Jamia Usmania Sher Sha

Jamia Usmania Sher Sha جامعہ عثمانیہ شیرشاہ دینی و دنیاوی علوم کا معیاری ادارہ. 1980 سے ترویج و اشاعت میں مصروف عمل

حصہ اول حضرت حسین رضی اللہ عنہ کے فضائل و مناقب عَنْ يَعْلَى بْنِ مُرَّةَ رضي الله عنه قَالَ: «خَرَجْنَا مَعَ النَّبِيِّ...
20/06/2026

حصہ اول
حضرت حسین رضی اللہ عنہ کے فضائل و مناقب
عَنْ يَعْلَى بْنِ مُرَّةَ رضي الله عنه قَالَ: «خَرَجْنَا مَعَ النَّبِيِّ ﷺ إِلَى طَعَامٍ دُعِينَا لَهُ، فَإِذَا حُسَيْنٌ يَلْعَبُ فِي السِّكَّةِ، فَتَقَدَّمَ النَّبِيُّ ﷺ أَمَامَ الْقَوْمِ، وَبَسَطَ يَدَيْهِ، فَجَعَلَ الْغُلَامُ يَفِرُّ هَاهُنَا وَهَاهُنَا، وَيُضَاحِكُهُ النَّبِيُّ ﷺ حَتَّى أَخَذَهُ، فَجَعَلَ إِحْدَى يَدَيْهِ تَحْتَ ذَقْنِهِ وَالْأُخْرَى فِي فَأْسِ رَأْسِهِ، فَقَبَّلَهُ، وَقَالَ: حُسَيْنٌ مِنِّي وَأَنَا مِنْ حُسَيْنٍ، أَحَبَّ اللَّهُ مَنْ أَحَبَّ حُسَيْنًا، حُسَيْنٌ سِبْطٌ مِنَ الْأَسْبَاطِ».
(جامع الترمذی، حدیث: 3775۔سنن ابنِ ماجہ حدیث: 144)
ترجمہ
حضرت یعلیٰ بن مُرَّہ رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں: ہم رسول اللہ ﷺ کے ساتھ ایک دعوتِ طعام میں جا رہے تھے۔ راستے میں حضرت حسین رضی اللہ عنہ گلی میں بچوں کے ساتھ کھیل رہے تھے۔ نبی کریم ﷺ لوگوں سے آگے بڑھ گئے اور اپنے دونوں ہاتھ پھیلا دیے۔ حضرت حسین رضی اللہ عنہ اِدھر اُدھر بھاگنے لگے اور رسول اللہ ﷺ ان کے ساتھ ہنسی مذاق کرتے رہے، حتی کہ آپ ﷺ نے انہیں پکڑ لیا۔ پھر ایک ہاتھ ان کی ٹھوڑی کے نیچے اور دوسرا سر کے پیچھے رکھا، انہیں بوسہ دیا اور فرمایا: "حسین مجھ سے ہیں اور میں حسین سے ہوں، اللہ تعالیٰ اس شخص سے محبت فرمائے جو حسین سے محبت کرے، حسین میرے نواسوں میں سے ایک نواسہ ہیں۔"
*اس حدیث کے تحت محدثین و فقہاء نے درج ذیل مسائل و فوائد ذکر کئے ہیں*
1۔ رسول اللہ ﷺ نے اپنے نواسے حضرت حسین رضی اللہ عنہ سے والہانہ محبت کا اظہار کیا باوجود اس کے کہ آپ ﷺ ایک اہم دعوت میں تشریف لے جا رہے تھے، راستے میں حضرت حسین رضی اللہ عنہ کو کھیلتے دیکھ کر رک گئے اور ان کے ساتھ شفقت و محبت کا اظہار فرمایا۔
یہ اس بات کی دلیل ہے کہ بچوں سے محبت کرنا سنتِ نبوی ہے۔
2۔ بچوں کے ساتھ مزاح کرنا اور کھیلنا
رسول اللہ ﷺ نے حضرت حسین رضی اللہ عنہ کو پکڑنے کے لیے ہاتھ پھیلائے، جبکہ وہ اِدھر اُدھر دوڑتے رہے۔ آپ ﷺ مسکراتے اور انہیں خوش کرتے رہے۔
اس سے معلوم ہوا کہ بچوں کے ساتھ جائز تفریح کرنا سنت ہے۔
ان کے ساتھ محبت بھرے انداز میں کھیلنا باعثِ اجر ہے۔
بچوں کی نفسیات کا خیال رکھنا اسلامی تعلیمات کا حصہ ہے۔
3۔ حضرت حسین رضی اللہ عنہ کی عظمت
نبی کریم ﷺ کا فرمان: «حُسَيْنٌ مِنِّي» "حسین مجھ سے ہیں"۔ یعنی نسب، محبت، دین اور اخلاق کے اعتبار سے رسول اللہ ﷺ کے انتہائی قریب ہیں۔
4۔ "وَأَنَا مِنْ حُسَيْنٍ،" کا مطلب ہے کہ حسین رضی اللہ عنہ میری اولاد میں سے ہیں اور میری دعوت اور میرے دین کی سربلندی میں حسین کا عظیم کردار ہوگا۔
ان کی محبت میری محبت ہے اور ان سے دشمنی میری دشمنی ہے۔
5۔ حضرت حسین رضی اللہ عنہ سے محبت کرنے والے کے لیے نبی کریم ﷺ کی دعا
رسول اللہ ﷺ نے فرمایا:
«أَحَبَّ اللَّهُ مَنْ أَحَبَّ حُسَيْنًا»
"اللہ تعالیٰ اس شخص سے محبت فرمائے جو حسین سے محبت کرے۔"
یہ حضرت حسین رضی اللہ عنہ کی عظیم فضیلت ہے کہ ان سے محبت کرنے والے کے لیے اللہ تعالیٰ کی محبت کی دعا فرمائی گئی۔
6۔ اہلِ بیت کی محبت
یہ حدیث اہلِ بیتِ رسول ﷺ سے محبت کی واضح دلیل ہے۔
اہلِ سنت والجماعت کا عقیدہ ہے کہ تمام اہلِ بیتِ اطہار سے محبت واجب ادب اور موجبِ اجر ہے۔
7۔ " سبط کے معنی ہیں: نواسہ
یعنی حضرت حسین رضی اللہ عنہ رسول اللہ ﷺ کے مبارک نواسوں میں سے ایک عظیم نواسے ہیں۔
اللہ تعالیٰ ہمیں اہلِ بیتِ اطہار اور صحابہ کرام کی سچی محبت نصیب فرمائیں۔ آمین۔
4 محرم الحرام 1447ھجری
مطابق 20 جون 2026 بروز
*تحریر*
*مفتی ابو عمار عبد المالک*
نائب رئیس وصدر المدرسین
جامعہ عثمانیہ شیر شاہ کراچی

