18/06/2026
حنیف اسعدی ……ادب شناس نعت نگار
———————————————-
ڈاکٹر عزیز احسن
ستَّر کے عشرے میں اقبال صفی پوری نے ناظم آباد،کراچی، میں کل پاکستان نعتیہ مشاعروں کا انعقاد کیا تھا جوہر سال منعقد ہوتے تھے۔ان مشاعروں میں ملک بھر کے شعرا آتے تھے۔یہ سلسلہ چند سال بڑے شاندار طریقے سے جاری رہا۔ میں ان مشاعروں کے سامعین میں شامل ہوتار ہا۔ ایک شب جب مشاعرہ اپنے عروج پر تھا اور رات بھیگ چلی تھی، تو ایک شاعر جن کی داڑھی سنت کے مطابق اور زلفیں بڑی بڑی تھیں، مائک پر تشریف لائے اورتحت اللفظ کلام پڑھنا شروع کردیا:
شرحِ ام الکتاب……راستی کے نصاب……کذب کے سدِّ باب……دفترِاکتساب ……سارے نبیوں کے خواب……آپ اپنا جواب……رحمتِ بے حساب……اے درِ مستجاب …… اے رسالت مآب……تم پہ لکھوں سلام
شاعر کے لہجے کی گونج ، پڑھنے کا پُر وقار انداز، اور الفاظ کی نغمگی و سلاست۔محفل میں سما بندھ گیا۔ ہر مصرعے پر سبحان اللہ کی فلک شگاف صدائیں بلند ہوتی رہیں۔ رات کے پچھلے پہر نے ان صداؤں کوسرمدی نواؤں سے ہم آہنگ کردیا۔ اختتامِ کلام پر ایک صاحب نے، اپنی نشست سے اٹھ کر، اظہارِ پسندیدگی کے طور پر انھیں نذرانہ بھی پیش کردیا۔ اُس مشاعرے میں سب سے زیادہ داد پانے والے وہ شاعر حنیف اسعدی تھے۔
راقم الحروف نے ،وہاں انھیں ،پہلی بار دیکھا تھا۔ بعد ازاں ایک منقبی مشاعرہ بھی اُن کی صدارت میں پڑھنے کا اتفاق ہوا۔ پھر ۱۹۸۱ء میں جب میں نے نعتیہ انتخاب‘‘جواہرالنعت’’ مرتب کیا تو اُن کا کلام حاصل کرنے کی غرض سے ان کی خدمت میں حاضر ہوا ! انھوں نے اپنا کلام مرحمت فرماتے ہوئے نصیحت کی کہ ختم ِ نبوت کے منکرین کی کوئی نعت مجموعے میں شامل نہیں ہونی چاہیے۔اُن کی اس نصیحت سے ان کے راسخ العقیدہ مسلمان ہونے کا پکا ثبوت ملا ۔ اپریل ۱۹۹۵ء میں صبیح رحمانی نے ‘‘نعت رنگ’’ کا پہلا شمارہ شایع کیا تو اس میں حنیف اسعدی نے چندکتابوں پر تبصرہ کیا تھا۔ ان تبصروں میں جہاں انھوں نے کلام کے محاسن کا کھلے دل سے اعتراف کیا ،وہیں معنوی سطح پر محسوس کی جانے والی بے احتیاطیوں کی طرف بھی اشارے کردیئے۔ مثلا ً
اختر لکھنوی کی کتاب ‘‘سرکار ﷺ’’ پر تبصرہ کرتے ہوئے لکھا:
‘‘اختر لکھنوی کا شمار غزل کے اچھے شاعروں میں ہوتا ہے۔ غزل کی مشق کے بعد جب وہ نعت کی طرف آئے تو ان کی عقیدت خلوص اور لگن نے ان کے نعتیہ کلام کو زیادہ وقیع، معتبر اور پُرتاثیر بنادیا…………آگے لکھتے ہیں‘‘اختر لکھنوی بڑی احتیاط اور ادب کا مظاہر ہ کرتے ہیں۔ احتیاط کے باوجود چند مصرعے ایسے نظر سے گزرے جن پر نظرِ ثانی کرلی جاتی تو ایک اچھے گلدستے میں چند ناپسندیدہ پھولوں کی موجودگی سے جو کوتاہی محسوس ہوتی ہے ، اس کا آسانی سے ازالہ ہوسکتا ہے’’(نعت رنگ، ۱، ص۲۶۹)
