Naat Research Centre International

Naat Research Centre International Www.sabih-rehmani.com Founder & Secretary General - Syed Sabihuddin Rehmani
Director Dr Aziz Ahsan

حنیف اسعدی ……ادب شناس نعت نگار———————————————-ڈاکٹر عزیز احسنستَّر کے عشرے میں اقبال صفی پوری نے ناظم آباد،کراچی، میں کل...
18/06/2026

حنیف اسعدی ……ادب شناس نعت نگار
———————————————-
ڈاکٹر عزیز احسن

ستَّر کے عشرے میں اقبال صفی پوری نے ناظم آباد،کراچی، میں کل پاکستان نعتیہ مشاعروں کا انعقاد کیا تھا جوہر سال منعقد ہوتے تھے۔ان مشاعروں میں ملک بھر کے شعرا آتے تھے۔یہ سلسلہ چند سال بڑے شاندار طریقے سے جاری رہا۔ میں ان مشاعروں کے سامعین میں شامل ہوتار ہا۔ ایک شب جب مشاعرہ اپنے عروج پر تھا اور رات بھیگ چلی تھی، تو ایک شاعر جن کی داڑھی سنت کے مطابق اور زلفیں بڑی بڑی تھیں، مائک پر تشریف لائے اورتحت اللفظ کلام پڑھنا شروع کردیا:
‎شرحِ ام الکتاب……راستی کے نصاب……کذب کے سدِّ باب……دفترِاکتساب ……سارے نبیوں کے خواب……آپ اپنا جواب……رحمتِ بے حساب……اے درِ مستجاب …… اے رسالت مآب……تم پہ لکھوں سلام
‎شاعر کے لہجے کی گونج ، پڑھنے کا پُر وقار انداز، اور الفاظ کی نغمگی و سلاست۔محفل میں سما بندھ گیا۔ ہر مصرعے پر سبحان اللہ کی فلک شگاف صدائیں بلند ہوتی رہیں۔ رات کے پچھلے پہر نے ان صداؤں کوسرمدی نواؤں سے ہم آہنگ کردیا۔ اختتامِ کلام پر ایک صاحب نے، اپنی نشست سے اٹھ کر، اظہارِ پسندیدگی کے طور پر انھیں نذرانہ بھی پیش کردیا۔ اُس مشاعرے میں سب سے زیادہ داد پانے والے وہ شاعر حنیف اسعدی تھے۔
‎راقم الحروف نے ،وہاں انھیں ،پہلی بار دیکھا تھا۔ بعد ازاں ایک منقبی مشاعرہ بھی اُن کی صدارت میں پڑھنے کا اتفاق ہوا۔ پھر ۱۹۸۱ء میں جب میں نے نعتیہ انتخاب‘‘جواہرالنعت’’ مرتب کیا تو اُن کا کلام حاصل کرنے کی غرض سے ان کی خدمت میں حاضر ہوا ! انھوں نے اپنا کلام مرحمت فرماتے ہوئے نصیحت کی کہ ختم ِ نبوت کے منکرین کی کوئی نعت مجموعے میں شامل نہیں ہونی چاہیے۔اُن کی اس نصیحت سے ان کے راسخ العقیدہ مسلمان ہونے کا پکا ثبوت ملا ۔ اپریل ۱۹۹۵ء میں صبیح رحمانی نے ‘‘نعت رنگ’’ کا پہلا شمارہ شایع کیا تو اس میں حنیف اسعدی نے چندکتابوں پر تبصرہ کیا تھا۔ ان تبصروں میں جہاں انھوں نے کلام کے محاسن کا کھلے دل سے اعتراف کیا ،وہیں معنوی سطح پر محسوس کی جانے والی بے احتیاطیوں کی طرف بھی اشارے کردیئے۔ مثلا ً
‎اختر لکھنوی کی کتاب ‘‘سرکار ﷺ’’ پر تبصرہ کرتے ہوئے لکھا:
‎‘‘اختر لکھنوی کا شمار غزل کے اچھے شاعروں میں ہوتا ہے۔ غزل کی مشق کے بعد جب وہ نعت کی طرف آئے تو ان کی عقیدت خلوص اور لگن نے ان کے نعتیہ کلام کو زیادہ وقیع، معتبر اور پُرتاثیر بنادیا…………آگے لکھتے ہیں‘‘اختر لکھنوی بڑی احتیاط اور ادب کا مظاہر ہ کرتے ہیں۔ احتیاط کے باوجود چند مصرعے ایسے نظر سے گزرے جن پر نظرِ ثانی کرلی جاتی تو ایک اچھے گلدستے میں چند ناپسندیدہ پھولوں کی موجودگی سے جو کوتاہی محسوس ہوتی ہے ، اس کا آسانی سے ازالہ ہوسکتا ہے’’(نعت رنگ، ۱، ص۲۶۹)
‎اس تبصرے سے حنیف اسعدی کا منہجِ تنقید ، تقدیسی شاعری کے تقاضوں کی جانکاری اور شعری و شرعی اقدار و معیار کی بصیرت کا ادراک ہوتا ہے۔اظہار کی بے باکی بھی جھلکتی ہے۔ نعت رنگ میں ان کا کلام بھی شایع ہوتا رہا۔راقم الحروف کی، گاہے بہ گاہے ان سے ملاقاتیں بھی ہوتی رہیں۔ نعتیہ شاعری کے لیے جس ادبی اسلوب اور فنی سبھاؤ کی ضرورت ہے وہ تو ان کے کلام سے ظاہر ہے۔ وہ صرف گفتار کے غازی نہ تھے، بل کہ نعت میں حُبِّ رسول ﷺ کا اظہار کرتے تھے تو اس کا گہرا پرتو، ان کے شب و روز کے اعمال پر محسوس بھی ہوتا تھا۔
‎حنیف اسعدی کا اصل نام حنیف احمد تھا، انھوں نے اپنے والدِ گرامی (محمد صدیق حسن اسعد شاہ جہاں پوری) سے فیضِ سخن پایا تو نام کے ساتھ ‘‘اسعدی’’ کا لاحقہ لگالیا۔ بھارت کے شہر شاہجہاں پور میں ۱۹۱۹ء میں پیدا ہوئے ۔ علی گڑھ مسلم یونی ورسٹی سے بی اے۔ تک تعلیم حاصل کی ۔ پاکستان نیوی میں ملازمت کی اور وہاں سے فراغت کے بعد ہومیو پیتھک کا کلینک چلایا۔ پہلا نعتیہ مجموعہ ‘‘ذکرِ خیر الانام’’ اور دوسرا ‘‘آپﷺ’’ کے نام سے شایع ہوا۔ نعتیہ شاعری میں ‘‘تو’’، ‘‘تم’’ ،‘‘تیری’’، ‘‘تیرے’’ جیسے الفاظ سے قصداً گریزکرتے تھے، انھوں نے اس حوالے سے ایک تحریک بھی چلائی۔ لیکن بعض اہلِ علم نے شاعری میں ان الفاظ کو قرینے سے برتنے کو معیوب نہیں جانا ۔ اس موضوع پر نعت رنگ میں کچھ مضامین بھی شایع ہوئے ۔
‎ شاعری میں فنی پختگی، شرعی بصیرت ، اظہار کی سلاست اور خیال کی پاکیزگی ، کے باعث، حنیف اسعدی ، نعت گو شعرا میں ممتاز نظر آتے ہیں۔ویسے تو انھوں نے ہر ہیئتی صنفِ سخن میں طبع آزمائی کی ،لیکن نعتیہ متن(Text) کچھ اس انداز سے شعری قالب میں ڈھالا کہ یہی صنفِ مقدس ان کی پہچان بن گئی۔
‎ چند نعتیہ اشعار ملاحظہ ہوں:
‎سب کو بقدرِ ظرف ملا ہے شعورِ ذات
‎اُمِّی لقب پہ ختم ہوئی آگہی تمام
‎(ذکر ِ خیر الانام)
‎ اِس منزلت پہ مسجدِ اقصیٰ بھی ہے گواہ
‎ختم الرُّسُل امام، نبی ؑ مقتدی تمام
‎ختم نبوت کے متنی رنگ حنیف اسعد ی کے نگار خانہء فن میں زیادہ نظر آتے ہیں:
‎کوئی ہادی اب نہ آئے گا نہ اُترے گی کتاب
‎حشر تک کے واسطے فرمانِ پائندہ ہیں آپؐ
‎وہ آخری سفیر ہیں دینِ حنیف کے
‎اُن پر ہوا ہے سلسلۂ رہبری تمام
‎کوئی ان کے بعد نبی ؐ ہوا ،نہیں ان کے بعد کوئی نہیں
‎کہ خدا نے خود بھی تو کہہ دیا، نہیں ان کے بعد کوئی نہیں
‎وہ قدم اُٹھے تو بیک قدم ہمہ کائنات تھی زیرِ پا
‎یہ بلندیاں کوئی چھو سکا ، نہیں ان کے بعد کوئی نہیں
‎بعض اشعار تو ایسے ہیں کہ بیان کی سلاست اور معنوی حسن کے باعث زباں زدِ خاص و عام ہوگئے ہیں۔ مثلاً
‎ گماں تھے ایسے کہ آثار تک یقیں کے نہ تھے
‎حضور آپؐ نہ ہوتے تو ہم کہیں کے نہ تھے
‎(ذکر ِ خیر الانام)
‎ کیا ہے آپؐ نے ایسے بتوں کو بھی پامال
‎جو نیَّتوں میں چھپے تھے ، جو آستیں کے نہ تھے
‎یارب یہ تمنا ہے کہ نازل ہو وہ ہم پر
‎جو نعت ابھی قرض ہے قرطا س و قلم پر
‎نگاہِ حق میں مقامِ محمدی کیا ہے
‎یہ روشنی ہی سے پوچھو کہ روشنی کیا ہے؟
‎عین مدحت ہے محمدؐ کہنا
‎نام ایسا کہ ثنا ہو جیسے
‎حنیف اسعدی ، اپنی شعری صداقت،لہجے کی انفرادیت اور جذبے کی پاکیزگی کے باعث آج بھی اپنی لازوال شاعری کی وساطت سے سوشل میڈیا پر چھائے ہوئے ہیں۔اپنی ایک نظم میں وہ اہلِ وطن کو ،حصولِ وطن کے لیے کیے جانے والا ‘‘عہد’’ یاد دلاتے ہیں ۔ان کی اس نظم کا پس منظر تاریخی ہے ،لیکن اس میں، پیش منظر کی طرف بھی واضح اشارے موجود ہیں۔ نظم کا متن عمومی (General) ہے لیکن اس پر اسلامی فکر کی گہری چھاپ ہے:
‎وفا کے خوگروفا کریں گے یہ طے ہوا تھا
‎ وطن کی خاطر جیے ،مریں گے ،یہ طے ہوا تھا
‎بوقتِ ہجرت ،قدم اٹھیں گے جو سوئے منزل
‎تو بیچ رستے میں دم نہ لیں گے ،یہ طے ہوا تھا
‎چہار جانب بہار آئی ہوئی تھی لیکن
‎بہار کو اعتبار دیں گے، یہ طے ہوا تھا
‎تمام دیرینہ نسبتوں سے گریز کرکے
‎نئے وطن کو وطن کہیں گے،یہ طے ہوا تھا
‎خدا کے بندے ،خدا کی بستی بسانے والے
‎خدا کے احکام پر چلیں گے،یہ طے ہوا تھا
‎بغیرِ تخـصیصِ پست و بالا ،ہراک مکاں میں
‎دیئے مساوات کے جلیں گے،یہ طے ہوا تھا
‎کسی بھی الجھن میں رہبروں کی رضا سے پہلے
‎وام سے اِذْنِ عام لیں گے،یہ طے ہوا تھا
‎تمام تر حل طلب مسائل کا حل کریں گے
‎جو طے نہیں ہے،وہ طے کریں گے،یہ طے ہوا تھا
‎نعتیہ شاعری ،حُبِّ رسول ﷺعام کرنے کا ذریعہ بھی ہے اور آپﷺ کی تعلیمات کے احیاء کا وسیلہ بھی۔ ملت کی بیداری کے لیے اٹھنے والی ہر صدا، در اصل ‘‘اذان’’ کا درجہ رکھتی ہے۔ حنیف اسعدی نے اس نظم میں ابنائے وطن کو ‘‘خدا کے احکام ’’ پر چلنے اور ‘‘مُساوات’’ قائم کرنے کا وعدہ یا د دلا یا جو اسلامی تعلیم کا طرَّۂ امتیاز ہے۔ان اشعار میں تذکیر کا پہلو ،قرآنِ کریم کی اس آیت کی ترجمانی کا عکاس ہے:
‎وَّذَکِّرْ فَاِنَّ الذِّکْرٰی تَنْفَعُ الْمُؤْمِنِیْن……(الذّٰاریٰت۵۱،آیت۵۵)(اور سمجھاؤ،کہ سمجھانا مسلمانوں کو فائدہ دیتا ہے……(ترجمہ: کنزالایمان)
‎اس نظم میں بالواسطہ نصیحت ہے، لیکن مکمل ادبی خوبی، شعری جمال اور لہجے کی انفرادیت کے ساتھ۔ یہ براہِ راست نعت نہیں ہے لیکن اس میں مذہبی حسیت کی روح جاری و ساری ہے۔
‎حنیف اسعد ی ،ایک قادرالکلام شاعر تھے۔مختلف ہیئتی اصناف ِ سخن میں ان کی مشق استادانہ تھی۔ تاہم انھوں نے غزل کی ہیئت میں جو نعتیہ اشعار کہے وہ رسولﷺ مرکزیت کا پرتو لیے ہوئے ہیں۔ انسانیت کو شعورِ تمدن نصیب ہونا، شریعت و طریقت کے رموز سے آشنائی، حضور ﷺ کا رحمتِ بے پایاں ہونا، آپﷺ کی حیاتِ طیبہ کا ہر انسان کے لیے عملی رہبری کے لیے نمونہ ہونا۔ سب کچھ ان کے اشعار کے متون (Texts) میں آگیا ہے:
‎کسے شعورِ تمد ن تھا آپؐ سے پہلے
‎نہ زندگی کی خبر تھی کہ زندگی کیا ہے
‎خدا گواہ، خدا کی کتاب کی صورت
‎حیاتِ پاک نمونہ ہے زندگی کے لیے
‎شریعت ، ضابطہ اُن کے عمل کا
‎طریقت ، رابطہ سینہ بہ سینہ
‎پتا خدا کا خدا کے نبیؐ سے ملتا ہے
‎یہ راستہ بھی انہی کی گلی سے ملتا ہے
‎کُنجِ حیات ، قعرِ جہنم سے کم نہ تھا
‎آپ آئے، زندگی پہ کھلا در بہشت کا
‎منشورِ زندگی ہو کہ دستورِ بندگی
‎عنواں ہیں آپؐ ہی تو ہراک سر نوشت کا
‎روح بن کر وسعتِ کونین میں زندہ ہیں آپؐ
‎صرف ماضی ہی نہیں ہیں، حال و آئندہ ہیں آپؐ
‎آپؐ کی ذات ہے وہ دائرۂ وصف و کمال
‎جو تصور میں سمائے ، نہ گماں میں آئے
‎بنا لیا ہے اُسے زندگی نے اپنا شعار
‎جہاں کہیں بھی وہ نقشِ قدم نظر آیا
‎ہم کو یہ سوچنا ہے کہ نزدیک ہیں کہ دور
‎اُنؐ کے لیے تو ایک سے ہیں اُمَّتِی تمام
‎اُس وقت درسِ امرو نہی آپؐ نے دیا
‎دنیا کو جب شعور نہ تھا ، خوب و زِشت کا
‎ ان اشعار میں رسالت کی اہمیت، آپﷺ کی رفعتِ شان، آپﷺ کی سنت کی پیروی کی دعوت کے مضامین بڑے فنی سلیقے سے شعری بنت میں آئے ہیں۔ حنیف اسعدی نے نہ صرف طبع زاد شاعری کی ،بل کہ دوسرے شعرا کی شعری تصاویر میں بھی تضامین کی شکل میں رنگ بھرے۔ انھوں نے بڑی فراغ دلی سے اپنے معاصرین شعرا مثلاً شبنم رومانی، شاعر لکھنوی، راغب مرادآبادی وغیرہم کے کلام کی تضامین لکھیں۔راغب مرادآبادی کے ایک شعر کی تضمین ملاحظہ ہو:
وہ دعا تھی حنیف کی راغبؔ
‎آپ
‎سے خوش رہیں نبیؐ راغب
‎آپ کی بات بن گئی راغبؔ
‎وہ کہیں اپنا امَّتی راغبؔ!
‎اللہ اللہ عزت افزائی’’
‎(راغب مرادآبادی) (ایضاً)
‎شبنم رومانی کے شعر پر تضمین اس طرح کی:
‎خیر ہیں خیر کی آخری حد بھی ہیں
‎اعثِ کُن بھی ہیں، کُن کا مقصد بھی ہیں
‎خود بھی حامد ہیں، ممدوحِ سرمد بھی ہیں
‎‘‘آپؐ احمد بھی ہیں اور محمدؐ بھی ہیں
‎حمد ہے لازمی جزوِ نام آپؐ کا
‎ (شبنم رومانی)(ایضاً)
‎شاعرلکھنوی کے شعر کی تضمین دیکھیے!
‎اُن کی نبیوں میں پہچان ، سب سے الگ
‎اُن کے امت پہ احسان سب سے الگ
‎ول،پیغام ، فرمان ، سب سے الگ
‎‘‘میرے آقاؐ کی ہے شان سب سے الگ
‎جیسے رُتبے میں قرآن سب سے الگ
‎(شاعر لکھنوی) (ایضاً)
‎قادرالکلام ہونے کے باوجود نعتیہ شاعری کرتے ہوئے حنیف اسعدی نے خود کو عاجز پایا اور برملا اعتراف کیا:
‎لاکھ کوشش کے باوجود حنیفؔ!
‎اُنؐ کی مدحت رقم نہیں ہوتی
‎مگر اک تازہ نعت لکھنے کی
‎دل سے حسرت بھی کم نہیں ہوتی
‎نُطق پر اختیار کے باوصف
‎فکر لفظوں میں ضم نہیں ہوتی
‎اُس طرف کا اگر اشارہ نہ ہو
‎طبع موزوں بہم نہیں ہوتی
‎دل خشیت سے کانپ اٹھتا ہے
‎عاجزی بھی رقم نہیں ہوتی
‎جب تلک وہ نگاہِ لطف آمیز
‎مائلِ صد کرم نہیں ہوتی
‎جب تلک دل سُلگ نہیں اُٹھتا
‎جب تلک آنکھ نم نہیں ہوتی
‎لاکھ کوشش کے باوجود حنیفؔ
‎اُن کی مدحت رقم نہیں ہوتی
‎)آپﷺ)
‎حنیف اسعد ی نے نگار فاروقی کے حمدیہ کلام [اللہُ الصمد]پر لکھتے ہوئے ،شعری محاسن کا ذکر ، اس طرح کیا تھا:
‎‘‘عقیدت کو اچھی زبان اور مناسب طرزِ بیان نصیب ہوجائے تو بات تاثیر کی حدوں کو چھولیتی ہے’’…… تقدیسی شاعری کے یہ اوصاف خود حنیف اسعدی کے اسلوب میں بدرجۂ اتم موجود ہیں۔

‎ان کے شعرِ عقیدت کو سراہنے والوں میں پروفیسر محمدمنور، سلیم احمد ، شبنم رومانی اور پروفیسر سحر انصاری جیسے ادب کے نباض لکھاریوں کے نام آتے ہیں۔
……………………………………………………………………………………………………………………………………
‎نوٹ: یہ مضمون سولھویں عالمی اردو کانفرنس(آرٹس کونسل آف پاکستان، کراچی) میں بروز جمعہ: یکم دسمبر ۲۰۲۳ء ؁ کو بڑھا گیا۔
‎٭٭٭

نعت کے موضوعات اورخالد علی انصاری کی موضوع وار جمع آوری__________________________________________ڈاکٹر ریاض مجیدنعتِ رس...
18/06/2026

نعت کے موضوعات اورخالد علی انصاری کی موضوع وار جمع آوری
__________________________________________
ڈاکٹر ریاض مجید

نعتِ رسول اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کامرکزی موضوع تو حضرت محمد صلی اللہ علیہ وسلم کی تعریف ہے لیکن یہ موضوع اپنے ساتھ سینکڑوں نہیں ہزاروں اور موضوعات بھی لئے ہوئے ہے جن کاتعلق آپؐ کی سیرت و کردار، اسوہ مبارک اور فضائل حمیدہ سے ہے گزشتہ قریباًڈیڑھ ہزار سال میں ہونے والی نعتیہ شاعری کا اگر موضوع وار مطالعہ کیا جائے تو اُس میں موضوعات کی یہ رنگا رنگی دیکھی جا سکتی ہے اس بات کو ذرا واضح اور مربوط رکھنے کے لئے ہم ان موضوعات کی تفہیم دو طرح سے کر سکتے ہیں۔ افقی (Horizental)اور عمودی(Vertical) ۔ ایسے گراف میں افقی موضوعات وہ ہیں جو آپ صلی اللہ علیہ وسلم کی ذات مبارک ، سیرت طیبہ، شمائل و کردار، تعلیمات وپیغامات سے متعلق ہیں اور دوسرے عمودی موضوعات وہ ہیں جن میں آپ کے پیغامات ، شخصیت کردار اور فرمودات (دین ِا سلام) کے اثرات تک پھیلے ہوئے ہیں میں نے اپنے مقالے ’اردو نعت‘ پنجاب یونیورسٹی ، لاہور(۱۹۸۰ء) میں نعت کے موضوع کے حوالے سے لکھا تھا
’’بظاہر نعت کے موضوع کا تعین بہت آسان نظر آتا ہے اور یوں محسوس ہوتا ہے کہ نعت حضور اکرمؐکی مدح ہی کا نام ہے۔ لیکن اگر عربی ، فارسی اور اردو میں موجود نعتیہ کلام کا بغور مطالعہ کیا جائے تو اس موضوع کی عظمت اور وسعت کا اندازہ ہوتا ہے۔ اس میں کوئی کلام نہیں کہ ’’مدح‘‘ نعت کا اہم موضوع ہے اور صنف نعت کے آغاز ہی سے اسے نعت کے ایک مرکزی عنصر کی حیثیت حاصل رہی ہے۔ جب عربی میں باقاعدہ نعت نگاری شروع ہوئی تو کفار مکہ کی ہجو اور گستاخی رسولؐکے جواب میں مسلمان شاعروں نے مؤثر طور پر حضور اکرمؐکا دفاع کیا۔ نعت اسی لسانی جہاد کی پیداوار ہے۔ دربار رسالتؐکے شاعروں نے کفار کے رَد میں حضور اکرمؐ کے حسب نسب اور کردار وصفات کی توصیف وستائش میں جو مدحیہ منظومات لکھیں انہیں عربی نعت کے اولین نمونوں میں شمار کیا جاتا ہے۔
عربی کے اس ابتدائی سرمایہ نعت ہی کے مطالعہ سے اس موضوع کی وسعت کا اندازہ ہونے لگتا ہے۔ ہم دیکھتے ہیں کہ دربار رسالتؐسے وابستہ شاعروں کی نعتوں میں آپؐ کی سیرت مبارکہ کی صفت وثناء جمال ظاہری، شجاعت و سخاوت، دیانت وامانت اور صداقت و عدالت اور باطنی حسن کی تعریف، حضور ؐکے خُلق وہدایت کا بیان آپ ؐ کے آباؤ اجداد اور اصحاب وآل کی مدح، دوسرے پیغمبروں کے مقابلہ میں آپؐ کی فضیلت کا بیان اور اس کے ساتھ ساتھ اسلامی عقاید اور اسلامی تحریک کا تذکرہ اور تبلیغ اسلام میں حضورِ اکرمؐکی مساعیٔ جمیلہ کا ذکر ملتا ہے۔ یوں مدح کے ساتھ اسلام اور سیرت رسول اﷲؐکے لامحدود پہلوؤں کا تذکار، نعت کے موضوعات میں شامل ہوگیا۔ بعد کی نعتیہ شاعری خصوصاً فارسی میں شاعر کے اپنے احساسات بھی نعت کے مضامین میں شامل ہونے لگے۔ اب نعتوں میں مدینے سے دُوری کا احساس ، ہوا کے ذریعے روضۂ رسولؐتک پیغام رسانی ، درپیش مصائب میں آپؐسے فریاد اور د ادرسی کی خواہش یعنی استغاثہ واستمداد کے مضامین بھی نعت میں داخل ہوگئے۔ یوں ملت اسلامیہ کے اجتماعی مسائل بھی نعت میں قلمبند ہونے لگے۔ اور نعت کا دائرہ ’’مدح‘‘ سے پھیل کر مسلمانوں کے قومی وملی محسوسات کو محیط ہوگیا۔
زمان ومکان کی بدلتی ہوئی صورتحال میں جب آپؐ کی سیرت مبارکہ کے نئے نئے پہلو اور امکانات ظاہر ہوئے تو آپؐکے حوالے سے تہذیبی اور سماجی، تمدنی اور معاشرتی ، معاشی اور اقتصادی، سیاسی اور تاریخی ان گت موضوعات ومضامین نعت آشنا ہوتے چلے گئے۔ آج کے دَور میں نعتوں میں موضوعات کی یہ بوقلمونی اور رنگا رنگی بہ آسانی دیکھی جا سکتی ہے۔ نعت نے حضور اکرمؐکی مدح و توصیف کے علاوہ آپؐ کی ذات، حیات، غزوات، معجزات، صفات، تعلیمات، احسانات، عادات ومعمولات کے تذکار، شخصی وار دات وکیفیات کے بیان ، قومی وملّی مسائل کے ذکر اور انسانی وآفاقی تصورات ونظریات کے مختلف پہلووں کو ایک قرینہ اور سلیقہ سے اپنے اندر سمولیاہے۔ نعت نگاروں نے جن مضامین کو اپنے نعت پاروں میں کثرت سے استعمال کیا ہے وہ درج ذیل ہیں۔
نعت کے موضوعات کا ایک بڑا حصہ آپؐکی ذات سے متعلق ہے جس میں جماعت انبیاء میںآپؐکی فضیلت ، آپؐکا خاندانی شرف، نسلی امتیاز وبزرگی، آپؐ کا باعث تخلیق کائنات ہونا۔ کتب، سماوی میں آپؐکی تشریف آوری کی بشارت، آپؐکا پر توِجمالِ الٰہی اور مظہرِ نور ہدایت ہونا،عمل تخلیق میں آپؐ کے نورکی اوّلیت، آپؐکا صاحبِ خلق عظیم ہونا۔ آپؐکا خاتم النبین اور رحمۃ للعالمین ہونا،اپنے اپنے طور پر اپنی اپنی توفیق کے مطابق بیان کیا جاتا ہے۔
دوسرا حصہ آپؐکی حیات طیبہ کے بارے میں ہے جس میں آپؐ کی ولادت ، پرورش ، بچپن کے واقعات سے لے کر آپؐکی بعثت، اعلان نبوت ، کفار مکہ کی ایذار سانی ، ہجرت مدینہ میں آمد ، اسلامی سلطنت کے قیام اور وفات مبارک کا بیان ہوتا ہے۔ آپؐ کی سیرت اور سوانح ہی کے ضمن میں آپؐکے غزوات جنگِ بدر، احد، خندق اور فتح مکہ وغیرہ کا خصوصیت سے ذکر کیا جاتا ہے۔ نیز آپؐکے معجزات معجزئہ رجعت شمس و شق القمر، کنکری کا کلمہ پڑھنا، حیوانات ونباتات کا سجدہ تعظیمی کرنا، بتوں کی فریاد اور سر کے بل کَرنا اور واقعہ معراج وغیرہ کو بھی نعت کا موضوع بنایا جاتاہے۔
آپؐ کی ذات، غزوات اور معجزات کے ساتھ نعت کے دوسرے موضوعات آپ ؐکی صفات تعلیمات اور بنی نوع انسان پر آپ ؐ کے احسانات سے متعلق ہیں۔ آپ ؐ کی صفات میں آپ ؐکی امانت ، صداقت دیانت ، عدالت، شجاعت، نجابت، سخاوت، شرافت، اُخوت، محبت، بخشش، عنایت، جود وسخا، فضل و عطا، علم وحلم جیسے اعلیٰ اوصاف اور اخلاقی حمیدہ کا ذکر کیا جاتاہے۔ تعلیمات کے باب میں آپ ؐکے ارشادات خطبات، فرمودات، اسلامی تحریک کا تذکرہ اور تبلیغ اسلام کے لیے آپ ؐ کی مساعی جمیلہ کا بیان ہوتا ہے، احساناتِ نبویؐ میں دین اسلام، قرآن کریم، آپؐ کے منشور اور اسوہ وشریعت جیسے عطیات کے ساتھ آپؐ کی رحمت وشفاعت اور اس محبت وشفقت کا بھی ذکر کیا جاتا ہے۔ جو آپؐ کو اپنے اُمتیوںسے ہے۔
ان موضوعات کا بیان تمام تر جزئیات کے ساتھ نعت میں نظر آتا ہے،یوں ہم دیکھتے ہیں کہ نعت گو شعراء نے آپؐ کے تذکارِ مبارک کے سلسلے میں آپؐ کی عادات ، معمولات اور متعلقات کے ایک ایک پہلو کو مدنظر رکھا ہے اور انہیں انتہائی احترام اور شیفتگی سے جزونعت بنایا ہے۔ اس انداز کے مضامین نعت میں آپؐ کے ایفائے عہد ، عیادت وتعزیت کے طریق، انسانی ہمدردی اور غمخواری ، مہمان نوازی، دشمنوں سے حسن سلوک ، عفوودرگزر، حسن معاملات، وسعت قلبی واعلیٰ ظرفی، ایثار واحسان اور اسمائے صفات کے ساتھ آپؐ کی رفتار، گفتگو اور آپ ؐ کی مجلس کے آداب وغیرہ شامل ہیں۔ اسی طرح آپؐکے لباس ، خوراک ، آپؐ کی مہر نبوت ، حلیہ مبارکہ کی جزئیات جن میں قدم پنجے ، ایڑیوں اور ناخنوں تک کا ذکر ملتا ہے۔
آپؐ سے والہانہ محبت کے سبب نعت گوشعراء نے آپؐ کے نعلین ، لعاب، پسینہ ، اور نقشِ پا کو بھی نعت کا موضوع بنایا۔غرض آپؐکی ذات گرامی سے نسبت رکھنے والی ہر شے سے اپنا دِلی تعلق ظاہر کیا۔ اسی سبب نعت میں مدینے کی گلیوں ، سگانِ کوچہ وبازار ، خاک راہ ، سنگِ دراقدس سے عقیدت ومحبت کا اظہار، روضۂ اقدس کی سنہری جالیاں ، گنبدِخضرا، روضۂ رسولؐاور مسجد نبوی کا ذکر کثرت سے ملتا ہے۔
تمنائے زیارت، ہوا کے ذریعے آپؐ تک سلام وفریاد رسائی مسجد نبوی میں حاضری اور روضۂ رسولؐپر سلام درود پڑھنے کی خواہش کا اظہار بھی نعت کے اہم موضوعات میں شامل ہے، نیز اپنے گناہوں کا احساس اشک ندامت رسولؐ سے شفاعت طلبی ، اپنے غموں کے مداوا کے لیے رسولؐ سے فریاد، مدینہ جا کر رسول ؐکے روضہ پاک کی زیارت کی تمنا خواب میں دیدار کی آرزو، مدینہ میں دفن ہونے کی خواہش جیسے مضامین بھی نعت کا موضوع ہیں۔
اسی طرح نعتِ ذات رسالت مآبؐ کے محاسن، آنحضورؐ کی صفات وتعلیمات کے تذکار اور آپؐ سے محبت وشیفتگی کی واردات وکیفیات کے اظہار تک ہی محدود نہ رہی بلکہ اس نے اپنے اندر تہذیبی معاشرتی ، قومی وملی اور سیاسی وتاریخی احوال وواقعات کو بھی سمویا۔ عہد رسالت کی نعت گوئی کے اس جلوہ سامانیوں کا،ارتقائی جائزہ ڈاکٹر ارشاد شاکر اعوان کی کتاب ’’عہد رسالت میں نعت‘‘ کا موضوع خاص ہے۔اردو میںبقول نظیر لدھیانوی غالباً قومی شاعری سے نعت کا رشتہ مولانا حالی کی اس نعت سے ہوا ہے:
اے خاصۂ خاصانِ رسل وقت دعا ہے
امت پہ تری آکے عجب وقت پڑا ہے
مولانا حالی نے اس نعت میں اسلام کی شوکت وعظمت اور اوبار وزوال کی دوگونہ داستان نہایت موثر انداز میں بیان کی ہے غالباً اسی نعت سے متاثرہو کر علامہ اقبال اور مولانا ظفر علی خان نے بھی نعتیہ نظموں میں قومی اور سیاسی واقعات بیان کیے اور قومی شعراء نے سیاسیات کا مرکز حضوررسالت مآبؐ کی ذاتِ والا صفات کو بنایا۔
علامہ اقبال کی نظم ملّی اور منقبتی نظموں میں اسلام کا عکس صاف نمایاں ہے۔آپؐ کی رسالت تمام بنی نوع انسان کے لیے ہے۔ آپؐ اقوام عالم کے لیے رحمت اور پوری انسانیت کے محسن بن کر آئے لہٰذا آپؐکے فیضان رسالت اور پیغام نبوت کو کسی ایک قوم یا زمانے تک محدود نہیں رکھا جا سکتا۔ عصر حاضر میں روشن خیالی، انسانی مساوات، مواخات اور آفاقی تصورات کے جو چرچے ہو رہے ہیں اور انسان ترقی کی جومنزلیں طے کرتا نظر آرہاہے اس کے پس منظر میں آپؐ ہی کی اعلیٰ شخصیت اور روشن تعلیمات کار فرما ہیں۔ آپؐ کے پیغام نے انسانی زندگی، ثقافت ومدنیت، معاشرت وسیاسیات اور تاریخ وتہذیب پر جو صحت مند، روح پر ور اور خوشگوار اثر ڈالے ہیں ان کا عکس بھی نعت میں نظر آتا ہے۔ جدید نعت گوشاعروں کے ہاں آپؐکی عظمت کردار، خلق عظیم اسوئہ حسنہ منشور وشریعت کا مطالعہ اپنی ذات وقوم کے دائرے سے بڑھ کر انسانی آفاقی تصورات کے حوالوں سے نظر آنے لگا ہے۔ یوں عصر حاضر کی نعتوں میں آپؐ کا ذکر ومحسن انسانیت کے طور پر بھی نمایاں دکھائی دیتا ہے۔
آج کی نعت اپنے مرکزی موضوع مدح رسولؐ سے پھیل کر کائنات بھر کے مسائل کو محیط نظر آتی ہے۔ نعت کا موضوع بلاشبہ ارتقاء پذیر اور بتدریج بڑھنے والا موضوع ہے۔ آج حضور اکرمؐ کی سیرت طیبہ ان کی تعلیمات اور انسانی تہذیب ومعاشرت اور تایخ وسیاست پر ان کے بڑھتے ہوئے اثرات سے پیدا ہونے والے نت نئے محسوسات نعت کا موضوع بن رہے ہیں۔ جدید طرزِ احساس رکھنے والے تخلیقی شاعروں نے نعت کے لامحدود امکانات سمجھائے ہیں۔ بقول حفیظ تائب ’’گزشتہ چند برسوں سے نعت میں اس معیار اور معراج انسانیت کے حوالے سے اپنے احوال کا جائزہ لینے کا رجحان بہت عا م ہو رہا ہے اور زندگی کا ہر مسئلہ نعت کا موضوع بن رہا ہے، نعت کا کینوس وسیع سے وسیع تر ہوتا چلا جا رہا ہے۔‘‘
