Al Faseeh Public Healthcare & Welfare Service

Al Faseeh Public Healthcare & Welfare Service AL-FASEEH PUBLIC HEALTHCARE & WELFARE SERVICES (AFPHWS) is a non-profit and non-governmental organization established in 2004.

AL-FASEEH PUBLIC HEALTHCARE & WELFARE SERVICES (AFPHWS) is a non-profit and non-governmental organization established in 2004 and registered in December 2011, under the Societies Registration Act XXI, 1860. We work with the most impoverished communities in the region of Sindh, AJK, Punjab and NWFP of Pakistan and trying to establish working relations in Balochistan province; responding to emergenc

ies, improving access to quality health and education, creating source of revenue opportunities and working closely with communities / NGO’s / Organizations and government departments to promote privileges, peace, safety & security. AFPHWS has a long history of working in the Sindh, Punjab & NWFP region and in March 2004; we had started with Free Medical – Clinic in Nayaabad – Karachi area, this clinic serve about 136 patients daily (mostly Women & Children), but due to unavoidable circumstances in the area, we were pressurized to close the clinic in September 2005. AFPHWS’s approach is based on developing close cooperation with local communities and relevant stakeholders from the start, and relies on detailed assessments to identify and prioritize needs of communities we work with.

12/11/2025
29/10/2025

*سید احمد کبیر رفاعی اکابرین و معاصرین کی نظر میں*

تحریر : *محمد ہاشم اعظمی مصباحی*
نوادہ ، مبارکپور ، اعظم گڈھ ، یوپی

خالقِ کائنات کے ہر کام میں حکمت ہوتی ہے اس کا کوئی کام مصلحت و حکمت سے خالی نہیں ہوتا اور ہمارا یہ عقیدہ ہے کہ اس کی ذات سے کسی بھی طرح کی لغزش کا سرزد ہونا محال قطعی ہے وہ اپنے جس بندے کو برگزیدگی اور رفعت و سربلندی کے لئے چن لیتا ہے وہ بندہ یقینی طور پر اس لائق ہوتا ہے کہ اسے رہروانِ منزل مقصود کا امیر منتخب کیا جائے اور یہ اک زندہ و جاوید حقیقت ہے کہ دنیا کبھی بھی علمائے راسخین ، اولیاۓ کاملین اور صوفیاۓ عاملین سے خالی نہ رہی اور نہ ان شاءاللہ رہے گی چونکہ یہ حضرات انبیائے کرام علیھم السلام کے سچے وارث و جانشین ہوتے ہیں اور اس وراثت کے لئے وہی اہل کمال چنے جاتے ہیں جنہیں خالقِ ارض وسما نے علوم ظاہری و باطنی ، فیوضات و برکات ، کشف و کرامات اور معارف و حقائق کے زیورات سے مزین فرمایا ہے ۔ کبیر الاولیاء حضرت سید احمد کبیر رفاعی رضی اللہ تعالیٰ عنہ کو رب العالمین نے اپنی حکمت و مصلحت کے مطابق ولایت عظمیٰ کے لئے چنا قطبیتِ اعلیٰ کے لئے منتخب فرمایا تو بجا طور پر وہ اس کے مستحق تھے کہ کبیر الاولیاء بن جائیں اور سید الاقطاب بن کر مخلوقِ خدا کی رہبری کا فریضہ انجام دیں ، اب اس ذات والا ستودہ صفات کی جلالت شان اور عظمت وبزرگی کو نہ تو زمانہ جھٹلا سکتا ہے نہ ہی تاریخی صفحات ان کی قدر شناسی سے صرف نظر کرسکتے ہیں ۔ حضرت سید احمد کبیر رفاعی کا شمار ان ممتاز و مشہور صوفیا و عارفین ، مستند اولیاۓ کاملین اور سرخیل مقبولان بارگاہِ الہی میں ہوتا ہے ، جن کی دعوت و تبلیغ ، تعلیم و تربیت ، صحبت واثر اور تزکیۂ نفوس کی برکت سے ہزارہا افراد نہ صرف یہ کہ راہِ حق پر گامزن ہوئے بلکہ مخلوق خدا کی شاہراہ حیات کے تابندہ نقوش بن گئے بلاشبہ آپ کی ذات علم شریعت وطریقت کی جامع اور " درکفے جام شریعت درکفے سندان عشق " کی مکمّل تفسیر تھی.
*اسم گرامی* : عالم اسلام کی اس نابغہ روزگار اور فقیدالمثال ہستی کا نام نامی اسم گرامی احمد بن علی یحی بن حازم بن علی بن رفاعہ ہے جد امجد رفاعہ کی مناسبت سے آپ رفاعی کہلاتے ہیں ۔

*ولادت با سعادت* : قطب اوحد امام الاولیاء ، استاذ العلماء ، سراج الاتقیاء ،سلطان العارفین ،برہان الواصلین ، شیخ الاسلام و المسلمین ، شیخ کبیر ، محی الدین ، غوث الثقلین ، بحر شریعت و طریقت ابوالعباس سید احمد کبیر رفاعی حسنی حسینی کاظمی رضی اللہ تعالٰی عنہ کی ولادت با سعادت 15 / یا یکم رجب المرجب کو 512 ھ بمطابق 1118ء بروایت دیگر یکم محرم الحرام 500 ھ میں موجودہ ملک عراق کی ریاست بصرہ کے شہر واسط کے قریب قصبہ بطائح کے قریہ امِّ عبیدہ کے حَسَن نامی بستی میں ہوئی اور اسی قریہ میں سلسلہ رفاعیہ کی داغ بیل ڈالی اور اب ام عبیدہ ہی کی سرزمین میں آسودہ خاک ہیں ۔ ( الدارالمنظم ، ج 1 ، ص : 198 / مراۃ الجنان ، ج 3 ، ص : 409 / مقالات احسانی ، 190 )

*تعلیم و تربیت* : بانی سلسلہ رفاعیہ حضرت سید احمد کبیر رفاعی رضی اللہ عنہ نے محض سات سال کی عمر میں قرآن شریف حفظ کرلیا اسی سال آپ کے والد ماجد کا انتقال ہوگیا والد ماجد کے انتقال کے بعد آپ کے ماموں جان شیخ المشائخ باز اشہب سید منصور احمد بطائحی رحمۃاللہ تعالیٰ علیہ نے آپ کو اور آپ کی والدہ محترمہ کو اپنے پاس بلا لیا تاکہ اپنی سرپرستی میں سید احمد کبیر رفاعی رضی اللہ عنہ کی ظاہری و باطنی تعلیم و تربیت کا سلسلہ جاری رکھ سکیں ، قرآن پاک تو آپ پہلے ہی حفظ کر چکے تھے لہذا کچھ دنوں بعد حضرت شیخ منصور بطائحی رحمۃاللہ تعالیٰ علیہ نے حضور نبی اکرم صلی اللہ علیہ و سلم کی ہدایت کے مطابق ابوالفضل شیخ علی قاری واسطی رحمۃاللہ تعالیٰ علیہ کی بارگاہ فیض میں تحصیل علم دین اور تربیت سلوک و معرفت کے لئے بھیج دیا شیخ نے آپ کی تعلیم و تربیت میں خصوصی توجہ فرمائی ، شیخ کی بھر پور شفقت و توجہ اور اپنی خدا داد صلاحیت کی بنیاد پر سیدنا احمد کبیر رفاعی رضی اللہ عنہ نے صرف بیس سال کی عمر میں تفسیر ، حدیث ، فقہ ، معانی ، منطق و فلسفہ اور تمام مروجہ علوم ظاہری و باطنی کی تکمیل کرلی اور ساتھ ہی اپنے ماموں جان سے علوم فقہ اور علوم باطنی بھی حاصل کیا ۔

*اساتذۂ و شیوخ*: سید الاولیاء شیخ احمد کبیر رفاعی رضی اللہ تعالٰی عنہ کے مشہور و معروف اور جلیل القدر اساتذہ کی فہرست میں شیخ منصور بطائحی ، شیخ عبدالسمیع حربونی ، شیخ ابو الفضل علی قاری واسطی ، شیخ ابوالفتح محمد بن عبد الباقی ، شیخ محمد بن عبد السمیع عباسی ہاشمی ، شیخ ابوبکر واسطی اور عارف باللہ سید عبد الملک بن حسین حربونی وغیرہ قابل ذکر ہیں ۔

*اجازت وخلافت اور سجادگی :*
بیس سال کی عمر میں آپ کے اُستاذ و مربی ابوالفضل شیخ علی قاری واسطی قدس سرہ نے آپ کو تمام علوم ظاہری و باطنی کی اجازت عطا فرمادی اور خرقہ و خلعت خلافت سے بھی نواز دیا ۔ تاہم اس کے بعد بھی اپنے ماموں شیخ سید منصور احمد بطائحی قدس سرہ کی نگرانی میں تحصیل علم و معرفت اور تعلیم و تربیت کا سلسلہ جاری رکھا ماموں جان جب زندگی کے آخری لمحات میں پہنچے تو اُنھوں نے حضرت سید احمد کبیر رفاعی سے اپنے مرشد و مربی شیخ الشیوخ کی تمام امانتوں اور اپنے خاص اوراد وظائف کا عہد لیا اور پھر اُن کو اٹھائیس سال کی عمر میں مسند سجادگی اور منصب ارشاد و ہدایت پر فائز فرمادیا ۔
حضرت شیخ رفاعی نے جب سجادۂِ مشیخت کو رونق بخشی تو طالبان حق کے بہت بڑے حلقے کو اپنے گرد جمع کر لیا اور ہزاروں تشنگان معرفت کو اپنے بادۂِ معرفت سے سر شار کر دیا ، مریدوں کی تر بیت میں بڑا کمال حاصل تھا جو دامن کرم سے وابستہ ہوتا وہ اپنے ظرف کے مطابق آپ کے فیوض روحانی سے مالا مال ہو جاتا ۔
حضرت سید احمد کبیر رفاعی علیہ الرحمۃ والرضوان کے اُن کارناموں نے چھٹی صدی ہجری کے فلسفۂ خشک کے مقابل اسلام کے پاکیزہ نظامِ روحانیت کے ذریعے تطہیرِ فکر کا سامان کیا ، وہ فتنے جو داخلی و خارجی طور پر رونما ہوئے تھے آپ نے اپنی بے مثال کاوش اور اصلاحِ باطن سے اُن کا صفایا کر دیا ، آپ کی خدمات کا یہ باب بڑا ہمہ گیر اور اثر انگیز ہے آپ کی تعلیمات کا ہر پہلو معنویت و معارِف سے لبریز ہے جن میں فکر و بصیرت کی اصلاح کا بہت کچھ سامان مہیا ہے ۔

*عہد رفاعی کا منظر نامہ :*
کسی بھی شخصیت کی خدمات کا جائزہ لینے کے لئے اس کے عہد کا مطالعہ بہت ضروری ہے جب ہم عہد رفاعی کا مطالعہ کرتے ہیں تو معلوم ہوتا ہے کہ سید الاولیاء حضرت سید احمد کبیر رفاعی رضی اللہ عنہ نے جس دور میں میدان عمل میں قدم رکھا وہ چھٹی صدی ہجری کا بڑا ہی خون آشام ، ہولناک اور طوفان خیز دور تھا ، اسلامی سلطنت کا شیرازہ بکھر رہا تھا خانہ جنگی زوروں پر تھی مسلمان اقتدار کے لیے مسلمانوں کا خون بہا رہے تھے ، دوسری طرف صلیبی جنگوں کا بھی آغاز ہوچکا تھا سرحدوں پر صلیبیوں کی اسلام مخالف یورشیں مسلسل بڑھتی جارہی تھیں یہ تو اس زمانے کے سیاسی حالات تھے مسلمانوں کی سیاسی ابتری کے ساتھ اخلاقی پستی میں اضافہ ہو رہا تھا پورا معاشرہ فکری و عملی بے راہ روی اور ہنگامہ خیز انتشار اور فتنوں سے دوچار تھا ۔قول و فعل کا تضاد ، صالح اقدار کی پامالی ، اقتدار کی ہوس ، نفس پرستی ، حق ناشناسی ، اخلاقی انحطاط ، دین و دیانت سے بے گانگی ، ریا کی گرم بازاری ، گروہ بندیاں ، فکر و نظر کا اختلاف ، جبر و استبداد ، ظلم و زیادتی اور شخصی کردار و جماعتی نظم کا فقدان تھا ، زنا ، خیانت اور منافقت کا بازار گرم تھا عقائد صالحہ پر شب خون مارا جارہا تھا ، معتزلی ، باطنی ، بدعتی فتنے اپنے عروج پر تھے ، خلق قرآن اور تقدیر وغیرہ کے مسائل نے لوگوں کے ایمان کو متزلزل کر دیا تھا اور رہی سہی کسر علمائے سوء اور نام نہاد صوفیاء نے پوری کردی تھی ۔ ۔ عباسی سلطنت کے زوال کے ساتھ ہی صباحی اور باطنی عقائد نے سر ابھارا ، مصر میں قرامطہ اٹھے مسلم سلاطین نے علوم و فنون کی خدمت کے لیے حکمت و طب اور فلسفۂ یونان جو دم توڑ چکا تھا انھیں عربی میں مدون کروایا ، ان علوم کو ترقی دی ، لیکن ان میں موشگافی اور فتوحات نے دھریت کو فروغ دیا فلسفہ نے اپنی ترقی کے ساتھ ہی اسلامی فکر و نظر کو زوال کی دہلیز پر پہنچا دیا ۔
فلاسفہ نے عقل کے مقابل اسلام کے روحانی نظام کو نشانۂ تنقید و ھدف بنایا ، تاریخ نگاروں کے مطابق عراق و نواح فتنوں کا مرکز بنے ہوئے تھے مذکورہ بالا سطور میں آپ نے پڑھا کہ معتزلیوں کا الگ شور تھا فلاسفہ کا الگ زور تھا جس کے نتیجے میں فلسفہ یونان کے فاسد و باطل نظریات اور لادینی افکار و خیالات نے ذہنوں کو بانجھ بنانا شروع کردیا عقیدہ و ایمان کی لہلہلاتی فصلیں فتنوں کے شعلوں کی نذر ہونے لگیں اعتزال کا فتنہ اٹھا ، فتنۂ باطنیہ نے سر ابھارا ، باطنیوں اور فدائیوں کی فتنہ سامانیوں نے اسلامی مملکت کی جڑیں کھود دیں ایسے پر فتن دور میں عالمِ اسلام میں فتنوں کی بیخ کنی کے لئے غوث الاعظم حضرت شیخ عبدالقادر جیلانی اور کبیرالاولیا حضرت سید احمد کبیر رفاعی قدس سرہٗما جیسی ہستیاں ظہور پذیر ہوئیں ۔ جن کی بے مثال خدمات اور فکرو تدبر اور تحریکِ انسان سازی نے مسلمانوں کی اعتقادی اور فکری قوت کو سہارا دیا ان بزرگوں نے احیائے دین کے لیے جدوجہد شروع کیا ، اصلاح و ارشاد کے کام کا آغاز کیا اپنے وعظ و نصیحت ، درس و تدریس اور دعوت و تبلیغ کے ذریعے بندگان خدا کے قلوب و اذہان کی تاریک وادیوں میں ایمان کی شمع روشن کردی ۔ شرک و بدعت کے خلاف علم جہاد بلند کیا ۔ عالم اسلام کو ایک نئی زندگی بخشی چونکہ بنیادی مقصد احیائے اسلام تھا اسی وجہ سے حضرت سیدنا احمد کبیر رفاعی اور سیدنا عبدالقادر جیلانی رضی اللہ تعالیٰ عنھما کو ’’ محی الدین ‘‘ کے لقب سے بھی یاد کیا جاتا ہے ۔
اس دور میں تصوف و سلوک نے اسلام کی عظمت و سربلندی کے لیے وہ کارہائے نمایاں انجام دیے جو اسلامی تاریخ کا نقشِ زریں بن گئے ۔
*شیخ احمد رفاعی کی شیخ عبدالقادر جیلانی سے معاصرت اور عشقِ الٰہی میں فنائیت :*

