29/05/2026
"اور بھی غم ہیں زمانے میں سیاست کے سوا..."
عید کے تیسرے دن وادیٔ نگر کا ایک نوجوان، آنکھوں میں خواب اور دل میں ہزاروں ارمان لیے، وادیٔ حسین کی آغوشِ خاک میں ہمیشہ ہمیشہ کے لیے سو گیا۔
یہ سوچ کر دل کانپ اٹھتا ہے کہ اس کے والدین پر کیا گزری ہوگی۔ اس درد کی شدت کو محسوس کرنا شاید ممکن ہو، مگر اسے الفاظ میں بیان کرنا یقیناً آسان نہیں۔
مرحوم تنویر عباس میرا شاگرد تھا۔ ایک محنتی، خوددار اور باہمت نوجوان، جس نے محدود وسائل اور دشوار حالات کے باوجود اپنی تعلیم کا بوجھ خود اٹھایا۔ کراچی میں وہ ہر وہ جائز محنت کرتا تھا جس سے نہ صرف اپنے تعلیمی اخراجات پورے کر سکے بلکہ اپنے والدین کا سہارا بھی بن سکے۔ لیکن قسمت کو کچھ اور منظور تھا۔ روزگار کی اسی جدوجہد میں الیکٹریشن کا کام کرتے ہوئے اسے کرنٹ لگا اور وہ اس فانی دنیا سے رخصت ہوگیا۔
کیا یہ محض ایک حادثاتی موت ہے؟ میری نظر میں یہ سوال غور طلب ہے۔ جب ایک نوجوان اپنی تعلیم، اپنے خوابوں اور اپنے خاندان کی ذمہ داریوں کا بوجھ اٹھانے کے لیے غیر محفوظ حالات میں زندگی گزارنے پر مجبور ہو، تو ہمیں بحیثیت معاشرہ اپنے کردار اور ذمہ داریوں کا بھی جائزہ لینا چاہیے۔
تنویر عباس اکیلا نہیں تھا۔ نگر کے ایسے ہزاروں نوجوان ہیں جو اپنی تعلیم مکمل کرنے اور اپنے ضعیف و کمزور والدین کا سہارا بننے کے لیے اپنی زندگیاں داؤ پر لگائے ہوئے ہیں۔ وہ روزگار اور تعلیم کی تلاش میں دربدر ٹھوکریں کھا رہے ہیں، مگر بحیثیت قوم اور بحیثیت نگر، ہمارے پاس ایسا مؤثر پلیٹ فارم موجود نہیں جہاں سے ان نوجوانوں کی مالی معاونت، تعلیمی اخراجات یا وظائف کا باقاعدہ انتظام کیا جا سکے۔
کراچی میں نگر کے بچوں کی ایک بڑی تعداد محدود تعلیمی وسائل کے سہارے اپنی تعلیم جاری رکھنے پر مجبور ہے۔ ہزاروں والدین اپنے بچوں کی فیسوں کے لیے مختلف فلاحی اداروں کے دروازے کھٹکھٹاتے ہیں۔ نگر کی مائیں اور بہنیں بچوں کی تعلیم، گھریلو ضروریات اور چھوٹے کاروبار کے لیے امداد کی درخواستیں لے کر کمیونٹی اداروں کے پاس جاتی ہیں۔
آخر اس قوم کا کوئی وارث ہے یا نہیں؟
کیا ہمارے ائمہؑ نے اپنی تعلیمات اور اپنی آخری نصیحتوں میں یتیموں، غریبوں اور کمزور طبقات کا ہاتھ تھامنے پر زور نہیں دیا تھا؟
میں نگر اسٹوڈنٹس فیڈریشن کا ایک سینئر رکن ہوں اور نگر کے مختلف فورمز پر ہمیشہ یہ عرض کرتا آیا ہوں کہ نگر کے وسائل کے اصل حقدار وہ لوگ ہیں جو مالی طور پر کمزور اور وسائل سے محروم ہیں۔ افسوس کے ساتھ کہنا پڑتا ہے کہ ہماری بعض انجمنیں اور ادارے فلاحی کاموں کے بجائے جائیدادوں، پلاٹوں اور عمارتوں کی خرید و فروخت میں زیادہ دلچسپی لیتے دکھائی دیتے ہیں، جبکہ ان کے ثمرات بھی محدود طبقے تک ہی پہنچتے محسوس ہوتے ہیں۔