اس ضمن میں ممتاز حسین کی یہ رائے نہایت بلیغ، وقیع اور اہم ہے کہ ’’ہر وہ شے نعت ہے جس کا تاثر ہمیں حضور رحمۃ للعالمین کی ذاتِ گرامی سے قریب لائے۔‘‘ نعت میں یہی صورت موضوعات اور مضامین کی ہے۔ یعنی ہر وہ موضوع یا مضمون جس میں بالواسطہ یا بلاواسطہ حضورِ اکرمؐکی ذات، سیرت ، یاصفات کا کوئی نہ کوئی حوالہ آجائے نعتیہ کلام میں شامل ہے۔ یا ہر کوئی موضوع، وہ معاشرت وتمدن سے، جسے حضور اکرمؐ کے حوالے سے قلمبند کیا جائے نعت کا موضوع ہوگا۔ اس لئے کہ آپؐ کی بعثت کا مقصدِ اولین ہی حکارم اخلاق کی تکمیل واتمام ہے۔لہٰذا حضورؐ کا حوالہ ایک ایسا مقناطیس ہے جسے مس کرنے والا ہر موضوع نعت کے رنگ میں رنگا جاتا ہے۔
اس میں کوئی کلام نہیں نعت کا مرکزی موضوع حضورؐ کی مدح انؐ کا تذکار اور انؐ سے محبت کی کیفیات وارادت کا اظہار ہی ہے… مگر حضور اکرمؐ کی نسبت اور حوالہ کے سبب جس کا اوپر ذکر کیا گیا ہے۔ سینکڑوں ایسے موضوعات بھی دائرہ نعت میں شامل ہوگئے اور ہو رہے ہیں۔ جن سے بظاہر نعت کا کوئی تعلق نظر نہیں آتا مثلاً حضور اکرمؐ کی بعثت سے قبل زمانۂ جاہلیت میں عربوں کی عادات ومعاشرت اور تہذیب وتمدن کا احوال، سرزمین عرب کا جغرافیہ ، پہاڑ، ریگستان ، موسم آب وہوا اور عرب کی تاریخ وغیرہ۔ یہ موضوعات بظاہر تاریخ وجغرافیہ سے متعلق ہیں مگر نعتوں میں ان کا بیان بکثرت نظر آتا ہے۔ اسی طرح عمر انیات وسیاسیات اور اقتصادیات اور اخلاقیات ، ملت کی اخلاقی کجروی اور انتشار یا مغرب پرستی اور عصر حاضر کی مادیت زدہ زندگی اور اس سے پیدا ہونے والی گمراہی اور بداخلاقی کو بھی نعت نگاروں نے اپنے فن کا موضوع بنایا ہے۔
یہی حال نعت کے ضمن میں لکھی جانے والی حمد ومنقبت کا بھی ہے۔ ان موضوعات کی اگرچہ اصناف شعر میں جداگانہ اہمیت ہے مگر یہ بھی ایک حقیقت ہے کہ حمد وثنائے الہٰی کے حوالے سے بھی نعت رسولؐ اور صحابہ کرامl بزرگانِ دین کی منقبت تخلیق ہوتی ہے۔ عربی ، فارسی اور اردو کی نعتیہ شاعری میں ایسی کئی مثالیں ملتی ہیں جن میں حمد اور منقبت کے عناصر ضمنی حیثیت ہی میں سہی مگر نمایاں طور پر دکھائی دیتے ہیں۔ دراصل بنی نوع انسان پر حضورؐ کے فیضان اور احسانات اس قدر ہیں کہ ان کے تذکار کے وقت شاعر کے ذہن کا اس خالق کے حضور سجدہ شکر بجالانا جس نے حضورپاک ؐ کی شخصیت کی شکل میں کائنات کو اپنے سب سے بڑے کرم سے نوازا ایک فطری عمل ہے۔
حضور اکرمؐ کی سیرتِ طیبہ نے جس طرح اپنے اصحاب کے ذہن وکردار کو جلابخشی اور ان کی تربیت کے نتیجہ میں صحابہ کرامؓ کے بعد تابعین ، تبع تابعین، آئمہ کرام، اولیائے عظام اور بزرگانِ دین کا ایک لا متناہی سلسلہ نظر آتا ہے جن کی شخصیت وکردار کی تکمیل میں کسی نہ کسی شکل میں حضور اکرمؐ ہی کے فیضان ، تعلیمات ، اور اسوئہ حسنہ کی معجز نمائی اور کارفرمائی ملتی ہے۔ سونعت کی تخلیق میں صحابہ کرامl اور بزرگان دین کی مدح وتعریف اور فیوض وبرکات کا ذکر اور ان کی توصیف بھی نامناسب اور غیر متعلق نہیں۔
اسی سبب نعتیہ قصائد، مسدس اور منظومات کے آغاز میں حمد کے بہترین نمونے بھی نظر آتے ہیں اور نعتیہ کلام کی دوسری شکلوں میں بھی جزوی طور پر حمدیہ مضامین کی جھلکیاں مل جاتی ہیں۔ اسی طرح نعت میں کہیں کہیں صحابہ کرامؓ خلفائے راشدین اور اہل بیت کی فضیلت اور منقبت کے موضوعات بھی نظر آتے ہیں۔ خصوصاً استغاثہ واستمداد کے انداز میں نعتوں میں سیّدہ فاطمہؓ، حسنین کریمین کے حوالہ جات اور مضامین منقبت عام مل جاتے ہیں۔ اہل تشیع کی نعتوں میں اہل بیت اور اہل رسولؐ کی منقبت نمایاں نظر آتی ہے۔ شیعہ دبستان نعت میں منقبت اہل بیت کا رنگ بعض اوقات اتنا غالب ہو جاتا ہے کہ نعت رسول اﷲؐ پر منقبت اہل بیت کا گمان ہونے لگتا ہے۔
خلاصہ کلام یہ ہے کہ نعت متنوع موضوعات اور رنگا رنگ مضامین کی حامل صنف ہے۔ اس میں اگرچہ حضور اکرمؐ کی مدح اور تذکار کو ایک مرکزی دھارے کی حیثیت حاصل ہے، مگر نعت گو شاعروں کو درپیش مسائل ان کے عہد اور زمانے اور مزاج وماحول کے مطابق اس مرکزی دھارے میں دوسرے موضوعات کی لہریں بھی ملتی ہیں۔ نعت کا موضوع چونکہ مسلسل ارتقاء پذیر موضوع ہے اور ہر دَور کے تقاضوں ، تمدن ومعاشرت اور علوم کے مطابق اس موضوع کے نت نئے امکانات ظاہر ہوتے رہتے ہیں۔ اہل شعر وسخن حضو ر اکرمؐ کے حوالے سے ان امکانات کا جائزہ لے کر اپنے متنوع محسوسات شامل نعت کرتے رہتے ہیں۔
حضورا کرمؐ کی صفات کے ذکر میں زمانے اور ماحول کو بھی کافی دخل ہے۔ مختلف ادوار میں آنحضرتؐ کی مختلف صفات نعت کا موضوع بنیں اور بن رہی ہیں۔ مثلاً ملّت اسلامیہ کے عہد ابتلا کی نعتوں میں آپؐ کے خاتم النبین ہونے کا ذکر قومی جنگوں کے زمانے کی نعتوں میں آپؐ کی شجاعت اور جذبہ جہاد سے متعلق فرمودات اور آپ کے غزوات کے حوالے بکثرت ملتے ہیں شاعر کی طبیعت، عقاید، ذہنی افساد اور اس کے عہد کے شعری رویوں اور میلانات کے اثرات بھی موضوعاتِ نعت پر نمایاں نظر آتے ہیں۔ اہل حدیث اور اہل سنت والجماعت کے شاعروں نے اپنے اپنے عقاید کے مطابق موضوعات نعت انتخاب کیے ہیں۔ کہیں آپؐ کے سراپا مبارک کا بیان نمایاں ہے کہیں خصائل واخلاق کا، کسی کے ہاں آپؐ کی رسالت کے پہلو پر زور ہے تو کسی کے ہاںفضیلیت بشریت پر کہیں آپؐ کے معجزات کا بیان نمایاں ہے تو کہیں آپؐ کے پیغام رسالت کو زیادہ اجاگر کیا گیا ہے۔ کہیں آپؐ کی سیرت وسوانح کو منظوم کرنے کی کوشش کی گئی ہے تو کہیں آپؐ کے اسمائے صفات کو نظم کرنے کا شوق غالب ہے۔ اور کہیں ان تمام موضوعات کی ملی جلی صورت نظر آتی ہے۔

