12/08/2026
جماعت غرباء اہل حدیث کی طرف سے قائدین مرکزیہ کے اعزاز میں عشائیہ
جماعت غرباء اہل حدیث کی بنیاد مولانا عبد الوہاب صدری دہلوی رحمۃ اللہ علیہ نے 1313ھ بمطابق 1895 میں رکھی۔ اس لحاظ سے مسلک اہل حدیث کی قدیم جماعتوں میں سے ایک جماعت ہے۔
مولانا عبد الوہاب دہلوی صاحب کی وفات کے بعد مولانا عبدالستار محدث دہلوی رحمۃ اللہ علیہ اور ان کے بعد مولانا عبدالغفار سلفی رحمۃ اللہ علیہ جماعت غرباء اہل حدیث کے امیر مقرر ہوئے۔
مولانا عبدالغفار سلفی رحمۃ اللہ علیہ کی وفات کے بعد مولانا حافظ عبدالرحمن سلفی صاحب حفظہ اللہ و رعاہ جماعت غرباء اہل حدیث پاکستان کے امیر منتخب ہوئے اور تاحال جماعت غرباء اہل حدیث پاکستان کی قیادت فرما رہے ہیں۔ شفاہ اللہ و عافاہ من کل شر و مکروہ
راقم الحروف عبدالرحمن ثاقب نے جب شعور کی آنکھ کھولی اور اپنے گاؤں کی مسجد میں جانا شروع تو وہاں پر جماعت غرباء اہل حدیث پاکستان کی طرف سے شائع ہونے والے مجلہ " پندرہ روزہ صحیفہ اہل حدیث کراچی" کی بہت سی فائلیں دیکھیں جو کہ راقم کے مرحوم تایا مولوی محمد علی مرحوم منگوا کر پڑھا کرتے تھے۔
راقم الحروف کے والد محترم کے پاس تاحال مولانا عبدالستار محدث دہلوی رحمۃ اللہ علیہ کا ترجمہ و حاشیہ والا دو رنگہ قرآن مجید ہے جس سے وہ قرآن مجید کی تلاوت کرتے ہیں۔
قائد اہل حدیث سینیٹر ڈاکٹر حافظ عبد الکریم صاحب حفظہ اللہ امیر مرکزی جمعیت اہل حدیث پاکستان اپنی رفقاء اور مرکزی قیادت کے ہمراہ تین دن یعنی 9, 10 اور 11 اگست 2026 کراچی تشریف لائے تو دیگر پروگراموں کے ساتھ ساتھ جماعت غرباء اہل حدیث پاکستان کے مرکزی دفتر واقع برنس روڈ کراچی تشریف لے جانے اور حضرت الامام حافظ عبدالرحمن سلفی صاحب حفظہ اللہ کی عیادت بھی آپ کے شیڈول میں شامل تھا۔
چونکہ ڈاکٹر حافظ عبد الکریم صاحب حفظہ اللہ نے کچھ عرصہ یہاں پر کبار مشائخ عظام سے کسب فیض کیا اور اس وقت ملت سلفیہ کی قیادت کا اعزاز آپ کو حاصل ہے یہ ان کے لیے بڑے شرف و اعزاز کی بات تھی تو جماعت غرباء اہل حدیث پاکستان کے قائدین نے مرکزی جمعیت اہل حدیث پاکستان کی قیادت اور کراچی کے دیگر علماء کرام کے اعزاز میں ایک پروقار عشائیے کا اہتمام کیا۔
11 اگست 2026 کو مرکزی و صوبائی قائدین نے نماز مغرب جماعت غرباء اہل حدیث پاکستان کے مرکزی سیکرٹریٹ جامع مسجد محمدی اہل حدیث برنس روڈ میں ادا کی۔
جماعت غرباء اہل حدیث کے ناظمین، جامعہ ستاریہ اسلامیہ کراچی کے اساتذہ کرام اور دیگر ذمہ داران بھی وہاں پر موجود تھے۔ دیگر علماء کرام بھی تشریف لائے ہوئے تھے جن میں سے ممتاز عالم دین اور خطیب پروفیسر محمد ابراہیم بھٹی صاحب حفظہ اللہ، استاذ العلماء مفتی حافظ عبدالحنان سامرودی صاحب حفظہ اللہ و دیگر علماء کرام تھے۔
حضرت الامام حافظ عبدالرحمن سلفی صاحب حفظہ اللہ امیر جماعت غرباء اہل حدیث پاکستان باوجود شدید علالت کے تشریف لائے۔ اس موقع پر مولانا محمد انس مدنی صاحب وکیل جامعہ ستاریہ اسلامیہ کراچی نے قائدین کرام کو اشعار میں خوش آمدید کہا۔ مولانا محمد ابراہیم بھٹی صاحب حفظہ اللہ، ڈاکٹر رانا شفیق خاں پسروری صاحب حفظہ اللہ، فیصل ندیم صاحب اور قائد اہل حدیث سینیٹر ڈاکٹر حافظ عبد الکریم صاحب حفظہ اللہ نے خطاب کیا اور اپنے تعلیمی ایام اور اپنے اساتذہ کرام کا خوبصورت انداز میں تذکرہ کیا اور بتایا کہ میں نے جامع ترمذی اور سنن ابی داؤد مولانا کرم الجلیلی رحمۃ اللہ علیہ سے پڑھیں اور میرے برادر اکبر نے بھی یہیں سے کسب فیض کیا۔
اس موقع پر قائد اہل حدیث سینیٹر ڈاکٹر حافظ عبد الکریم صاحب حفظہ اللہ امیر مرکزی جمعیت اہل حدیث پاکستان اور دیگر قائدین کو شیلڈز پیش کی گئیں۔ راقم الحروف کو اس وقت بڑا تعجب ہوا جب میرا نام بھی پکارا گیا کہ مولانا عبدالرحمن ثاقب بھی اپنی شیلڈز پروفیسر محمد سلفی صاحب حفظہ اللہ نائب امیر جماعت غرباء اہل حدیث پاکستان و مدیر جامعہ ستاریہ اسلامیہ سے شیلڈ وصول کریں۔
حضرت الامام حافظ عبدالرحمن سلفی صاحب حفظہ اللہ نے آخر میں دعا فرمائی۔
اس موقع پر مہمانانِ گرامی کے اعزاز میں بڑا پرتکلف اور لذیذ کھانا پیش کیا گیا۔
اللہ تعالیٰ حضرت الامام حافظ عبدالرحمن سلفی صاحب حفظہ اللہ امیر جماعت غرباء اہل حدیث پاکستان کو شفاء کاملا عاجلا عطاء فرمائے اور جماعت غرباء اہل حدیث پاکستان کے قائدین کو جزائے خیر عطاء فرمائے۔ آمین یا رب العالمین
طالب دعا: