Human Resource Development Welfare Organization

Human Resource Development Welfare Organization working now on reforming forests spreading greenness and planting million number of trees all over Pakistan specially in Karachi.

شعور: روٹی دے یا نہ دے ، مگر زندگی تو ضرور دے سکتا ہے۔دعا زہراء کے باہمت والد نے بیٹی کی بچپنے کی نادانی کو سمجھا اور بد...
18/04/2026

شعور: روٹی دے یا نہ دے ، مگر زندگی تو ضرور دے سکتا ہے۔
دعا زہراء کے باہمت والد نے بیٹی کی بچپنے کی نادانی کو سمجھا اور
بدبودار معاشرے کے رویے کو برداشت کرتے ہوئے اپنی بیٹی کو محبت سے گھر لایا آج وہ بیٹی اپنے والد کا بھرم اور عزت بن چکی ہے جبکہ دوسری طرف سندھ میں روبینہ چانڈیو کو اس کے معاشرتی جھوٹے غیرتمند نظام نے بے دردی سے قتل کردیا۔۔۔
اصل وقار اور شعور اُس والد یا خاندان کا ہوتا ہے جو یہ جانتا ہے کہ کششِ جنس کوئی گناہ نہیں بلکہ ایک فطری اور وقی کیفیت ہے، جو لڑکے اور لڑکی دونوں میں یکساں طور پر فطری موجود ہوتی ہے۔ دماغ، ہارمونز اور جذبات مل کر انسان کو اس مرحلے سے گزارتے ہیں۔ اس حقیقت کو سمجھنا شعور ہے، جبکہ اسے انا اور نام نہاد عزت کا مسئلہ بنا دینا صدیوں پرانی جہالت ہے۔
بدقسمتی سے روبینہ کو ایسے معاشرتی شعور کا سہارا نہ مل سکا۔!!

روٹی، کپڑا، مکان، بس اتنا ہی ہے پرانا پاکستان۔!
15/04/2026

روٹی، کپڑا، مکان، بس اتنا ہی ہے پرانا پاکستان۔!

04/04/2026
جاہل مرد !!! عورت کو چاہیئے وہ اپنے بیٹے کی بہترین تربیت کرے!💓💝
27/03/2026

جاہل مرد !!! عورت کو چاہیئے وہ اپنے بیٹے کی بہترین تربیت کرے!💓💝

ہمارے ایک اُستادِ محترم ہوا کرتے تھے۔ بچوں پہ تشدد کرنا اُن کا پسندیدہ مشغلہ تھا اور اس تشدد کی وجہ سے بہت سے بچے اسکول ...
27/03/2026

ہمارے ایک اُستادِ محترم ہوا کرتے تھے۔ بچوں پہ تشدد کرنا اُن کا پسندیدہ مشغلہ تھا اور اس تشدد کی وجہ سے بہت سے بچے اسکول سے بھاگ چکے تھے۔
آپ ایک بار اپنی زمین میں گندم بوائی کے دوران جب ٹریکٹر والے کو پیسے دینے لگے تو اس نے یہ کہہ کر لینے سے انکار کر دیا کہ ماسٹر جی کیوں شرمندہ کر رہے ہیں، آج میں جس مقام پر ہوں صرف آپ کی وجہ سے ہوں۔ اگر آپ اُس دن میری پٹائی نہ کرتے تو نہ میں اسکول سے بھاگتا اور نہ ٹریکٹر ڈرائیور بنتا۔😁

آپ ایک بار بس میں سفر کر رہے تھے، کرایہ دیتے ہوئے کنڈیکٹر نے یہ کہتے ہوئے لینے سے انکار کر دیا کہ “سر کیوں شرمندہ کرتے ہیں، آج میں جو کچھ بھی ہوں آپ کی وجہ سے ہوں”۔
سر نے ادھر اُدھر دیکھا لیکن کسی نے نہیں سنا۔

کنڈیکٹر طوطے کی طرح بولے جا رہا تھا۔ سر یاد ہے میرا کلاس فیلو فرید؟ آج کل وہ فریدا استاد کے نام سے مشہور ہے اور وہ جو شاہ زیب ہوتا تھا ناں آج کل شاکا بدمعاش مشہور ہے۔ ہم سب آپ ہی کی وجہ سے اس مقام پر ہیں۔😁

اُستادِ محترم نے ایک بار پھر دائیں بائیں دیکھا، اپنا بستہ اٹھایا اور یہ سوچتے ہوئے چلتی بس سے چھلانگ لگا دی کہ ایسا نہ ہو راستے میں کوئی ڈاکو سوار ہو اور لوٹ مار کے دوران جب میرے پاس پہنچے تو بولے کہ سر آپ کیوں اپنا بٹوہ نکال کر شرمندہ کر رہے ہیں، آج میں جس مقام پر بھی ہوں صرف آپ کی وجہ سے ہوں۔🤣😜🙏

💬 اب آپ بتائیں…
کیا مار پیٹ سے واقعی بچے “انسان” بنتے ہیں؟
یا صرف ڈر کے سائے میں اپنی راہیں بدل لیتے ہیں؟

👇 اپنی رائے کمنٹ میں ضرور دیں
🔁 اور اس پوسٹ کو شیئر کریں تاکہ حقیقت سب تک پہنچے

یہ BAAL ایک شیطانی دیوتا ہے جس کی پرستش بچیوں کی قربانی دے کے کی جاتی ہے۔امریکہ و اسرائیل نے اس جنگ کا آغاز بھی 168 ایرا...
12/03/2026

یہ BAAL ایک شیطانی دیوتا ہے جس کی پرستش بچیوں کی قربانی دے کے کی جاتی ہے۔
امریکہ و اسرائیل نے اس جنگ کا آغاز بھی 168 ایرانی مسلمان بچیوں کی بَلی چڑھا کر کیا۔ یہ ایلیمنٹری سکول تھا اور سب 13 سال سے کم عمر بچیاں تھیں۔
ایران میں BAAL کا مجسمہ اسی جگہ نذر آتش کیا جا رہا ہے۔
یہ کوئی عام جنگ نہیں ہے جو کہ سمجھی جا رہی ہے۔
تمام ممالک کی عوام کو ٹیلیوزن، میڈیا کے ذریعے کنٹرول کیا جا رہا ہے!