گزشتہ چالیس پنتالیس سال میں اس صنف کے موضوعات میں مسلسل اضافہ ہو رہا ہے لسانی جہاد کے لئے شروع کی جانے والے صنف جن زبانوں اور زمینوں سے گزاری اور جن شاعروں اور نعت نگاروں نے اسے اپنے خیالات و جذبات اور محسوسات و مشاہدات کا حصہ بنایا انہوں نے اس صنف کے موضوعاتی افق اور پھیلا دینے ان کے احساسات و جذبات نعت سے آمیز ہو کر اس صنف کے موضوعاتی دائرے کو بھی پھیلاتے رہے یوں اس موضوعاتی محیط کی تین بڑی بڑی قسمیں ہمارے سامنے آگئی ذاتی (Personal) مقامی(Regional/Local) اور آفاقی(Universal)وغیرہ ذاتی دائرے میں نعت نگاروں نے در پیش مسائل کو نعت کے لئے استعمال کیا ۔ ذاتی دکھ ، سیرت رسول مقبول صلی اللہ علیہ وسلم ، نجات طلبی ، گناہوں کی معافی، عفو و مغفرت وغیرہ مقامی موضوعات میں شہرِآشوب، امت مسلمہ کی خستہ حالی کے احوال کا بیان اور اس پر آپ کی چشمِ رحمت اور توجہ طلبی کے مضامین وغیرہ آفاقی موضوعات میں ایسے مضامین کابیان شامل ہے جن میں بنی نوع انسان کے در پیش مسائل، انسان پر آپ کی سیرت مبارکہ کے احساسات انسانیت کی زبوں حالی کا اظہار اور آپ صلی اللہ علیہ وسلم کا بطور محسن انسانیت کردار___موضوعات کی ان تینوں سطحوں کے ساتھ ایک اور موضوع مابعد الطبیاتی مسائل سے تعلق رکھتا ہے۔ جن میں انسان ، زندگی، موت، اس کی نفسیات برزخ اور آخرت کی زندگی کے مضامین و موضوعات ا ٓجاتے ہیں ۔ یہاں یہ بات ذہن میں رہے کہ سر زمین حجاز کی زمین، جغرافیہ،ثقافت، تہذیب ، دین اسلام کی تاریخ،ماقبل اسلام کے مذاہب، آپ صلی اللہ علیہ وسلم سے پہلے کے حالات آپؐ کے اصحاب، آپؐ کی آل مبارک سے لے کر آپ کی امّت کے افراد اور دوسری امتوں اور قوموں کے ساتھ ان کے تعلقات کی نوعیت__سب کچھ نعت کے دائرہ تخلیق میں آ جاتا ہے جیسے جیسے زمانہ بڑھ رہا ہے اور علوم و فنون کی نئی جہتیں نعت سے آشنا ہو رہی ہیں۔ موضوعات کا یہ دائرہ پھیلتا جا رہا ہے حضور صلی اللہ علیہ وسلم کا شہرِ مبارک(مدینہ) سلام، درود اور انسانی طبائع خصوصاً افرادملّت اسلامیہ اور امّت مسلمہ کے مسائل و احوال کا انفرادی سطح پر تعلق یا بحیثیت مجموعی ملّت اسلامیہ کے کسی پہلو ، حصّے میں ہونے والی کسی تبدیلی کا بالواسطہ یا بلا واسطہ جو بھی تعلق کسی صورت حال سے بنتا ہے۔ حسبِ مزاج (بلکہ حسبِ توفیق ذہنی کہنا مناسب ہو گا) نعت نگاروں نے اسے اپنی تخلیقی استعداد کے مطابق نعت رسول اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے موضوعات میں برتا ہے جس طرح دریا جہاں جہان سے گزرنا ہے راستے میں آنے والے میدانوں، صحراؤں اور وادیوں کے اثرات قبول کرتا چلا جاتا ہے اسی طرح نعت کی صنف امّتِ مسلمہ کے جن تخلیق کاروں کی فنّی مساعی کا حصہ بنی ہے اس صنف نے اس کے اثرات قبول کئے ہیں ۔ نعت کا مرکزی موضوع تو بلاشبہ حضور اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کی محبت اور ان کی سیرت و کردار مبارک کا بیان ہے اس حوالے سے ان کے شہر مبارک، اس کے متناسبات اور ان سے وابستہ شاعر کی عقیدت و محبت کا اظہار ہے لیکن اس کے ساتھ ساتھ تخلیقی اور تازہ بیان نعت نگاروں کے لئے ہر وہ موضوع جو نعت کہنے والے کی توجہ کسی نہ کسی حوالے سے رسول اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کی ذات سے براہ راست یا ضمنی طور پر منسلک ہو کر اظہار پذیر وہ جائے نعت کا موضوع بن جاتی ہے۔آپؐ کی حیاتِ مبارکہ بلکہ آپ کی آمد مبارک سے پہلے ’نبی منتظر‘ اور رسول موعود کے مبشرات سے لے کر آج جیمز ویب سپیس ٹیلی سکوپ تک سے منسلک خیالات آج کی نعت کا موضوع بن رہے ہیں۔
(۲)
اردو نعتیہ شاعری کا موضوعاتی انتخاب__ خالد علی انصاری کی تصنیف ہے جس کا موضوع نام سے واضح ہے یہ ضخیم انتخاب حضور اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کی نعت کے حوالے سے ہے اس کتاب کی انفرادیت اس کی ضخامت اس طرح کی دوسری کتابوں سے مختلف اور منفرد ہے اشعار کے انتخاب میں خالد صاحب کا حسن انتخابِ لائقِ تحسین ہے۔ اس جمع آوری کے پس منظر میں ان کی کئی سالوں کی محنت جھلک رہی ہے موضوعات کے اعتبار سے نعتیہ اشعار کی ترتیب بظاہر ایک آسان کام نظر آتا ہے لیکن عملی طور پر جب کوئی اس جمع آوری سے گزرتا ہے تو اسے اس کام کی مشکل کا انداز ہوتا ہے کہ یہ آسان کام بھی کتنا مشکل ہے اسماء اور اشیاء کے لحاظ سے شعروں کو الگ الگ کرنا اتنا مشکل نہیں لیکن جذبات، خیالات، تاثرات اور کیفیات کی بات ہو تو کئی با رسوچنا پڑتا ہے کہ ایسے شعروں کو الگ الگ کس عنوان کے تحت جمع کیا جائے مثلاً مدینہ، مسجد نبوی، ریاض الجنہ، گنبد خضرا، مواجہ شریف __اگر ان عنوانات کے تخت نعت کے وہ شعر جمع کر دیئے جائیں جن میں اسما اور اشیا کا ذکر آیاہے تو یہ کام نسبتاً آسان ہے لیکن مدینہ شریف میں حاضری کی کیفیت وہاں سے رخصت کا موقع، وہاں سے دُوری اور وہاں کی حضوری کے احوال کو الگ الگ کرنا اور مختلف عنوانات کے تحت جمع کرنا بہت دشوار ہے جذبہ در جذبہ ، کیفیت در کیفیت، انسانی محسوسات کے متنوع اور مختلف گوشے ہیں۔ ایک ایک گوشہ کی کئی صورتیں ہیں ریاضیاتی فارمولے سے انہیں الگ الگ خانوں میں بانٹنا بہت مشکل ہے ۔ نعت کا شعر جتنا تہہ دار اور بلیغ ہو گا اس کا موضوعاتی محیط اتنا ہی بڑا ہو گا مثلاً علامہ اقبال کی مختلف نظموں کے یہ نعتیہ مصرعے دیکھئے:
؎ دہر میں اسم محمدؐ سے اجالا کر دے
؎ نبضِ ہستی تپش آمادہ اسی نام سے ہے
دونوں مصرعوں میں آپؐ کے اسم مبارک کی بات ہوتی ہے مگر پہلے مصرع کی نسبت دوسرا مصرع زیادہ پُر معنی ہے اور آپؐ کے اسم مبارک کے ہی بلیغ تلازمات لئے ہوئے ہیں اب اگر نعتیہ موضوعات کی جدول میں آپ کے اسماء مبارکہ کے ذیل میں ان مصرعوں کو دکھا جائے تو اسم مبارک / احمد، محمد، مزّمل وغیرہ یا آپ کے اسماء کی برکات، تاثرات وغیرہ زمانے پر آپؐ کے اسماء اور ذات مبارک کے اثرات__محض لفظ اسم__مختلف اسمائے رسولؐ وغیرہ ان مصرع جات کو کس کس خانے میں رکھا جائے حافظ پیلی بھیتی کا یہ شعر دیکھئے:
اے ضعف مدد کر‘ در احمدؐ پہ گرا دے
دربان کہے اٹھ‘ کہوں اٹھا نہیں جاتا
اس شعر کا موضوع کیا ہے؟
۱۔ ضعف سے مدد طلب کرنا
۲۔ درَ احمدؐ
۳۔ دربان
۴۔ بغیر کسی حیلے بہانے اور مکر کے اظہار پہ‘ مواجہ کے سامنے زیادہ سے زیادہ عرصہ رہنے کی خواہش مگر اس احتیاط کے ساتھ کہ گرنے میں کسی مکر کا شائبہ نہ ہو یہ سب کچھ ایک سچی واردات کی طرح ہو۔
جیسا کہ مَیں نے پہلے نشاندہی کی ہے حضور اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کی محبت میں لکھے گئے ہزاروں اشعار ایسے ہیں جو کثیراطہات موضوعات سے متعلق ہیں برادرم خالد انصاری اشعار کی موضوعاتی درجہ بندی میں بیسوؤں بار کانٹ چھانٹ اور قبول درّد کے مرحلے سے گزرے ہوں گے۔
اشعار نعت اور موضوعاتِ نعت کی جداگانہ نشاندہی میں انصار ی صاحب جس مشقت سے گزرے ہیں اس کا اندازہ وہی لوگ لگا سکتے ہیں جن کا سابقہ کبھی ایسے کاموں سے پڑا ہے مثلاً نعت کے یہ دو شعر دیکھئے:
خوش رہیں تجھ کو دیکھنے والے
ورنہ کس نے خدا کو دیکھا ہے(ذہین شاہ تاجی)
اور
ہم نے کس دَور میں کھولی ہیں ظہوری آنکھیں
ان کو دیکھا نہ انہیں دیکھنے والا دیکھا
(انوار ظہوری)
ان اشعار کے موضوعاتی رخ کئی معنوی زاویے لئے ہوئے ہیں اگر ان شعروں کی تلازماتی وسعتوں میں جھانکا جائے تو موضوعات کی کئی پرتیں سامنے آتی ہیں اِن کا کسی ایک واضح موضوع کے تحت اندراج آسان نہیں۔
وقت کے ساتھ ساتھ نعت رسولِ اکرم صلی اللہ علیہ وسلم جن موضوعات کے اظہار سے گزری ہے وہ یک سطحی نہیں نفسیاتی ، سماجی، عمرانی، حسیاتی اور مابعد الطبیاتی رویوں سے ہم آمیز ہونے کے بعد نعتیہ مضامین کی شکلیں بہت مختلف ہو گئی ہیں آج کی نعت میں حمد، منقبت، اذکار صحابہ و اہل بیت،وطن، شاعر کی اپنی ذات، مسائل احوال و واقعات، ملّی آشوب، عالم بزرخ، میدانِ قیامت، جنت اور جانے کیا کیا تاثرات ایک نعتیہ قرینے اور اظہاری شائستگی کے ساتھ در آئے ہیں نعت نگار کے احساسات سے اُس کی معلومات تک ہزاروں مضامین اور موضوعات ایسے ہیں جن کی چاپ معاصر نعت کی راہداریوں میں سنائی دیتی ہے مثلاً یہ شعر دیکھئے
منظور تھی یہ شکل تجلّی کو ، نور کی
قسمت کھُلی ترے قد و رخ سے ظہور کی (غالب)
سبق ملا ہے یہ معراجِ مصطفیٰ سے مجھے
کہ عالمِ بشریت کی زد میں ہیں گردوں(اقبالؔ)

