The Reputed

The Reputed Welcome to "The Reputed" Family

"الحمدللہ، عوام کی سہولت کے لیے ہمارے پاس ہر چیز موجود ہے، ہم نے 110 سے55 روپے فی لٹر بڑھائے ہیں، اگر 110 ہی بڑھا دیتے ت...
08/03/2026

"الحمدللہ، عوام کی سہولت کے لیے ہمارے پاس ہر چیز موجود ہے، ہم نے 110 سے55 روپے فی لٹر بڑھائے ہیں، اگر 110 ہی بڑھا دیتے تو آپ لو گ کیا کرلیتے؟؟؟"
شمائلہ رانا، رہنما مسلم لیگ ن
یہاں یہ امر بھی قابل ذکر ہے کہ اس سے قبل وزیر مملکت حذیفہ رحمان بتا چکےہیں کہ "اوگرا نے قیمتوں میں 110 روپے فی لٹر اضافہ تجویز کیا، انہیں عالمی منڈی میں 200، 250 روپے اضافے کی توقع ہے، ہمیں لاک ڈاؤن کی آپشن بھی دی گئی"

خصوصی رپورٹ: سوشل میڈیا وائرل کلچر اور نکاح کا تقدسموضوع: حکیم بابر کی شادی اور ڈیجیٹل میڈیا کا غیر اخلاقی رویہ​حالیہ دن...
26/02/2026

خصوصی رپورٹ: سوشل میڈیا وائرل کلچر اور نکاح کا تقدس
موضوع: حکیم بابر کی شادی اور ڈیجیٹل میڈیا کا غیر اخلاقی رویہ
​حالیہ دنوں میں سوشل میڈیا پر حکیم بابر (عمر 60-70 سال) اور ان کی ملازمہ (عمر 22-24 سال) کی شادی کی خبریں گردش کر رہی ہیں۔ حکیم صاحب کے مطابق یہ نکاح گناہ سے بچنے اور ایک بیوہ کو سہارا دینے کے لیے کیا گیا، لیکن اس معاملے کو جس انداز میں میڈیا پر پیش کیا گیا، اس نے کئی اخلاقی سوالات کھڑے کر دیے ہیں۔
​اہم نکات اور عوامی ردعمل
​میڈیا کا غیر ذمہ دارانہ کردار: معروف اینکر پرسن یاسر شامی اور دیگر یوٹیوبرز کی جانب سے اس معاملے کو "چٹخارے" لے کر پیش کرنے پر سخت تنقید کی جا رہی ہے۔ عوامی حلقوں کا کہنا ہے کہ ماہِ رمضان کے تقدس کا خیال رکھے بغیر غیر مناسب حرکات اور ویڈیو شوٹس نے سماجی اقدار کو ٹھیس پہنچائی ہے۔
​نکاح بمقابلہ تماشہ: نکاح ایک سنتِ نبوی اور عظیم سماجی رشتہ ہے، مگر اسے وائرل ہونے کا ذریعہ بنا کر اس کی حرمت کو پامال کیا جا رہا ہے۔ سوشل میڈیا انفلوئنسرز صرف "کلکس" کی خاطر نجی زندگیوں کو سرِعام مذاق بنا دیتے ہیں۔
​پابندی کا مطالبہ: سوشل میڈیا صارفین کی ایک بڑی تعداد مطالبہ کر رہی ہے کہ پیمرا (PEMRA) اور متعلقہ اداروں کو ایسے مواد پر نظر رکھنی چاہیے اور ان تمام ٹک ٹاکرز یا اینکرز پر پابندی عائد کرنی چاہیے جو معاشرتی بگاڑ کا سبب بن رہے ہیں۔
​تجزیہ: "آزادیِ اظہارِ رائے کا مطلب یہ ہرگز نہیں کہ مذہب اور رشتوں کے تقدس کو پامال کیا جائے۔ سوشل میڈیا کو تفریح کے نام پر فحاشی اور بے ہودگی پھیلانے کا لائسنس نہیں ملنا چاہیے۔"
​نتیجہ
​معاشرے میں نکاح کو آسان بنانا خوش آئند ہے، لیکن اسے کمرشلائز (Commercialize) کرنا اور سستی شہرت کے لیے استعمال کرنا ایک خطرناک رجحان ہے۔ ضرورت اس امر کی ہے کہ ڈیجیٹل میڈیا کے لیے سخت ضابطہ اخلاق وضع کیا جائے تاکہ رمضان المبارک جیسے مقدس مہینوں اور سماجی رشتوں کا احترام برقرار رہے۔