19/06/2026

٫٫نجومیوں اور چوری کا پتہ بتانے والوں کے پاس جانے والے اپنے ایمان کی فکر کریں،،
نجومیوں، کاہنوں اور جادوگروں کے پاس جانے اور ان کی باتوں پر یقین کرنے کے بارے میں اسلام کی واضح تعلیمات کیا ہیں؟ اس ویڈیو میں قرآن و سنت کی روشنی میں اس اہم مسئلے کی وضاحت کی گئی ہے۔ جانئے کہ قسمت، غیب اور مستقبل کے معاملات میں اسلام کا کیا مؤقف ہے اور ایک مسلمان کو کن عقائد پر قائم رہنا چاہیے۔
ویڈیو کو مکمل دیکھیں، پسند آئے تو لائک کریں، اپنے دوستوں کے ساتھ شیئر کریں اور مزید اسلامی معلوماتی ویڈیوز کے لیے چینل کو سبسکرائب کرنا نہ بھولیں۔

#نجومی
#جادوگر
#کاہن
#عقیدہ





📖 درسِ حدیث | قضائے حاجت کے آداب کا بیانعَنْ الْمُغِيرَةِ بْنِ شُعْبَةَ رضي الله عنه قَالَ: «أَنَّ النَّبِيَّ ﷺ كَانَ إِ...
19/06/2026

📖 درسِ حدیث | قضائے حاجت کے آداب کا بیان
عَنْ الْمُغِيرَةِ بْنِ شُعْبَةَ رضي الله عنه قَالَ: «أَنَّ النَّبِيَّ ﷺ كَانَ إِذَا ذَهَبَ الْمَذْهَبَ أَبْعَدَ» (سنن ابی داود)
اس درسِ حدیث میں نبی کریم ﷺ کے اسوۂ حسنہ کی روشنی میں قضائے حاجت کے اہم آداب بیان کیے گئے ہیں۔ حدیث مبارکہ سے معلوم ہوتا ہے کہ آپ ﷺ حیا، ستر پوشی اور دوسروں کی تکلیف سے بچنے کا خصوصی اہتمام فرماتے تھے۔ اسلامی تعلیمات زندگی کے ہر شعبے میں پاکیزگی، تہذیب اور حسنِ اخلاق کی رہنمائی کرتی ہیں۔
✨ اس درس میں: ✔️ حیا اور ستر پوشی کی اہمیت
✔️ قضائے حاجت کے اسلامی آداب
✔️ دوسروں کی نظروں سے بچنے کی ضرورت
✔️ نبی کریم ﷺ کے اعلیٰ اخلاق و کردار کا بیان
اللہ تعالیٰ ہمیں سنتِ نبوی ﷺ پر عمل کرنے اور اپنی زندگی کو اسلامی تعلیمات کے مطابق ڈھالنے کی توفیق عطا فرمائے۔ آمین۔
📅 3 محرم الحرام 1447ھ مطابق 19 جون 2026ء
🎙️ مفتی ابو عمار عبدالمالک نائب رئیس و صدر المدرسین جامعہ عثمانیہ شیر شاہ کراچی

*حضرت عمر بن خطاب رضی اللہ عنہ کی مختصر مستند مگر جامع سوانح حیات* تحریر:مفتی ابو عمار عبدالمالک نائب رئیس وصدر المدرسین...
18/06/2026

*حضرت عمر بن خطاب رضی اللہ عنہ کی مختصر مستند مگر جامع سوانح حیات*
تحریر:
مفتی ابو عمار عبدالمالک
نائب رئیس وصدر المدرسین
جامعہ عثمانیہ شیر شاہ کراچی
جنہیں حضرت عمر فاروق رضی اللہ عنہ کے نام سے یاد کیا جاتا ہے، اسلام کے دوسرے خلیفہ اور عشرۂ مبشرہ میں شامل جلیل القدر صحابی ہیں۔ آپ کا مکمل نام عمر بن خطاب بن نفیل القرشی العدوی ہے۔ آپ کی ولادت واقعۂ ہجرت سے تقریباً چالیس سال قبل مکہ مکرمہ میں ہوئی۔
نبی کریم ﷺ کی ولادت باسعادت 571 عیسوی (عام الفیل) میں ہوئی، جبکہ حضرت عمر فاروق رضی اللہ عنہ کی ولادت نبی کریم ﷺ کی ولادت کے تقریباً 13 سال بعد 584 عیسوی میں ہوئی۔ اس طرح دونوں کی عمروں میں تقریباً 13 سال کا فرق ہے۔
*حضرت عمر کا قبولِ اسلام نبی کریم ﷺ کی دعا کا ثمر ہے*
ابتداء میں آپ اسلام کے سخت مخالف تھے، لیکن نبوت کے چھٹے سال نبی کریم ﷺ نے دعا فرمائی: اللَّهمَّ أعِزَّ الإسلامَ بأحد العمرين، عمر بن الخطاب وعمرو بن هشام ترجمہ: اے اللہ! ان دو عمروں میں سے ایک کے ذریعے اسلام کو غلبہ اور عزت عطا فرما: عمر بن الخطاب یا عمرو بن ہشام کے ذریعے۔
*حدیث کا پس منظر*
ابتدائے اسلام میں جب مسلمانوں کو مکہ کے کفار کی طرف سے شدید ظلم و ستم کا سامنا تھا، تو نبی کریم ﷺ نے مسلمانوں کی حفاظت اور اسلام کی تقویت کے لئے بدھ کی شام یہ دعا مانگی، اللہ تبارک و تعالی نے نبی کریم ﷺ کی دعا فوری قبول کی، اور حضرت عمر رضی اللہ عنہ دوسرے دن یعنی جمعرات کو اسلام لے آئے۔
*ان دو شخصیات کا انتخاب:*
آپ ﷺ نے قریش کے دو سب سے زیادہ بااثر، طاقتور اور اسلام کے سخت ترین مخالفین میں سے ایک کو چنا۔ عمرو بن ہشام (ابو جہل) اپنی عصبیت اور ظلم میں آگے تھا، جبکہ عمر بن الخطاب اپنی شجاعت، سخت مزاجی اور فیصلہ کن شخصیت کے لیے مشہور تھے۔ *قبولیتِ دعا:* اللہ تعالیٰ نے حضرت عمر بن الخطابؓ کے حق میں اس دعا کو قبول فرمایا۔ حضرت عمرؓ نے اس دعا کے کچھ ہی عرصے بعد اسلام قبول کر لیا۔
*اسلام کے لیے غلبہ:* حضرت عمرؓ کے قبولِ اسلام سے مسلمانوں کو نہ صرف جسمانی اور نفسیاتی تقویت ملی، بلکہ انہوں نے کھلے عام کعبہ میں عبادت کرنے کا اعلان کیا۔ مسلمانوں کی جو جماعت چھپ کر عبادت کرتی تھی، اسے حضرت عمرؓ کی صورت میں ایک نڈر اور طاقتور محافظ مل گیا۔
اسلام قبول کرنے کے بعد اسلام کے عظیم ترین محافظوں اور داعیوں میں شمار ہوئے۔ آپ کے اسلام لانے سے مسلمانوں کو بڑی قوت اور حوصلہ حاصل ہوا۔
*رسول اللہ ﷺ نے آپ کو "فاروق" کا لقب عطا فرمایا*
رسول اللہ ﷺ نے آپ کو "فاروق" کا لقب عطا فرمایا، کیونکہ آپ حق اور باطل میں واضح فرق کرنے والے تھے۔
رسول اللہ ﷺ کے وصال کے بعد آپ نے حضرت ابو بکر صدیق رضی اللہ عنہ کے دورِ خلافت میں اہم خدمات انجام دیں۔
22 جمادی الثانی 13 ہجری
(تقریباً 23 اگست 634ء) کو خلافت سنبھالی، حضرت ابو بکر صدیق رضی اللہ عنہ کے وصال کے بعد آپ مسلمانوں کے دوسرے خلیفہ منتخب ہوئے۔
اور 26 ذوالحجہ 23 ہجری کو زخمی ہوئے اور یکم محرم الحرام 24 ہجری (تقریباً 8 نومبر 644ء) تک منصبِ خلافت کی ذمہ داریاں انجام دیں۔۔
*حضرت عمر رضی اللہ عنہ کی کل مدت خلافت*
اکثر مؤرخین کے مطابق آپ کی مدتِ خلافت: 10 سال، 6 ماہ، 8 دن ہیں۔
*حضرت عمر رضی اللہ عنہ کی خلافت کا کل رقبہ*
آپ کے دورِ خلافت میں اسلامی ریاست کی حدود بے حد وسیع ہوئیں یہاں تک کہ آپ کی خلافت کا کل رقبہ 22 لاکھ مربع میل تک پہنچا۔
*حضرت عمر رضی اللہ عنہ کے دورِ خلافت میں فتح ہونے والے اہم علاقوں کے نام:*