اُن کے فرمان تا ابد ضوریز
حرفِ تازہ ہے ترجماں ان کا(ارشد محمود ناشاد)

ایک شب سیر کو نکلے تھے شہہ کون و مکاں
اور پھر کون و مکاں‘ کون و مکاں تک نہ رہے( ابوالحسن خاور)

اے روشنیِ مقامِ محمود
سورج ترے سائے میں کھڑا ہے (توصیف تبسّم)

جو اُن کو دیکھ کر لکھنی ہیں، ہو ں کی کیسی نعتیں؟
وہ نعتیں جن کو جنت پر موّخر کر رہے ہیں(راقم)
وقت کے ساتھ ساتھ نعت رسول اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے موضوعات میں بھی اضافہ ہوتا رہاہے جیسے جیسے وقت گزر رہا ہے آپؐ کی سیرت و سوانح کے مطالعے کے نئے نئے زاویے پیدا ہو رہے ہیں مختلف علوم و فنون کی ترقی اور انسانی علم و دانش میں رونما ہونے والے سیرتی اثرات و مطالعات نے افکار کے کئی نئے در وازے کھول دیئے ہیں نعت نگاروں کی اکثریت جو سیرت کے معروف دائرے میں سے مضامین اخذ کرتی ہے وہ نعت کے مستعمل مضامین و موضوعات کی تکرار کرتے ہیںلیکن وہ اذہان جو تازہ علوم کی روشنی میں سیرت کا مطالعہ کرتے ہیں اور نعت میں تازہ کاری کے لئے پیہم متجسّس رہتے ہیں یا جن کا حسیاتی نظام وقت کی تبدیلیوں کے ساتھ متاثر ہوتا رہتا ہے وہ بعض اوقات تازہ مضامین کی تلاش میں کامیاب بھی ہو جاتے ہیں__نظم کی ہیئت میں لکھی گئی نعت میں تازہ تر موضوعات کی دریافت (غزل میں لکھی گئی نعت کی نسبت) زیادہ آسان ہے لہٰذا نعت میں ایسی تازگی کا احساس کبھی کبھار پہلے مطالعے ہی میں ہوجاتا ہے اور بعض اوقات نشاندہی پر ہوتا ہے ایسی صورت میں انصاری صاحب جسے جمع آوروں کا کام نسبتاً مشکل ہو جاتا ہے کہ وہ نعت کے تازہ بیانیے کو پرانے طے شدہ مروج اور مستعمل عنوانات میں کہاں رکھیں گے ۔
ان شعروں میں نعتیہ مضامین کی تازہ کاری نے کئی سائنسی انکشافات اور مابعد الطبیاتی مسائل کو نعتیہ موضوعات کے محیط میں داخل کر دیا ہے یوں کہا جا سکتا ہے کہ حُبّ رسولِ اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کی بنیاد سے جڑی ہوئی نعت آج اپنے موضوعاتی دائرے میں غیر محدود اور شمار میں نہ آنے والے محسوسات، مشاہدات، جذبات اور خیالات کی دنیائیں لئے ہوئے ہے۔
انصاری صاحب کا کام اس باب میں ایک اہم آغاز ہے ۔ معاصر نعت کے بیانیے میں طرح طرح کے مطالعات نعت نظر آتے ہیں ، لیکن اس حوالے سے مزید کام کرنے کی بڑی ضرورت ہے ۔ جناب طاہر سلطانی (مدیر جہان حمد کراچی)کے زیرِ اہتمام حمد و نعت کے حوالے سے گزشتہ تین سالوں سے جو بین الاقوامی کانفرنسیں منعقد ہو رہی ہیں ان میں حمد و نعت میں تازہ کاری کی ضرورت و اہمیت پر خصوصی توجہ دی جا رہی ہے اور سکالر حضرات اپنے مضامین مقالات میںنعت میں ہیئت اور موضوع کی جدّت اور تازگی کے مضامین کو پیشِ نظر رکھ رہے ہیں نعتِ رسول اکرم صلی اللہ علیہ وسلم سے وابستہ شاعروں کے لئے بھی ضروری ہے کہ وہ خوش سلیقگی کے ساتھ دنیا میں رُونما ہوتے واقعات اور سائنسی انکشافات کا مطالعہ کرتے ہوئے مذہبی تناظرات کو بھی پیشِ نظر رکھیں بقول شاعر
دنیا ئیں جو چھپی ہے تجسّس کی دھند میں
پہنچا ہے اس جگہ بھی سویرا حضورؐ کا
یہ وہی بات ہے جس کو علامہ اقبال نے آج سے قریباً سو سال پہلے بہت بہتر انداز میں یوں بیان کیا ہے۔
ہر کجا بینی جہانِ رنگ و بو
آں کہ از خاکش بروید آرزو
یا ز نورِ مصطفیٰ اُو را بہاست
یا ہنوز اندر تلاشِ مصطفیٰ است
سورہ طلاق کی یہ آیت بھی غور طلب ہے
اللَّہُ الَّذِیْ خَلَقَ سَبْعَ سَمَاوَاتٍ وَمِنَ الْأَرْضِ مِثْلَہُنَّ یَتَنَزَّلُ الْأَمْرُ بَیْْنَہُنَّ لِتَعْلَمُوا أَنَّ اللَّہَ عَلَی کُلِّ شَیْْء ٍ قَدِیْرٌ وَأَنَّ اللَّہَ قَدْ أَحَاطَ بِکُلِّ شَیْْء ٍ عِلْماً ہ
’’اللہ ہی تو ہے جس نے سات آسمان پیدا کئے اور ویسی ہی زمینیں بھی۔ ان میں اللہ کا حکم اترتا رہتا ہے تا کہ تم لوگ جان لو کہ اللہ ہر چیز پر قادر ہے۔ اور یہ کہ اللہ اپنے علم سے ہر چیز کا احاطہ کئے ہوئے ہے۔‘‘(سورہ طلاق:آیت نمبر ۱۲)
اس آیت کے بارے میں ابن عباس کی رائے کو ابو الاعلیٰ مودودی نے آیت مذکورہ بالا کی تشریح میں یوں لکھا ہے:
’’ انہی کے مانند‘‘ کا مطلب یہ نہیں ہے کہ جتنے آسمان بنائے اتنی ہی زمینیں بھی بنائیں ، بلکہ مطلب یہ ہے کہ جیسے متعدد آسمان اس نے بنائے ہیں ویسی ہی متعدد زمینیں بھی بنائی ہیں۔ اور ’’زمین کی قسم سے‘‘ مطلب یہ ہے کہ جس طرح یہ زمین جس پر انسان رہتے ہیں،اپنی موجودات کے لیے فرش او رگہوارہ بنی ہو ئی ہے اسی طرح اللہ تعالیٰ نے کائنات میں اور زمینیں بھی تیار کر رکھی ہیں جو اپنی اپنی آبادیوں کے لیے فرش اور گہوارہ ہیں۔بلکہ بعض مقامات پر تو قرآن میں یہ اشارہ بھی کر دیا گیا ہے کہ جاندار مخلوقات صرف زمین ہی پر نہیں ہیں، عالم بالا میں بھی پائی جاتی ہیں(مثال کے طور پر ملاحظہ ہو تفہیم القرآن ، جلد چہارم۔ الشوریٰ، آیت نمبر ۲۹، حاشیہ ۵۰) ۔ بالفاظ دیگر آسمان میں یہ جو بے شمار تارے اور سیارے نظر آتے ہیں، یہ سب ڈھنڈار پڑے ہوئے نہیں ہیں بلکہ زمیں کی طرح ان میں بھی بکثرت ایسے ہیں جن میں دنیائیں آباد ہیں۔
قدیم مفسرین میں سے صرف ابن عباس ایک ایسے مفسر ہیں جنہوں نے اس دور میں اس حقیقت کو بیان کیا تھا جب آدمی اس کا تصور تک کرنے کے لیے تیار نہ تھا کہ کائنات میں اس زمین کے سوا کہیں اور بھی ذی عقل مخلوق بستی ہے۔ آج اس زمانے کے سائنس دانوں تک کو اس کے امر واقعہ ہونے میں شک ہے، کجا کہ ۱۴ سو برس پہلے کے لوگ اسے با ٓسانی باور کر سکتے۔ اسی لیے ابن عباس ؓ عام لوگوںکے سامنے یہ بات کہتے ہوئے ڈرتے تھے کہ کہیں اس سے لوگوں کے ایمان متزلزل نہ ہو جائیں۔ چنانچہ مجاہد کہتے ہیں کہ ان سے جب اس آیت کا مطلب پوچھا گیا تو انہوں نے فرمایا’’ اگر میں اس کی تفسیر تم لوگوں سے بیان کروں تو تم کافر ہو جاؤ گے اور تمہارا کفر یہ ہو گا کہ اسے جھٹلاؤ گے‘‘قریب قریب یہی بات سعید بن جبیر سے بھی منقول ہے کہ ابن عباس نے فرمایا ’’کیا بھروسہ کیا جا سکتا ہے کہ اگر میں تمہیں اس کا مطلب بتاؤں تو تم کافر نہ ہو جاؤ گے‘‘۔ (ابن جریر۔ عبد بن حمید)۔ تاہم ابن جریر ، ابن ابی حاتم اور حاکم نے، اور شعب الایمان اور کتاب الاسماء والصفات میں بیہقی نے ابو الضحیٰ کے واسطے سے باختلاف الفاظ ابن عباس کی یہ تفسیر نقل کی ہے کہ:فی کلِّ ارضٍ نبیّ ْ ٗ کنبیِّکم و اٰدمُ کَاٰدَمَ و نوحْ ٗ کنوح و ابراہیم کابراہیم و عیسیٰ کعیسیٰ۔’’ان میں سے ہر زمین میں نبی ہے تمہارے نبی صلی اللہ علیہ وسلم جیسا اور آدم ہے تمہارے آدم جیسا اور نوح ہے تمہارے نوح جیسا، اور ابراہیم ہے تمہارے ابراہیم جیسا اور عیسیٰ جیسا۔‘‘ا اس روایت کو ابن حجر نے فتح الباری میں اور ابن کثیر نے اپنی تفسیر میں بھی نقل کیا ہے اور امام ذہبی نے کہا ہے کہ اس کی سند صحیح ہے البتہ میرے علم میں ابوالضحیٰ کے سوا کسی نے اسے روایت نہیں کیا ہے، اس لیے یہ بالکل ش*ذ روایت ہے۔ بعض دوسرے علماء نے اسے کذب اور موضوع قرار دیا ہے اور ملا علی قاری نے اس کو موضوعات کبیر (ص۱۹) میں موضوع کہتے ہوئے لکھا ہے کہ اگر یہ ابن عباس ہی کی روایت ہے تب بھی اسرائیلیات میں سے ہے۔ لیکن حقیقت یہ ہے کہ اسے رد کرنے کی اصل وجہ لوگوں کا اسے بعید از عقل و فہم سمجھنا ہے، ورنہ بجائے خود اس میں کوئی بات بھی خلاف عقل نہیںہے۔ چنانچہ علامہ آلوسی اپنی تفسیر میں اس پر بحث کرتے ہوئے لکھتے ہیں: ’’اس کو صحیح ماننے میں نہ عقلاً کوئی چیز مان ہے نہ شرعاً۔ مراد یہ ہے کہ ہر زمین میں ایک مخلوق ہے جو ایک اصل کی طرف اسی طرح راجع ہوتی ہے جس طرح بنی آدم ہماری زمین میں آدم علیہ السلام کی طرف راجع ہوتے ہیں اور ہر زمین میں ایسے افراد پائے جاتے ہیں جو اپنے ہاں دوسروں کی یہ بہ نسبت اسی طرح ممتاز ہیں جس طرح ہمارے ہاں نوح اور ابراہیم علیہ السلام ممتاز ہیں۔‘‘ آگے چل کر علامہ موصوف کہتے ہیں’’ممکن ہے کہ زمینیں سات سے زیادہ ہوں اور اسی طرح آسمان بھی صرف سات ہی نہ ہوں۔ سات کے عدد پر، جو عدد تام ہے ، اکتفا کرنا ا س بات کو مستلزم نہیں کہ اس سے زائد کی نفی ہو۔‘‘ پھر بعض احادیث میں ایک ایک آسمان کی درمیانی مسافت جو پانچ پانچ سو برس بیان کی گئی ہے اس کے متعلق علامہ موصوف کہتے ہیں: ھو من باب التقریب لِلاْفھام، یعنی اس سے مراد ٹھیک ٹھیک مسافت کی پیمائش بیان کرنا نہیں ہے، بلکہ مقصود بات کو اس طرح بیان کرنا ہے کہ وہ لوگوں کی سمجھ سے قریب تر ہو۔
یہ بات قابلِ ذکر ہے کہ حال میں امریکہ کے رانڈکارپوریشن (Rand Corporation)نے فلکی مشاہدات سے اندازہ لگایا ہے کہ زمین جس کہکشاں(Galaxy)میں واقع ہے صرف اسی کے اندر تقریباً ۶۰کروڑ ایسے سیارے پائے جاتے ہیں جن کے طبعی حالات ہماری زمین سے بہت کچھ ملتے چلتے ہیں اور امکان ہے کہ ان کے اندر بھی جاندار مخلوق آباد ہو(اکانومسٹ ، لندن۔مورخہ ۲۶ جولائی ۱۹۶۹ء)
(سید ابوالاعلیٰ مودودی(تفہیم القرآن )جلد پنجم،المدینۃ القرآن پرنٹنگ پریس لاہور،اپریل ۲۰۲۱ء،ص۵۵۳)
گزشتہ سال ۲۵؍ دسمبر۲۰۲۱ء کو ناسا(Nasa)کی طرف سے خلا میں بھیجے جانے والی دور بین جیمز ویب(JWST __جیمز ویب سپیس ٹیلی سکوپ) جس کی بھیجی ہوئی اولین تصاویر ۱۲ ؍ جولائی ۲۰۲۰ء کو موصول ہوئی ہیں قریباً چار ارب سال پہلے کائنات کی زیرِ تشکیل خاکے پر مشتمل ہیں۔ اب اس سے متعلقہ آثار کا سلسلہ ہائے تصاویر دیکھنے کو مل رہا تھا ۷۵۰ ء میں جس نبی محترم و معظم کی ولادت مسعود ہونے والی تھی جسے ختم رسالت اور رحمت للعالمین سے اللہ تعالیٰ کی آخری کتاب میں یاد کیاجاتا تھا؟انہوں نے جس کرہ ارض پر ظہور کرنا تھا اس کی ابتدائی ہیوے کی تصاویر سے نعت کوش اذہان کیا کیا خیال اخذ کر سکتے ہیں؟ کیسے کیسے تصورات میں سفر کرسکتے ہیں اور جذبات و احساسات کی کن کن سطحوں کو نعت بنا سکتے ہیں۔ اس کا احاطہ کون کر سکتا ہے؟
موجودات کے بارے تازہ انکشافات کی روشنی میں قرآن مجید اور احادیث رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم سے کیسے کیسے خیالات کشید کر سکتے ہیں؟ اس کے بارے میں ہم ابھی کوئی اندازہ نہیں لگا سکتے ہیں کائنات میں کتنے عالم کن کن صورتوں میں موجود ہیں اور ان سے آپ کی ذات مبارکہ اور رحمت للعالمینی کے انسلاک کی کیا کیا شکلیں ہیں اس کا اندازہ کس کو ہے؟
وہ دے رہا ہے ہمیں دعوت خیال ریاض
جو ہو چکا ہے جو کچھ اور ہونے والا ہے
نئے نعت نگار تازہ صورتِ کائنات اور سرورِ کائنات کی سیرت و پیغام والا صفات کو اپنے فکرو فن نے تخلیقی تناظرات میں کس طرح محسوس کریں گے؟ حضور اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے فیوض و برکات، بیش بینوں کی کیا کیا تصریحات اور کیسی کیسی توضیحات اہل دانش وحکمت کے تذکار میں آئیں گے اس کا تصور ہی نعت کوش اذہان کے لئے تعجب خیز بہجت کا سامان لئے ہوئے ہے۔
مستقبل کے کئی ’انصاریوں‘ کو اِن موضوعات نعت کی جمع آوری کرنی ہے قرآن کریم میں غور و فکر کی جو مستقل دعوت دی گئی ہے وہ یک سطحی نہیں ہمہ پہلو توجہ طلب ہے تخلیق کائنات کا عمل جو ہر لمحہ ایک نئی شان رکھتا ہے(سورہ رحمن) کی توسیعاتی توثیق اور علامتی تطبیق حضوراکرم صلی اللہ علیہ وسلم کی ذات اور تصورات کے امکانی تناظرات میں ہزاروں نئے نئے مضامین اور موضوعات لئے ہوئے ہے۔
انصاری صاحب کو اللہ توفیقاتِ مزید سے نوازے(آمین) مجھے امید ہے وہ اس کتاب کے بعد ‘اکیسویں صدی میں موضوعات نعت‘ کی جمع آوری پر بھی توجہ فرمائیں۔ انہوں نے ایک اہم کام پر جداگانہ انداز میں منفرد کام کیاہے اس کتاب کی اشاعت کے بعد نعت کے ریسرچ سکالر مختلف حوالوں سے اس پر تحقیقی و تنقیدی کام کریں گے تو اس کتاب کی اہمیت میں اور اضافہ ہو گا انہیں اس کام پر بہت بہت مبارک!
مَیں اپنے تاثرات اس رباعی پر ختم کرتا ہوں
توصیف شۂ مدینہ کی خوشبو کی
تعریف ‘ حضورؐ کے رُخ و گیسو کی
کس طور سے جمع آوری احمد نے
کی موضوعاتِ نعتِ اُردو کی؟



Address

B306 Gulistan E Jauhar Block 14
Karachi
75290

Alerts

Be the first to know and let us send you an email when Naat Research Centre International posts news and promotions. Your email address will not be used for any other purpose, and you can unsubscribe at any time.

Contact The Organization

Send a message to Naat Research Centre International:

Share