اب ذیل میں شیخ احمد رفاعی کی غوث الاعظم سے معاصرت اور عشق الٰہی کی پرسوز جھلک دیکھئے اور سر دھنئے ۔
صاحب خزینۃ الاصفیاء مفتی غلام سرور لاہوری تحریر فرماتے ہیں : حضرت شیخ احمد رفاعی ان کملاء طریقت میں تھے جو ذات ِ الوہیت کے عشق میں فنا کے درجہ پر فائز ہوتے ہیں اور سوز عشق سے ان کا وجود ظاہری خاکستر ہو جاتا ہے ، صاحب مناقب غوثیہ حضرت شیخ محمد صادق شیبانی نے فرمایا ہے کہ ایک دن محبوب سبحانی حضرت غو ث الاعظم رضی اللہ عنہ نے اپنے ایک مرید سے فرمایا تم حضرت شیخ احمد رفاعی کے پاس جاؤ اور ان سے پوچھو " ما العشق " یعنی عشق کی حقیقت کیا ہے ؟ اور اس کا جواب لے کر آؤ ، مرید جب سید احمد کبیر رفاعی کی خدمت میں پہنچا اور غوث الاعظم کا سوال پیش کیا تو شیخ احمد رفاعی نے ایک آہ جانکاہ اپنے سینۂِ سپر سوز سے نکالی اور کہا " العشق نار یحرق ما سوی اللہ " یعنی عشق ایسی آگ ہے جو ما سویٰ اللہ سب کو جلا دیتی ہے صرف اتنا کہنے سے جس بستر پر آپ بیٹھے تھے اس میں آگ لگ گئی اور اس کے شعلوں نے سید احمد رفاعی کے پورے جسم کو جلا کر راکھ کر دیا اور وہ راکھ پانی ہوکر برف کی طرح منجمد ہو گئی ۔
خادمِ غوث الاعظم نے جب یہ حال دیکھا تو خوفزدہ ہوگیا اور بارگاہِ غوثیت میں حاضر ہوا سارا ماجرا بیان کیا غوث اعظم نے حکم دیا پھر وہاں جاؤ اور مقام دلارام کو خوشبو اور عطر سے معطر کرو تاکہ سید احمد رفاعی کا جسم عالم عنصری کی طرف لوٹ آئے ، خادم وہاں گیا اور غوث پاک کی ہدایت کے مطابق اس مقام کو گلاب اور عطریات سے معطر کیا جب تھوڑا وقت گذرا وہ پانی جو شیخ احمد رفاعی کی نشست گاہ میں منجمد تھا صورت جسمانی میں تبدیل ہو گیا اور آپ زندہ ہوگئے ۔(خزینۃ الاصفیاء ، ج 1 ص : 201)