عراق

فارس

خراسان

آذربائیجان

ارمینیہ

جزیرہ

شام

فلسطین

اردن

لبنان

مصر

برقہ

طرابلس

مشہور مفتوحہ شہروں میں:

دمشق،

حمص،

حلب،

مدائن،

نہاوند

اور اسکندریہ

شامل ہیں۔
اور آپ ہی کے دور میں *بیت المقدس* مسلمانوں کے زیرِ نگیں آیا، اور عدل و انصاف کا ایسا نظام قائم ہوا جس کی مثال تاریخ میں کم ملتی ہے۔
*حضرت عمر بن خطاب رضی اللہ عنہ کے دورِ خلافت میں قائم یا منظم کیے جانے والے اہم محکموں کے نام:*

1. محکمۂ بیت المال

2. محکمۂ قضاء (عدالت)

3. محکمۂ فوج (دیوان الجند)

4. محکمۂ مالیات و خراج

5. محکمۂ عشر و زکوٰۃ

6. محکمۂ پولیس (شرطہ)

7. محکمۂ جیل خانہ

8. محکمۂ ڈاک (برید)

9. محکمۂ مردم شماری و اندراجِ دیوان

10. محکمۂ نہریات و آبپاشی

11. محکمۂ بازار و احتساب (حسبہ)

12. محکمۂ اوقاف

یہ وہ اہم انتظامی محکمے ہیں جنہیں حضرت عمر رضی اللہ عنہ نے قائم یا باقاعدہ منظم کیا۔
*حضرت عمر رضی اللہ عنہ کا زہد، تقوی، عدل، شجاعت اور سادگی بے مثل تھی*
حضرت عمر رضی اللہ عنہ زہد، تقویٰ، عدل، شجاعت اور سادگی کا عظیم نمونہ تھے۔ رعایا کے حالات معلوم کرنے کے لیے راتوں کو گشت کرتے اور کمزوروں کی مدد فرماتے تھے۔
23 ہجری میں ایک مجوسی غلام فیروز ابو لؤلؤ کے حملے میں زخمی ہوئے اور چند دن بعد یکم محرم 24 ہجری کو شہادت پائی۔
*حضرت عمر رضی اللہ عنہ کی نماز جنازہ*
آپ کی نماز جنازہ جلیل القدر صحابی حضرت صہیب رومی رضی اللہ عنہ نے پڑھائی۔
*رسول اللہ ﷺ کے پہلو میں دفن ہونے کے لئے دو بار اجازت مانگنا*
حضرت ابن عمر رضی اللہ عنہما کو حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا کے پاس بھیج کر کے ان سے نبی کریم ﷺ کے پہلو میں دفن ہونے کی اجازت چاہی تو انہوں نے اجازت دے دی، لیکن حضرت عمر نے ابن عمر سے فرمایا کہ میرے مرنے کے بعد تدفین سے پہلے دوبارہ اجازت لینا، لہٰذا جب ان کا جنازہ ان کے حجرہ کے قریب پہنچا حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا سے دوبارہ اجازت لی گئی تو انہوں نے دوبارہ بھی بخوشی اجازت دے دی۔
اس طرح آپ کو مسجد نبوی ﷺ میں رسول اللہ ﷺ اور حضرت ابوبکر صدیق رضی اللہ عنہ کے پہلو میں دفن کیا گیا۔
رضی اللہ عنہ و أرضاہ۔
2 محرم الحرام 1447ھجری
مطابق 18 جون 2026 بروز جمعرات

17/06/2026

٫٫حضرت عمر بن خطاب رضی اللہ عنہ کی مختصر مگر جامع سوانح حیات،،
حضرت عمر بن خطاب رضی اللہ عنہ اسلام کی تاریخ کی ایک عظیم اور درخشاں شخصیت ہیں۔ آپ کی زندگی عدل، تقویٰ، حکمت، شجاعت اور خدمتِ دین کا بے مثال نمونہ ہے۔ اس ویڈیو میں حضرت عمر فاروق رضی اللہ عنہ کی مختصر مگر جامع سوانح حیات پیش کی گئی ہے، جس میں آپ کے قبولِ اسلام، خلافت، فتوحات، اصلاحات، عدل و انصاف اور امتِ مسلمہ کے لیے آپ کی عظیم خدمات کا تذکرہ کیا گیا ہے۔
یہ ویڈیو طلبہ، اساتذہ، خطباء اور سیرتِ صحابہ رضی اللہ عنہم سے محبت رکھنے والے تمام افراد کے لیے نہایت مفید ہے۔
تحریر: مفتی ابو عمار عبدالمالک
نائب رئیس و صدر المدرسین
جامعہ عثمانیہ شیر شاہ کراچی
Topics Covered: • حضرت عمر بن خطاب رضی اللہ عنہ کا تعارف
• قبولِ اسلام کا واقعہ
• دورِ خلافت کی نمایاں خدمات
• عظیم فتوحاتِ اسلامیہ
• عدل و انصاف کے روشن واقعات
• امتِ مسلمہ کے لیے اصلاحی اقدامات
• شہادت اور فضائل
Hashtags: #اسلام

*سانحۂ ارتحال* انا للہ وانا الیہ راجعون رات کو بیٹھے ہوئے تھے کہ گروپ میں خبر آئی کہ حضرت مولانا عبدالرحمن باوا صاحب دام...
17/06/2026