اس تبصرے سے حنیف اسعدی کا منہجِ تنقید ، تقدیسی شاعری کے تقاضوں کی جانکاری اور شعری و شرعی اقدار و معیار کی بصیرت کا ادراک ہوتا ہے۔اظہار کی بے باکی بھی جھلکتی ہے۔ نعت رنگ میں ان کا کلام بھی شایع ہوتا رہا۔راقم الحروف کی، گاہے بہ گاہے ان سے ملاقاتیں بھی ہوتی رہیں۔ نعتیہ شاعری کے لیے جس ادبی اسلوب اور فنی سبھاؤ کی ضرورت ہے وہ تو ان کے کلام سے ظاہر ہے۔ وہ صرف گفتار کے غازی نہ تھے، بل کہ نعت میں حُبِّ رسول ﷺ کا اظہار کرتے تھے تو اس کا گہرا پرتو، ان کے شب و روز کے اعمال پر محسوس بھی ہوتا تھا۔
حنیف اسعدی کا اصل نام حنیف احمد تھا، انھوں نے اپنے والدِ گرامی (محمد صدیق حسن اسعد شاہ جہاں پوری) سے فیضِ سخن پایا تو نام کے ساتھ ‘‘اسعدی’’ کا لاحقہ لگالیا۔ بھارت کے شہر شاہجہاں پور میں ۱۹۱۹ء میں پیدا ہوئے ۔ علی گڑھ مسلم یونی ورسٹی سے بی اے۔ تک تعلیم حاصل کی ۔ پاکستان نیوی میں ملازمت کی اور وہاں سے فراغت کے بعد ہومیو پیتھک کا کلینک چلایا۔ پہلا نعتیہ مجموعہ ‘‘ذکرِ خیر الانام’’ اور دوسرا ‘‘آپﷺ’’ کے نام سے شایع ہوا۔ نعتیہ شاعری میں ‘‘تو’’، ‘‘تم’’ ،‘‘تیری’’، ‘‘تیرے’’ جیسے الفاظ سے قصداً گریزکرتے تھے، انھوں نے اس حوالے سے ایک تحریک بھی چلائی۔ لیکن بعض اہلِ علم نے شاعری میں ان الفاظ کو قرینے سے برتنے کو معیوب نہیں جانا ۔ اس موضوع پر نعت رنگ میں کچھ مضامین بھی شایع ہوئے ۔
شاعری میں فنی پختگی، شرعی بصیرت ، اظہار کی سلاست اور خیال کی پاکیزگی ، کے باعث، حنیف اسعدی ، نعت گو شعرا میں ممتاز نظر آتے ہیں۔ویسے تو انھوں نے ہر ہیئتی صنفِ سخن میں طبع آزمائی کی ،لیکن نعتیہ متن(Text) کچھ اس انداز سے شعری قالب میں ڈھالا کہ یہی صنفِ مقدس ان کی پہچان بن گئی۔
چند نعتیہ اشعار ملاحظہ ہوں:
سب کو بقدرِ ظرف ملا ہے شعورِ ذات
اُمِّی لقب پہ ختم ہوئی آگہی تمام
(ذکر ِ خیر الانام)
اِس منزلت پہ مسجدِ اقصیٰ بھی ہے گواہ
ختم الرُّسُل امام، نبی ؑ مقتدی تمام
ختم نبوت کے متنی رنگ حنیف اسعد ی کے نگار خانہء فن میں زیادہ نظر آتے ہیں:
کوئی ہادی اب نہ آئے گا نہ اُترے گی کتاب
حشر تک کے واسطے فرمانِ پائندہ ہیں آپؐ
وہ آخری سفیر ہیں دینِ حنیف کے