*شیخ احمد رفاعی کی غوث الاعظم سے قرابت*:
غوث اکبر سید احمد کبیر رفاعی اور سیدنا غوث الاعظم شیخ عبدالقادر جیلانی رضی اللہ تعالیٰ عنہما معاصر و مصاحب ہونے کے ساتھ ساتھ باہمی قرابت دار بھی تھے جیسا کہ آل انڈیا علماء و مشائخ بورڈ کے بانی و سربراہ شہزادہ مخدوم سمناں قائد ملت حضرت علامہ سید محمد اشرف کچھوچھوی نے اپنے تحقیقی مقالہ "شریعت وطریقت کے مجمع البحرین تھے سید احمد کبیر رفاعی" میں عظمت رفاعی اور متعدد کتب کے حوالے سے تحریر فرماتے ہیں : بعض معتبر محققین کے مطابق سید احمد کبیر رفاعی کی والدہ کانام حضرت سیدہ شریفہ ہے آپ نیک ، عبادت گزار ، پرہیزگار اور عفت مآب خاتون تھیں ان کے بارے میں ایک معتبر قول یہ ہے کہ آپ حضرت سیدہ مریم رضی اللہ عنہا کی بیٹی ہیں اور سیدہ مریم حضرت غوث الاعظم شیخ عبدالقادر جیلانی رضی اللہ تعالٰی عنہ کے والد گرامی حضرت ابوصالح موسیٰ جنگی دوست کی سگی بہن ہیں اس اعتبار سے سیدہ مریم غوث الاعظم کی پھوپھی ہیں جو حضرت سید احمد کبیر رفاعی کی نانی اماں ہیں (ماہنامہ غوث العالم دہلی کا حضرت رفاعی نمبر ، فروری 2019 ص : 6)
حضرت سید احمد کبیر رفاعی رضی اللہ تعالٰی عنہ کی شخصیت ظاہری اور باطنی دونوں اعتبار سے ارفع و اعلیٰ ہے ایک طرف آپ کے مواعظ و نصائح اور فرمودات و اقوال آپ کے علمی جاہ و جلال اور علو شان کا پتہ دیتے ہیں تو دوسری طرف آپ کے کشف و کرامات ، روحانی تصرفات ، خرق عادات آپ کی روحانیت اور تزکیۂ باطن آپ کی ولایت و مقبول بارگاہِ الٰہی ہونے کا برملا اعلان کرتے ہیں بلا شبہ آپ کی باکمال شخصیت اہل عراق و نواح ہی کے لیے نہیں بلکہ پورے عالم اسلام کے لیے سحاب کرم بن کر جلوہ گر ہوئی ۔ اس رفاعی چشمۂ علم و عرفاں سے لاکھوں دلوں کی روحانی تشنگی بجھی اور ہنوز یہ سلسلہ جاری ہے ، آپ کے عقیدت مندوں میں نہ صرف عوام و علماء ہیں بلکہ اولیائے کاملین اور صوفیا واقطاب وابدال بھی ہیں اور سب نے آپ کی عظمتوں کا خطبہ پڑھا اور اپنا سید و آقا تسلیم کیا خود شیخ الشیوخ غوث الاعظم سید عبدالقادر جیلانی رضی اللہ تعالٰی عنہ نے حضرت شیخ احمد رفاعی کی شان رفیع اور مقامِ عظمت کے حوالے سے ارشاد فرماتے ہیں : ان للہ عبدا متمکنا فی مقام عبدیتہ یمحو اسم مریدہ من دیوان الاشقیاء و یکتبہ فی دیوان السعداء (المعارف المحمدیہ ص 49)
*ترجمہ* : اللہ رب العزت کا ایک بندہ (حضرت رفاعی) مقام عبدیت پر متمکن ہے جو اپنے مریدوں کانام بدبختوں کی فہرست سے ہٹا کر نیک بختوں کی فہرست میں درج کردیتا ہے .
امام اجل نورالملۃ و الدین سید ابو الحسن بن یوسف الشطنوفی الشافعی رحمۃاللہ تعالیٰ علیہ اپنی معرکۃ الآراء تصنیف بہجۃ الاسرار میں شیخ احمد رفاعی کی عظمت و بزرگی اور رفعت و سربلندی کا خطبہ پڑھتے ہوئے یوں تحریر فرماتے ہیں :
حضرت سید احمد رفاعی رضی اللہ تعالٰی عنہ سردارانِ مشائخ واکابر عارفین واعاظم محققین و افسران مقربین سے ہیں جن کے مقامات بلند اور عظمت رفیع اور کرامتیں جلیل اور احوال روشن اور افعال خارق عادات اور انفاس سچے ، عجیب فتح اور چمکانے والے کشف اور نہایت نورانی دل اور ظاہر تر سر اور بزرگ تر مرتبہ والے (بہجۃ الاسرار، ص335 مصری)
حضرت سید احمد کبیر رفاعی رضی اللہ تعالٰی عنہ کے اساتذہ و شیوخ میں سب سے اہم نام حضرت ابوالفضل شیخ علی قاری واسطی رحمۃاللہ تعالیٰ علیہ کا ہے جن سے آپ نے سب سے بڑھ کر ظاہری و باطنی علوم میں تربیت حاصل کی بلکہ حسبِ حکم نبوی صلی اللہ علیہ وسلم حضرت شیخ رفاعی کو حضرت شیخ علی قاری واسطی رحمۃاللہ تعالیٰ علیہ کے سپرد کیا گیا تھا جیسا کہ شیخ عزالدین احمد صیادی رفاعی رحمۃاللہ تعالیٰ علیہ اپنی مشہور زمانہ کتاب المعارف المحمدیہ میں تحریر فرماتے ہیں :
قد رای مولانا السید منصور البطائحی ذات لیلۃ فی منامہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم فقال صلی اللہ علیہ وسلم ابشرک یا منصور ان اللہ تعالیٰ یعطی الی اختک بعد اربعین یوما ولدا یکون اسمہ احمد......... وحین یکبر فخذہ واذھب بہ الی الشیخ علی القاری الواسطی واعطہ کی یربیہ
(المعارف المحمدیہ ص 31)
*ترجمہ* : حضرت مولانا سید منصور بطائحی نے ایک رات رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو اپنے خواب میں دیکھا آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا کہ اے منصور ! میں تمہیں بشارت دیتا ہوں کہ اللہ تعالیٰ چالیس دن کے بعد تمھاری بہن کو ایک بیٹا عطا فرمائے گا اس کا نام احمد ہوگا....... جب وہ سن شعور کو پہنچ جائے تو اسے شیخ علی قاری واسطی کے سپرد کر دینا تاکہ وہ اس کی تعلیم و تربیت کریں ۔
وہی استاذ و مربی شیخ علی قاری واسطی اپنے چہیتے شاگرد سید احمد کبیر رفاعی کی عظمت و سربلندی کے حوالے سے فرماتے ہیں :
السید احمد سلک الی اللہ طریقا اقعب بہ السالکین واخرس السنۃ المتکلمین واقعر فی دیوان التفتیش المحمدی اھل الدعوی اذل نفسہ فعز واخرھا فتقدم وطمس انانیتہ استراق النفس والسمح فصار نورا یستضاء بہ وجیلا ابلق یلتجاء الیہ وانہ لوجیہ الوجہ عند اللہ ورسولہ نحن اشیاخہ بالاسم وھو شیخنا الوقت بالحکم (المجالس الرفاعیہ ص23)
*ترجمہ* : سید احمد رحمۃاللہ تعالیٰ علیہ نے طریق الی اللہ کے لئے ایسا راستہ اپنایا ہے کہ سالکین اس پر چلنا چاہیں تو عاجز رہ جائیں اس راستے کی وضاحت کرنا چاہیں تو ان کی زبانیں ساتھ نہ دیں انھوں نے اپنے نفس کو تواضع و انکساری کا پیکر بنایا تو اللہ رب العزت نے ان کو مکرم و معزز کردیا انھوں نے اپنے نفس کو مؤخر کیا تو پروردگار عالم نے اسے مقدم فرمایا انھوں نے اپنی انانیت کو کچل دیا تو رب تعالیٰ نے ان کو ایسا منور کردیا کہ دوسرے لوگ نور پا رہے ہیں اللہ پاک نے آپ کو ایسا پہاڑ بنایا کہ لوگ اس کی پناہ لے رہے ہیں آپ رَحْمَۃُ اللّٰہ عَلَیْہ اللہ و رسول کے نزدیک بڑے وجاہت ومرتبت والے ہیں ہم بظاہر ان کے شیخ ہیں ورنہ حقیقت یہ ہے کہ وہ ہمارے شیخ ہیں ۔