*سانحۂ ارتحال*
انا للہ وانا الیہ راجعون
رات کو بیٹھے ہوئے تھے کہ گروپ میں خبر آئی کہ حضرت مولانا عبدالرحمن باوا صاحب دامت برکاتہم العالیہ سے نور اللہ مرقدہ ہو گئے ہیں یہ خبر دل پر بجلی بن کے گری۔
اللہ تبارک و تعالی ان کی مغفرت فرمائیں اور انہیں جنت الفردوس میں اعلی مقام عطا فرمائیں۔
حضرت مولانا سہیل بابا صاحب دامت برکاتہم العالیہ
ہمارے ہم سبق ہم درس اور ہر دل عزیز ساتھی ہیں،
ان سے رابطہ رہتا ہے گزشتہ سال جب اپنے والد ماجد نور اللہ مرقدہ کے ساتھ کراچی تشریف لائے،
تو اس بندہ ناچیز کو بھی یاد کیا اور مجھے کہا کہ آپ اپنی کتابیں بھی ساتھ لیتے آ ئیں۔
میں اپنی کتابیں لے گیا تسہیل الآثار
الدر المنضود جدید
نوادر الحقائق کی ایک ایک جلد ساتھ لے گیا تھا انہوں نے کہا:
نہیں مجھے مکمل سیٹ چاہئیں پھر میں نے تینوں کتابوں کے سیٹ ان کو بھجوائے۔
ان کے والد ماجد بھی اس وقت ان ساتھ تھے ان سے تعارف کرایا۔
ہماری ملاقات ہوئی انتہائی سادہ طبیعت اور نفیس مزاج کے مالک مزاج میں بڑی انکساری تھی، ایک گھنٹہ کے قریب بیٹھے کچھ انہوں نے اپنی زندگی کی کارگزاری سنائی، ختم نبوت سے وابستہ رہ کر کے جو خدمات سرانجام دی اس کے متعلق کچھ ہم ساتھیوں نے سوال کیا تو اس کے متعلق انہوں نے کچھ تفصیلات ہم لوگوں کو آگاہ کیا،
بات چیت کے دوران کوئی تصنع کوئی بناوٹ نہیں تھی، بزرگوں کی صحبت میں رہنے کی وجہ سے اور ان کے ساتھ مسلسل رہنے کی وجہ سے ان کے رنگ میں رنگ گئے تھے۔
امیر اہل سنت حضرت مولانا مفتی احمد الرحمن صاحب نور اللہ مرقدہ، اور حکیم العصر حضرت مولانا محمد یوسف لدھیانوی شہید رحمت اللہ علیہ جیسی ہستیوں کے ساتھ رہنے کی وجہ سے مزاج میں بہت عاجزی تھی اور منکسر المزاج تھے۔
حضرت مولانا عبدالرحمن بابا صاحب ان بزرگوں میں سے تھے جو فنا فی اللہ ہوتے ہیں اللہ تبارک و تعالی ان کو اپنی جوار رحمت میں جگہ عطا فرمائیں، اور ان کی پوری زندگی ختم نبوت کے کام میں گزری، دو تین دن پہلے حضرت مولانا سہیل بابا صاحب نے ایک تصویر بھیجی کہ وہ بستر مرگ پر لیٹے تحفہ قادیانیت کا مطالعہ کر رہے تھے تو مجھے اس سے دارالعلوم دیوبند کا وہ واقعہ یاد آگیا کہ ایک بار دارالعلوم دیوبند میں خبر پھیل گئی کہ حضرت علامہ انور شاہ کشمیری رحمۃ اللہ علیہ کا انتقال ہو گیا ہے تو علامہ شبیر احمد عثمانی اور دوسرے حضرات ان کے گھر کی طرف بھاگے جب وہاں پہنچے تو حضرت بیٹھے ایک تپائی پر کتاب رکھے مطالعہ کر رہے ہیں۔
باقی تو خاموش رہے کسی کی ہمت نہیں ہوئی، البتہ حضرت علامہ شبیر احمد عثمانی رحمت اللہ علیہ نے ہمت کر کے عرض کیا حضرت کون سا ایسا مسئلہ رہ گیا ہے جو آپ سے حل نہیں ہوا تو حضرت نے ہلکا سا چشمہ نیچے کیا اور ان کی طرف دیکھا تھوڑی دیر خاموش رہنے کے بعد فرمایا میاں یہ بھی تو ایک روگ ہے یعنی کتاب پڑھنا یہ خود ایک نہ چھوٹنے والی عادت ہے کہ جس انسان کو یہ عادت لگ جائے وہ پھر چھوٹے نہیں چھوٹتی۔
بس اسی طرح حضرت مولانا عبدالرحمن باوا صاحب کو اللہ تبارک و تعالی نے یہ تڑپ عطا فرمائی تھی کہ وہ ہر وقت تحفظ ختم نبوت کا ذکر عطا فرماتے رہتے تھے اور ہمہ وقت اسی فکر میں رہتے تھے، سوتے، اٹھتے، بیٹھتے جب بھی تذکرہ ہوتا جہاں بھی تذکرہ ہوتا تو اسی کا تذکرہ ہوتا اس کے علاوہ کوئی بات ان کے دل و دماغ میں، ان کی مجلس میں نہیں ہوتی تھی۔
اللہ تبارک و تعالی یہ فکر ہمیں بھی عطا فرمائیں۔
ہم اپنے ساتھی، اپنے بھائی مولانا سہیل بابا صاحب دامت برکاتہم العالیہ کی اس غم میں برابر کے شریک ہیں اور دعا گو ہیں کہ اللہ تبارک و تعالی ان کے والد ماجد کی مغفرت فرمائیں اور انہیں اپنے جوار رحمت میں جگہ عطا فرمائیں اور تمام لواحقین کو صبر جمیل عطا فرمائیں۔
شریک غم آپ کا بھائی
ابو عمار عبدالمالک
جامعہ عثمانیہ شیر شاہ کراچی

معاملات میں اور غلطیوں پر تنبیہ میں سیرتِ طیبہ کو اپنائیں۔خدا را لوگوں کو مساجد اور دین سے دور کرنے کا باعث نہ بنیں۔اپنے...
15/06/2026

معاملات میں اور غلطیوں پر تنبیہ میں سیرتِ طیبہ کو اپنائیں۔
خدا را لوگوں کو مساجد اور دین سے دور کرنے کا باعث نہ بنیں۔
اپنے معاملات میں سیرتِ طیبہ ﷺ کو اپنانا ہی کامیابی، سکون اور نجات کا راستہ ہے۔ نبی کریم ﷺ نے ہر معاملے میں اعتدال، حکمت، نرمی اور حسنِ اخلاق کی تعلیم دی۔ اسی طرح کسی کی غلطی پر تنبیہ کرتے وقت بھی سختی، تحقیر اور بے جا تنقید کے بجائے خیرخواہی، حکمت اور نرمی کو اختیار کرنا چاہیے۔
اللہ تعالیٰ ہمیں سیرتِ طیبہ ﷺ پر عمل کرنے، اپنے اخلاق کو سنوارنے اور دوسروں کی اصلاح حکمت و اعتدال کے ساتھ کرنے کی توفیق عطا فرمائے۔ آمین۔
ﷺ #اصلاح #نصیحت

اپنے معاملات میں سیرتِ طیبہ ﷺ کو اپنانا ہی کامیابی، سکون اور نجات ک...

