03/11/2024
بسم اللہ الرحمٰن الرحیم
اسلام علیکم
قیوم آباد (آباد) ھونے کی تاریخ اور ترتیب کاغذوں میں کچھ اس طرح ھے
وفاقی حکومت کی طرف سے اسکیم نمبرGAD ),3/21/80)
قیوم آباد 19 ستمبر 1985 کی وفاقی حکومت کے اسکیم کے تحت آباد ھوا ھے
اس وفاقی اسکیم میں پنجاب کالونی گزری قیوم آباد کچھ اور علاقے بھی کنٹونمنٹ بورڈ کو دیا گیا تھا 13 نومبر 1986 میں سندھ گورنمنٹ نے 163 ایکٹر 18 کنڈے قیوم آباد کی زمین KMC کو دے دی تھی جس میں سے 161 ایکٹر 32 کنڈے رہائشی تھی 30 ایکٹر 32 کنڈے فلاحی زمین تھی گورنمنٹ سندھ کی طرف سے یہ ابادی 163ایکٹر 18 کنڈے کی ابادی تھی جو سکڑ کر اس وقت 100 ایکٹر رہ گئی ھے -
(اپنے ہی گہراتے ھیں نشیمن پہ بجلیاں)
ڈی ایچ اے کی طرف سے قیوم آباد کی زمین پر قبضہ ہمارے قیوم آباد کے لوگوں کی ملی بھگت سے ھوا ھے اس وقت قیوم آباد ڈی سیکٹر کے قبرستان میں جگہ ختم ھو گئی ھے بی ایریا کے قبرستان میں کچھ قبروں کی جگہ موجود ھے آئیندہ کچھ سالوں بلکہ مہینوں میں قبروں کی جگہ ختم ھوتی نظر ارہی ھے اس وقت ڈی ایچ اے کی سیکورٹی والے ہر دوسرے دن فوٹو بنانے ا جاتے ھیں ڈی ایچ اے مزید قبضے کے چکر میں ھے فرنٹ والی زمین کا اس وقت ہائی کورٹ میں کیس نمبر 1153 چل رہا ھے ہائی کورٹ میں قیوم آباد سے ڈی ایچ اے کے خلاف مد مقابل کوئی نہیں ھے اس کیس میں قیوم آباد سے مد مقابل 17 لوگ ھیں جو ہائی کورٹ میں تاریخ پر جاتے ہی نہیں ھیں ڈی ایچ اے کے مد مقابل قیوم آباد والے بھی ڈی ایچ اے کے سپوٹرز ھیں
فرنٹ کی زمین کا کیس ڈی ایچ اے جیت جائے گا جس طرح ڈی ایچ اے نے فیز 7 بنا کر آباد کر لیا ھے اسی طرح قیوم آباد کی فرنٹ کی رفاحی زمین پر قبضہ کر لے گا-
میں قیوم آباد کی عوام سے اپیل کرتا ھوں فرنٹ زمین والے کیس میں قیوم آباد کے چالیس پچاس لوگ جمع ھو کر پٹشنر بنیں نہیں تو ہم سب اس زمین پر ڈی ایچ اے کے سہولت کار ھونگے اب وقت ھے جاگ جاؤ کل یہ نہ بولنا قیوم آباد فرنٹ والی رفاحی زمین پر ڈی ایچ اے نے قبضہ کر لیا ھے جس طرح کیس کی پوزیشن چل رہی ھے ڈی ایچ اے یہ کیس ہائی کورٹ سے جیت جائے گا پھر اس رفاحی زمین پر قیوم آباد کا کوئی حق نہیں ھو گا
خدارا جاگ جاؤ قیوم آباد والوں جاگ جاؤ