حضرت شیخ احمد رفاعی ایسے باکمال اور صاحب المرتبت شاگرد ہیں جن پر خود شیخ بھی فخر کرتے ہیں ذیلی پیراگراف پڑھئے میرا دعویٰ ثابت ہوجائے گا :
کل الاصحاب یفتخرون بمشایخھم الا انا فانی افتخر بالسید احمد الرفاعی ویحق لہ ان یفتخر بھذا الامام الذی اید اللہ بہ السنۃ واحیابہ الطریقۃ واعلی بہ منارۃ الحقیقتۃ (ارشاد المسلمین لطریقۃ شیخ المتقین ص 8)
ترجمہ : سب لوگ اپنے مشائخ پر فخر کرتے ہیں مگر میں سید احمد رفاعی پر فخر کرتا ہوں اور ان کی ذات یقیناً فخر کے لائق ہے اللہ نے آپ کے ذریعہ سنت کو تقویت بخشی طریقت کو زندہ فرمایا اور حقیقت کے منار کو بلند فرمایا ۔
شیخ علی قاری واسطی مزید ارشاد فرماتے ہیں :
لو لا سر الامتثال لا خذت عنہ ولا ریب انا شیخہ فی الصورۃ وھو شیخی فی المعنی (المجالس الرفاعیہ ص23)
*ترجمہ* : اگر سر امتثال نہ ہوتا تو میں سید احمد سے بیعت ہوتا اس میں شک نہیں کہ میں ان کا صورتاً شیخ ہوں مگر حقیقتاً وہ میرے شیخ ہیں ۔
*وعظ و ارشاد*: اللہ کریم کا ارشاد ہے : اُدْعُ اِلٰی سَبِیْلِ رَبِّکَ بِالْحِکْمَۃِ وَ الْمَوْعِظَۃِ الْحَسَنَۃِ وَجَادِلْھُمْ بِالَّتِیْ ھِیَ اَحْسَنُ.
*ترجمہ*:’’اپنے رب کی راہ کی طرف بلاؤ پکی تدبیر اور اچھی نصیحت سے اور ان سے اس طریقہ پر بحث کرو جو سب سے بہتر ہو‘‘ (سورۃ النحل:۱۲۵/کنزالایمان)
حکمت و دانش کے ساتھ وعظ و ارشاد نے دین کی اشاعت میں اہم کردار نبھایا ہے ۔ اولیا نے اس اصول کو اپنائے رکھا شیخ احمد کبیر رفاعی نے اشاعت حق و صداقت کے لیے وعظ و ارشاد سے بھی کام لیا اور اس عہد کا یہ تقاضا بھی تھا۔ آپ کی زبان سے علم و فن کے موتی جھڑتے ۔ باتیں دلوں میں اتر جاتیں۔ نہاں خانۂ دل روشن ہو جاتا۔ آپ کا اسلوبِ خطابت دل پذیر تھا، ایسا کہ سادہ و عام فہم، اچھوتا و علمی خوبیوں کا مرقع۔ موضوع کے لحاظ سے آیات و احادیث اور صحابہ و اولیا کے ارشادات بیان فرماتے۔
مجلس رفاعی کے حاضر باش حضرت سید شمس الدین محمد رفاعی رحمۃ اللہ علیہ نے اپنا واقعہ یوں قلمبند کیا ہے :
سید احمد کبیر رفاعی ظہر کی نماز کے بعد کرسی خطابت پر جلوہ افروز ہوئے اور عصر کے وقت کرسی سے نیچے اترے اور آپ کی مجلس کا حال یہ تھا کہ آہ و فغاں، نالہ و شیون، گریہ وزاری، حیرت و افسوس کا شور بلند ہونے لگا آپ کے دروازے پر توبہ کرنے والوں کی بھیڑ لگ گئی یہاں تک کہ ہم شمار کرنے سے عاجز رہ گئے (المجالس الرفاعیہ ص93)
شیخ احمد کبیر رفاعی نے اپنی حیات مستعار کا لمحہ لمحہ یاد الٰہی، ذکرِ خدا، ترویج اشاعت دین، اور تبلیغ فکر اسلامی میں گزار دیا اور خلق کثیر کو اپنے فیضان علمی و روحانی سے وافر حصہ عطا فرمایا گم گشتہ راہوں کو نشان منزل عطا کیا، سیاہ قلوب و اذہان کو عشق و وارفتگی کی دولت لازوال اور علم و مشاہدہ کی نورانیت عطا فرمائی وہ ایسے فیض رساں تھے کہ ان مجالس کے حاضر باش تشنہ لب آتے اور جام عشق وعرفان کی حلاوت سے لبریز ہوجاتے فیض رسانی کا یہ سلسلہ تادم وصال جاری رہا.
فقیہ ابو زکریا یحییٰ بن شیخ صالح عسقلانی کی زبانی مجلس رفاعی کا حال سنئے :
ایک مرتبہ جمعرات کو میں ام عبیدہ میں سید احمد رفاعی کی زیارت کی غرض سے گیا ہوا تھا تو میں نے دیکھا کہ ان کی خانقاہ میں ان کے ارد گرد لاکھوں زائرین موجود تھے جن میں امراء و حکام، علماء و مشائخ اور عوام سبھی تھے. آپ ظہر کی نماز کے بعد کرسی خطابت پر جلوہ افروز ہوئے اور لوگوں کو وعظ و نصیحت فرمانے لگے اور لوگ آپ کے ارد گرد حلقہ باندھے ہوئے بیٹھے تھے آپ کی مجلس میں واسط کے واعظین اور عراق کے علماء و اکابرین کا جم غفیر تھا ایک جماعت تفسیر کے سوالات لے کر آگے بڑھی دوسری جماعت علم حدیث کے سوالات لے کر آگے بڑھی پھر دوسری جماعت فقہ کے ایک اور جماعت خلافیات کے مسائل لے کر آئی اور ایک جماعت علم اصول اور دوسرے لوگ دیگر علوم کے سوالات لے آۓ آپ نے مختلف علوم میں دوسو سوالوں کے جواب دیئے جواب دیتے وقت آپ کی پیشانی پر بل تک نہیں آیا اور نہ ہی برہمی کا اثر ظاہر ہوا مجھے ان سوال کرنے والوں سے غیرت آگئی میں نے کھڑے ہو کر کہا :کیا تمھارے لیے اتنا کافی نہیں ہے؟ خدا کی قسم! اگر تم جملہ مدون علوم کے بارے میں پوچھو گے تو وہ بحکم الٰہی بلا تکلف جواب دے دیں گے. شیخ احمد رفاعی نے مسکرا کر فرمایا : اے ابو زکریا ! انھیں پوچھنے دو اس سے پہلے کہ مجھے کھودیں دنیا فنا ہونے والی ہے اور اللہ تعالیٰ احوال کو بدلنے والا ہے. لوگ رونے لگے ہر طرف سے چیخ و پکار کی آوازیں آنے لگیں اس مجلس میں پانچ لوگوں کی روح قفس عنصری سے پرواز کر گئی، مجوسیوں، نصرانیوں، اور یہودیوں میں آٹھ ہزار یا اس سے زیادہ لوگ اسلام میں داخل ہوئے اور چالیس ہزار لوگ تائب ہوئے (المعارف المحمدیہ ص 45)
سرزمینِ واسط کا قریہ امِّ عبیدہ آپ کی جائے ولادت ہے وہیں آپ نے علم حاصل کیا وہیں درس و تدریس اور ارشاد و ہدایت کی مجلسیں سجائی اور سلسلہ رفاعیہ کی بنیاد بھی وہیں رکھی اور اپنی حیات مستعار کے 66 سال تک اس جہان فانی میں رہ کر گم گشتگان راہ کو آفتاب و ماہتاب بن کر منزل مقصود عطا کرتے رہے بالآخر آسمان شریعت وطریقت کا یہ آفتاب نصف النہار 578ھ اسی شہر واسط میں ہمیشہ کے لئے بظاہر غروب ہوگیا اور اسی سرزمین مقدس پر آپ کی مزارِ پر انوار سے آج بھی یہ صدا آرہی ہے :
نشان منزل مقصود ہے میری تربیت
نشاں یہ چھوڑتا ہوں اہل کارواں کے لئے