*فضائل و مناقب حضرت عمر بن خطاب رضی اللہ عنہ* *تحریر:*  *مفتی ابو عمار عبدالمالک*  *نائب رئیس جامعہ عثمانیہ شیر شاہ کراچ...
15/06/2026

*فضائل و مناقب حضرت عمر بن خطاب رضی اللہ عنہ*
*تحریر:*
*مفتی ابو عمار عبدالمالک*
*نائب رئیس جامعہ عثمانیہ شیر شاہ کراچی*
حضرت عمر بن خطاب رضی اللہ عنہ کے فضائل بے شمار احادیث میں وارد ہوئے ہیں۔ محدثین نے ان کے مناقب پر مستقل ابواب قائم کیے ہیں، خصوصاً امام بخاری، امام مسلم اور امام ترمذی رحمۃ اللہ علیہم اور دیگر محدثین نے اپنی اپنی کتابوں میں انہیں ذکر کیا ہے۔
البتہ ان کے فضائل کی کوئی متعین تعداد نہیں کہ کہا جائے کہ صرف اتنے ہی فضائل احادیث میں آئے ہیں، کیونکہ مختلف اسناد اور متعدد روایات میں ان کے مناقب مذکور ہیں۔ علماء نے درجنوں فضائل جمع کیے ہیں۔ ذیل میں چند مشہور اور صحیح احادیث سے ان کے فضائل و مناقب پیش خدمت ہیں۔
*پہلی فضیلت*
*شیطان کا حضرت عمرؓ سے راستہ بدل لینا*
عَنْ سَعْدِ بْنِ أَبِي وَقَّاصٍ رضي الله عنه أَنَّ النَّبِيَّ ﷺ قَالَ: «وَالَّذِي نَفْسِي بِيَدِهِ، مَا لَقِيَكَ الشَّيْطَانُ سَالِكًا فَجًّا قَطُّ إِلَّا سَلَكَ فَجًّا غَيْرَ فَجِّكَ»
ترجمہ: اس ذات کی قسم جس کے ہاتھ میں میری جان ہے! شیطان جب بھی تمہیں کسی راستے پر چلتے دیکھتا ہے تو تمہارے راستے کے علاوہ دوسرا راستہ اختیار کر لیتا ہے۔
(بخاری، مسلم)
*دوسری فضیلت۔*
*حضرت عمرؓ کی موافقتِ وحی*
عَنْ أَنَسٍ رضي الله عنه قَالَ:
قَالَ عُمَرُ: وَافَقْتُ رَبِّي فِي ثَلَاثٍ...
پھر مقامِ ابراہیم کو مصلیٰ بنانے، پردے کے حکم اور ازواجِ مطہرات کے متعلق آیات کے نزول کا ذکر فرمایا۔
(بخاری، مسلم)
محدثین اور مفسرین نے 20 ایسے مواقع ذکر کئے ہیں جن میں وحی ان کے رائے کے موافق نازل ہوئی۔
علامہ جلال الدین سیوطی رحمۃ اللہ علیہ نے تاریخ الخلفاء میں 20 ایسے مقامات ذکر کئے ہیں جس میں اللہ اور اللہ کے رسول ﷺ نے ان کی موافقت فرمائ ہے۔
ان میں سے چند یہ ہیں۔
*مقامِ ابراہیمؓ:*
آپؓ نے بارگاہِ رسالت ﷺ میں عرض کیا کہ کیا ہم مقامِ ابراہیم کو جائے نماز (مقامِ صلاۃ) بنا لیں؟ جس پر یہ آیت نازل ہوئی: ﴿وَاتَّخِذُوا مِنْ مَقَامِ إِبْرَاهِيمَ مُصَلًّى﴾۔
*حجاب (پردہ):*
حضرت عمرؓ نے حضور ﷺ سے عرض کی کہ یا رسول اللہ! آپؐ کی ازواجِ مطہرات کے پاس نیک و بد ہر قسم کے لوگ آتے ہیں، اگر آپؐ انہیں پردے کا حکم دیں تو بہتر ہوگا۔ اس پر آیتِ حجاب نازل ہوئی۔
*قیدیانِ بدر:*
جنگِ بدر کے قیدیوں کے بارے میں حضرت عمرؓ کی رائے انہیں قتل کرنے کی تھی جبکہ دوسرے صحابہؓ فدیہ لینے کے حق میں تھے۔ بعد ازاں موافقِ عمر میں آیت نازل ہوئی۔
*شراب کی حرمت:*
جب شراب کے بارے میں ابتدائی احکامات آئے تو حضرت عمرؓ نے دعا کی: اللَّهُمَّ بَيِّنْ لَنَا فِي الْخَمْرِ بَيَانًا شِفَاءً، (یا اللہ! ہمارے لیے شراب کے بارے میں شافی بیان نازل فرما)۔ جس کے بعد قطعی حرمت کی آیات نازل ہوئیں۔
*عبداللہ بن اُبی کی نمازِ جنازہ:*
جب منافقین کے سردار کا انتقال ہوا تو نبی کریم ﷺ نے جنازہ پڑھانا چاہا، حضرت عمرؓ نے روکا۔ بعد میں منع کرنے والی آیت نازل ہوئی۔
*تیسری فضیلت۔*
*اگر میرے بعد کوئی نبی ہوتا*
عَنْ عُقْبَةَ بْنِ عَامِرٍ رضي الله عنه أَنَّ النَّبِيَّ ﷺ قَالَ: «لَوْ كَانَ بَعْدِي نَبِيٌّ لَكَانَ عُمَرُ بْنُ الْخَطَّابِ»
ترجمہ: اگر میرے بعد کوئی نبی ہوتا تو عمر بن خطاب ہوتے۔ (ترمذی)
*چوتھی فضیلت۔*
*زبان نبوت سے حضرت عمر و عثمان رضی اللہ عنہما کو شہادت کی خوشخبری*
عَنْ أَنَسِ بْنِ مَالِكٍ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ، أَنَّ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ صَعِدَ أُحُدًا، وَأَبُو بَكْرٍ، وَعُمَرُ، وَعُثْمَانُ، فَرَجَفَ بِهِمْ، فَقَالَ: اثْبُتْ أُحُدُ فَإِنَّمَا عَلَيْكَ نَبِيٌّ، وَصِدِّيقٌ، وَشَهِيدَانِ
صحيح البخارى حدیث 3675
ترجمہ: حضرت انس رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی کریم ﷺ حضرت ابوبکر، حضرت عمر، حضرت عثمان احد پہاڑ پر چڑھے تو وہ ہلنے لگا، آپ ﷺ نے اپنا پاؤں مبارک اس پر مارا اور فرمایا احد تھم جا، تیرے اوپر ایک نبی ہے، ایک صدیق ہے، اور دو شہید ہیں۔
*پانچویں فضیلت*
*جنت میں حضرت عمرؓ کا محل*
عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ رضي الله عنه أَنَّ النَّبِيَّ ﷺ قَالَ: «بَيْنَا أَنَا نَائِمٌ رَأَيْتُنِي فِي الْجَنَّةِ، فَإِذَا امْرَأَةٌ تَتَوَضَّأُ إِلَى جَانِبِ قَصْرٍ، فَقُلْتُ: لِمَنْ هَذَا الْقَصْرُ؟ قَالُوا: لِعُمَرَ»
(بخاری، مسلم)
ترجمہ: "نبی کریم ﷺ نے فرمایا: '(خواب میں) سویا ہوا تھا کہ میں نے خود کو جنت میں دیکھا۔ اچانک میری نظر ایک محل کے پاس وضو کرتی ہوئی ایک عورت پر پڑی۔ میں نے پوچھا: یہ محل کس کا ہے؟ فرشتوں نے جواب دیا: یہ عمر کا ہے۔'"
*چھٹی فضیلت۔*
*حضرت حضرت عمرؓ عشرہ مبشرہ میں سے ہیں*