‏قصور الہ آباد میں پیش آیا افسوسناک واقعہ‏ایف ایس سی کی طالبہ کو اپنے کلاس فیلو سے پیار ہوگیا،‏دونوں آپس میں ملنے لگے،‏پ...
26/02/2026

‏قصور الہ آباد میں پیش آیا افسوسناک واقعہ
‏ایف ایس سی کی طالبہ کو اپنے کلاس فیلو سے پیار ہوگیا،
‏دونوں آپس میں ملنے لگے،
‏پھر لڑکے نے چالاکی سے نجی لمحات کی ویڈیوز بنا لیں،
‏بلیک میلنگ کا سلسلہ شروع ہوا!
‏لڑکا متعدد بار لڑکی کو ویڈیوز دکھا دکھا کر بلیک میل کرتا اور رقم کا مطالبہ کرتا!
‏لڑکی نے اپنے سونے کے کانٹے دیئے جسے لڑکے نے بیچ کر اپنے لیے موبائل لیا
‏پھر عیاشیاں کرنے لگا، جب وہ رقم ختم ہوگئی تو مزید رقم کا مطالبہ کیا گیا،
‏یہ معاملہ جب گھر والوں کے علم میں آتا ہے تو وہ اپنی عزت کو بچانے کے لیے لڑکے کے گھر والوں کے پاس جاتے ہیں
‏التجا کی جاتی ہے کہ ہماری بیٹی کا رشتہ لے کر ہماری عزت کو بچا لیں
‏لڑکے کا باپ رشتہ لینے سے انکار کر دیتا ہے
‏لڑکی کے گھر والے جب مایوس واپس لوٹتے ہیں تو لڑکا پھر بھی باز نہیں آتا،
‏بار بار پیسوں کو مطالبہ کرتا ہے،
‏عامر کے مطالبے کے انکار پر اس نے پھر ویڈیوز کو سوشل میڈیا پر وائرل کرنے کی دھمکی دی،
‏جس پر ویڈیو کال کے دوران عامر نے لڑکی سے مطالبہ کیا کہ اگر تمہیں اتنا ہی شوق ہے تو پھر مجھے خود کشی کر کے دکھاؤ،
‏لڑکی نے اُٹھ کر خود کو پنکھے سے لٹکا دیا اور عامر یہ مناظر ویڈیو پر دیکھتا رہا!
‏بعد میں بھی عامر لڑکی کو میسج کرتا رہا کہ تم نے اپنا شوق پورا کر لیا؟
‏جب کہ لڑکی دنیا سے رخصت ہوچکی تھی
‏جب لڑکی کہ بہن کمرے میں آتی ہے تو وہ دیکھتی ہے کہ اک طرف اسکی بہن پنکھے سے لٹکی ہے جبکہ دوسری جانب موبائل آن ہے
‏وہ سارا کچھ ریکارڈ کر کے ثبوت میڈیا کو فراہم کردیتی ہے
‏نوٹ یہ واقعہ 14فروری کو ہوا جبکہ ایف آئی آر 28 فروری کو درج کی گئی
‏جس میں نہ 302
‏نہ ہی بلیک میلنگ اور نہ ہی زنا با لجبر یا رضا کی دفعات کو شامل کیا گیا

ڈاکٹر مہوش کا قصور صرف اتنا تھا کہ اس نے ایک فی میل مریضہ کے ساتھ آئے ہوئے مرد کو یہ کہہ تھا کہ  آپ باہر جاکر تھوڑا انتظ...
24/02/2026

ڈاکٹر مہوش کا قصور صرف اتنا تھا کہ اس نے ایک فی میل مریضہ کے ساتھ آئے ہوئے مرد کو یہ کہہ تھا کہ