29/10/2025
29/10/2025

*حضور شیخ احمد کبیر رفاعی قدس سرہ کے مواعظِ حسنہ*
*از : طفیل احمد مصباحی*
[ زیرِ نظر تحریر کبیر الاولیاء ، سلطان المشائخ ، قطب الاقطاب حضور سرکار سیدنا شیخ احمد رفاعی قدس سرہ کے مواعظِ حسنہ اور آپ کے گراں قدر ملفوظات و نصائح پر مشتمل ہے جو " التشرّف بذکر أھل التصوّف " نامی عربی کتاب کے ایک چیپٹر ( Chapter ) کے ترجمہ پر مشتمل ہے ۔)
دنیائے تصوف و ولایت میں حضور شیخ احمد رفاعی قدس سرہ کی ذاتِ محتاجِ تعارف نہیں ۔ آپ اپنے زمانے کے سرتاجِ اصفیا ، سلطان الاتقیاء اور قطب الاقطاب تھے ۔ حضور سرکار سیدنا محیی الدین عبد القادر جیلانی قدس سرہ ، جو کہ آپ کے ہم عصر و ہم وطن تھے

امام الاولیاء ، قطب الاقطاب حضور سرکار سیدنا احمد کبیر الرفاعی علیہ الرحمہ فرماتے ہیں ۔۔۔۔۔
دنیا داروں کی قربت اختیار کرنے سے بچو کہ ان کی صحبت و رفاقت دل میں سختی پیدا کرتی ہے ۔ فقرا ( صوفی مزاج لوگ ) کو اپنا دوست اور رفیق بناؤ ، ان کی تعظیم و تکریم کرو اور ان کی خدمت بجا لاؤ ۔ ان فقرا میں سے جب کوئی تمہارے پاس آئے تو ان کے قدموں میں بِچھ جاؤ ( یعنی ان کی قدم بوسی کرو ) اور ان سے دعائے خیر کی درخواست کرو ۔ اپنے نفس کو ریاضت و مجاہدہ کے کاموں پر لگاؤ ، تاکہ تم بھی ان فقرا میں سے ہو سکو اور ان کی مشابہت اختیار کرو ۔ ( حدیث میں آیا ہے ) جو کسی قوم کی مشابہت اختیار کرتا ہے ، وہ اسی میں سے ہے ۔ جو جس قوم سے محبت کرتا ہے ، اس کا حشر اسی کے ساتھ ہوگا ۔ اگر لوگوں کو کما حقہ اللہ عز و جل کی معرفت حاصل ہو جائے ، جیسا کہ ان فقرا کو حاصل ہے تو وہ دنیاوی زندگی اور اس کے احوال سے بالکلیہ کنارہ کشی اختیار کر لیں ۔ فقیر کی ایک علامت اور پہچان یہ بھی ہے کہ وہ جب کسی کو کچھ دیتا ہے تو محض رضائے الہٰی کی خاطر دیتا ہے ، اس کے علاوہ اور کوئی مقصد نہیں ہوتا ۔
حضور شیخ احمد رفاعی علیہ الرحمہ مزید ارشاد فرماتے ہیں :
فقیر کی شرط یہ ہے کہ اس کی نظر مخلوق کے لباس اور اس کے دیگر ساز و سامان پر نہ ہو ۔ اگر اس کی نظر مخلوق کے لباس وغیرہ پر ہوگی تو طریقۂ حق اس پر مشتبہ ہو جائے گا ۔ فقیر جب بھی مخلوق سے میل جول اختیار کرے گا ، اس کے عیوب ظاہر ہوں گے ۔ اے میرے بھائی ! مخلوق کے عیبوں پر نظر نہ کرو ۔ اگر تم ایسا کرو گے تو اللہ تعالیٰ تمہارے عیب کا پردہ فاش کر دے گا اور اگر تمہارے اندر کوئی عیب ہے تو سیدھے راستے سے انحراف نہ کرو ۔ ( یعنی اپنے عیبوں کی اصلاح کرو ) نفسانی خواہشات کی پیروی نہ کرو ، بلکہ تقویٰ اور نوع بنوع طاعت ( نیکی ) اختیار کرو اور اہلِ سنت و جماعت کے طریقۂ حق کی پابندی و پاسداری کرو ۔ جب خلوت اور تنہائی میں بیٹھو تو وسوسوں اور برے خیالات سے بچو اور اپنے نفس کو کدروتوں اور بشری رعونتوں سے پاک رکھو ۔ جب تمہارے بھائی سے کوئی غلطی ہو جائے تو اس کو معاف کر دو اور اس کے عیب اور غلطی پر پردہ ڈال دو ۔ اللہ کے بندوں کے ساتھ نیکی ، خیر خواہی اور پرہیز گاری کا معاملہ اختیار کرو ۔ اہلِ خشوع اور اصحابِ مراقبہ کی تعظیم کرو ۔ جس شخص پر تمہارا کوئی حق ہو یا تم پر کسی کا حق ہو تو اس کے ساتھ لطف و مدارات کے ساتھ پیش آؤ ، تاکہ وہ تمہارا حق تمہیں لوٹا دے اور تم اس کا حق اسے عطا کر دو ۔ بلکہ جب تمہارا حق کسی کے ذمہ ہو ، اس کے ساتھ نرمی کرو ، اللہ تمہیں وہ حق عطا کر دے گا اور اس کے بدلے تمہیں کوئی دوسری نعمت بخشے گا ۔ نفسانی خواہشات کی پیروی اور ہوا و ہوس سے بچو کہ یہ تمہارا سب سے بڑا دشمن ہے ۔ جان لو کہ ہر حال میں نیک کاموں کی توفیق اللہ سبحانہ و تعالیٰ ہی کی طرف سے ہے ۔
انسان کو چاہیے کہ وہ ہمیشہ اپنے نفس کو پند و نصیحت کرتا رہے اور نیک کاموں میں لگا رہے اور اوامر و نواہی کی پابندی کرے ، ( اچھے کام کرنے کو اوامر اور برے کاموں سے بچنے کو نواہی کہتے ہیں ) حق اور شریعت کے طریقوں سے واقف رہے ، تاکہ وہ امر بالمعروف و نہی عن المنکر کا فریضہ انجام دے تو لوگوں اس کی باتوں کو قبول کریں ، اس کے امر و نہی پر عمل کریں اور مامور ( مخاطب ، جس کو نیک کام کا حکم دیا جائے ) کے دل میں اس کے امر و نہی اثر انداز ہوں ۔ بصورتِ دیگر نہ اس کی نصیحت قبول کی جائے گی اور نہ اس کی بات سنی جائے گی ۔ جیسا کہ اللہ تعالیٰ کا فرمان ہے : یٰۤاَیُّهَا الَّذِیْنَ اٰمَنُوْا لِمَ تَقُوْلُوْنَ مَا لَا تَفْعَلُوْنَ . كَبُرَ مَقْتًا عِنْدَ اللّٰهِ اَنْ تَقُوْلُوْا مَا لَا تَفْعَلُوْنَ . اے ایمان والو کیوں کہتے ہو وہ جو نہیں کرتے ، کتنی سخت نا پسند ہے اللہ کو وہ بات کہ وہ کہو جو نہ کرو ۔ یہی وجہ ہے کہ اللہ والوں کے دل مہبطِ انوار ہوتے ہیں ( مہبطِ انوار کا معنی ہے : اللہ کے نور کے اترنے کی جگہ ، یعنی اللہ والے جو کچھ کہتے ہیں ، پہلے اس پر خود عمل کرتے ہیں ) اگر انسان کا دل عبادت و بندگی اور نیک اعمال کے نور سے روشن نہ ہو ، وہ شیطان کی آماج گاہ بن جاتا ہے اور پھر شیطان اس کو باطل کے اندھیرے میں ڈال دیتا ہے اور اسے شقاوت و بد بختی کی طرف لے جاتا ہے ۔ نعوذ باللہ من ذالک .