اُن پر ہوا ہے سلسلۂ رہبری تمام
کوئی ان کے بعد نبی ؐ ہوا ،نہیں ان کے بعد کوئی نہیں
کہ خدا نے خود بھی تو کہہ دیا، نہیں ان کے بعد کوئی نہیں
وہ قدم اُٹھے تو بیک قدم ہمہ کائنات تھی زیرِ پا
یہ بلندیاں کوئی چھو سکا ، نہیں ان کے بعد کوئی نہیں
بعض اشعار تو ایسے ہیں کہ بیان کی سلاست اور معنوی حسن کے باعث زباں زدِ خاص و عام ہوگئے ہیں۔ مثلاً
گماں تھے ایسے کہ آثار تک یقیں کے نہ تھے
حضور آپؐ نہ ہوتے تو ہم کہیں کے نہ تھے
(ذکر ِ خیر الانام)
کیا ہے آپؐ نے ایسے بتوں کو بھی پامال
جو نیَّتوں میں چھپے تھے ، جو آستیں کے نہ تھے
یارب یہ تمنا ہے کہ نازل ہو وہ ہم پر
جو نعت ابھی قرض ہے قرطا س و قلم پر
نگاہِ حق میں مقامِ محمدی کیا ہے
یہ روشنی ہی سے پوچھو کہ روشنی کیا ہے؟
عین مدحت ہے محمدؐ کہنا
نام ایسا کہ ثنا ہو جیسے
حنیف اسعدی ، اپنی شعری صداقت،لہجے کی انفرادیت اور جذبے کی پاکیزگی کے باعث آج بھی اپنی لازوال شاعری کی وساطت سے سوشل میڈیا پر چھائے ہوئے ہیں۔اپنی ایک نظم میں وہ اہلِ وطن کو ،حصولِ وطن کے لیے کیے جانے والا ‘‘عہد’’ یاد دلاتے ہیں ۔ان کی اس نظم کا پس منظر تاریخی ہے ،لیکن اس میں، پیش منظر کی طرف بھی واضح اشارے موجود ہیں۔ نظم کا متن عمومی (General) ہے لیکن اس پر اسلامی فکر کی گہری چھاپ ہے:
وفا کے خوگروفا کریں گے یہ طے ہوا تھا
وطن کی خاطر جیے ،مریں گے ،یہ طے ہوا تھا
بوقتِ ہجرت ،قدم اٹھیں گے جو سوئے منزل
تو بیچ رستے میں دم نہ لیں گے ،یہ طے ہوا تھا
چہار جانب بہار آئی ہوئی تھی لیکن
بہار کو اعتبار دیں گے، یہ طے ہوا تھا
تمام دیرینہ نسبتوں سے گریز کرکے
نئے وطن کو وطن کہیں گے،یہ طے ہوا تھا
خدا کے بندے ،خدا کی بستی بسانے والے
خدا کے احکام پر چلیں گے،یہ طے ہوا تھا
بغیرِ تخـصیصِ پست و بالا ،ہراک مکاں میں
دیئے مساوات کے جلیں گے،یہ طے ہوا تھا
کسی بھی الجھن میں رہبروں کی رضا سے پہلے
وام سے اِذْنِ عام لیں گے،یہ طے ہوا تھا
تمام تر حل طلب مسائل کا حل کریں گے
جو طے نہیں ہے،وہ طے کریں گے،یہ طے ہوا تھا
نعتیہ شاعری ،حُبِّ رسول ﷺعام کرنے کا ذریعہ بھی ہے اور آپﷺ کی تعلیمات کے احیاء کا وسیلہ بھی۔ ملت کی بیداری کے لیے اٹھنے والی ہر صدا، در اصل ‘‘اذان’’ کا درجہ رکھتی ہے۔ حنیف اسعدی نے اس نظم میں ابنائے وطن کو ‘‘خدا کے احکام ’’ پر چلنے اور ‘‘مُساوات’’ قائم کرنے کا وعدہ یا د دلا یا جو اسلامی تعلیم کا طرَّۂ امتیاز ہے۔ان اشعار میں تذکیر کا پہلو ،قرآنِ کریم کی اس آیت کی ترجمانی کا عکاس ہے:
وَّذَکِّرْ فَاِنَّ الذِّکْرٰی تَنْفَعُ الْمُؤْمِنِیْن……(الذّٰاریٰت۵۱،آیت۵۵)(اور سمجھاؤ،کہ سمجھانا مسلمانوں کو فائدہ دیتا ہے……(ترجمہ: کنزالایمان)
اس نظم میں بالواسطہ نصیحت ہے، لیکن مکمل ادبی خوبی، شعری جمال اور لہجے کی انفرادیت کے ساتھ۔ یہ براہِ راست نعت نہیں ہے لیکن اس میں مذہبی حسیت کی روح جاری و ساری ہے۔
حنیف اسعد ی ،ایک قادرالکلام شاعر تھے۔مختلف ہیئتی اصناف ِ سخن میں ان کی مشق استادانہ تھی۔ تاہم انھوں نے غزل کی ہیئت میں جو نعتیہ اشعار کہے وہ رسولﷺ مرکزیت کا پرتو لیے ہوئے ہیں۔ انسانیت کو شعورِ تمدن نصیب ہونا، شریعت و طریقت کے رموز سے آشنائی، حضور ﷺ کا رحمتِ بے پایاں ہونا، آپﷺ کی حیاتِ طیبہ کا ہر انسان کے لیے عملی رہبری کے لیے نمونہ ہونا۔ سب کچھ ان کے اشعار کے متون (Texts) میں آگیا ہے:
کسے شعورِ تمد ن تھا آپؐ سے پہلے
نہ زندگی کی خبر تھی کہ زندگی کیا ہے
خدا گواہ، خدا کی کتاب کی صورت
حیاتِ پاک نمونہ ہے زندگی کے لیے
شریعت ، ضابطہ اُن کے عمل کا
طریقت ، رابطہ سینہ بہ سینہ
پتا خدا کا خدا کے نبیؐ سے ملتا ہے
یہ راستہ بھی انہی کی گلی سے ملتا ہے
کُنجِ حیات ، قعرِ جہنم سے کم نہ تھا
آپ آئے، زندگی پہ کھلا در بہشت کا
منشورِ زندگی ہو کہ دستورِ بندگی
عنواں ہیں آپؐ ہی تو ہراک سر نوشت کا
روح بن کر وسعتِ کونین میں زندہ ہیں آپؐ
صرف ماضی ہی نہیں ہیں، حال و آئندہ ہیں آپؐ
آپؐ کی ذات ہے وہ دائرۂ وصف و کمال
جو تصور میں سمائے ، نہ گماں میں آئے
بنا لیا ہے اُسے زندگی نے اپنا شعار
جہاں کہیں بھی وہ نقشِ قدم نظر آیا
ہم کو یہ سوچنا ہے کہ نزدیک ہیں کہ دور
اُنؐ کے لیے تو ایک سے ہیں اُمَّتِی تمام
اُس وقت درسِ امرو نہی آپؐ نے دیا
دنیا کو جب شعور نہ تھا ، خوب و زِشت کا
ان اشعار میں رسالت کی اہمیت، آپﷺ کی رفعتِ شان، آپﷺ کی سنت کی پیروی کی دعوت کے مضامین بڑے فنی سلیقے سے شعری بنت میں آئے ہیں۔ حنیف اسعدی نے نہ صرف طبع زاد شاعری کی ،بل کہ دوسرے شعرا کی شعری تصاویر میں بھی تضامین کی شکل میں رنگ بھرے۔ انھوں نے بڑی فراغ دلی سے اپنے معاصرین شعرا مثلاً شبنم رومانی، شاعر لکھنوی، راغب مرادآبادی وغیرہم کے کلام کی تضامین لکھیں۔راغب مرادآبادی کے ایک شعر کی تضمین ملاحظہ ہو:
وہ دعا تھی حنیف کی راغبؔ
آپ
سے خوش رہیں نبیؐ راغب
آپ کی بات بن گئی راغبؔ
وہ کہیں اپنا امَّتی راغبؔ!