عن عبد الرحمن بن عوف قال: قال رسول الله ﷺ أَبُو بَكْرٍ فِي الجَنَّةِ، وَعُمَرُ فِي الجَنَّةِ، وَعُثْمَانُ فِي الجَنَّةِ، وَعَلِيٌّ فِي الجَنَّةِ، وَطَلْحَةُ فِي الجَنَّةِ، وَالزُّبَيْرُ فِي الجَنَّةِ، وَعَبْدُ الرَّحْمَنِ بْنُ عَوْفٍ فِي الجَنَّةِ، وَسَعْدُ بْنُ أَبِي وَقَّاصٍ فِي الجَنَّةِ، وَسَعِيدُ بْنُ زَيْدٍ فِي الجَنَّةِ، وَأَبُو عُبَيْدَةَ بْنُ الجَرَّاحِ فِي الجَنَّةِ.
سنن الترمذي حدیث 3748
*ترجمہ:* حضرت عبدالرحمن بن عوف رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺ نے ارشاد فرمایا: ”دس آدمی جنتی ہیں، ابوبکر جنتی ہیں، عمر جنتی ہیں عثمان، علی، طلحہ، زبیر، عبدالرحمٰن، سعد بن ابی وقاص، سعید بن زید اور ابوعبیدہ جنتی ہیں۔
*اس حدیث کے ذیل میں محدثین نے درج ذیل مسائل و فوائد ذکر کیے ہیں۔*
عشرہ کا معنی ہے دس، اور مبشرہ کا مطلب ہے جنہیں خوشخبری سنیں گے یعنی وہ خوش قسمت صحابہ کرام جنہیں نبی کریم ﷺ کی زبانی ایک ہی مجلس میں جنتی ہونے کی خوشخبری سنائی گئی۔
*ساتویں فضیلت*
*حضرت عمرؓ کو خواب میں دودھ پلایا جانا*
عَنْ ابْنِ عُمَرَ رضي الله عنهما: أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم قَالَ: ‏«بَيْنَا أَنَا نَائِمٌ أُتِيتُ بِقَدَحِ لَبَنٍ فَشَرِبْتُ حَتَّى إِنِّي لَأَرَى الرِّيَّ يَخْرُجُ فِي أَظْفَارِي، ثُمَّ أَعْطَيْتُ فَضْلِي عُمَرَ بْنَ الْخَطَّابِ"‏‏.‏ قَالُوا: فَمَا أَوَّلْتَهُ يَا رَسُولَ اللَّهِ؟ قَالَ: «الْعِلْمَ»
حضرت عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: "میں نے خواب میں دیکھا کہ میرے پاس دودھ کا ایک پیالہ لایا گیا، میں نے اس میں سے پیا (اور اتنا سیر ہو کر پیا) یہاں تک کہ میں نے تروتازگی کو اپنے ناخنوں سے نکلتے ہوئے محسوس کیا۔ پھر میں نے اپنا بچا ہوا (دودھ) عمر بن خطاب کو دے دیا۔"صحابہ کرام نے عرض کیا: یا رسول اللہ! آپ ﷺ نے اس کی کیا تعبیر لی ہے؟ آپ ﷺ نے فرمایا: "(اس سے مراد) علم ہے۔" (بخاری، مسلم)
*اس حدیث سے حاصل ہونے والے فوائد*
(1) یہ حدیث حضرت عمرؓ کے علم کی فراوانی، دینی بصیرت اور حق پرستی کی واضح دلیل ہے۔
(2) یہی وجہ ہے کہ نبی کریم ﷺ کے بعد صحابہؓ میں حضرت عمرؓ کا علم اور فہم میں بہت بلند مقام تھا۔
*آٹھویں فضیلت*
*حق عمرؓ کی زبان اور دل پر جاری ہے*
عَنْ ابْنِ عُمَرَ رضي الله عنهما:
«إِنَّ اللَّهَ جَعَلَ الْحَقَّ عَلَى لِسَانِ عُمَرَ وَقَلْبِهِ» (ترمذی)
"یقیناً اللہ تعالیٰ نے حق کو عمر کی زبان اور ان کے دل پر جاری کر دیا ہے۔"
*فائدہ:* یہ حدیث حضرت عمر فاروق رضی اللہ عنہ کی حق گوئی اور ان کے الہام کی صداقت واضح دلیل ہے۔
*نویں فضیلت۔*
*حضرت عمرؓ کی قوتِ ایمانی*
نبی ﷺ نے خواب میں لوگوں کو قمیصوں میں دیکھا اور عمرؓ کی قمیص زمین پر گھسٹ رہی تھی، نبی کریم ﷺ فرمایا: «الدِّينُ» یعنی یہ دین میں پختگی کی علامت تھی۔ (بخاری، مسلم)
*دسویں فضیلت*
*حضرت ابو بکرؓ کے بعد سب سے افضل حضرت عمرؓ ہیں*
أن ابن عمر قال: «كُنَّا نَقُولُ وَرَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ حَيٌّ: أَفْضَلُ أُمَّةِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ بَعْدَهُ أَبُو بَكْرٍ، ثُمَّ عُمَرُ، ثُمَّ عُثْمَانُ»
سنن أبی داؤد حدیث 4628
*ترجمہ:* ہم جبکہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم باحیات تھے تب بھی یہ کہا کرتے تھے کہ آپﷺ کے بعد اس امت میں سب سے افضل ابوبکر ہیں، پھر عمر ہیں، پھر عثمان ہیں۔
*اس حدیث کے ذیل میں فقہاء نے درج ذیل مسائل و فوائد ذکر کیے ہیں۔*
(1) اس حدیث سے امتِ مسلمہ کا بنیادی عقیدہ "افضلیتِ ثلاثہ" اور "خلافتِ راشدہ کی ترتیب" ثابت ہوتی ہے، جس پر جمہور صحابہ و تابعین اور امتِ مسلمہ کا اجماع ہے۔
(2) انبیاءِ کرام اور رُسلِ عظام علیہم الصلاۃ والسلام کے بعد کائنات کی سب سے افضل ہستی حضرت ابوبکر صدیق رضی اللہ عنہ ہیں، ان کے بعد دوسرے نمبر پر افضل ترین ہستی حضرت عمر فاروق رضی اللہ عنہ ہیں، ان کے بعد تیسرے نمبر پر افضل ترین ہستی حضرت عثمان غنی رضی اللہ عنہ ہیں۔
(3) صحابہ کرام کا نبی کریم ﷺ کی حیاتِ طیبہ میں اس بات پر متفق ہونا اور اس کا برملا اظہار کرنا، اس عقیدے کی حقانیت اور ان بزرگ ہستیوں کی عظمت کا ایک واضح ثبوت ہے۔
*اسی سلسلے کی دوسری حدیث*
عَنْ مُحَمَّدِ ابْنِ الْحَنَفِيَّةِ، قَالَ:" قُلْتُ لِأَبِي أَيُّ النَّاسِ خَيْرٌ بَعْدَ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ؟ قَالَ: أَبُو بَكْرٍ، قَالَ: قُلْتُ: ثُمَّ مَنْ؟ قَالَ: ثُمَّ عُمَرُ، قَالَ: ثُمَّ خَشِيتُ أَنْ أَقُولَ: ثُمَّ مَنْ؟ فَيَقُولَ: عُثْمَانُ، فَقُلْتُ: ثُمَّ أَنْتَ يَا أَبَةِ، قَالَ: مَا أَنَا إِلَّا رَجُلٌ مِنَ الْمُسْلِمِينَ".
سنن أبی داؤد حدیث 4629