آپ باہر جاکر تھوڑا انتظار کرلیں یہ خواتین کے بیٹھنے کی جگہ ہے آپ کی مریضہ کا چیک اپ کرکے میں اسے ابھی باہر بھیج دیتی ہوں

بس یہ سننا تھا اس خبطی پٹھان کا دماغ گھوم گیا کہ مجھے تم نے باہر جانے کا کہہ دیا اس وقت وہ چپ رہا

اس کی انا کو تکلیف ہوئی کہ مجھے آج تک کسی نے ایسے نہیں کہا کہ یہاں سے چلے جاؤ اور اس نے کیسے کہہ دیا اس کے بعد وہ انتظار میں رہا کہ کب یہ ڈاکٹر باہر نکلتی ہے ۔

جیسے ڈاکٹر مہوش اپنے گھر کے لیئے باہر نکلیں تو اس انسان نے بیچاری کو سات فائر مار کر شہید کردیا ۔

اور پھر موقع سے فرار ہوگیا وہاں پہ مہوش کے گھر والے انتظار کر رہے تھے کہ بیٹی ابھی تک گھر نہیں پہنچی

روزے افطار ہونے کا وقت ہونے والا ہے لیکن ان کو کیا پتا تھا کہ ان کی بیٹی نام نہاد عزت اور غیرت والے ایک پٹھان کی گولیوں کی نذر ہوچکی ہے

اس سے پہلے کوہاٹ میں ڈاکٹر وردا کی جان لی گئی پولیس بک گئی آج بلے کی ہٹی دوبارہ کھل چکی ہے بیچاری کے مارنے والے سر عام گھوم رہے ہیں

خیر لوگوں کو کیا جس کا جاتا ہے تکلیف اس کو ہوتی ہے اگر ہوسکے تو آواز اٹھا لیں تاکہ قیامت کے روز ہم منہ دکھانے کے قابل ہوں ڈاکٹر مہوش کے بچے ابھی بھی اپنی ماں کا انتظار کررہے ہے کہ ہماری مما ڈیوٹی پر ہے وہ گھر آجائے گی لیکن ان کو کیا پتہ کہ انسانی جانور کب ان کا قتل عام کرچکے ہے💔🥲
ڈاکٹر وردہ کو اگر انصاف مل جاتا
تو شاید آج کوہاٹ میں ڈاکٹر مہوش قتل نہ ہوتیں۔
بلے دی ہٹی کھل چکی ہے،
جے آئی ٹی رپورٹ وزیرِ اعلیٰ کی میز پر دھول کھا رہی ہے،
اور ڈاکٹر وردہ کے معصوم بچے آج بھی انصاف کے منتظر ہیں۔
ہسپتالوں میں سیکیورٹی نام کی کوئی چیز نہیں۔
ڈاکٹر روز اپنی جان ہتھیلی پر رکھ کر ڈیوٹی دے رہے ہیں۔
ہم مطالبہ کرتے ہیں:
🔴 ڈاکٹر وردہ کیس کی جے آئی ٹی رپورٹ پر فوری عملدرآمد
🔴 ڈاکٹر مہوش کے قاتلوں کی فوری گرفتاری
🔴 ہسپتالوں میں مؤثر سیکیورٹی نظام
انصاف میں تاخیر اب ناانصافی نہیں، شراکتِ جرم ہے۔
آج آواز نہ اٹھی تو کل کوئی اور ڈاکٹر ہوگا۔





😥😥😥😥

سعودی عرب کی ایک سڑک پر دو افراد گاڑی چلا رہے تھے کہ اچانک ان کا آپس میں ایکسیڈنٹ ہوگیا۔ ایک شخص کی گاڑی مکمل طور پر تبا...
19/02/2026

سعودی عرب کی ایک سڑک پر دو افراد گاڑی چلا رہے تھے کہ اچانک ان کا آپس میں ایکسیڈنٹ ہوگیا۔ ایک شخص کی گاڑی مکمل طور پر تباہ ہوگئی۔ اللہ تعالیٰ اسے اس کا بہترین بدل عطا فرمائے، آمین۔