حضور شیخ احمد رفاعی قدس سرہ اپنے ایک مرید کو نصیحت کرتے ہوئے فرماتے ہیں
: تمہارے اوپر لازم ہے کہ شریعت کے ظاہری اور باطنی حکم کی ہر حال میں پیروی کرو ۔ اپنے دل کی حفاظت کرو اور اسے اللہ کے ذکر سے غافل نہ ہونے دو ۔ فقیر اور غریب لوگوں کی مدد کرو ۔ ہمیشہ نیک کاموں کی طرف تیزی سے بھاگو اور اس معاملے میں سستی و کاہلی کا مظاہرہ نہ کرو ۔ اللہ تعالیٰ کی رضا جوئی کے لیے ہر وقت کوشاں رہو اور رضائے الہٰی کے حصول کے لیے ہمہ وقت تیار رہو ۔ اللہ کے دروازے پر کھڑے ہو جاؤ اور اپنے نفس کو قیام اللیل کا عادی بناؤ اور اسے ریا کاری سے محفوظ رکھو ۔ خلوت و جلوت میں اپنے سابقہ گناہوں پر آنسو بہاؤ اور گریہ و زاری کرو ۔ جان لو کہ دنیا ایک خواب و خیال ہے اور اس کی ہر چیز کو زوال ( فنا ) ہے ۔ دنیا داروں کا مقصد اور توجہ دنیا کی طرف ہے ، جب کہ آخرت کو دوست رکھنے والوں کی نظر آخرت پر ہے ۔ اپنے ذہن کو وسوسوں سے خالی رکھو اور اپنے آپ کو برے دوستوں سے الگ رکھو کہ ان کی دوستی قیامت کے دن ندامت و شرمندگی اور حسرت و تاسف کا سبب ہے ۔ جیسا کہ اللہ تعالیٰ نے اس کی خبر دی ہے : لیتنی لم اتخذ فلانا خلیلا . کاش میں فلاں کو اپنا دوست نہ بنایا ہوتا ۔ وہ کیا ہی برا ساتھی ہے ۔ برے ساتھیوں سے دور و نفور رہو ۔
اے میرے عزیز ! تم جو کچھ کھاتے ہو ، وہ فنا ہو جاتا ہے ، جو لباس پہنتے ہو ، وہ پرانا اور بوسیدہ ہو جاتا ہے اور جو کام کرتے ہو ، اس کا اجر آخرت میں دیکھوگے ۔ لہٰذا پوری طرح اللہ تعالیٰ کی طرف متوجہ ہو جاؤ ۔ یہ دوست اور احباب بالآخر تمہارا ساتھ چھوڑ دیں گے اور یہ ایک ایسا وعدہ ہے جو پورا ہو کر رہے گا ۔ دنیا کا ابتدائی مرحلہ ضعف اور فتور ( کمزوری اور خرابی ) سے لبریز ہے اور اس کا آخری مرحلہ موت و قبور ہے ۔ محبت و اطاعت کے ذریعے اپنے دل کا تعلق اللہ سے جوڑ لو اور غیر اللہ سے کنارہ کش ہو جاؤ اور اپنے سارے احوال و معاملات اللہ عز و جل کے سپرد کر دو ۔ سلوک و تصوف کا راستہ فقرا کے طریقے کے مطابق تواضع کے ساتھ طے کرو اور شریعت کے اصول کے مطابق زندگی گذارو ۔ اپنی نیت کو وسوسے کی گندگی سے محفوظ رکھو ۔ اپنے دل کو لوگوں کی طرف مائل ہونے سے روکے رکھو ۔ اللہ کے دروازے پر سوکھی روٹی کھاؤ اور کھارا پانی پیو ، غیر اللہ کے دروازے پر تازہ گوشت اور شہد نہ کھاؤ ۔ شریعت کے مطابق حلال طریقے سے روزی روٹی کمانے کا انتظام کرو ۔ فقرا کی کبھی دل شکنی نہ کرو ۔ صلہ رحمی کرو ، خویش و اقارب کی تعظیم کرو ۔ ظالم کو معاف کر دو ۔ کثرت سے قبروں کی زیارت کرو ۔ اللہ کے بندوں سے نرم گفتگو کرو اور ہمیشہ ان سے ان کی عقلوں کے مطابق کلام کرو ۔ خود کو حسنِ اخلاق کے زیور سے مزین کرو ۔ جاہلوں سے اعراض اور کنارہ کشی اختیار کرو ۔ یتیموں کی ضرورت پوری کرنے کے لیے ہمیشہ کوشاں رہو اور ان کا احترام کرو ۔ فقرا اور بیوہ عورتوں کی زیارت کرو اور ان کی ضروریات پوری کرو ۔ اللہ کے بندوں پر رحم کرو ، تم پر بھی رحم کیا جائے گا ۔ اللہ کے ساتھ ہو جاؤ ، اللہ تمہارے ساتھ ہو جائے گا ۔
سارے اقوال و افعال میں اخلاص کو اپنا دوست بناؤ ( کیوں کہ اخلاص کے بغیر کوئی عمل مقبول نہیں ) طریقۂ حق کے مطابق لوگوں کی ہدایت و رہنمائی کرتے رہو ۔ کرامات اور خوارقِ عادات دکھانے میں رغبت نہ رکھو کہ اولیائے کرام اپنی کرامات اس طرح چھپاتے ہیں جس طرح عورتیں حیض کے خون کو چھپاتی ہیں ۔
اللہ کی بارگاہ سے منسلک ہو جاؤ اور اپنے دل کو اللہ کے رسول صلی اللہ علیہ و آلہ و سلم کی طرف متوجہ کرو ۔
اپنے بھائیوں کے ساتھ خیر خواہی کرو اور ان کی دل جوئی کرتے رہو ۔ لوگوں کے درمیان صلح کراؤ اور جہاں تک ہو سکے لوگوں کو آپس میں مربوط و متحد رکھو ۔ اپنے دل کو ذکرِ الہٰی سے آباد رکھو اور اپنے قالب ( جسم ) کو فکر کے زیور سے آراستہ کرو ۔
اللہ تعالیٰ سے مدد طلب کرو اور اللہ کی طرف سے جو مصیبتیں تم کو پہنچی ہیں ، ان پر صبر کرو اور اللہ کے حکم و مشیت پر راضی رہو ۔ ہر حال میں " الحمد للّٰه " کہو ۔ حضور نبی اکرم صلی اللہ علیہ و آلہ و سلم پر کثرت سے درود شریف بھیجو ۔
اگر تمہارا نفس شہوت اور کبر و غرور کی طرف مائل تو نفلی روزے رکھو اور اللّٰہ کی رسّی کو مضبوطی سے پکڑو ۔
اپنے گھر میں رہو ، بازار اور عوامی جگہوں پر زیادہ نہ جاؤ ۔ جو کشادہ عوامی جگہوں کو چھوڑ دیتا ہے ، وہ مقصد کو پا لیتا ہے ۔
اپنے مہمان کی عزت و احترام کرو ۔ اپنے اہل و عیال ، بچے ، بیوی اور خادم پر رحم کرو ۔
آخرت کی کامیابی کے لیے ہمیشہ نیک کام کرتے رہو ۔ اپنی دنیاوی عمل کو آخرت میں کام آنے والا عمل بناؤ ۔ اللہ تعالیٰ ارشاد فرماتا ہے : قُلِ اللّٰهُۙ ثُمَّ ذَرْهُمْ فِیْ خَوْضِھمْ یَلْعَبُوْنَ . اللہ کہو پھر انہیں چھوڑ دو ان کی بیہودگی میں کھیلتا ۔
میری یہ نصیحت تمہارے لیے اور میرے سلسلے سے وابستہ تمام افراد کے لیے ہے ۔ نیز جملہ برادرانِ اسلام اور تمام مسلمین و محبین کے لیے میری یہ نصیحت ہے ۔ اللہ تعالیٰ ان کی تعداد
میں اضافہ فرمائے آمین !