*ترجمہ:* محمد بن حنفیہ کہتے ہیں کہ میں نے اپنے والد علی بن ابی طالب رضی اللہ عنہ سے پوچھا: رسول اللہ ﷺ کے بعد لوگوں میں سب سے بہتر کون تھا؟ انہوں نے کہا: ابوبکر رضی اللہ عنہ، میں نے کہا: پھر کون؟ پھر عمر رضی اللہ عنہ، پھر مجھے مجھے اندیشہ ہوا کہ میں نے پوچھ لیا کہ پھر کون؟ تو وہ کہیں گے عثمان رضی اللہ عنہ، چنانچہ میں نے کہا: پھر آپ؟ اے ابا جان! وہ بولے: میں تو مسلمانوں میں کا صرف ایک فرد ہوں۔
*اس حدیث کے ذیل میں فقہاء نے درج ذیل مسائل و فوائد ذکر کیے ہیں۔*
(1) اہل بیت کے افراد بھی اپنے طور پرحضرت ابوبکر اور حضرت عمر اور حضرت عثمان رضی اللہ عنہم کی افضلیت اور مسلمانوں میں ان کی شہرت سے بخوبی آگاہ تھےاور اقراری بھی جیسے کہ اس روایت میں سیدنا حضرت علی رضی اللہ عنہ نے صراحت سے فرمایا۔
(2) حضرت علی رضی اللہ عنہ ایک متواضع شخصیت تھے۔
ان میں تکبر اور تعلی نہیں تھی۔
(3) تمام فقہاء کا اس بات پر بھی اتفاق ہے کہ خلفاء ثلاثہ کے بعد مقام و مرتبہ کے اعتبار سے حضرت علی ہی ہیں
(4) تفضیل صحابہ کے حوالے سے فطری طور پر لوگوں میں ایک احساس موجود تھا۔
لیکن اس پر اس وقت کوئی جھگڑا کوئی بحث موجود نہ تھی۔ بعد میں فتنہ پروازوں نے اپنے مقاصد کے حصول اور مسلمانوں میں تفرقہ اور جدال پیدا کرنے کے لیے اس اجماعی عقیدے کو ایک اہم نزاعی موضوع بنالیا۔
*گیارہویں فضیلت*
*حضرت ابوبکر وعمر رضی اللہ عنہما بوڑھے جنتوں کے سردار ہیں*
چنانچہ حضرت علی رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں (كُنتُ عندَ النَّبيِّ صلَّى اللهُ عليه وسلَّمَ، فأقبلَ أبو بَكرٍ وعُمَرُ رضِيَ اللهُ عنهما فقال: يا عليُّ، هذانِ سيِّدا كُهولِ أهلِ الجَنَّةِ منَ الأوَّلينَ والآخِرينَ، ما خلا النَّبيِّينَ والمُرسَلينَ). میں نبی کریم ﷺ کے پاس بیٹھا ہوا تھا اور حضرت ابوبکر اور عمر آئے نبی کریم ﷺ نے فرمایا یہ دونوں انبیاء اور رسولوں کے علاوہ تمام پہلے اور بعد والے بوڑھوں کے سردار ہیں۔ أخرجه الطحاوي في شرح مشكل الآثار حدیث 1964، والترمذي (3665)، وابن ماجه (95)، وابن أبي شيبة (34109)۔ اس حدیث کی تخریج میں اتنی کتابوں کے حوالے اس لیے دیے ہیں کیونکہ اکثر لوگ کو اس حدیث کا پتہ نہیں ہے۔
*بارویں فضیلت۔*
*حضرت ابوبکر اور عمر رضی اللہ عنہما کے بلند مقام اور حضرت عثمان کے حیاء کا ذکر*
رسول اللہ ﷺ ایک حالت میں تشریف فرما تھے، حضرت ابوبکرؓ نے اجازت طلب کی تو آپ ﷺ نے اسی حالت میں اجازت دے دی، پھر حضرت عمرؓ نے اجازت مانگی تو انہیں بھی اسی حالت میں آنے کی اجازت دی، لیکن جب حضرت عثمانؓ نے اجازت چاہی تو آپ ﷺ نے اپنے کپڑے درست فرمائے اور پھر انہیں اندر آنے کی اجازت دی۔ بعد میں آپ ﷺ نے فرمایا: «أَلَا أَسْتَحْيِي مِنْ رَجُلٍ تَسْتَحْيِي مِنْهُ الْمَلَائِكَةُ» "کیا میں ایسے شخص سے حیا نہ کروں جس سے فرشتے بھی حیا کرتے ہیں؟" (صحیح مسلم حدیث 6209)
*اس حدیث کے ذیل میں فقہاء نے درج ذیل مسائل و فوائد ذکر کیے ہیں۔*
اس حدیث کا اصل مقصد حضرت عثمانؓ کی غیر معمولی صفتِ حیا کو بیان کرنا ہے، لیکن اس کے ضمن میں حضرت ابوبکرؓ اور حضرت عمرؓ کی بھی کئی فضیلتیں معلوم ہوتی ہیں:
*1۔ حضرت ابوبکرؓ اور حضرت عمرؓ کا رسول اللہ ﷺ کے ساتھ خصوصی قرب*
آپ ﷺ نے حضرت ابوبکرؓ اور حضرت عمرؓ کو اسی حالت میں آنے کی اجازت مرحمت فرمائی۔ اس سے معلوم ہوتا ہے کہ یہ دونوں حضرات آپ ﷺ کے نہایت مقرب، معتمد اور رازدار صحابہ میں سے تھے۔
ان کا مقام ایسا تھا کہ آپ ﷺ کے ساتھ ان کے تعلق میں تکلف اور اجنبیت نہیں تھی، بلکہ گھر کے افراد جیسا قرب تھا۔
*2۔ ان دونوں پر رسول اللہ ﷺ کا کامل اعتماد*
گھر کے نجی حالات میں کسی شخص کو آنے کی اجازت دینا اس پر اعتماد کی علامت ہے۔ اس حدیث سے معلوم ہوتا ہے کہ حضرت ابوبکرؓ اور حضرت عمرؓ آپ ﷺ کے نزدیک انتہائی قابل اعتماد تھے۔
*3۔ ان کی عظمت اور بلند مرتبہ*
رسول اللہ ﷺ کا بلا تکلف انہیں اندر آنے کی اجازت دینا اس بات کی دلیل ہے کہ وہ امت کے عام افراد کی طرح نہیں تھے بلکہ خاص الخاص صحابہ میں شمار ہوتے تھے۔
اسی لیے قرآن و حدیث میں بار بار ان کی فضیلت وارد ہوئی ہے۔
*4۔ حضرت ابوبکرؓ اور حضرت عمرؓ سے قرب کا اظہار*
محدثین نے لکھا ہے کہ حضرت ابوبکرؓ اور حضرت عمرؓ چونکہ رسول اللہ ﷺ کے انتہائی قریبی ساتھی تھے، اس لیے آپ ﷺ نے ان کے لیے اپنی ہیئت تبدیل کرنے کی ضرورت محسوس نہ فرمائی، جبکہ حضرت عثمانؓ انتہائی باحیا طبیعت کے مالک تھے، اس لیے آپ ﷺ نے ان کی رعایت فرمائی۔
*خلاصۂ کلام*
یہ حدیث حضرت عمر بن خطاب رضی اللہ عنہ کے مناقب میں نہایت عظیم حدیث ہے۔ اس سے معلوم ہوتا ہے کہ اللہ تعالیٰ نے آپؓ کو غیر معمولی فراست، صحیح فہم، قوتِ اجتہاد اور حق شناسی عطا فرمائی تھی، یہاں تک کہ رسول اللہ ﷺ نے پوری امت میں آپؓ کو "محدَّث" ہونے کا سب سے زیادہ مستحق قرار دیا۔ اللہ تعالیٰ ان سے راضی اور ہمیں ان کے نقشِ قدم پر چلنے کی توفیق عطا فرمائیں۔ آمین۔

