14/10/2023
آج اگر میں ایک سوال کروں کہ یہ سنہرے گنبد والی جگہ کیا ہے؟
تو آپ میں سے 80فیصد لوگ کہیں گے کہ یہ مسجد القصی ہے۔
مگر آپ تمام سب 80 فیصد لوگ غلط ہیں۔
افسوس کہ بات تو یہ ہے کہ ہم خود کو مسلمان اور مسجد القصی کا محافظ قرار دیتے ہیں مگر ہمیں اتنا بھی معلوم نہیں کہ حقیقت میں مسجد القصی کون سی ہے۔
اس میں آپ لوگوں کی غلطی نہیں ہے۔
آج ہم انٹرنٹ پر جہاں بھی مسجد القصی سرچ کریں گے تو ہمیں حقیقی مسجد القصی کی بجائے یہ سنہرے رنگ والا گنبد دیکھایا جاتا ہے۔ یہودیوں کی سازش اور ہم مسلمانوں کی کم علمی ہے اور ہم اپنا مائنڈسیٹ بھی بنا چکے ہیں کہ یہی سنہرے گنبد والی عمارت ہی دراصل مسجد القصی ہے۔
اس سنہرے گنبد کے نیچے ایک چٹان ہے جہاں سے نبی پاک صل علیہ والہ وسلم نے اپنے معراج کے سفر کا آغاز کیا تھا۔ اس چٹان اور اس جگہ کی حفاظت کے لیے اس کے اوپر یہ سنہرے گنبد والی عمارت بنائی گئی تھی۔
حقیقی مسجد القصی جو مسلمانوں کا پہلا قبلہ ہے وہ اس سنہرے گنبد کے ٹھیک سامنے موجود کالے گنبد والی مسجد ہے۔
مسجد القصی کو انٹرنیٹ پر مسلمانوں سے اس لیے چھپایا جاتا ہے کیوں کہ عنقریب یہودی مسجد القصی کو شہید کریں گے۔
اور سنہرے گنبد کو دیکھا کر جواز یہ بنائیں گے کہ مسجد القصی تو بالکل ٹھیک ہے۔ جبکہ حقیقی مسجد کو یہ شہید کرچکے ہوں گے۔
یہودیوں کے مطابق مسجد القصی کے نیچے ہزاروں سال پرانی ان کی عبادت گاہ ہیکل سلیمانی موجود ہے۔ اور مسجد کو شہید کردیاجائےگا تب ان کا مسیحا دجال اس دنیا میں ظاہر ہوگا۔
ہیکل سلیمانی کی تعمیر سب سے پہلے حضرت داود علیہ السلام (اللہ کے نبی) نے شروع کی تھی مگر اپنی زندگی میں وہ اس کو مکمل نا کرسکے۔ پھر ان کے بیٹے حضرت سلیمان علیہ السلام (اللہ کے نبی) نے جنات کے ذریعے اس ہیکل سلیمانی کی تعمیر مکمل کروائی۔
ان تمام واقعات اور ناموں کے پیچھے پوری تاریخ ہے ۔ آپ انٹرنیٹ پر سرچ کر کے مزید جان سکتے ہیں.