عام طور پر ایسے موقع پر توقع یہی ہوتی ہے کہ دونوں ڈرائیور غصے میں گاڑیوں سے نکلیں گے، لڑائی جھگڑا کریں گے، ہنگامہ کھڑا ہوگا، پولیس کو بلائیں گے اور بات کو بڑھا دیں گے۔ لیکن یہاں منظر بالکل مختلف تھا۔

دونوں فوراً گاڑی سے نکلے اور سب سے پہلے ایک دوسرے کی خیریت دریافت کی:
"آپ ٹھیک ہیں؟"
"جی الحمدللہ، میں ٹھیک ہوں۔"

پھر ان میں سے ایک نے دوسرے سے کہا:
"یہ آپ کی غلطی نہیں، غلطی میری ہے۔"

اسی لمحے مغرب کی اذان ہوگئی۔ دونوں نے جھگڑے کے بجائے ایک طرف ہو کر نماز ادا کی، اور نماز کے بعد آپس میں مصافحہ کیا… اور حیرت انگیز طور پر وہ دوست بن گئے۔

یہ کوئی فلمی یا ڈرامائی منظر نہیں تھا بلکہ حقیقی واقعہ تھا۔ اس کی ویڈیو ریکارڈ ہوئی اور سوشل میڈیا پر وائرل ہوگئی۔ یہاں تک کہ آج ایک برطانوی اخبار نے اس پر سرخی لگائی:
"اسلام برداشت کا دین ہے"

یہ ویڈیو امریکہ، اسپین اور برطانیہ سمیت کئی ممالک کے میڈیا تک پہنچی اور لوگوں نے اس واقعے کو بہت پسند کیا۔ سب نے یہ بات محسوس کی کہ معافی واقعی عظمت ہے۔

اللہ تعالیٰ اسلام اور مسلمانوں کو عزت و سربلندی عطا فرمائے۔ آمین۔

حرم کے نزدیک زیادہ تر سٹورز پر عمرہ پر آئے لوگ خریداری کرتے نظر آتے ہیں میں بن داؤد سٹور سے کچھ سامان خریدنے گیا جب کاؤن...
07/12/2025

حرم کے نزدیک زیادہ تر سٹورز پر عمرہ پر آئے لوگ خریداری کرتے نظر آتے ہیں میں بن داؤد سٹور سے کچھ سامان خریدنے گیا جب کاؤنٹر پر پہنچا تو مجھ سے پہلے ایک پاکستانی بھائی کھڑا تھا جب کاؤنٹر پر بیٹھی خاتون نے بل بنایا تو وہ 23 ریال اور کچھ حلالے تھا اب بل دینے والے بھائی صاحب نے دو نوٹ نکال کر کاؤنٹر پر بیٹھی خاتون کے آگے کیے لیکن وہ بل نہیں لے رہی تھی خاتون نے پھر انگلش میں کہا 23 ریال بل ہے،

یہ سن کر پاکستانی بھائی نے ہیں جی کہا، میں نے انہیں بتایا کہ آپ کا بل 23 ریال ہے پاکستانی بھائی کے ہاتھ میں دو نوٹ تھے اوپر دس والا اور نیچے دو سو ریال والا وہ دو سو ریال کو بیس ریال سمجھ رہے تھے پاکستانی بھائی نے کہا کہ میں تیس ریال دے رہا ہوں، کاؤنٹر پر بیٹھی خاتون نے کہا یہ تیس نہیں بلکہ 210 ریال ہیں۔

یہ سن کر پاکستانی بھائی نے مجھ سے پوچھا کہ 20 اور 200 ریال میں فرق کیسے پتہ چلے گا میں نے بتایا کہ 200 والے میں 00 لگی ہیں اور 20 والے میں ایک صفر لگی دیکھ لیا کریں، پرانے بندوں کے ساتھ تو ایسا نہیں ہوتا لیکن نئے آنے والوں کو اکثر ایسی غلط فہمی ہو جاتی ہے کیونکہ 20 ریال اور 200 ریال کے نوٹ کا کلر تقریبآ ایک جیسا ہی ہے ڈیزائن اور سائز میں فرق ہے، اگر تو یہ دونوں نوٹ موجود ہوں تو فرق کرنا آسان ہے لیکن اگر ان میں سے کوئی ایک نوٹ موجود ہو تو صرف کلر کی بنیاد پر نیا بندہ فرق نہیں کر پائے گا۔

