11/08/2026
🏴 پشتونوں کا کربلا
سانحہ بابڑہ — قربانی، صبر اور مزاحمت کی لازوال داستان
12 اگست 1948 — پشتون تاریخ کا وہ سیاہ اور دردناک دن ہے جسے وقت کی گرد بھی کبھی دھندلا نہیں سکتی۔ بابڑہ کی سرزمین آج بھی ان بے گناہ انسانوں کے لہو کی گواہی دیتی ہے جنہوں نے ظلم، جبر اور ناانصافی کے سامنے جھکنے کے بجائے امن، آزادی، جمہوریت اور انسانی حقوق کے لیے اپنی جانوں کا نذرانہ پیش کیا۔
بابڑہ، چارسدہ میں نہتے خدائی خدمتگار کارکنان پر گولیاں برسائی گئیں۔ متعدد تاریخی حوالوں کے مطابق سینکڑوں افراد اس المناک واقعے میں شہید اور زخمی ہوئے۔ یہ وہ لوگ تھے جن کے ہاتھوں میں ہتھیار نہیں بلکہ امن کا پیغام، آزادی کی خواہش اور اپنے بنیادی حقوق کے لیے پُرامن جدوجہد تھی۔
بابڑہ کا سانحہ محض ایک تاریخی واقعہ نہیں، بلکہ پشتون قوم کے اجتماعی حافظے میں موجود ایک ایسا زخم ہے جو آج بھی تازہ ہے۔ یہ واقعہ ہمیں یاد دلاتا ہے کہ جب ریاستی طاقت کے سامنے نہتے لوگ اپنے حق کے لیے کھڑے ہوتے ہیں تو ان کی قربانیاں تاریخ کے صفحات میں ہمیشہ زندہ رہتی ہیں۔
بابڑہ کے شہداء نے ہمیں یہ سبق دیا کہ طاقت وقتی ہو سکتی ہے، مگر نظریہ اور اصول نسلوں تک زندہ رہتے ہیں۔ ان کا لہو آج بھی ہمیں یاد دلاتا ہے کہ قومیں اپنی تاریخ کو بھلا کر آگے نہیں بڑھتیں، بلکہ اپنی تاریخ سے سبق سیکھ کر ایک بہتر، پُرامن اور انصاف پر مبنی مستقبل تعمیر کرتی ہیں۔
بابڑہ کے شہداء ہمارے لیے صرف تاریخ کا حصہ نہیں، بلکہ ایک زندہ پیغام ہیں۔
ان کی قربانیاں ہمیں یہ سکھاتی ہیں کہ ظلم کتنا ہی طاقتور کیوں نہ ہو، حق کی آواز کو ہمیشہ کے لیے خاموش نہیں کیا جا سکتا۔
آج ہم ان تمام شہداء کو عقیدت اور احترام سے یاد کرتے ہیں جنہوں نے اپنے نظریے، اپنی آزادی اور اپنے حقوق کی خاطر جانیں قربان کیں۔
بابڑہ کے شہداء کو سرخ سلام! 🕯️
پشتون سٹوڈنٹس کونسل جامعہ کراچی