04/04/2026
ڈیزل کی مہنگائی:
سندھ کے چالیس لاکھ ماہی گیروں کی بقا کا سوال
حکومت پاکستان کی جانب سے ڈیزل اور پیٹرول کی قیمتوں میں حالیہ اضافے نے ملک کی معیشت کے ایک اہم لیکن نظرانداز کیے جانے والے شعبے یعنی ماہی گیری (فشریز) کو شدید نقصان پہنچایا ہے۔ خاص طور پر صوبہ سندھ، جہاں اندازے کے مطابق چالیس لاکھ افراد براہِ راست یا بالواسطہ طور پر ماہی گیری کے شعبے سے وابستہ ہیں، اس فیصلے کے منفی اثرات سے دوچار ہے۔
ماہی گیر نہ صرف اپنی روزی روٹی کے لیے بلکہ اپنی کشتیوں کو سمندر میں لے جانے کے لیے مکمل طور پر ڈیزل پر انحصار کرتے ہیں۔ سندھ کے ساحلی علاقوں میں تقریباً بیس ہزار چھوٹی بڑی کشتیاں ڈیزل سے چلتی ہیں۔ ان میں سے ہر کشتی اوسطاً چار سے پانچ افراد کو روزگار دیتی ہے، اور اس کے ذریعے پکڑی جانے والی مچھلی لاکھوں خاندانوں کی غذائی ضروریات پوری کرتی ہے۔
ڈیزل کی قیمت میں ایک چھوٹا سا اضافہ بھی ان ماہی گیروں کے لیے ایک بڑا مالی چیلنج بن جاتا ہے۔ موجودہ قیمتوں کے مطابق، ایک معمولی کشتی کو ایک بار سمندر میں لے جانے کے لیے کم از کم 30 سے 40 ہزار روپے کا ڈیزل درکار ہوتا ہے۔ قیمتوں میں حالیہ اضافے کے بعد یہ لاگت 50 ہزار روپے سے بھی تجاوز کر چکی ہے۔ جبکہ مچھلی کی قیمتوں میں کوئی قابلِ ذکر اضافہ نہیں ہوا، نتیجتاً ماہی گیروں کی آمدنی میں خاطر خواہ کمی واقع ہوئی ہے۔ بہت سے ماہی گیر اب اپنی کشتیاں بند پر مجبور ہیں کیونکہ ان کے لیے ڈیزل خریدنا ناممکن ہو گیا ہے۔
ماہی گیر سنت نے اس صورتحال پر تشویش کا اظہار کرتے ہوئے کہا ہے کہ "حکومت کو ہمارا کوئی مسئلہ نظر نہیں آتا۔ ہم حکومت کو لاکھوں ڈالر ماہانہ برآمدات کے ذریعے کما کر دیتے ہیں، لیکن جب ہم خود مشکلات میں ہوتے ہیں تو کوئی ہماری سننے کو تیار نہیں۔" ان کے مطابق اگر اسی طرح قیمتوں میں اضافہ ہوتا رہا تو ماہی گیر فاقہ کشی کے شکار ہو سکتے ہیں۔
فشریز ڈیپارٹمنٹ سندھ اور سماجی تنظیموں کا کردار
اس صورتحال میں فشریز ڈیپارٹمنٹ سندھ اور سماجی تنظیموں پر ایک اہم ذمہ داری عائد ہوتی ہے کہ وہ ان لاکھوں لوگوں کی آواز بنیں۔ اب تک ان اداروں کی کارکردگی خاصی غیر موثر رہی ہے۔ ضرورت اس امر کی ہے کہ:
فشریز ڈیپارٹمنٹ فوری طور پر ایک ڈیٹا بیس تیار کرے کہ قیمتوں میں اضافے نے کتنے ماہی گیر خاندانوں کو براہِ راست متاثر کیا ہے۔
وفاقی حکومت کو ماہی گیروں کے لیے سبسڈیڈ ڈیزل (Rationed Diesel) فراہم کرنے کا نظام متعارف کروانا چاہیے، جیسا کہ زرعی شعبے کے لیے کیا جاتا ہے۔
میڈیا کو بھی چاہیے کہ وہ اس مسئلے کو سنجیدگی سے اٹھائے تاکہ قومی سطح پر توجہ دی جا سکے۔
ڈیزل کی قیمتوں میں یہ اضافہ صرف ایک معاشی فیصلہ نہیں بلکہ سندھ کے ساحلی علاقوں میں رہنے والے لاکھوں ماہی گیروں کی بقا کا سوال ہے۔ اگر فوری طور پر کوئی ریلیف پیکج یا سبسڈی کا اعلان نہ کیا گیا تو نہ صرف ماہی گیری کی صنعت تباہ ہو جائے گی بلکہ ملکی معیشت کو بھی ماہانہ لاکھوں ڈالر کے زرمبادلہ کے نقصان کا سامنا کرنا پڑے گا۔
فشریز ڈیپارٹمنٹ اور سماجی تنظیموں کو اب جاگنا ہو گا اور بے آواز ماہی گیروں کی آواز بننا ہو گی۔.
تحریر :اعجاز علی میربحر