12/12/2025
16دسمبر 1971 سقوط ڈھاکا
آج 16دسمبر 2025 کے حالات بہت مختلیف ہیں ۔شیخ مجیب الرحمان کی بیٹی انڈین ایجنٹ کو حکومت بنگلادیش نے غدار قرار دیا اور پھانسی کی سزا سنائی گئی ۔آج وہاں پر پاکستانی پرچم لہرایا جا رہا ہے ۔اور وہاں پر مقیم بہاریوں کو حکومت بنگلادیش شناخت جاری کر رہی ہے۔شائد بنگلادیش کو بھی اپنی ماضی کی غلطیوں کا احساس ہو چکا ہے ۔میں محمد وسیم حکومت پاکستان وزیر اعظم پاکستان اور چیف آف ڈیفنس فورس آرمی چیف آف پاکستان سید عاصم منیر سے بھی مطالبہ کرتا ہوں کے پاکستان میں رہائش پذیر محافظ اور ہیروز اوف پاکستان بہاریوں کو بھی پاکستان شناخت کی پیچیدگی اور قانونی مسائل سے آزاد کیا جائے اور ہر بہاریوں کو شناخت جاری کیا جائے تاکے مستقبل کے نوجوان نسل پاکستان کو آگے لے جاسکيں اور نیشنل اسمبلی سے قانون پاس کروا کر انکے لئے آسانی پیدا کی جائے۔ 16دسمبر 1971 سے لیکر اسکے کی کہانی محمد وسیم کی زبانی کئی بہاری نوجوانوں نے پاک فوج میں شامل ہوکر سرحدوں کی حفاظت کی اور ڈھاکہ کے دفاع میں حصہ لیا ۔جنگ کے دوران پاک فوج اور پناہ گزینوں کو کھانا اور علاج فراہم کیا اور بہت سے خاندان کو گھر اور زرعی زمینیں ترک کردی۔جنگ کے بعد شیخ مجیب الرحمان نے بہاریوں کے ساتھ عبرت ناک سلوک کیا انہیں ہر چیز سے محروم کردیا۔ بہاریوں کو نئے ملک میں مشکوک نظر سے دیکھا گیا ۔رہائش سے محروم کردیا گیا اور کمپوں میں رکھا جانے لگا ۔گھر چھین لیا گیا عزت دولت سب لوٹ لی گئی حقوق سے بھی محروم کردیا کافی مرد اور بچوں کی بھوک سے اموات ہوئی آدھی نسل ہم کھو بیٹھے بہت سے بہاریوں کو وطن واپسی کا موقع ملا اور جبکے دیگر کو رہائش اور قانونی مسائل کا بھی سامنا رہا۔بہاریوں کی قربانی کو یاد رکھنا ضروری ہے بہاریوں نے صرف پاکستان کی دفاع کی ایک کوٹھ ہے بلکے بہاری قوم کی وفاداری اور صبر کا ثبوت ہے ملک اور پاکستانی پرچم کے خاطر سب کچھ لوٹا دیا۔آدھی روٹی کھائیں گے اپنے ملک واپس جائیں گے انکے خواب بھی پاکستان کے نئے حکومت نے خواب ہی رہنے دئے جو لوگ مجبور تھے وہ وطن واپس نا آسکے اور جو آگئے انکے پاس رہنے کے لئے اور کچھ کھونے کے سوا کچھ نا تھا ۔میری حکومت پاکستان سے اپیل ہے کے ہماری قربانی کا سلا ہمارے آنے والی نسل کو مشکلات سے دور رکھا جائے اور انکے لئے آسانی پیدا کی جائے ۔