20/06/2026
حصہ اول
حضرت حسین رضی اللہ عنہ کے فضائل و مناقب
عَنْ يَعْلَى بْنِ مُرَّةَ رضي الله عنه قَالَ: «خَرَجْنَا مَعَ النَّبِيِّ ﷺ إِلَى طَعَامٍ دُعِينَا لَهُ، فَإِذَا حُسَيْنٌ يَلْعَبُ فِي السِّكَّةِ، فَتَقَدَّمَ النَّبِيُّ ﷺ أَمَامَ الْقَوْمِ، وَبَسَطَ يَدَيْهِ، فَجَعَلَ الْغُلَامُ يَفِرُّ هَاهُنَا وَهَاهُنَا، وَيُضَاحِكُهُ النَّبِيُّ ﷺ حَتَّى أَخَذَهُ، فَجَعَلَ إِحْدَى يَدَيْهِ تَحْتَ ذَقْنِهِ وَالْأُخْرَى فِي فَأْسِ رَأْسِهِ، فَقَبَّلَهُ، وَقَالَ: حُسَيْنٌ مِنِّي وَأَنَا مِنْ حُسَيْنٍ، أَحَبَّ اللَّهُ مَنْ أَحَبَّ حُسَيْنًا، حُسَيْنٌ سِبْطٌ مِنَ الْأَسْبَاطِ».
(جامع الترمذی، حدیث: 3775۔سنن ابنِ ماجہ حدیث: 144)
ترجمہ
حضرت یعلیٰ بن مُرَّہ رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں: ہم رسول اللہ ﷺ کے ساتھ ایک دعوتِ طعام میں جا رہے تھے۔ راستے میں حضرت حسین رضی اللہ عنہ گلی میں بچوں کے ساتھ کھیل رہے تھے۔ نبی کریم ﷺ لوگوں سے آگے بڑھ گئے اور اپنے دونوں ہاتھ پھیلا دیے۔ حضرت حسین رضی اللہ عنہ اِدھر اُدھر بھاگنے لگے اور رسول اللہ ﷺ ان کے ساتھ ہنسی مذاق کرتے رہے، حتی کہ آپ ﷺ نے انہیں پکڑ لیا۔ پھر ایک ہاتھ ان کی ٹھوڑی کے نیچے اور دوسرا سر کے پیچھے رکھا، انہیں بوسہ دیا اور فرمایا: "حسین مجھ سے ہیں اور میں حسین سے ہوں، اللہ تعالیٰ اس شخص سے محبت فرمائے جو حسین سے محبت کرے، حسین میرے نواسوں میں سے ایک نواسہ ہیں۔"
*اس حدیث کے تحت محدثین و فقہاء نے درج ذیل مسائل و فوائد ذکر کئے ہیں*
1۔ رسول اللہ ﷺ نے اپنے نواسے حضرت حسین رضی اللہ عنہ سے والہانہ محبت کا اظہار کیا باوجود اس کے کہ آپ ﷺ ایک اہم دعوت میں تشریف لے جا رہے تھے، راستے میں حضرت حسین رضی اللہ عنہ کو کھیلتے دیکھ کر رک گئے اور ان کے ساتھ شفقت و محبت کا اظہار فرمایا۔
یہ اس بات کی دلیل ہے کہ بچوں سے محبت کرنا سنتِ نبوی ہے۔
2۔ بچوں کے ساتھ مزاح کرنا اور کھیلنا
رسول اللہ ﷺ نے حضرت حسین رضی اللہ عنہ کو پکڑنے کے لیے ہاتھ پھیلائے، جبکہ وہ اِدھر اُدھر دوڑتے رہے۔ آپ ﷺ مسکراتے اور انہیں خوش کرتے رہے۔
اس سے معلوم ہوا کہ بچوں کے ساتھ جائز تفریح کرنا سنت ہے۔
ان کے ساتھ محبت بھرے انداز میں کھیلنا باعثِ اجر ہے۔
بچوں کی نفسیات کا خیال رکھنا اسلامی تعلیمات کا حصہ ہے۔
3۔ حضرت حسین رضی اللہ عنہ کی عظمت
نبی کریم ﷺ کا فرمان: «حُسَيْنٌ مِنِّي» "حسین مجھ سے ہیں"۔ یعنی نسب، محبت، دین اور اخلاق کے اعتبار سے رسول اللہ ﷺ کے انتہائی قریب ہیں۔
4۔ "وَأَنَا مِنْ حُسَيْنٍ،" کا مطلب ہے کہ حسین رضی اللہ عنہ میری اولاد میں سے ہیں اور میری دعوت اور میرے دین کی سربلندی میں حسین کا عظیم کردار ہوگا۔
ان کی محبت میری محبت ہے اور ان سے دشمنی میری دشمنی ہے۔
5۔ حضرت حسین رضی اللہ عنہ سے محبت کرنے والے کے لیے نبی کریم ﷺ کی دعا
رسول اللہ ﷺ نے فرمایا:
«أَحَبَّ اللَّهُ مَنْ أَحَبَّ حُسَيْنًا»
"اللہ تعالیٰ اس شخص سے محبت فرمائے جو حسین سے محبت کرے۔"
یہ حضرت حسین رضی اللہ عنہ کی عظیم فضیلت ہے کہ ان سے محبت کرنے والے کے لیے اللہ تعالیٰ کی محبت کی دعا فرمائی گئی۔
6۔ اہلِ بیت کی محبت
یہ حدیث اہلِ بیتِ رسول ﷺ سے محبت کی واضح دلیل ہے۔
اہلِ سنت والجماعت کا عقیدہ ہے کہ تمام اہلِ بیتِ اطہار سے محبت واجب ادب اور موجبِ اجر ہے۔
7۔ " سبط کے معنی ہیں: نواسہ
یعنی حضرت حسین رضی اللہ عنہ رسول اللہ ﷺ کے مبارک نواسوں میں سے ایک عظیم نواسے ہیں۔
اللہ تعالیٰ ہمیں اہلِ بیتِ اطہار اور صحابہ کرام کی سچی محبت نصیب فرمائیں۔ آمین۔
4 محرم الحرام 1447ھجری
مطابق 20 جون 2026 بروز
*تحریر*
*مفتی ابو عمار عبد المالک*
نائب رئیس وصدر المدرسین
جامعہ عثمانیہ شیر شاہ کراچی