14/06/2026

قومہ اور سجدے میں دعا کرنے کے مسائل سے متعلق اہم شرعی رہنمائی اس وی...

*اذان کے مسنون اعمال۔*  *اذان اور تکبیر کہنے والے یہ غلطیاں ہرگز نہ کریں* *تحریر*  *مفتی ابو عمار عبدالمالک* نائب رئیس و...
13/06/2026

*اذان کے مسنون اعمال۔*
*اذان اور تکبیر کہنے والے یہ غلطیاں ہرگز نہ کریں*
*تحریر*
*مفتی ابو عمار عبدالمالک*
نائب رئیس وصدر المدرسین
جامعہ عثمانیہ شیر شاہ کراچی
يَقُولُ:" إِذَا سَمِعْتُمُ الْمُؤَذِّنَ فَقُولُوا مِثْلَ مَا يَقُولُ، ثُمَّ صَلُّوا عَلَيَّ، فَإِنَّهُ مَنْ صَلَّى عَلَيَّ صَلَاةً، صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ بِهَا عَشْرًا.
ترجمہ: نبی کریم ﷺ نے ارشاد فرمایا: جب تم مؤذن کی آواز سنو تو اسی طرح کہو جیسے وہ کہتا ہے۔ پھر مجھ پر درود پڑھو۔ یقینا جس نے مجھ پر ایک بار درود پڑھا، اللہ تعالیٰ اس پر دس رحمتیں نازل کرے گا“۔
سنن ابي داود/كتاب الصلاة/حدیث: 523
*اس حدیث کے ذیل میں فقہاء نے درج ذیل مسائل و فوائد ذکر کیے ہیں۔*
1۔ مؤذن کے الفاظ کا جواب دینا
نبی کریم ﷺ نے فرمایا:
"جب تم مؤذن کی آواز سنو تو وہی الفاظ کہو جو اس نے کہے ہیں۔"
اذان سننے والے کے لئے انہیں الفاظ میں جواب دینا ضروری ہے۔
البتہ حَيَّ عَلَى الصَّلَاةِ اور حَيَّ عَلَى الْفَلَاحِ کے جواب میں:
لَا حَوْلَ وَلَا قُوَّةَ إِلَّا بِاللّٰهِ کہنا مسنون ہے۔
2۔ اذان کے بعد درود شریف پڑھنا
آپ ﷺ نے فرمایا: "پھر مجھ پر درود بھیجو، کیونکہ جو شخص مجھ پر ایک مرتبہ درود بھیجتا ہے اللہ تعالیٰ اس پر دس رحمتیں نازل فرماتا ہے۔"
اس سے معلوم ہوا کہ اذان کے بعد درود شریف پڑھنا سنت اور باعثِ اجر ہے۔
اللہ تعالیٰ کی طرف سے "دس رحمتیں" نازل ہونے کا مطلب یہ ہے کہ بندے پر رحمت، مغفرت، برکت اور درجات کی بلندی کے دروازے کھول دیے جاتے ہیں۔
3۔ اس تفصیل سے یہ بات بھی معلوم ہوئی کہ ’’اَشْہَدُ اَنَّ مُحَمَّدًا رَّسُوْلُ اللہ‘‘ کے جواب میں درود شریف پڑھنا مسنون نہیں ہے؛ بلکہ صرف اسی کلمہ کو دہرانا مسنون ہے۔
اور اصل سنت اذان مکمل ہونے پر درود شریف پڑھنا ہے۔
4۔ اقامت کہنے والے حضرات، اقامت کہتے ہوئے عموماً حَيَّ على الصَّلاةِ حَيَّ على الصَّلاہ، "حيَّ على الفَلَاحِ، حيَّ على الفَلَاح؛ "قدْ قامَتِ الصَّلاةُ، قدْ قامَتِ الصَّلاہ" یعنی پہلے (الصَّلاةِ)، پہلے (الفَلَاحِ) اور پہلے (الصَّلاةُ) اور حرکت پڑھتے ہیں۔
اور بعض اقامت کہنے والے حضرات پوری اقامت میں یہی غلطی کرتے ہیں۔
لیکن یہ طریقہ خلاف سنت ہے، اصل سنت ان کو ساکن پڑھنا ہے یعنی اس طرح انہیں پڑھا جائے حَيَّ على الصَّلاہ حَيَّ على الصَّلاہ، "حيَّ على الفَلَاح حيَّ على الفَلَاح؛ "قدْ قامَتِ الصَّلاہ قدْ قامَتِ الصَّلاہ"
5۔ اسی طرح اذان کے الفاظ کو بہت زیادہ کھینچنا بھی خلاف سنت ہے
6۔ صحیح احادیث سے اذان کے بعد کی دعا کے فقط اتنے ہی الفاظ ثابت ہیں۔
اللَّهُمَّ رَبَّ هَذِهِ الدَّعْوَةِ التَّامَّةِ، وَالصَّلَاةِ الْقَائِمَةِ، آتِ مُحَمَّدًا الْوَسِيلَةَ وَالْفَضِيلَةَ، وَابْعَثْهُ مَقَامًا مَحْمُودًا الَّذِي وَعَدْتَهُ.
ترجمہ: اے اللہ! اس کامل دعوت اور قائم ہونے والی نماز کے رب! محمد ﷺ کو وسیلہ اور فضیلت عطا فرما، اور انہیں مقامِ محمود پر فائز فرما جس کا تو نے ان سے وعدہ فرمایا ہے۔
البتہ بعض روایات میں "إِنَّكَ لاَ تُخْلِفُ الْمِيعَادَ" کا اضافہ بھی ہے۔
اللہ تعالیٰ ہمیں اذان کے آداب کی پابندی، کثرتِ درود شریف اور شفاعتِ مصطفیٰ ﷺ کے حصول کی توفیق عطا فرمائیں۔ آمین۔
27 ذو الحجہ 1447ھجری
مطابق 13 جون 2026 بروز ہفتہ

Address

Jamia Usmania Sher Sha
Karachi

Telephone

+923482323285

Website

Alerts

Be the first to know and let us send you an email when Jamia Usmania Sher Sha posts news and promotions. Your email address will not be used for any other purpose, and you can unsubscribe at any time.

Contact The Organization

Send a message to Jamia Usmania Sher Sha:

Share