے تعلیمی اخراجات پورے کر سکے بلکہ اپنے والدین کا سہارا بھی بن سکے۔ لیکن قسمت کو کچھ اور منظور تھا۔ روزگار کی اسی جدوجہد میں الیکٹریشن کا کام کرتے ہوئے اسے کرنٹ لگا اور وہ اس فانی دنیا سے رخصت ہوگیا۔
کیا یہ محض ایک حادثاتی موت ہے؟ میری نظر میں یہ سوال غور طلب ہے۔ جب ایک نوجوان اپنی تعلیم، اپنے خوابوں اور اپنے خاندان کی ذمہ داریوں کا بوجھ اٹھانے کے لیے غیر محفوظ حالات میں زندگی گزارنے پر مجبور ہو، تو ہمیں بحیثیت معاشرہ اپنے کردار اور ذمہ داریوں کا بھی جائزہ لینا چاہیے۔
تنویر عباس اکیلا نہیں تھا۔ نگر کے ایسے ہزاروں نوجوان ہیں جو اپنی تعلیم مکمل کرنے اور اپنے ضعیف و کمزور والدین کا سہارا بننے کے لیے اپنی زندگیاں داؤ پر لگائے ہوئے ہیں۔ وہ روزگار اور تعلیم کی تلاش میں دربدر ٹھوکریں کھا رہے ہیں، مگر بحیثیت قوم اور بحیثیت نگر، ہمارے پاس ایسا مؤثر پلیٹ فارم موجود نہیں جہاں سے ان نوجوانوں کی مالی معاونت، تعلیمی اخراجات یا وظائف کا باقاعدہ انتظام کیا جا سکے۔
کراچی میں نگر کے بچوں کی ایک بڑی تعداد محدود تعلیمی وسائل کے سہارے اپنی تعلیم جاری رکھنے پر مجبور ہے۔ ہزاروں والدین اپنے بچوں کی فیسوں کے لیے مختلف فلاحی اداروں کے دروازے کھٹکھٹاتے ہیں۔ نگر کی مائیں اور بہنیں بچوں کی تعلیم، گھریلو ضروریات اور چھوٹے کاروبار کے لیے امداد کی درخواستیں لے کر کمیونٹی اداروں کے پاس جاتی ہیں۔
آخر اس قوم کا کوئی وارث ہے یا نہیں؟
کیا ہمارے ائمہؑ نے اپنی تعلیمات اور اپنی آخری نصیحتوں میں یتیموں، غریبوں اور کمزور طبقات کا ہاتھ تھامنے پر زور نہیں دیا تھا؟
میں نگر اسٹوڈنٹس فیڈریشن کا ایک سینئر رکن ہوں اور نگر کے مختلف فورمز پر ہمیشہ یہ عرض کرتا آیا ہوں کہ نگر کے وسائل کے اصل حقدار وہ لوگ ہیں جو مالی طور پر کمزور اور وسائل سے محروم ہیں۔ افسوس کے ساتھ کہنا پڑتا ہے کہ ہماری بعض انجمنیں اور ادارے فلاحی کاموں کے بجائے جائیدادوں، پلاٹوں اور عمارتوں کی خرید و فروخت میں زیادہ دلچسپی لیتے دکھائی دیتے ہیں، جبکہ ان کے ثمرات بھی محدود طبقے تک ہی پہنچتے محسوس ہوتے ہیں۔
اپنی زندگی میں میں نے خواتین کی ترقی اور نوجوانوں کی فلاح و بہبود کے لیے کوئی ایسا مؤثر اور منظم پروگرام نہیں دیکھا جو معاشرے میں نمایاں تبدیلی لا سکا ہو۔ نہ ہی کراچی میں موجود نگر کے اجتماعی اثاثوں سے اس پیمانے پر فائدہ اٹھایا گیا جس سے کسی مستحق خاندان کی زندگی بدل سکتی ہو۔
میں ہمیشہ مثبت تنقید، حوصلہ افزائی اور تعمیری سوچ کا حامی رہا ہوں۔ لیکن بحیثیت قوم ہمیں اپنے قبلے کی درستگی کی ضرورت ہے۔
موجودہ انتخابات میں اگر حلقہ 4 اور حلقہ 5 کی سیاست کو دیکھا جائے تو ایسا محسوس ہوتا ہے جیسے ہم نے اپنے خاندان، اپنے پڑوسیوں اور اپنے معاشرے کے تمام حقوق ادا کر دیے ہوں اور اب صرف سیاسی وابستگیوں کے اظہار میں مصروف ہوں۔ کوئی خود کو پٹواری کہتا ہے، کوئی جیالا اور کوئی ٹائیگر، اور دن رات انہی بحثوں میں الجھا ہوا ہے۔
مگر سوال یہ ہے کہ:
نگر فرسٹ کے نعرے کہاں گئے؟
نگر کے حقیقی مسائل پر سنجیدہ گفتگو کیوں نہیں ہو رہی؟
ایسا پلیٹ فارم کہاں ہے جہاں سے مستحق افراد کی عزتِ نفس کے ساتھ مدد کی جا سکے؟
نگر میں بہت سے لوگ ایسے ہیں جو امریکہ، برطانیہ، خلیجی ممالک اور دنیا کے دیگر حصوں میں کامیاب زندگی گزار رہے ہیں۔ بہت سے افراد بے پناہ وسائل اور دولت رکھتے ہیں۔ لیکن جو لوگ وسائل سے محروم ہیں، ان کا پرسانِ حال کوئی نہیں۔ پھر ہم خود کو ائمہؑ کے پیروکار کیسے کہہ سکتے ہیں جبکہ منظم خیرات، فلاح اور سماجی انصاف کے مؤثر نظام کا فقدان ہے؟
میری عاجزانہ گزارش اور دردمندانہ التجا ہے کہ آخر کب تک ہم دوسروں کے سہارے اور غلامیِ فکر میں جیتے رہیں گے؟ کیا اس قوم کے پاس وسائل کی کمی ہے؟ ہرگز نہیں۔ مسئلہ وسائل کی کمی نہیں بلکہ اعتماد، ترجیحات اور منصفانہ تقسیم کا ہے۔
ضرورت اس امر کی ہے کہ ایسے سماجی اور معاشی اصلاحات متعارف کروائی جائیں جن سے ہر فرد کو ترقی کے مساوی مواقع میسر آئیں۔ اللہ تعالیٰ نے ہمیں بہت کچھ عطا کیا ہے، مگر انصاف کے ساتھ تقسیم نہ ہونے کی وجہ سے ایک بڑا طبقہ محرومی کا شکار ہے۔
آج تنویر عباس کی جدائی صرف ایک خاندان کا غم نہیں، بلکہ یہ ہماری اجتماعی بے حسی، ہماری ترجیحات اور ہمارے سماجی نظام پر ایک بڑا سوالیہ نشان ہے۔ اگر ہم نے اب بھی اپنے نوجوانوں، طلبہ، بیواؤں، یتیموں اور مستحق خاندانوں کے لیے مؤثر اقدامات نہ کیے تو شاید کل کسی اور تنویر عباس کی خبر پر بھی ہم چند لمحوں کا افسوس کرکے آگے بڑھ جائیں گے۔
میں دعاگو ہوں کہ ہماری توجہ سیاست کے ساتھ ساتھ تعلیم، فلاح، نوجوانوں کی ترقی، خواتین کے بااختیار بنانے اور مستحق افراد کی مدد کی طرف بھی مبذول ہو، تاکہ ہم ایک منصفانہ، باوقار اور ترقی یافتہ معاشرہ تشکیل دینے میں اپنا کردار ادا کر سکیں۔
اللہ تعالیٰ مرحوم تنویر عباس کو جوارِ رحمت میں اعلیٰ مقام عطا فرمائے، ان کے درجات بلند کرے اور پسماندگان کو صبرِ جمیل عطا فرمائے۔
آمین۔
شکریہ۔

22/05/2026

The Nagar student federation (NSF)
invites you to a thought-provoking study circle on:

Topic:
Your Degree is not the Finish line

📍 Venue: Kashmiri park
📅 Date: 24th May 2026

Come, learn, and enjoy✨







17/05/2026
17/05/2026

Harvard University Free Online Courses

Nagar Students Federation (NSF) Rawalpindi/Islamabad is sharing an opportunity for students to access free certified online courses offered by Harvard University.

Scan the QR code and explore courses in different fields to enhance your skills and academic profile.

Learn from one of the world’s leading universities, completely free.

NSF -Rwp/Isb Nagar Student Federation Gilgit Division NSF KIU Nagar Students Federation - NSF NSF-Senate fans

Address

Karachi

Telephone

+923182131535

Website

Alerts

Be the first to know and let us send you an email when Nagar Students Federation - NSF posts news and promotions. Your email address will not be used for any other purpose, and you can unsubscribe at any time.

Contact The Organization

Send a message to Nagar Students Federation - NSF:

Shortcuts

Share