اپنی زندگی میں میں نے خواتین کی ترقی اور نوجوانوں کی فلاح و بہبود کے لیے کوئی ایسا مؤثر اور منظم پروگرام نہیں دیکھا جو معاشرے میں نمایاں تبدیلی لا سکا ہو۔ نہ ہی کراچی میں موجود نگر کے اجتماعی اثاثوں سے اس پیمانے پر فائدہ اٹھایا گیا جس سے کسی مستحق خاندان کی زندگی بدل سکتی ہو۔
میں ہمیشہ مثبت تنقید، حوصلہ افزائی اور تعمیری سوچ کا حامی رہا ہوں۔ لیکن بحیثیت قوم ہمیں اپنے قبلے کی درستگی کی ضرورت ہے۔
موجودہ انتخابات میں اگر حلقہ 4 اور حلقہ 5 کی سیاست کو دیکھا جائے تو ایسا محسوس ہوتا ہے جیسے ہم نے اپنے خاندان، اپنے پڑوسیوں اور اپنے معاشرے کے تمام حقوق ادا کر دیے ہوں اور اب صرف سیاسی وابستگیوں کے اظہار میں مصروف ہوں۔ کوئی خود کو پٹواری کہتا ہے، کوئی جیالا اور کوئی ٹائیگر، اور دن رات انہی بحثوں میں الجھا ہوا ہے۔
مگر سوال یہ ہے کہ:
نگر فرسٹ کے نعرے کہاں گئے؟
نگر کے حقیقی مسائل پر سنجیدہ گفتگو کیوں نہیں ہو رہی؟
ایسا پلیٹ فارم کہاں ہے جہاں سے مستحق افراد کی عزتِ نفس کے ساتھ مدد کی جا سکے؟
نگر میں بہت سے لوگ ایسے ہیں جو امریکہ، برطانیہ، خلیجی ممالک اور دنیا کے دیگر حصوں میں کامیاب زندگی گزار رہے ہیں۔ بہت سے افراد بے پناہ وسائل اور دولت رکھتے ہیں۔ لیکن جو لوگ وسائل سے محروم ہیں، ان کا پرسانِ حال کوئی نہیں۔ پھر ہم خود کو ائمہؑ کے پیروکار کیسے کہہ سکتے ہیں جبکہ منظم خیرات، فلاح اور سماجی انصاف کے مؤثر نظام کا فقدان ہے؟
میری عاجزانہ گزارش اور دردمندانہ التجا ہے کہ آخر کب تک ہم دوسروں کے سہارے اور غلامیِ فکر میں جیتے رہیں گے؟ کیا اس قوم کے پاس وسائل کی کمی ہے؟ ہرگز نہیں۔ مسئلہ وسائل کی کمی نہیں بلکہ اعتماد، ترجیحات اور منصفانہ تقسیم کا ہے۔
ضرورت اس امر کی ہے کہ ایسے سماجی اور معاشی اصلاحات متعارف کروائی جائیں جن سے ہر فرد کو ترقی کے مساوی مواقع میسر آئیں۔ اللہ تعالیٰ نے ہمیں بہت کچھ عطا کیا ہے، مگر انصاف کے ساتھ تقسیم نہ ہونے کی وجہ سے ایک بڑا طبقہ محرومی کا شکار ہے۔
آج تنویر عباس کی جدائی صرف ایک خاندان کا غم نہیں، بلکہ یہ ہماری اجتماعی بے حسی، ہماری ترجیحات اور ہمارے سماجی نظام پر ایک بڑا سوالیہ نشان ہے۔ اگر ہم نے اب بھی اپنے نوجوانوں، طلبہ، بیواؤں، یتیموں اور مستحق خاندانوں کے لیے مؤثر اقدامات نہ کیے تو شاید کل کسی اور تنویر عباس کی خبر پر بھی ہم چند لمحوں کا افسوس کرکے آگے بڑھ جائیں گے۔
میں دعاگو ہوں کہ ہماری توجہ سیاست کے ساتھ ساتھ تعلیم، فلاح، نوجوانوں کی ترقی، خواتین کے بااختیار بنانے اور مستحق افراد کی مدد کی طرف بھی مبذول ہو، تاکہ ہم ایک منصفانہ، باوقار اور ترقی یافتہ معاشرہ تشکیل دینے میں اپنا کردار ادا کر سکیں۔
اللہ تعالیٰ مرحوم تنویر عباس کو جوارِ رحمت میں اعلیٰ مقام عطا فرمائے، ان کے درجات بلند کرے اور پسماندگان کو صبرِ جمیل عطا فرمائے۔
آمین۔
شکریہ۔