18/04/2026
شعور: روٹی دے یا نہ دے ، مگر زندگی تو ضرور دے سکتا ہے۔
دعا زہراء کے باہمت والد نے بیٹی کی بچپنے کی نادانی کو سمجھا اور
بدبودار معاشرے کے رویے کو برداشت کرتے ہوئے اپنی بیٹی کو محبت سے گھر لایا آج وہ بیٹی اپنے والد کا بھرم اور عزت بن چکی ہے جبکہ دوسری طرف سندھ میں روبینہ چانڈیو کو اس کے معاشرتی جھوٹے غیرتمند نظام نے بے دردی سے قتل کردیا۔۔۔
اصل وقار اور شعور اُس والد یا خاندان کا ہوتا ہے جو یہ جانتا ہے کہ کششِ جنس کوئی گناہ نہیں بلکہ ایک فطری اور وقی کیفیت ہے، جو لڑکے اور لڑکی دونوں میں یکساں طور پر فطری موجود ہوتی ہے۔ دماغ، ہارمونز اور جذبات مل کر انسان کو اس مرحلے سے گزارتے ہیں۔ اس حقیقت کو سمجھنا شعور ہے، جبکہ اسے انا اور نام نہاد عزت کا مسئلہ بنا دینا صدیوں پرانی جہالت ہے۔
بدقسمتی سے روبینہ کو ایسے معاشرتی شعور کا سہارا نہ مل سکا۔!!