اسلام آباد میں افسوسناک واقعہ، سیکرٹریٹ چوک میٹرو اسٹیشن کے قریب تیز رفتار (وی ایٹ) گاڑی نے سکوٹی کو ٹکر ماردی ، اسکوٹی ...
03/12/2025

اسلام آباد میں افسوسناک واقعہ، سیکرٹریٹ چوک میٹرو اسٹیشن کے قریب تیز رفتار (وی ایٹ) گاڑی نے سکوٹی کو ٹکر ماردی ، اسکوٹی سوار 2 لڑکیاں جاں بحق۔
مبینہ طور پر بتایا جا رہا ہے کہ مذکورہ گاڑی چلانے والے لڑکے کا نام ابو زر ہےجس کی عمر 16سال ہے۔ اور یقیناً پاکستانی قانون کے مطابق اس کے پاس شناختی کارڈ اور ڈرائیونگ لائسنس بھی نہیں ہوگا۔
مبینہ طور پر بتایا جا رہا ہے کہ لڑکا کسی طاقتور شخصیت کا بیٹا ہے۔

02/12/2025

کراچی والوں کا آخر قصور کیا ہے؟

01/12/2025

کچھ دیر قبل مئیر کراچی نے پریس کانفرنس کی ۔۔انہوں نے فرمایا "بچے کے والدین کو تو اتنا افسوس نہیں ہوگا جتنا ان لوگوں کو جو فساد پھیلانا چاہتے ہیں
یہ بات کہنے کو بھی پتھر کا جگر مطلوب ہے ۔۔
انہیں کہنا تو یہ چاہیے تھا کہ کل ہی سروے کے ذریعے معلوم کریں گے کہ شہر میں کہاں کہاں مین ہولز پر ڈھکن نہیں ہیں اور اس ہفتے کے دوران اس کام کو مکمل کرنے کی ہدایات جاری کرتے۔۔ انہوں نے جھوٹوں اور منافقوں پر سیاسی لعنت بھیجی اور خود کو صادق وامین قرار دے لیا۔۔
بچے کی ماں ویڈیو میں ان حکومتی نمائندوں کے ہاتھ جوڑ رہی ہے کہ ہماری مدد کریں۔۔
ایک غریب خاندان اپنی جیب سے پیسے دے کر پیٹرول ڈلوا رہا ہے کہ مشینری حرکت میں آئے تو پتہ چلے نالے میں بچہ کہاں ہے۔۔
نالے کا نقشہ ہی نہیں کہ پتہ چلے اندر نالے کہاں کس مقام پر گرتے ہیں۔۔ ایک افرا تفری ہے۔۔۔
کہنے والے ٹھیک ہے تو کہہ رہے ہیں کہ اب کے رمضان میں اپنی زکوۃ شہر کراچی کو دی جائے کہ یہ شہر یتیم ہے۔
پہلا حق اس کا ہے کہ کم از کم اس کے نالوں پر ڈھکن ہی لگ جائیں اگلا کوئی ابراہیم اس کا شکار نہ ہو۔۔
ٹرالر سڑکوں پر موٹر سائیکلوں کو کچلتے پھر رہے ہیں ،سڑکیں کھنڈر۔۔
کئی سال بعد بیٹی پاکستان آئی۔ اجتماع عام سے جب کراچی پہنچی تو بولی:"اسلام آباد اور لاہور بھی تو اسی ملک کے شہر ہیں ۔کراچی کیوں کھنڈر بنا دیا ؟یہ کراچی کے لوگوں کی بے حسی ہے اپنے حق کے لیے نکلتے کیوں نہیں ہیں"؟
ہم کیا بتاتے کہ امیر شہر صادق بھی ہیں اور امین بھی۔۔
کیسی دردناک حقیقت سامنے آئی کہ ریاستی مشینری معصوم بچے کی لاش تلاش کرنے میں ناکام ثابت ہوئی ۔ ویسے مشینری نام کی تو کوئی چیز ہے ہی نہیں شہر میں ہنگامی اقدامات کے لیے ۔۔
جب وہ لاش بہتی ہوئی نالے تک پہنچی تو کچرا چننے والے نے اس کو بازیاب کرایا۔ پولیس والوں نے اس کے ساتھ بدسلوکی کی کیونکہ کریڈٹ وہ لینا چاہتے تھے ۔۔
ہم یہ ساری باتیں کر کے اگلے کسی سانحے کے انتظار میں بیٹھ جائیں گے۔۔
بس اب وقت ہے کہ نکلیں اور اس فرسودہ نظام کے خلاف چٹان بن جائیں۔۔
جہاں امیر شہر ایسا بے حس ہو وہاں ہمارے ٹیکسوں کا پیسہ کیوں جائے؟
دیار غیر میں کوئی کتا بھی نالے میں گرتا ہے تو ریاستی مشینری حرکت میں آجاتی ہے۔ ہم ٹھہرے جانوروں سے بھی گئے گزرے۔۔۔
اس شہر میں یہ پہلا واقعہ ہے نہ آخری
اگر یہ ہی ظالم حکمران ہم پر مسلط رہے ۔۔ اس لیے بس اب۔۔۔۔۔بدل دو نظام۔۔۔۔


یکم دسمبر 2025ء

ہ "ننھے ابراھیم کی لاش کھربوں کا بجٹ رکھنے والی بلاول بھٹو زرداری کی حکومت نے نہیں بلکہ کچرہ چننے والے لڑکے نے تلاش کرکے...
01/12/2025

ہ "ننھے ابراھیم کی لاش کھربوں کا بجٹ رکھنے والی بلاول بھٹو زرداری کی حکومت نے نہیں بلکہ کچرہ چننے والے لڑکے نے تلاش کرکے دی ہے ناسور محکمے یعنی کہ پولیس اہلکار لڑکے کے پاس پہنچے تو پہلے اس سے لاش کی تفتیش کی پھر اسے تھپڑ بھی مارے اور لاش لیکر ہمیں بتانے کی کوشش کی کہ یہ کارنامہ انکا ہے ، ہمارا مطالبہ ھیکہ کچرہ چننے والے لڑکے پہ تشدد کے مرتکب پولیس اہلکاروں کو نوکریوں سے برطرف اور اس لڑکے کو ہیرو قرار دیکر اسکے روزگار یا تعلیم کا حکومت باقاعدہ بندوبست کرے ایک تو یہ ویسے بھی ریاست کا کام ہے مگر چونکہ اس لڑکے نے بہت ذمہ واری کا ثبوت دیا ہے تو اسکی حوصلہ افزائی بہت زیادہ ضروری ہے۔"

رکشہ ڈرائیور رو پڑا یہ کہتے ہوئے کہ رکشہ آپ نے پکڑ لیا ،گھر کیسے جاؤں ؟بچے کھانا مانگیں گے ۔احباب کہہ رہے تھے کہ پروڈیکش...
01/12/2025

رکشہ ڈرائیور رو پڑا یہ کہتے ہوئے کہ رکشہ آپ نے پکڑ لیا ،گھر کیسے جاؤں ؟بچے کھانا مانگیں گے ۔
احباب کہہ رہے تھے کہ پروڈیکشن روکی ہے فی الحال !!!!
جو خبروں میں بتایا جاتا ہے اس کا حقیقت سے کوئی تعلق نہیں ہوتا ۔

یہ ہے وہ انسان دوست کراچی والوں کا ہیرو جس نے معصوم بچے کو ڈھونڈا اور ریسکیو اہلکاروں کو دیا  ❤️
01/12/2025

یہ ہے وہ انسان دوست کراچی والوں کا ہیرو جس نے معصوم بچے کو ڈھونڈا اور ریسکیو اہلکاروں کو دیا ❤️

Address

Karachi
72110

Website

Alerts

Be the first to know and let us send you an email when The Reputed posts news and promotions. Your email address will not be used for any other purpose, and you can unsubscribe at any time.

Contact The Organization

Send a message to The Reputed:

Share