وہ رات جب پورا پاکستان ناچ رہا تھا، اور استنبول جاگ رہا تھا۔لاہور، کراچی، فیصل آباد، حیدرآباد—لبرٹی چوک، مینارِ پاکستان،...
03/01/2026

وہ رات جب پورا پاکستان ناچ رہا تھا، اور استنبول جاگ رہا تھا۔

لاہور، کراچی، فیصل آباد، حیدرآباد—
لبرٹی چوک، مینارِ پاکستان، کلفٹن، صدر، ڈی ایچ اے، بحریہ ٹاؤن۔
آتش بازی، موسیقی، سیلفیاں، فوڈ اسٹالز، “Happy New Year”۔

ایک کھوکھلا جشن. صرف تاریخ بدلی، حالات نہیں۔
جیسے غزہ میں ہمارے بچے قتل نہیں کیئے جا رہے رہے،
جیسے فلسطین میں ہماری نسل کشی نہیں ہو رہی،
جیسے ہمارے اپنے ہی ملک میں ہماری آوازیں خاموش نہیں کرائی جا رہیں۔

اور دوسری طرف— استنبول۔
نئے سال کی صبح۔
یخ بستہ ہوائیں۔
فجر کے بعد پانچ لاکھ بیس ہزار ترک سڑکوں پر۔
نہ پارٹی، نہ آتش بازی۔
صرف فلسطینی پرچم اور ایک آواز:
“ہم فلسطین کو نہیں بھولیں گے۔”

400 سے زائد این جی اوز۔
خوشیاں قربان۔
ضمیر زندہ۔

ایک مسلمان قوم ناچ رہی تھی،
دوسری ظلم کے خلاف کھڑی تھی۔

سوال سادہ ہے:
نیا سال کس نے منایا؟
وہ جس نے درد بھلا دیا؟
یا وہ جس نے درد اٹھا لیا؟

سبق یہی ہے:
خوشی صرف تاریخ بدلنے کا نام نہیں،
خوشی انصاف کے ساتھ حق پر حق کے لیئے کھڑے ہونے میں ہے۔

[یہاں آپ کی اصل پوسٹ ختم ہو]

New Year in Pakistan vs Istanbul | Gaza, Palestine & the real meaning of celebration

📅 2 جنوری 1492 اگر مسلمان اپنی تاریخ پڑھ لیں تو کبھی دین سے بیزار، سیکولر فتنوں کے اسیر اور اہلِ حق کے مخالف نہ بنیں۔تار...
03/01/2026

📅 2 جنوری 1492 اگر مسلمان اپنی تاریخ پڑھ لیں تو کبھی دین سے بیزار، سیکولر فتنوں کے اسیر اور اہلِ حق کے مخالف نہ بنیں۔
تاریخ ہمیں سکھاتی ہے کہ جب ہم اپنے نظریات پر قائم رہے، دشمنوں کو مات دی — اور جب جھکے، تو صرف زمین نہیں، وقار بھی چھن گیا۔

کیا کسی کو یاد ہے…؟
اندلس کبھی ہمارا تھا۔
آج بھی غرناطہ کی مٹی کسی نئے طارق بن زیاد کی منتظر ہے۔

📅 2 جنوری 1492
یہ دن مسلمانوں پر قیامت بن کر ٹوٹا۔
ہسپانیہ میں مسلمانوں کی 800 سالہ شاندار تاریخ کا خاتمہ ہوا
اور اسی دن امریکہ کے عروج کا سورج طلوع ہوا۔

اس رات غرناطہ میں وہ مناظر تھے جنہیں تاریخ بھی کانپ کر لکھتی ہے:
جہاں صدیوں تک اللہ اکبر کی صدائیں گونجتی تھیں،
وہاں ظلم، بے بسی اور چیخوں نے جگہ لے لی۔

شراب میں ڈوبے دشمن جشن منا رہے تھے،
اور غرناطہ کی زمین پر آگ بھڑک رہی تھی —
یہ آگ درختوں کی نہیں تھی،
یہ آگ مسلمانوں کی علمی میراث کو لگی تھی۔

🔥 عبدالرحمن الداخل کے عظیم کتب خانے کو نذرِ آتش کر دیا گیا
جہاں تین لاکھ سے زائد کتابیں علم کی روشنی بن کر محفوظ تھیں۔

اور اس قیامت کے عالم میں…
کچھ منافق حکمران
غرناطہ کی چابیاں
ملکہ ازابیلا اور فرڈیننڈ کے ہاتھوں میں تھما رہے تھے۔

تاریخ صرف ماضی نہیں،
یہ آئینہ ہے —
سوال یہ ہے:
کیا ہم آج بھی اس میں اپنا چہرہ دیکھنے کو تیار ہیں؟

Address

Karachi
75300

Telephone

00923412530026

Website

Alerts

Be the first to know and let us send you an email when Human Resource Development Welfare Organization posts news and promotions. Your email address will not be used for any other purpose, and you can unsubscribe at any time.

Share