حضور شیخ احمد رفاعی
قدس سرہ فرماتے ہوئے
: وسوسوں کا ترک یہ ہے کہ حرام کاموں کو ترک کیا جائے ۔ حسنِ اخلاص یہ ہے کہ ہر حال میں اللہ سے ڈرا جائے اور دل میں اس کا خوف رکھا جائے ۔ لوگوں سے کنارہ کشی اختیار کرنے کا جذبہ موت کو یاد کرنے سے ہوتا ہے اور اپنے آپ کو آدابِ شریعت سے مؤدب بنانے کا جذبہ گذشتہ گناہوں کو یاد کرنے اور ان پر شرمندہ ہونے سے پیدا ہوتا ہے ۔ غور و فکر ، عقل کا نور ہے ۔ ذکرِ الہٰی ، قلب کا نور ہے ۔ اخلاص ، باطن کا نور ہے اور تقویٰ ، چہرے کا نور ہے ۔
وصول الیٰ اللہ دروازہ ہے ، عنایتِ الہٰی اس کی کنجی ہے ، سخاوت اس کی سیڑھی ہے ، اخلاص ، زادِ راہ ( باعثِ تقویت ) ہے ۔ اگر تم مخلص ہو تو وصول الیٰ اللہ کی منزل کی سیڑھی پر چڑھ جاؤگے ۔ اگر تم سخی ہو تو اس کنجی تک تمہاری رسائی ہو جائی گی اور اللہ رب العزت ، جو کہ فتّاح ہے ، اس کے اذن سے وصول الیٰ اللہ کے دروازے کھول لوگے ۔ طریقت کی بنیاد صدق ، اخلاص ، کرم و سخاوت اور حسنِ اخلاق پر رکھی گئی ہے ۔ مال داری ، علم سے ہے ، زینت ، حلم و بُردباری سے ہے ۔ فضلیت کا معیار تقویٰ و پارسائی ہے ۔ عزت ، مخالفتِ نفس سے ہے ۔ مشہور دعاؤں کی کثرت کرو ۔ مشہور طریقے کی طرف مائل رہو ۔ مستور فقیر کے روبرو عاجزی اختیار کرو اور خود کو مُردوں میں شمار کرو ۔ استقامت ( حکمِ شرع کی ہر حال میں پابندی ) کے دروازے پر کھڑے ہو ۔ ہمیشگی کے گھر میں سکونت اختیار کرو ( یعنی فنا ہونے والی دنیا کے بجائے ہمیشہ باقی رہنے والے گھر آخرت کی تیاری کرو ) نیک اعمال پر صبر کرو ۔ جو شخص خشوع و خضوع کے ساتھ دروازے کو کھٹکھٹاتا ہے ، بالآخر وہ دروازے کے اندر داخل ہو جاتا ہے اور اسے قبولیت حاصل ہوتی ہے ۔ وسوسہ اور برے خیال سے دل کو پاک رکھو ، لوگوں کی طرف مائل نہ ہو اور ہر قسم کی قیاس آرائیوں سے خود کو بچائے رکھو ۔
قلب ایک ایسا تاریک جوہر ( آئینہ ) ہے جو غفلت کی گرد و غبار سے اٹا ہوا ہے ، اس کی صفائی فکرِ آخرت ، اس کا نور ذکرِ الہٰی ہے اور اس کا صندوق صبر ہے ۔ صدق ( سچائی ) عنایت کی سیڑھی ہے ۔ تقویٰ ، ہدایت کا گھر ہے اور خود سپردگی عینِ رعایت ہے ۔ اخلاص حسنِ وقایت ( اعمال کو برباد ہونے سے بچانے والا ) ہے اور اللہ تعالیٰ کے لیے عجز و انکسار ہی اصل ولایت ہے ۔ پارسائی کی زبان ترکِ آفات کی طرف بلاتی ہے اور تعبد ( بندگی ) کی زبان محنت و اجتہاد کی دعوت دیتی ہے ۔ حکمت ، اللہ تعالیٰ کا خوف ہے ۔ اسلامی سرحد کی حفاظت توکل علیٰ اللہ کے قبیل سے ہے ۔ تدبیر یہ ہے کہ ظاہری اسباب کا سہارا لیتے ہوئے نتیجہ اللہ تعالیٰ پر چھوڑ دیا جائے اور باطن ( تنہائی ) میں عمل کرنا تسلیم ہے ۔ ارشادِ باری تعالیٰ ہے : قل کل من عند الله . آپ فرما دیجیے کہ سب اللہ کی طرف سے ہے اور اس کے پاس ہے ۔
حضور نبی کریم صلی للہ علیہ و آلہ و سلم پر درود پڑھنے سے قیامت کے دن پل صراط پر چلنا آسان ہوگا اور اس عمل سے دعا قبول ہوتی ہے ۔
اگر تم قدرت و استطاعت رکھتے ہو تو صدقہ کیا کرو کہ یہ جہنم کی آگ کو ٹھنڈا کر دیتا ہے اور اللہ کے قہر و غضب کو ٹال دیتا ہے ۔ والدین کے ساتھ احسان اور حسنِ سلوک سکراتِ موت ( موت کی شدت و سختی ) کو آسان کر دیتا ہے ۔
اے میرے فرزند ! تصوف نام ہے غیر اللہ سے اعراض ( منہ موڑنے ) کرنے ، اللہ تعالیٰ کی ذات میں غور و فکر نہ کرنے ، اللہ پر توکل کرنے ، اپنے جملہ امور و احوال اللہ رب العزت کو سپرد کر دینے اور ہر حال میں اللہ تعالیٰ کے ساتھ حسنِ ظن رکھنے کا ۔ اے میرے فرزند ! جب تم کوئی صحیح حدیث سنو اور علم حاصل کرو تو اس پر عمل کرو اور ان لوگوں میں سے نہ ہو جاؤ جو علم تو رکھتے ہیں ، لیکن اس پر عمل نہیں کرتے ۔ عالم کی نجات اس بات میں ہے کہ وہ اپنے علم پر عمل کرے اور اس کی ہلاکت و بربادی اس میں ہے کہ وہ اپنے علم پر عمل کرنا چھوڑ دے ۔ لہو و لعب ، کھیل کھود ، عیش و طرب ، آلاتِ سماع اور ہنسے ہنسانے والوں کی باتوں میں مشغول رہ کر اپنا قیمتی وقت ضائع نہ کرو ۔ ہنسنا اور خوش رہنا چھوڑ دو کہ دنیاوی زندگی پر خوش رہنا جنون اور پاگل پن ہے ۔ دنیا میں محزون اور مغموم رہنا ہی عقل مندی اور کمال کی بات ہے ۔ دنیا میں ہمیشہ رہنا محال ہے اور دنیا کے عیش و عشرت میں مبتلا رہنا جاہلوں کا کام ہے ۔ تم سے پہلے جو ظالم حکمراں اور جابر سلاطین گذر چکے ہیں ، ان کے بارے میں غور و فکر کرو کہ وہ سب مر گئے اور آج وہ ایسے بے نام و نشان ہیں کہ گویا دنیا میں کبھی تھے ہی نہیں ۔ یہ حکّام و سلاطین ہم سے پہلے گذر چکے اور ہم ان کے پیچھے پیچھے سفرِ آخرت پر روانہ ہونے والے ہیں ۔ نیک لوگوں کے نقشِ قدم پر چلو ، تاکہ تمہارا حشر ان کے زمرے میں ہو اور تم قبیلۂ صالحین کا فرد شمار کیے جاؤ ۔
اے میرے بھائی ! اگر حکام اور رؤسا کا زرق برق لباس اور ان کی زینت بھری زندگی دیکھ کر تمہارا دل چھوٹا ہونے لگے تو قبرستان چلے جاؤ اور دیکھو کہ تمہارے آباء و اجداد وہاں کس طرح مدفون ہیں اور مٹی کے نیچے دبے ہوئے ہیں ۔ اللہ تعالیٰ ہی بہتر جانتا ہے کہ ان میں سے کون انعام یافتہ ہے اور کون عذاب میں مبتلا ہے ۔ تمہارا حال بھی ایسا ہی ہے کہ تم ان حکام اور رؤسا کے برابر ہو ۔ ( لہٰذا ان کا زرق برق لباس اور شاہانہ زندگی دیکھ کر کبیدہ خاطر نہ ہوں اور اپنا دل چھوٹا نہ کریں ) اللہ تعالیٰ قرآن مجید میں ارشاد فرماتا ہے : وَ سَیَعْلَمُ الَّذِیْنَ ظَلَمُوْۤا اَیَّ مُنْقَلَبٍ یَّنْقَلِبُوْنَ . عنقریب ظالم جان لیں گے کہ کس کروٹ پر پلٹا کھائیں گے ۔
اے میرے فرزند !
فضول کلام اور فضول کاموں کے پیچھے نہ پڑو اور نہ ان سے دلچسپی رکھو ۔ اپنے آپ کو غفلت کے راستے سے ہٹاؤ اور بیداری ( عقل مندی ) کے دروازے میں داخل ہو جاؤ ۔ عجز و انکسار کے میدان کا مسافر بنو اور عظمت و بڑائی اور غرور و تکبر کے دلدل سے خود کو نکالو ۔ تمہاری ابتدا خون کا ایک لوتھڑا ہے اور تمہاری انتہا مردار ہے تو اپنے آغاز و انجام کے درمیان کھڑے ہو جاؤ اور نیک اعمال انجام دیتے رہے ، تاکہ آخرت میں کامیاب ہو سکو ۔ حسد سے بچو کہ حسد سارے گناہوں کی جڑ ہے ۔ کذب ( جھوٹ ) ، حسد اور دوسروں کو نا پسند کرنا ، ایسی برائی ہے جو بندے کو مردودِ بارگاہِ کردگار کر دیتی ہے تو اپنے آپ کو قطعاً ان بری خصلتوں کا عادی نہ بناؤ ۔ اپنے آپ کو مکمل طور پر اللہ تعالیٰ کی طرف متوجہ کرو ۔ جان لو کہ رزق مقسوم ہے ، جب اس پر غور کروگے تو تکبر نہیں کروگے اور جان لو کہ تمہارے اعمال کا محاسبہ کیا جائے گا ، جب تم اس پر غور کروگے تو جھوٹ نہیں بولوگے ۔ لوگوں کے عیوب اور ان کے برے کاموں کی طرف نظر نہ کرو ۔ تم جیسا کروگے ، تمہارے ساتھ بھی ویسا ہی کیا جائے گا ۔
اگر تمہارے پاس آنکھیں ہیں تو لوگوں کے پاس بھی آنکھیں ہیں ( اگر تم لوگوں کے عیوب ڈھونڈتے پھروگے تو وہ بھی تمہارے عیوب تلاش کریں گے ) اپنی زبان کو مخلوق کی مذمت سے روکے رکھو ، لوگوں کے پاس بھی زبان ہیں ، وہ بھی تمہاری مذمت اور برائی کریں گے ۔ اپنی حالت کی طرف نظر کرنا ہی تمہارے لیے کافی ہے ۔ تم جیسا لوگوں کے بارے میں کہوگے ، لوگ بھی تمہاری بارے میں ایسا ہی کہیں گے ۔ ہر روز اپنا محاسبہ کرو اور کثرت سے توبہ و استغفار کرو ۔ اپنے نفس کی برائیوں کا طبیب اور اس کا مرشد و رہنما بن جاؤ ۔ محاسبۂ نفس سے غفلت نہ برتو ۔ نفسانی خواہشات کی تکمیل میں مبتلا ہونے سے بچو ۔ خود نمائی سے بچو ، فان الظھور یقصم الظھور . کہ خود نمائی انسان کی پیٹھ توڑ دیتی ہے یعنی انسان کو برباد کر دیتی ہے
اللہ اللہ سبحان اللہ ۔

Address

Karachi
74700

Alerts

Be the first to know and let us send you an email when Al Faseeh Public Healthcare & Welfare Service posts news and promotions. Your email address will not be used for any other purpose, and you can unsubscribe at any time.

Contact The Organization

Send a message to Al Faseeh Public Healthcare & Welfare Service:

Share