اللہ اللہ عزت افزائی’’
(راغب مرادآبادی) (ایضاً)
شبنم رومانی کے شعر پر تضمین اس طرح کی:
خیر ہیں خیر کی آخری حد بھی ہیں
اعثِ کُن بھی ہیں، کُن کا مقصد بھی ہیں
خود بھی حامد ہیں، ممدوحِ سرمد بھی ہیں
‘‘آپؐ احمد بھی ہیں اور محمدؐ بھی ہیں
حمد ہے لازمی جزوِ نام آپؐ کا
(شبنم رومانی)(ایضاً)
شاعرلکھنوی کے شعر کی تضمین دیکھیے!
اُن کی نبیوں میں پہچان ، سب سے الگ
اُن کے امت پہ احسان سب سے الگ
ول،پیغام ، فرمان ، سب سے الگ
‘‘میرے آقاؐ کی ہے شان سب سے الگ
جیسے رُتبے میں قرآن سب سے الگ
(شاعر لکھنوی) (ایضاً)
قادرالکلام ہونے کے باوجود نعتیہ شاعری کرتے ہوئے حنیف اسعدی نے خود کو عاجز پایا اور برملا اعتراف کیا:
لاکھ کوشش کے باوجود حنیفؔ!
اُنؐ کی مدحت رقم نہیں ہوتی
مگر اک تازہ نعت لکھنے کی
دل سے حسرت بھی کم نہیں ہوتی
نُطق پر اختیار کے باوصف
فکر لفظوں میں ضم نہیں ہوتی
اُس طرف کا اگر اشارہ نہ ہو
طبع موزوں بہم نہیں ہوتی
دل خشیت سے کانپ اٹھتا ہے
عاجزی بھی رقم نہیں ہوتی
جب تلک وہ نگاہِ لطف آمیز
مائلِ صد کرم نہیں ہوتی
جب تلک دل سُلگ نہیں اُٹھتا
جب تلک آنکھ نم نہیں ہوتی
لاکھ کوشش کے باوجود حنیفؔ
اُن کی مدحت رقم نہیں ہوتی
)آپﷺ)
حنیف اسعد ی نے نگار فاروقی کے حمدیہ کلام [اللہُ الصمد]پر لکھتے ہوئے ،شعری محاسن کا ذکر ، اس طرح کیا تھا:
‘‘عقیدت کو اچھی زبان اور مناسب طرزِ بیان نصیب ہوجائے تو بات تاثیر کی حدوں کو چھولیتی ہے’’…… تقدیسی شاعری کے یہ اوصاف خود حنیف اسعدی کے اسلوب میں بدرجۂ اتم موجود ہیں۔
ان کے شعرِ عقیدت کو سراہنے والوں میں پروفیسر محمدمنور، سلیم احمد ، شبنم رومانی اور پروفیسر سحر انصاری جیسے ادب کے نباض لکھاریوں کے نام آتے ہیں۔
……………………………………………………………………………………………………………………………………
نوٹ: یہ مضمون سولھویں عالمی اردو کانفرنس(آرٹس کونسل آف پاکستان، کراچی) میں بروز جمعہ: یکم دسمبر ۲۰۲۳ء کو بڑھا گیا۔
٭٭٭